Photo Credit Yahoo

آسودہ زندگی کی چاہ میں گھر سے بے گھر ہوتے غیر قانونی تارکین وطن
02 مئی 2018 (21:30) 2018-05-02

اعجاز احمد اعجاز:پیٹ کے جہنم کو ٹھنڈاکرنے کے لئے انسان کوکیاکیا پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں۔ وہ شب و روز کوہلوکے بیل کی طرح چلتا رہتا ہے۔ رات دو پل نیندکی آغوش میں جاتا اور دوسرے دن پھر اسی مشقت کی چکی میں جُت جاتا ہے۔ چھوٹے سے جیون کی خواہشیں پوری کرنے کے لئے کبھی کبھی تو وہ ساری زندگی ہی دیارغیر میں گزار دیتا ہے۔ مالی آسودگی کی خاطر غیر وطن جانے والے سارے لوگ تو خوش نصیب نہیں ہوتے۔ ان میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو غیر قانونی طریقے سے دیگر ممالک جانے کے لئے گھروں سے نکلتے ہیں اور سیدھے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ وہ گھر سے نکلتے وقت یہی سوچتے ہیں کہ ”بس ایک بار سرحد عبورکرلیں، پھرسارے شناختی کاغذات جلاکر راکھ کردیں گے اور نئے ملک میں نئی شناخت کے ساتھ نئی زندگی جینا شروع کریں گے.... نئی زندگی ! جس میں کبھی بھوکا نہیں رہنا پڑے گا، بے گھری کا عذاب تو ہوگا مگر بے سروسامانی نہ ہوگی“۔ بس ایک بارسرحدکی لکیرکے پار اُتر جائیں، پھر مزے ہی مزے ہوں گے “۔

آسودہ زندگی کے خواب سجاکرگھروں سے نکلنے والے بدنصیب غیرقانونی تارکین وطن کا تعلق دنیاکے کسی ایک کونے سے نہیں ہوتا۔ تیسری دنیا بالخصوص افریقہ کے باشندے اس خواہش کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ افریقہ اور یورپ کے براعظموں کے درمیان صرف چودہ کلومیٹرکی سمندری پٹی حائل ہے۔ ایک جانب مراکش کے ساحل پر ویران جبل الموسیٰ ہے تو دوسری جانب ہسپانیہ کا روشن اور خوشحال سرحدی قصبہ ہے۔ ہسپانیہ جہاں اُندلس ہے، اشبیلیہ ہے، غرناطہ ہے، قرطبہ ہے اور المحراءہے۔ اس علاقے پر مسلمانوں کی آٹھ سو سال تک عملداری رہی ہے، جس کے باعث افریقی مسلمانوں خاص طور پر مراکشیوں کو یہ ملک ہسپانیہ اپنا اپنا سا لگتا ہے۔ وہ سال میں کئی بار یہ مختصر سرحدی سمندری عبورکرکے ہسپانیہ پہنچنے اور وہاں سے آگے یورپ تک نکل جانے کی جان توڑ کوششیں کرتے ہیں۔ ان کوششوں میں بیشتر لوگ جان ہار جاتے ہیں، ایک آدھ خوش قسمت سمندری فورس، ساحلی پولیس اور ہسپانیہ کی گاردیاسیوں کے ظالم سپاہیوں سے بچ کر بخیروعافیت یورپ کی جانب نکل بھی جاتا ہے، جہاں وہ چھوٹی موٹی ملازمتیں کرکے کچھ کمانے اور وطن میں منتظر بیٹھے غریب گھروالوں کو کچھ بھجوانے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے۔ اکثروبیشتر ایسی کشتیاں ڈوب جاتی ہیں یا جان بوجھ کر ڈبو دی جاتی ہیں، جن میں ہزاروں ڈالر دے کر ترکِ وطن کرنے والے بدقسمت سوار ہوتے ہیں۔ انسانی سمگلروں کا کوئی اصول، اخلاق یا ایمان نہیں ہوتا! چاہے وہ دُنیا کے کسی بھی حصے میں یہ گھناﺅنا کام کرتے ہوں۔ انہیں صرف وصول شدہ نفع سے غرض ہوتی ہے۔

سال بھر سرحد سے انسانی سمگلنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے کہ ہر غریب، غریب الوطنی ہی میں خوشحال ہونے کے خوابوں کی تعبیر تلاش کرتا ہے۔ یہ سلسلہ صرف ہسپانیہ اور مراکش کے مابین نہیں ہے بلکہ ان ہر دو ملکوں کی سرحد پر یہ رنگ دیکھنے میں آتا ہے، جن میں سے ایک ملک بدحال اور دوسرا خوشحال ہو .... یا پھر خوشحال ملکوں کی راہ میں پڑتا ہو۔ امریکہ بہادرکی سرزمین میکسیکوکے مزدوروں، بے روزگاروں اور سمگلروں کے لےے بڑی کشش رکھتی ہے۔ اس لےے دونوں ملکوں کی طویل سرحد پر کئی جگہوں پر خفیہ راستے بنے ہوئے ہیں، جن سے گزرکر میکسیکوکے لوگ غیرقانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوتے ہیں۔

ہر خوشحال ملک کی سرحد سے غریب، بے روزگار پڑوسی ملک کے باشندے اسی طرح قسمت آزمانے کے لےے جان ہتھیلی پر رکھ کرگزرتے رہتے ہیں۔ روزانہ سیکڑوں مارے جاتے ہیں، ہزاروں پکڑے جاتے ہیں جو جیل میں سالوں تک سڑتے رہتے ہیں مگر پھر بھی یہ لہر یعنی ترکِ وطن کا غیرقانونی سلسلہ روزافزوں ہے۔ کیونکہ وطن میں رہ کر بھوک، بے روزگاری کا سامنا کرنے سے بہتر سمجھا جاتا ہے کہ بے وطن ہو کر پیٹ بھرنے اور زندگی کو سہل بنانے کا سلسلہ کیا جائے .... اس میں چاہے تیسرے درجے کے شہری ہونے کی ذِلت اُٹھانا پڑے۔

سبھی اپنے گھروں سے دور ہوکر قسمت آزمانے، انجانے دیسوں کی خاک چھاننے نکل کھڑے ہوتے ہیں کہ انہیں بے مسری یارانِ وطن بہت ستاچکی ہوتی ہے۔

سو یہ منظر ہے میکسیکو کے ویران سرحدی علاقے کی ایک کالی رات کا۔ بدقسمتوں کی ایک ٹولی اپنی قسمت آزمانے کے لےے ایک سمگلر کے سامنے امبدوبیم میں اپنے منہ کھولے کھڑی اس کی آخری ہدایات غور سے سُن رہی ہے تاکہ کوئی بات رہ نہ جائے اور وہ ”نئی دُنیا“ میں پہنچ کر کسی سوال کا جواب غلط نہ دے بیٹھیں!

اس وقت سب سے زیادہ بارڈر کراسنگ کے غیرقانونی واقعات میکسیکو سے شمالی امریکہ (USA) کی سرحد پر ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد مراکش اور ہسپانیہ کے درمیان سمندری سرحد یعنی آبنائے جبرالٹو (جبل الطارق Gibralter) کے ذریعے غیرقانونی طور پر افریقی ملکوں کے شہری ہسپانیہ میں داخل ہونے کی کوششیں کرتے ہیں۔ پیورٹوریکو اور ڈومینیک ری پبلک کے درمیان مونا چینل بھی اسی طرح استعمال ہورہا ہے۔

غیرقانونی طور پر سرحد پار کرنا، مختلف ملکوں کی صورتحال!

پاکستان میں غیرقانونی تارکینِ وطن کی تعداد کروڑوں میں ہے مگر ہمارے ملک میں مانیٹرنگ اور رجسٹریشن کا مو¿ثر انتظام نہیں ہے، جس کے باعث اصل تعداد کا پتہ نہیں چلتا۔ یہ سلسلہ ویسے تو قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا لیکن سقوطِ ڈھاکہ، افغانستان پر روسی قبضے (اور پھر امریکی یلغار) کے بعد اس میں بہت تیزی آئی۔ کچھ سال پہلے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف اکثریتی بدھ مت والوں کے مظالم ڈھانے پر میارنمار سے بھی مسلمان پناہ گیر پاکستان میں آنے لگے ہیں۔ کراچی اور دیگر صنعتی شہروں میں سستے مزدوروں کے طور پر یہ تارکینِ وطن آرام سے کھپ جاتے ہیں اور رشوت دے کر پاکستانی شناخت اور شہریت حاصل کر کے عام ملکی شہری جیسی مراعات حاصل کرنے لگتے ہیں۔

بھارت جو کہ اپنی آبادی کے لحاظ سے پہلے ہی ”انسانی بم“ بن کر پھٹنے کے قریب ہے، وہاں بنگلہ دیش، سری لنکا اور دیگر غریب ملکوں سے لوگ آرہے ہیں، جن کی اکثریت غیرقانونی طور پر سرحد عبور کر کے آتی ہے۔ بھارتی حکومت بنگلہ دیش کی سرحد پر باڑھ لگانے کا کام شروع کر چکی ہے۔ یہ سرحد 4ہزار کلومیٹر طویل ہے۔ اس باڑھ کا مقصد صرف تارکینِ وطن کی آمد کو روکنا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سمگلنگ اور غیرملکی دہشت گردوں کا راستہ روکنا بھی ہے۔

فلسطین پر یہودی یا صیہونی قبضہ بھی زیادہ تر غیرقانونی طور پر سرحدپار کر کے آنے والوں نے پختہ کرایا ہے۔ 1933ءتا 1948ءکے درمیان برطانوی حکومت نے فلسطین آنے والے یہودیوں کی تعداد کوٹہ کے تحت قابو میں رکھی تھی مگر جرمنی میں جب ہٹلر نے یہودیوں کو سبق سکھانا شروع کیا تو انہوں نے سیلابی ریلے کے طور پر یورپ کا رُخ کیا۔ برطانیہ اور امریکہ نے خفیہ طور پر سازش کر کے اسرائیل کے قیام اور فلسطین پر یہودی قبضے کی راہ ہموار کی اور جو بدمعاش یہودی یورپ میں ڈیرہ جمانے آرہے تھے، ان کو فلسطین میں اسرائیلی ریاست کا سبزباغ دکھا کر بھجوا دیا۔ یہ باغ اب پھل دے چکا ہے، جس کے نتیجے میں مسلمان فلسطینی اپنے ہی وطن میں اقلیت ہو گئے ہیں اور غیرقانونی طور پر سرحدعبور کر کے آنے والے یہودی اسرائیل قائم کر کے انہیں دن رات مار رہے ہیں۔

ترکی ایشیا سے یورپ جاکر زندگی بدلنے والے غریب لوگوں کے لےے ٹرانزٹ پوائنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایشیائی ملکوں سے قسمت آزمانے والے پہلے ترکی آتے ہیں، پھر یہاں سے مشرق یورپ کی جانب غیرقانونی طور پر نکلتے ہیں۔ اس مشق میں روزانہ سیکڑوں افراد زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں لیکن پھر بھی یہ سلسلہ کم نہیں ہوتا۔

چین کو شمالی کوریا حکومت کی سخت پالیسیوں کے باعث غیرقانونی تارکینِ وطن کے سیلاب کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس کے لےے چین نے سرحدی نگرانی سخت کرنے کے علاوہ سزائیں بھی بہت سخت کر دی ہیں۔

ہانگ کانگ میں ویت نام سے غیرقانونی تارکینِ وطن کی آمد بڑا مسئلہ رہی ہے۔ 1975سے 1999ءکے درمیان ایسے لوگوں کی تعداد ایک لاکھ 43ہزار سے زائد ویت نامی ہانگ کانگ میں آکر چھپ گئے اور بالآخر غلط یا صحیح دستاویزات تیار کروا کر وہ ہانگ کانگ کے شہری بن گئے۔ تب سے اب تک ہانگ کانگ کی سرحدی ایجنسیاں 67ہزار سے زائد ویت نامیوں کو ڈی پورٹ کر چکی ہے۔

زمبابوے اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ ملنے والی سرحدوں پر 51مقامات سے غیرقانونی طور پر اپنے شہریوں کو داخل کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ غربت کے باعث زمبابوے میں ایسے نیٹ ورک عام ہیں جو انسانی سمگلنگ کر رہے ہیں۔

سفر کے ذرائع جو عموماً جان لیوا

ڈیک، کشتیاں، باربرداری کے ٹرک، باکس کاریں اور دیگر ذرائع نقل وحرکت ان غیرقانونی تارکینِ وطن کو سرحد پار کراتے ہیں۔ کنٹینرز میں سانس گھٹنے، بھوک، پیاس اور ڈی ہائیڈریشن سے یہ لوگ مر جاتے ہیں۔ یہی حال بحری جہازوں، کارگو گاڑیوں اور دیگر خطرناک ذرائع آمدورفت میں ہوتا ہے۔ پیدل چلنے والے راستے کی دُشواریوں، جنگلی جانوروں اور بارڈر پٹرول پولیس کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ چھوٹی کشتیوں یا لانچوں کے ذریعے بپھرا ہوا سمندر پار کرنے کی کوشش کرنے والے اکثر وبیشتر ڈوب جاتے ہیں یا شارک اور دیگر خونخوار آبی جانوروں کا شکار بن کر اپنے خوابوں سمیت راہِ عدم اختیار کرلیتے ہیں۔

سرحدیں بند کرنے سے جنگلی حیات کو خطرات لاحق ہوتے ہیں!

ماہرین سرحدوں کی بندش کو آزاد جنگلی حیات کے لےے خطرناک قرار دیتے ہیں۔ جانور ان سرحدوں کی پروا کےے بغیر آتے جاتے ہیں لیکن جب آہنی باڑھ لگتی ہے تو ان کی راہ مسعود ہو جاتی ہے۔ اس طرح ماحولیاتی تنوع پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

شمالی امریکہ: دوکروڑ غیرقانونی تارکینِ وطن کا ملک!

امریکہ (USA) میں تارکینِ وطن کی تعداد کے حوالے سے کئی سروے ہوئے ہیں اور اب یہاں ہوتے رہتے ہیں۔ 1980ءکی دہائی کے ایک سروے کے مطابق سترلاکھ لوگ دُنیا بھر سے آکر غیرقانونی طور پر امریکہ میں آباد ہوئے ہیں۔ اب یہ تعداد 12تا 20لاکھ ملین یعنی سواکروڑ سے دوکروڑ تک بتائی جارہی ہے۔ اس تعداد کی تصدیق کئی ادارے، تھنک ٹینک اور آزادسروے کرتے ہیں، جن میں PEW پبلک ریسرچ سنٹر اور دیگر آرگنائزیشنز شامل ہیں۔ امریکہ کی سرحد میکسیکو سے بہت طویل ہے اور اِلیگل امیگریشن کا اصل مسئلہ یہی سرحد ہے۔ 1994ءمیں امریکہ نے اس سرحد کو خاردار تار کی باڑھ یا دیوار لگا کر بند کیا ہے، تب سے اب تک اس سرحد کو پار کرنے کے چکر میں تین ہزار لوگ مارے گئے ہیں۔ دوسری جانب کیوبا کے لوگ بھی سمندر کے راستے 90میل گھریلو ساختہ کشتیوں میں سفر کر کے امریکہ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی اکثریت ڈوب جاتی ہے یا امریکن کوسٹ گارڈز اور نیوی کے ہاتھوں پکڑی جاتی ہے۔ ہر سال 5لاکھ غیرقانونی تارکین امریکہ میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں، ویسے بارڈرپولیس (CBP) ہر روز 12لاکھ غیرملکیوں کو قانونی دستاویزات کے ساتھ امریکہ میں داخلے کی اجازت دیتی ہے۔

فزیکل اور ورچوئل سرحدی باڑھ

امریکہ اور میکسیکو کی سرحد سات سو کلومیٹر طویل ہے، جس پر امریکہ 1994ءسے خاردار تاروں کی باڑھ اور آہنی گِرل لگا رہا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ کام کبھی مکمل نہیں ہوسکتا لیکن اس پر 8ارب ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ دوسرے آگے آگے باڑھ لگتی جائے گی تو پیچھے سے سالخوردہ اور پُرانی ہو کر بیکار ہوتی جائے گی، جس کو ازسرنو بنانا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی ایجنسیاں اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لےے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے ورچوئل نگرانی بھی کرتی ہیں، جس پر فزیکل سرحدی تحفظ سے چار پانچ گنا یعنی 37ارب ڈالر کے اخراجات آتے ہیں۔

غیرقانونی طور پر سرحد پار کرنا

قانونی دستاویزات، پاسپورٹ، ویزا اور اجازت نامے کے بغیر کسی ملک کی سرحدپار کرنا ایک سنگین جرم ہے جو کہ عموماً دوسرے ملکوں کے شہری مختلف وجوہات کی بناءپر کرتے ہیں۔ ان وجوہات میں سب سے اہم وجہ معاشی بدحالی سے فرار ہے۔ دوسرے نمبر پر اپنے ملک میں حالات ناخوشگوار ہوں، خانہ جنگی یا غیرملکی حملہ ہونے کی صورت میں بھی شہری پڑوسی ملک کا رُخ کرتے ہیں اور وہاں پناہ گیر کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

سینکڑوں غیر قانونی تارکین وطن معصوم بچے

امریکی صدر اوبامہ نے 2011ء ایک اعلان کیا تھا کہ اگر کوئی نابالغ بچہ یا بچی غیرقانونی طور پر سرحد عبور کر کے امریکہ میں آتا ہے تو اسے ڈی پورٹ نہیں کیا جائے گا۔ یہ اعلان ہونا تھا کہ لاطینی امریکہ کے غریب شہریوں نے دھڑادھڑ اپنے معصوم بچے امریکی سرحد سے بھیجنا شروع کےے۔ 2013ءمیں یہ حال تھا کہ روزانہ 400بچے غیرقانونی طور پر امریکہ میں داخل ہو رہے تھے، جن کو ان کے والدین خاص طور پر مائیں سرحد پر لاکر چھوڑ دیتی تھیں ۔ ان میں وہ معصوم بھی تھے جن کی عمر ابھی چلنے والی بھی نہیں اور وہ گھٹنیوں گھٹنیوںچل کر سرحد پار کرتے تھے، جنہیں بارڈر پولیس گود میں لے کر اپنے عارضی مرکز میں پناہ دے دیتی تھی ۔ ان کے پیچھے پھر کچھ دن بعد ان کی مائیں بھی سرحد پر آکر منت سماجت کرتیں کہ انہیں بچوں کے پاس بھیجا جائے۔ اس طرح یہ نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان معصوم بچوں میں سے بیشتر سرحدی علاقے کی سختیوں کے باعث بیمار بھی ہوتے تھے ۔ سرحدی محافظوں کے پاس شدید سردی سے بچاﺅ کے لےے خود مناسب انتظام نہیں تو اتنے سارے زبردستی کے ننھے مہمانوں کو کہاں سے بستر اور کمبل وغیرہ فراہم کےے جاسکتے ہیں۔ یوں وہ بچے موت کے منہ میں بھی چلے گئے جو والدین کے لالچ کے باعث ایک غیرملک میں قابلِ رحم حالت میں پڑے تھے۔ اتنے سارے بچوں کو رکھنے، کھلانے پلانے اور علاج کی سہولیات دینے کے لےے بارڈر پولیس نے ہزاروں رضاکار بھرتی کےے تھے۔ اس کے علاوہ ان سرحدی علاقوں میں ہوٹلوں کی سہولیات نہایت محدود ہیں جو لاکھوں لاکھوں کا بوجھ نہیں اُٹھا پاتیں۔ نتیجتاً اکثر اہلکار، رضاکار اور پناہ گیر بچے خوراک کی قلت کا شکار تھے۔ ان بچوں کا امریکہ میں اس طرح اکیلے آجانا ایک انسانی المےے کو جنم دے رہاتھا۔ کچھ بچوں کے دورپار کے عزیز پہلے سے وہاں ہوتے تھے، جن کے پتوں اور فون نمبرز کی پرچیاں ان بچوں کے گلے میں بندھی ہوتی تھیں۔ وہ عزیز اگر ان بچوں کی ذمہ داری لے لیتے تو ٹھیک ورنہ یہ بچے بلوغت تک دیکھ بھال کے سرکاری اور رضاکارانہ اداروں میں پرورش پاتے تھے۔ ایسے بڑے ہونے پر یاتو بھاگ نکلتے ہیں یا پھر معمولی ملازمتیں کر کے تنہا گذربسر کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثریت کے والدین کو امریکہ آنے کی اجازت نہیں ملتی۔

تاہم 2017ءمیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر قانونی تارکین وطن کو امریکہ سے نکالنے کے عمل کو تیزکرنے کے لیے نئی ہدایات جاری کیں۔ان نئی ہدایات کے مطابق ایسے غیر قانونی تارکین وطن کو جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں اور ان کا مجرمانہ ریکارڈ بھی ہے ان کو انھیں لوگوں کے ساتھ ہی ہدف بنایا جائے گا جو کہ امریکی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں اور یا بینیفٹ سسٹم کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔تا ہم وہ کم عمر بچے اور نوجوان جنھیں امریکہ غیر قانونی طور پر لایا گیا، انھیں امریکہ میں رہنے کی اجازت ہوگی۔ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کا کہنا تھا کہ وہ نئے اقدامات پر عمل درآمد کے لیے دس ہزار مزید آفیسرز کو تعنیات کرے گی۔ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران گیارہ ملین غیر قانونی تارکین وطن کے ساتھ سختی سے نمٹنے اور ممکنہ دہشتگردوں کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے لے لیے میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کے وعدے کیے تھے۔


ای پیپر