Photo Credit Naibaat.pk

بدلتے ملکی حالات اور سیاسی جماعتیں،امکانات ،توقعات اور خدشات
02 مئی 2018 (21:05) 2018-05-02

مقبول خان : عام انتخابات قریب ہیں اور پاکستان کا سیاسی منظرنامہ مختلف خدشات ،امکانات اور توقعات کے عمل سے گزر رہا ہے۔ نگران وزیراعظم کے لئے مشاورت کا عمل جاری ہے۔ انتخابات کے حوالے سے نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں،کہیں سیاسی اتحاد بن رہے ہیں، کہیں سیٹ ٹوسیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لئے بات چیت ہو رہی ہے اورکہیں سیاسی جماعتوں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہے۔کئی سیاسی ”پرندے“ نئے آشیانوں کی تلاش میں ہیں اورکئی تونئی”چھتوں“ پر بیٹھ بھی چکے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی کمیٹیاں اُمیدواروں کی فہرستیں مرتب کرنے میں مصروف جبکہ سیاست دان ایک دوسرے پر الزامات عائدکرتے ہوئے اگلے الیکشن میں اپنی حکومت بنانے کے دعوے کررہے ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی انتخابات کے انعقادکی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔

اور سیاسی جماعتیں جلسے جلوس کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ 22 اپریل کو مسلم لیگ (ن)کے صدراور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کراچی کا دورہ کیا۔ جس میں دیگر دعوو¿ں اور وعدوں کے ساتھ کراچی کو ایشیا کانیویارک بنانے کی نوید بھی سنائی گئی۔ اورآج جب آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گے تولاہورمیںمینارپاکستان کے مقام پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے سیاسی اکٹھ سے خطاب کا بول بالا ہوگا۔ ملک میں سیاسی گہما گہمی کے ساتھ عدلیہ کا فعال کردار بھی جاری ہے۔ اعلیٰ عدلیہ صاف پانی سے لے کرحکمرانوں اور سیاسی رہنماو¿ں کی کرپشن اور اختیارات سے تجاوزکر نے سے متعلق مقدمات کی سماعت کررہی ہے، عدلیہ کی اس فعالیت کو سراہا بھی جا رہا ہے اور تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔ ملکی معیشت حکمرانوں کے بلند بانگ دعوو¿ں کے برعکس غیرتسلی بخش ہے،کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر بے قابو ہوچکا اور پاکستانی روپے کی بے قدری بڑھتی جارہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائرکا گراف مسلسل نیچے آرہا ہے، غیر ملکی قرضے بڑھ چکے ہیں، افراط زر بھی اپنی جگہ موجود ہے اورکئی ترقیاتی منصوبے غیرشفاف ہیں۔ اشیاءصرف کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ درآمدات اور برآمدات کا توازن بگڑ چکا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں مصنوعی تیزی پیداکرکے اسے مندی میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔

گزشتہ عام انتخابات میں عوام کوغربت ، بیروزگاری ، لوڈشیڈنگ، دہشتگردی اور جرائم کے خاتمے کی نوید سنائی گئی تھی۔ لیکن پانچ سال گزرنے کے باوجود عوام اِنہی مسائل اور مشکلات سے دوچارہیں، جن سے وہ 2013ءمیں تھے،انہیں کوئی ریلیف نہیں ملاہے۔ یہ حقیقت ہے کہ حکمرانوں کا تعلق پنجاب، سندھ ، کے پی کے یا بلوچستان کے ہوں ، وہ اپنے زیادہ ترانتخابی وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ شدید گرمی کے با وجود بعض جگہوں پر لوڈ شیڈنگ اب بھی جاری ہے۔ بیروزگاری کا عفریت نوجوانوں کو جرائم کی دلدل میںدھکیل رہا ہے۔ 2013ءکے مقابلے میں دہشتگردی میں قدرے کمی آئی، جس کا کریڈٹ سیاسی حکومتوں کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی جاتا ہے۔ تاہم کرچی جیسے شہر میں اسٹریٹ کرائم، چوری، قتل وغارت گری کا سلسلہ اب بھی جاری گوکہ اس میں وہ شدت نہیں جس کا سامنا شہر قائد کے باسیوں کو ماضی میں رہا ہے۔


سیاسی جماعتوں کی صورتحال
الیکشن کمیشن میں مجموعی طور پر ساڑھے تین سو سے زائد چھوٹی بڑی، قومی ، علاقائی اور مذہبی جماعتیں رجسٹرڈ تھیں لیکن نئے ایکٹ پر پورا اُترنے والی صرف 34 سیاسی ومذہبی جماعتوں کو عام انتخابات میں حصہ لینے کا اہل قراردیا گیا ہے۔علاوہ ازیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اُمیدواروں کےلئے انتخابی اخراجات کی حد اور کاغذات نامزدگی داخل کرنے کےلئے جو فیس مقررکی گئی ہے، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والاکوئی شخص عام انتخابات میں حصہ لینے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ جہاں تک سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے کہ ان میں مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ انتشارکا شکار ہیں، متحدہ قومی موومنٹ سے مصطفیٰ کمال کی سربراہی میں بننے والے گروپ کے بعد ایم کیو ایم پی آئی بی اور بہادرآبادگروپ میںتقسیم ہو چکی ہے، مسلم لیگ (ن) کے متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اپنی قیادت کو داغ مفارقت دے کے تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کے جانب سے سندھ، پنجاب میں صوبائی حکومتیں اور مرکز میں حکومت بنانے کے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں، پارٹی کے حلقوں اور جلسوں میں بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم کے نعرے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف کے کارکن پُرامید ہیں کہ کپتان عمران خان ہی ملک کے نئے وزیر اعظم ہوںگے۔ لیکن اس سب کے باوجود مجموعی طور پر ملک کے سیاسی اُفق پر مایوسی اور بے یقینی کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔


الیکشن کمیشن کی تیاریاں
موجودہ قومی اور صوبائی اسمبلیاں31 مئی کو اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد تحلیل ہو جائیں گی۔ جس کے بعد نگراں حکومت قائم کی جائے گی جو60 دن کے اندر عام انتخابات کرانے کی پابند ہوگی، بشرطیکہ صورت حال معمول کے مطابق رہے اور کوئی بڑی تبدیلی نہ آئے۔ عام انتخابات کا انعقاد ایک آئینی تقاضہ ہے۔ اس آئینی تقاضے کی تکمیل کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے انعقاد کے لئے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ حلقہ بندیوں پر اعتراضات داخل کرانے کا وقت ختم ہوچکا ہے، الیکشن کمیشن کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ اعتراضات دورکرکے مئی کے پہلے ہفتہ میں حتمی انتخابی فہرستیں جاری کر دی جائیں گی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 72 لاکھ سے زائد نئے ووٹوں کا اندراج کیا جا چکا ہے۔ نئے ووٹروں کے اندراج کے لئے ملک بھر میں 26 مارچ سے 14ہزار4 سو87 ڈسپلے سنٹر زقائم کئے گئے تھے، جن میں صوبہ پنجاب میں 7ہزار 928، سندھ میں 2 ہزار 585،خیبر پختونخوا میں دو ہزار 545 اور بلوچستان میں ایک ہزار429 مراکز قائم کئے گئے ۔ تنازعات سے بھر پورموجودہ سیاسی صورت حال میں بھی الیکشن کمیشن کی جانب سے شفاف اورغیر جانبدارانتخابات کے انعقادکے اشارے دیے جا رہے ہیں۔ لیکن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی گروپوں کی جانب سے حلقہ بندیوں پراعتراضات مستردکرتے ہوئے مو¿قف اختیارکیا ہے کہ حلقہ بندی کرنے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کو ہے، بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس پر شدید تنقیدکی گئی۔ انہوں نے ان حلقہ بندیوں کو مستردکرتے ہوئے 2013ءکی حلقہ بندیوں اور انتخابی فہرستوں کے مطابق الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کا مطالبہ پورا ہوتا ہے یا نہیں؟


کرپشن اور عدلیہ کی فعالیت
کرپشن اور حکام کا اختیارات سے تجاوزکرنا بلاشبہ پاکستان کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ کی وجہ سے پاکستان اقتصادی شعبے میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہے۔ اس حقیقت کونظراندازکرنا ممکن نہیں ہے کہ اقتصادی طور پرکمزور ملک عالمی سطح پر باوقارحیثیت کا حامل نہیں ہوسکتا۔ ملکی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لئے وزیراعظم نے ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا ہے، سیاسی جماعتوں اوراقتصادی ماہرین کی جانب سے اس کی حمایت اور مخالفت میں بیانات بھی دیے جارہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نگراں حکومت کے قیام تک اس کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں یا نہیں.... اس کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہمارا ملک کرپشن کی دلدل میں بُری طرح دھنسا ہوا ہے۔ پاکستان میں کرپشن کے پس منظر میں انسداد بد عنوانی کے ادارے قومی احتساب بیورو جسے عرف عام میں نیب بھی کہا جاتا ہے،کی ایک پریس ریلیزکے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے اپنے قیام سے اب تک بدعنوانی کرنے والوں سے وصولی کرکے قومی خزانے میں 289ارب روپے جمع کرائے ہیں۔ بعض حلقے ان اعدوشمار پر بھی تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں لیکن اس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں اعلیٰ سطح پرکرپشن ہے جس کی وجہ سے نچلی سطح پر ہونے والی کرپشن سے عوام براہ راست متاثر ہورہے ہیں۔

اس امر میں دو رائے نہیں کہ کرپشن پاکستان کے چند بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ یہ بڑی حوصلہ افزا بات ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کرپشن کے خلاف بھر پورطریقے اورمستقل مزاجی کے ساتھ مقدمات کی سماعت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پس منظرکا یہ پہلو بھی اہم ہے، اور میڈیا پر بہت کچھ کہہ بھی رہا ہے کہ کرپشن کے حوالے سے مرکزی کردار سابق وزیراعظم اوران کی فیملی بنی ہوئی ہے۔ اگراس فیملی کے ساتھ دیگر حکمران خاندانوں کے کرپشن کے کیس بھی زیر سماعت ہوتے تو بعض حلقوں میں پایا جانے والا منفی تاثر ذائل ہوسکتا تھا۔کرپشن کے مقدمات میں عوام بھی دلچسپی لے رہے ہیں،کیونکہ کرپشن کی وجہ سے سب زیادہ متاثر عوام ہی ہورہے ہیں ۔ اعلیٰ سطح پر ہونے والی کرپشن کے مقدمات کی تفصیلات جب میڈیاکے ذریعے عوام تک آتی ہیں تو یہ دلچسپ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ اعلیٰ سطح پرجوکرپشن کی جاتی ہے وہ انتہائی مہارت اور فنکاری سےکی جاتی ہے۔ پاکستان کی اشرافیہ نے اربوں روپے کی کرپشن اس مہارت اور فنکاری کے ساتھ کی ہے کہ اس کے شواہد اور ثبوت یکجاکرنا بھی جان جوکھوں کا کام ہے۔


سیاسی فضا
پاکستان کی سیاسی صورت حال جتنی پیچیدہ ان دنوں ہے، اتنی شایدکبھی نہ تھی، سابق وزیر اعظم نوازشریف وزارت عظمیٰ کے منصب سے نا اہل ہونے کے بعد اب سیاسی جماعت کی قیادت کے لئے بھی نا اہل ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں مقبول سیاسی قیادت کو اعلانیہ اور غیر اعلانیہ طورپر پہلی مرتبہ سائیڈ لائن پر نہیں لگایا گیا ہے، ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ مقبول سیاسی قیادت کو سائیڈ لائن کرنے کے کبھی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ٹوٹ پھوٹ کے باوجود اب بھی بلاشبہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور عوامی سطح پر میاں نواز شریف کی مقبولیت کے حوالے سے دو رائے ممکن نہیں ہے لیکن موجودہ صورت حال میں مسلم لیگ (ن) خاصی مشکل میں نظرآرہی ہے۔ عام انتخابات سے قبل اس کے لئے سیاسی فضا نا سازگار ہوتی چلی جارہی ہے، لیکن یہ کہنا بھی بہت مشکل ہے کہ پنجاب میں اس صورت حال کا بھر پور فائدہ تحریک انصاف یا پیپلزپارٹی سمیت کوئی اور جماعت اٹھا سکتی ہے، لیکن موجودہ سیاسی منظرنامے میں یہ بات واضح ہورہی ہے کہ 2018 ءکے انتخابات میں مقابلہ کانٹے دار ہوگا اورکوئی بھی سیاسی جماعت بھاری مینڈیٹ تودُورکی بات سادہ اکثریت بھی نہیں لے سکے گی۔ مبصرین کا اس بات پراصرار ہے کہ نئے انتخابات کے نتیجے میں معلق پاریمان وجود میں آنے کا قوی امکان ہے۔ کوئی نیا ’بزنجو‘ اور نیا ’سنجرانی‘ بھی سامنے آسکتا ہے۔ جب کہ بعض مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ عام انتخابات کے تناظر میں ملکی سیاست میں بڑی افراتفری پھیلنے کا امکان بھی رد نہیں کیا جاسکتا ۔ ملکی سیاسی صورت حال کے ساتھ اگر پاکستان کی سرحدوں کا جائزہ لیں توکسی بھی سمت صورت حال تسلی بخش نظرنہیں آتی، بھارت اورافغانستان کا پاکستان کے بارے میں نظریہ ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ بھی ہمارے قابل فخر روابط نہیں ہیں،۔ روس کے ساتھ مثبت تعلقات میںتسلسل نہیں، گو کہ اب کچھ بہتری ہے لیکن اس کے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے.... خطے میں صرف پاک چین دوستی کے سواکچھ نہیں ہے۔ اس صورت حال میں جب پاکستان انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے، سیاسی قائدین اور مقتدرحلقوں کو مل بیٹھ کر ایسا لائحہ عمل تیارکرنا ہوگا جو ملک اور قوم دونوں کے مفاد میں ہو،کیونکہ آپس کی چپقلش کا فائدہ نہیں ہوتا اُلٹا نقصان اُ ٹھانا پڑتا ہے۔


ای پیپر