Photo Credit Naibaat.pk

اُم المومنین ۔۔۔ سیدہ حفصہ بنت عمر فاروقؓ
02 مئی 2018 (20:54) 2018-05-02

راضیہ نوید: سیدہ حفصہ ؓ سیدنا فاروق اعظمؓ کی صاحبزادی ہیں اور آپؓ کی والدہ کا نام زینبؓ بنت مطعون تھا جو عثمان بن مطعون کی بہن تھیں۔ آپؓ کی ولادت بعثت نبوی سے 5 سال قبل ہوئی جب قریش مکہ خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر میں مصروف تھے۔ آپؓ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنی عدی سے تھا۔ اسی طرح آپؓ کا سلسلہ نسب دسویں پشت میں حضور سے جا ملتا ہے۔ علم النساب کے ماہرین کے مطابق سیدہ حفصہ ؓ کا شجر نسب اس طرح ہے:

حفصہ ؓ بن عمر ؓ بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزیز بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن دراح بن عدی بن کعب بن لوی۔ بن عدی کے پاس سفارت کا منصب تھا لہذا اسی وجہ سے مکہ میں ایک نمایاں حیثیت کے حامل تھے۔ ظہور اسلام کے وقت سفارت اور ثالثی کے عہدہ پر حضرت عمر ؓ بن خطاب متمکن تھے۔ خاندانی حیثیت کے ساتھ ساتھ آپؓ کا شمار قریش کے ان سترہ افراد میں تھا جو پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔

حضور نبی اکرم کی بارگاہ ایزدی میں ایمان عمر ؓ بن خطاب کی دُعاکے بعد آپؓ مشرف بہ اسلام ہوئے اور یوں آپؓ کا پورا کنبہ بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوا جس میں سیدہ حفصہ ؓ بھی شامل تھیں۔ اس وقت آپؓ کی عمر تقریباً دس سال تھی۔ آپؓ نے جس خاندان میں پرورش پائی، اس کی چند صفات آپؓ کے مزاج کا حصہ بن گئیں جن میں صاف گوئی،جرا¿ت، بے لوثی، معاملہ فہمی اور یک رنگی شامل تھی۔

سیدہ حفصہ ؓ کا پہلا نکاح حضرت خنیسؓ بن حزامہ سے ہوا جو اسلام کے بالکل اوائل دور میں رسول خداکے جانثار صحابی بن گئے تھے۔ حضرت خنیسؓ نے اپنے ایمان کے تحفظ اور سلامتی کی خاطر اپنے دو بھائیوں حضرت عبداللہؓ اور حضرت قیسؓ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی اور ہجرت مدینہ سے قبل ہی مکہ تشریف لے آئے تھے۔ حبشہ سے واپسی پر آپؓ کی شادی سیدہ حفصہ ؓ سے ہوئی۔ نبوت کے تیرہویں برس رسول اللہ نے اپنے اصحابؓ کو ہجرت مدینہ کی اجازت دے دی چنانچہ سیدہ ؓ اور ان کے شوہر بھی اس سفر میں شامل ہوگئے۔ سیدہ حفصہ ؓ نے اپنے شوہر، والد اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ ہجرت کی تکالیف برداشت کیں اور ہجرت کے بعد مدینہ کی قریبی بستی قبا میں سکونت اختیار کی۔17 رمضان المبارک 2 ہجری کو حق وباطل کا پہلامعرکہ غزوہ بدربپا ہوا جس میں آپؓ کے قبیلہ کے افراد نے بھی جرا¿ت اور شجاعت کے جوہردکھائے اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اسی غزوہ میں آپؓ کے رفیق حیات حضرت خنیسؓ کفارکا بے باکی سے مقابلہ کرتے ہوئے زخموں سے چور ہوگئے .... اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے کچھ عرصہ بعد مدینہ میں ہی شہادت پاگئے۔

حضرت عمر فاروقؓ اپنی صاحبزادی کے لیے سخت پریشان تھے اور عدت ختم ہونے کے بعد انہیں آپؓ کے لئے کسی قابل اعتماد رفیق کی تلاش کی فکرلاحق ہوئی۔ حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عثمان غنیؓ کے سامنے اپنی بیٹی سے نکاح کی پیش کش رکھی لیکن انہوں نے معذرت کر لی۔ بالآخر آپؓ حضورنبی اکرم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور تمام تفصیل سے آگاہ کیا۔ آقا دو جہاں نے فرمایا©: ” حفصہ ؓ کی شادی اس شخص کے ساتھ ہوگی جو ابوبکرؓ اور عثمانؓ سے افضل ہے اور عثمانؓ کی شادی اس خاتون سے ہوگی جو حفصہ ؓ سے بہتر ہے“۔

بعد ازاں نبی اکرم نے سیدہ حفصہ ؓ کے لیے باقاعدہ نکاح کا پیغام بھیجا، جسے قبول کرلیا گیا۔ مہر چار سو درہم مقرر ہوا اور یوں سیدہ حفصہ ؓ کو حرم نبوی میں داخل ہوکراُم المومنین ؓکا اعلیٰ وارفع درجہ نصیب ہوا۔ یہ نکاح مبارک شعبان 3 ہجری میں ہوا۔ اس وقت ام المومین سیدہ حفصہ ؓ کی عمر 22 سال تھی۔

سیدہ حفصہ ؓ جب حضورکے نکاح میں آئیں تو اس وقت اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ بھی آپکے نکاح میں موجود تھیں۔ ہر زوجہ محترمہ کے لیے الگ الگ رہائش گاہ مہیا کی گئی تھی جو ایک حجرہ تھا۔ حجرے کی دیواریں کچی اینٹوں کی اور چھت کھجورکی شاخوں کی تھی۔ دروازے پرکمبل کا پردہ پڑا ہوا تھا۔ اُم المومنین سیدہ حفصہ ؓ کو بھی مسجد نبویکے شرقی جانب حجرہ ملا۔ فقرکا یہ عالم تھا کہ آرام کرنے کے لیے ٹاٹ کا ایک ٹکڑا بسترکے طور پر استعمال کیا جاتا۔ اکثرگزر اوقات دودھ اور کھجوروں پر ہوتی اور ہفتوں چولہے میں آگ نہ جلتی تھی۔

ام المومنین سیدہ حفصہ ؓ کا تعلق اس خاندان سے تھا جو اپنی فصاحت و بلاغت، فہم و فراست اور تقریر میں قریش میں نمایاں مقام رکھتا تھا۔ آپؓ میں یہ خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں اور نبی اکرم اس سے بخوبی واقف تھے۔ لہذا آپؓ کی تعلیم وتربیت کا خصوصی انتظام کیا گیا۔ حضور نے اپنی صحابیہ حضرت شفائؓ بن عبداللہ عدیہ کو سیدہ حفصہ ؓ کو لکھنا سکھانے پر مامور فرمایا۔ انہوں نے آپؓ کو نہ صرف لکھنا سکھایا بلکہ زہریلے کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے کا دم بھی سکھایا۔ سیدہ حفصہ ؓ تعلیم وتفہیم کا بے پناہ شوق رکھتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ آپؓ حضورکے فرمودات واقوال نہایت توجہ سے سنتیں اوراگرذہن میں کوئی سوال پیدا ہوتا تونبی اکرم سے استفسار فرمایا کرتی تھیں۔ مسند احمد بن حنبل میں سیدہ حفصہ ؓ سے متعلق ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرمنے فرمایا: جو اہل ایمان غزوہ بدر اور بیعت رضوان میں شریک ہوئے وہ جہنم میں نہیں جائیں گے۔ یہ ارشاد پاک سن کر آپؓ نے سوال کیا کہ یارسول اللہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے:

”تم میں کوئی ایسا نہیں جو جہنم پر وارد نہ ہو۔ یہ تو ایک طے شدہ امر ہے جسے پوراکرنا تیرے رب کا ذمہ ہے“۔( سورة مریم۔ یہ سن کر آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ درست ہے مگر اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے:

”پھر ہم ان لوگوںکو بچالیں گے جو دنیا میں متقی تھے اور ظالموں کو اس میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے“، ( سورة مریم)۔

آپؓ کا یوں نبی اکرم سے سوال کرنا آپؓ کی علم کے لیے پیاس اور شغف کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؓ کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی۔ قرآن مجید 23 برس کے عرصے میں وقفے وقفے سے رسول اللہ پرنازل ہوا۔ جونہی آپ پر وحی نازل ہوتی تو صحابہ کرامؓ اسے آپ کی زباں مبارک سے سن کر قلب و ذہن میں محفوظ کرلیتے تھے مگر آپ نے اپنی حیات مبارکہ میں اس امرکا انتظام فرمادیا تھا کہ وحی الہٰی کو تحریر میں لایا جائے چنانچہ یہ اہم خدمت دوسرے صحابہ کرامؓ کے ساتھ ساتھ سیدہ حفصہ ؓ کے سپردکی گئی۔ آپؓ حضور کی ہدایات کے مطابق نازل شدہ آیات کو لکھ کر اپنے پا س محفوط کرلیتی تھیں۔ بعد ازاں جب عہد صدیقی میں باغیوں اور مدعیان نبوت کے خلاف جنگوں میں بہت سے حفاظ قرآن شہید ہوگئے تو حضرت عمر فاروقؓ کی تجویز پر قرآن مجیدکو مکمل کتابی صورت میں مدون کرنے کا اہتمام کیاگیا۔ اس سلسلے میں اُم المومنین سیدہ حفصہ ؓ کا نسخہ سب سے زیادہ مفید اورکار آمد ثابت ہوا۔ چنانچہ تمام قرآنی اجزاءکو ایک مکمل مصحف کی صورت میں مدون کرکے سیدہ حفصہ ؓ کی تحویل میں دیاگیا جو تاریخ میں مصحف صدیقی کے نام سے مشہور ہوا۔ حضرت عثمان غنی ؓ کے دور میں عجمیوں کی ایک بڑی تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہوئی تو قرآن پاک کی کتابت، املاءاور تلفظ میں اختلاف کی صورتیں سامنے آئیں تو خلیفہ وقت سیدنا عثمان غنیؓ نے سیدہ حفصہ ؓ کے پاس موجود نسخہ کی نقول کرواکر مختلف شہروں میں بھیجیں تاکہ پوری امت اختلاط و انتشار سے محفوظ ہوجائے۔ اس طرح اللہ رب العزت نے قرآن مجیدکی ترتیب وتدوین اور حفاظت میں سیدہ حفصہ ؓ سے بڑا اہم کام لیا۔

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ حفصہ ؓ اپنی خاندانی خصوصیات کی وجہ سے طبعاً تیز مزاج تھیں اور بلاجھجک اپنی رائے کا اظہار کرلیا کرتی تھیں۔ عرب معاشرے میں عورت کو دبا کر رکھا جاتا تھا اورکسی بھی معاملے میں مشورہ لینا اپنی توہین تصورکیا جاتا تھا مگر حضور نبی اکرم نے ازواج مطہراتؓ کو اپنی رائے کے اظہارکی مکمل آزادی دے رکھی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ سیدہ حفصہ ؓ حضور کے ادب و احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بے تکلفانہ گفتگو کرلیتی تھیں۔ آپؓ کو جھگڑے اور فساد سے سخت نفرت تھی لہذا جب جنگ صفین کے بعد مسلمانوں میں باہم غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اورآپؓ کے بھائی حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اسے فتنہ خیال کرتے ہوئے الگ رہنے کا ارادہ کیا تاکہ صورت حال ان کے کسی قدم سے مزید خراب نہ ہوجائے تو سیدہ حفصہ ؓ نے اپنے بھائی سے کہاکہ اگرچہ ان معاملات میں شریک رہنا آپؓ کے لیے فائدہ مند نہیں مگرآپؓ کو مسلمانوں سے الگ رہ کرگوشہ تنہائی اختیار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ممکن ہے کہ لوگوں کو آپؓ کی رائے کا انتظار رہے۔ آپؓ کے الگ تھلگ رہنے اورموجودہ مسائل میں دخل نہ دینے کی وجہ سے عام مسلمانوں میں اختلاف مزید بڑھے گا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپؓ کس طرح اُمت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے فکر مند رہتیں اورگہری دلچسپی لیتیں۔

اُم المومنین سیدہ حفصہ ؓ نے 10 ہجری میں حضور نبی اکرم کی معیت میں حج کی ادائیگی کا شرف حاصل کیا اور نبی اکرم کی زیر نگرانی و تربیت اس جماعت کا حصہ بن گئیں جس نے خواتین سے متعلق حج کے آداب و مناسک اور احکام و مسائل کی تعلیم دیگر خواتین تک پورے وثوق کے ساتھ پہنچائی۔

سیدہ حفصہ ؓ نے حضرت امیر معاویہؓ کے عہد حکومت میں وفات پائی۔ یہ شعبان 45 ہجری تھی اور آپؓ کی عمر مبارک تریسٹھ برس تھی۔ نماز جنازہ مدینہ کے گونر مروان نے پڑھائی۔ آپؓ کے بھائی حضرت عبداللہؓ اور حضرت عاصمؓ اور بھتیجوں سالم، عبداللہ اور حمزہؓ نے قبر مبارک میں اتارا۔ آپؓ نے اپنے بھائی حضرت عبداللہ بن عمر ؓکو وصیت فرمائی تھی کہ ان کی عابہ والی جائیداد رفاہی کاموں کے لیے وقف کردی جائے۔

اُم المومنین سیدہ حفصہ ؓ سے ساٹھ روایات منقول ہیں۔ ان میں سے چالیس احادیث مبارکہ براہ راست حضوراور حضرت عمر فاروقؓ سے سماعت کیں۔ ان احادیث میں سے چار متفق علیہ، چھ صحیح مسلم میں اور باقی پچاس احادیث کی دیگرکتب میں ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ، حمزہ بن عبداللہؓ، حارثہ بن وہبؓ، عبدالرحمن بن حارچ، صفیہ بنت ابوعبیدہؓ، اُم منشر انصاریہ ؓوغیرہ آپؓ کے خاص تلامذہ میں شامل ہیں۔


ای پیپر