جو دیکھا خواب تھا۔۔۔
02 May 2018 2018-05-02

خواب میں کم دیکھتا ہوں۔۔۔ زیادہ سے زیادہ سال میں دو یا تین مرتبہ۔۔۔ لمبی تان کر سوتا ہوں۔۔۔ خواب اگر دیکھ لوں تو قدرے طویل ہوتا ہے۔۔۔ اور بیداری کے بعد تقریباً یاد رہتا ہے۔۔۔ زیادہ تر خواب خاندانی امور اور ذاتی مسائل و الجھنوں سے متعلق ہوتے ہیں۔۔۔ بیوی بچوں کے درمیان بیٹھ کر سناتا ہوں تو خوفناک خواب کے بارے میں تشویش ظاہر کی جاتی ہے اور خوش کن ہو تو تمنا ہوتی ہے اللہ پوری کر دے۔۔۔ اسی اثناء میں وہ بھی اپنی کتھا سنا ڈالتے ہیں۔۔۔ پیشہ میرا روز کی خبروں پر تبصرہ کرنا ہے۔۔۔ ان سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے جتنے ذرائع دستیاب ہیں مثلاً مختلف نقطہ ہائے نظر کے حامل اردو اور انگریزی کے اخبارات بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے ٹیلی ویژن چینل ، سوشل میڈیا کی جانب سے اڑائی جانے والی درفنطنیاں جن میں ٹھوس خبر کا مادہ کم اور کردار کشی کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ ایسی شخصیات کے ساتھ حسب توفیق روابط اور تبادلہ خیال جو خبر کی دنیا کے حقیقی کردار ہیں۔۔۔ جتنا بھی ہو جائے کم ہے۔۔۔ اخبار نویسی محض آٹھ دس گھنٹے کی ڈیوٹی نہیں صبح شام کا پیشہ ہے، ہر آن کھٹکا لگا رہتا ہے کوئی نیا واقعہ رونما نہ ہو گیا ہو۔۔۔ میڈیا پر جھوٹی یا سچی خبر چھا نہ گئی ہو۔۔۔ تجسس برقرار رہتا ہے۔۔۔ اس کے باوجود امر واقع یہ ہے میں خبر کی دنیا اور سیاسیات کو روگ جان بنا کر نہیں رکھتا۔۔۔ میٹھی نیند مجھے بہت پیاری ہے۔۔۔ اطمینان خاطر ہوتا ہے کہ پہاڑ ٹوٹ کر زلزلہ برپا کر دیں۔۔۔ سمندر امڈ کر طوفان بن جائیں یا ابر رحمت برسنا شروع ہو جائے میرے ملک کے حالات بدلنے والے نہیں۔۔۔ وہی کچھ ہو گا جو روز اول سے ہوتا چلا آ رہا ہے حکومتیں ٹوٹتی رہیں گی۔۔۔ یا توڑی جاتی رہیں گی ۔۔۔ نئی بنتی رہیں گی بلکہ سنائی جائیں گی۔۔۔ انہیں اگر خاص طور پر سول یا جمہوری ہوں ہر وقت خدشہ لاحق رہے گا کب اڑا کر رکھ دی جائیں گی۔۔۔ حقیقی تبدیلی مگر آنے والی نہیں۔۔۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ملک کا دو لخت ہونا گوارا کر لیا لیکن حالات یا نظام میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔۔۔ وہی ڈھاک کے تین پات۔۔۔ وہی اندر والوں کی بے جا مداخلت اور سیاستدانوں کی باہمی سر پھٹول۔۔۔ ایک کا آنا دوسرے کا جانا حکومت کی باگیں کسی اور کے ہاتھوں میں ہونا کٹھ پتلیوں کا تماشا لگے رہنا اور عام آدمی کا بیچارگی کے عالم میں مبتلا رہنا۔۔۔ کرپشن کا وہ ڈھنڈورا پیٹا جانا کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہ دے۔۔۔ کرپٹ وہ بھی ہوں گے جن پر ایک خاص وقت میں الزامات کا طومار باندھ دیا جاتا ہے اور انہیں سیاسی طور پر نکّو بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔۔۔ اور وہ بھی بالیقین ہیں جن کی سرکار والاتبار کی خفیہ اور ظاہری نگرانی میں الزام سازی کی فیکٹریاں چلتی ہیں اور جنہیں دیکھ کر دلوں سے آواز اٹھتی ہے دامن اپنا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ۔۔۔ لیکن کسی کے اندر ان کے سامنے یہ دو لفظ بولنے کی ہمت نہیں ہوتی۔۔۔ ایک ہی کہانی ہے جسے یار لوگ تسلسل کے ساتھ راگوں کی مانند دہراتے چلے آ رہے ہیں۔۔۔ لڑائیاں زیادہ تر ہم خود چھیڑتے ہیں۔۔۔ لڑاکے بھی اپنے دست ہنر مند سے پیدا کرتے ہیں۔۔۔ پھر ان پر فتح عظیم بھی حاصل کر لیتے ہیں۔۔۔ اس کے بعد دنیا کو باور کرانے میں لگے رہتے ہیں دیکھو کیا منفرد کارنامہ سر انجام دیا ہے۔۔۔ جو ہم نے کر دکھایا۔۔۔ رستم سے نہ ہوا ہو گا۔۔۔ اس لیے جب میں ان تمام افکار و حوادث سے پیچھا چھڑا کر سونے کے لیے بستر پر دراز ہوتا تو بے خوف ہو کر آنکھیں بند کر لیتا ہوں۔۔۔ علائق دنیا سے لاتعلق ہو جاتا ہوں نیند کبھی کبھار کے سوا شیر خدا کے فضل سے جلد آجاتی ہے صبح عین وقت پر اٹھ جاتا ہوں۔۔۔ قومی اور سیاسی امور کے بارے میں خواب دیکھنا شاذ ہوتا ہے۔۔۔ اگر دیکھ لوں تو مدت تک یاد رہتا ہے۔۔۔ ایسا ایک خواب میں نے گزشتہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب مورخہ 27 اپریل کو دیکھا زیادہ طویل نہیں تھا ۔۔۔ دس بارہ منٹ کا ہو گا۔۔۔ اب معمول کی مصروفیات رقم کرنے کی باری آئی سوچا قارئین کو اپنے تجربے میں شریک کر لوں۔

میں دیکھتا ہوں بحر الکاہل میں واقع ایک ملک کے اندر علاقائی سطح کی سربراہی کانفرنس جاری ہے۔۔۔ جنوبی ایشیا سمیت خطے کے تمام ممالک کے سربراہان حکومت و ریاست شریک ہیں۔۔۔ صحافیوں اور دانشوروں کے کئی گروپ بھی حسب معمول بیشتر ممالک سے آئے ہوئے ہیں۔۔۔ تقریریں ہو رہی ہیں۔۔۔ ہال کے مختلف گوشوں میں گروہوں کے درمیان تبادلہ خیالات کا سلسلہ جاری ہے۔۔۔ صحافی اور دانشور بھی خاص خبر کے حصول کی خاطر کسی نہ کسی سربراہ حکومت کا دامن پکڑنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔۔۔ لیکن سب سے زیادہ دلچسپی اور توجہ کا مرکز شمالی کوریا کے صدر کم یانگ آن بنے ہوئے ہیں ہر کوئی

ان سے ملنے اور زبان سے ایک جملہ کہلوانے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے۔۔۔ وہ پانی میں تیرتی مچھلی کی مانند کسی کے ہاتھ نہیں آتے۔۔۔ بڑی زیرکی کے ساتھ پھسل کر نکل جاتے ہیں۔۔۔ کسی کے سوال کا جواب نہیں دیتے۔۔۔ ایک آدھ مرتبہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی تو دیکھنے والوں میں سے کسی نے پھبتی کسی اچھا انہیں ہنسنا بھی آتا ہے۔۔۔ اس کے باوجود ہر ایک کی یوں کہیے کہ تمنائے بیتاب تھی ایک جملہ تو ان کے منہ سے کہلوا لیں۔۔۔ بڑی خبر بن جائے۔۔۔ ان کا اتنے Exposure والی کانفرنس میں چلے آنا اپنی جگہ بڑی خبر سمجھا جا رہا ہے۔۔۔ لیکن کیوبا کے علاوہ دنیا کے شاید واحد کمیونسٹ ملک کا سربراہ کسی کے جال میں پھنسنے والا نہیں تھا ۔۔۔ صحافیوں کی بے پناہ جستجو اور پریشانی کا عالم دیکھ کر برجستہ میرے منہ سے چند الفاظ نکل گئے ۔۔۔ اس پستہ قد شخص نے کہ چہرے پر جاذبیت نہیں شخصیت میں جاہ و جلال نہیں کلام میں تاثیر نہیں رکھتا۔۔۔ کس طرح سب کو آگے لگا رکھا ہے۔۔۔ امریکہ کہ کرہ ارض کی واحد سپر طاقت ہے اس کی ناک کا مچھر بنا ہوا ہے۔۔۔ صدر رونالڈ ٹرمپ کی تمام تر رعونت ہر طرح کی دھمکیوں کے باوجود اس کے آگے پگھل سی جاتی ہے۔۔۔ برابر کی چوٹ لگاتا ہے۔۔۔ اڑھائی کروڑ کی آبادی رکھتا ہے چھوٹا سا رقبہ ہے۔۔۔ روس اور چین جیسے ہمالیہ جتنے بڑے اور سمندروں کی سی وسعت رکھنے والے ملک اس کے ہمسایہ ہیں ان کے درمیان ممتاز بنا پھرتا ہے۔۔۔ ایک اور بڑے ہمسایہ جاپان کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔۔۔ ایٹمی دھماکے کے بعد ایٹمی دھماکہ کرتا چلا جا رہا ہے۔۔۔ نیوکلیئر اسلحے کے لحاظ سے برابر کی سپر طاقت ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے۔۔۔ کوئی انکار نہیں کرتا۔۔۔ مگر کب تلک۔۔۔ بہت تھوڑی آبادی ہے۔۔۔ اقتصادی وسائل کی شدت کے ساتھ کمی ہے۔۔۔ اس وقت بڑوں بڑوں کو ہانکے پر لگا رکھا ہے۔۔۔ مگر یہ طنطنہ تادیر قائم رہتا نظر نہیں آتا۔۔۔ سوویت یونین کے تمام تر آبادی، وسیع ترین رقبے کے علی الرغم اقتصادی کمزوریوں کی وجہ سے اس کی ناپختہ دیواریں سپر طاقت کی چھت کو سہارا نہ دے سکیں تو بے چارے شمالی کوریا کے پاس انتہائی تباہ کن اسلحے کے اتنے زیادہ انبار کسی کا کیا بگاڑ لیں گے۔۔۔ میری زبان پر یہ الفاظ آتے آتے رہ گئے چہ پدی چہ پدی کا شوربہ۔۔۔ اس کی فوجی طاقت میں پائیداری کے عنصر کا فقدان ہے۔۔۔ تاریخ اور حالیہ عہد کے تجربات بتاتے ہیں ایسی طاقت تادیر قائم رہنے والی نہیں۔۔۔ لہٰذا اگر ہمارے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کرتاہے تو چنداں پریشانی کی بات نہیں۔۔۔ میرا یہ تبصرہ سن کر کچھ صحافی زیرلب مسکرا دیئے، باقیوں نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔۔۔ گویازبان حال سے کہہ رہے ہوں آگے آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے۔

لیکن جیسا کہ کمیونسٹ ممالک اور سخت گیر فوجی آمریتوں والے ممالک میں ہوتا چلا آیا ہے۔۔۔ ان کی ایجنسیوں کا سراغرسانی کا نظام بہت وسیع، مؤثر اور اکناف عالم میں پھیلا ہوتا ہے۔۔۔ خاص طور پر معاملہ ان کے سربراہ مملکت کی ذات کا ہو تو ہر موقع پر بات کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں۔۔۔ میں صحافیوں کی محفل سے اُٹھ کر ہوٹل کے کمرے میں جانے لگا تو کورین وضع قطع کے ایک صاحب آن کھڑے ہوئے۔۔۔ جناب میرے ساتھ چلیے ہمارے قائد محترم ’کم یانگ آن‘ آپ سے مختصر ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ یہ سن کر مجھ پر گھبراہٹ سی طاری ہو گئی۔۔۔ معاً مجھے وہ کلمات یاد آ گئے جو کچھ دیر پہلے ان کے بارے میں کہے تھے۔۔۔ خدشہ ہوا کہیں اچک نہ لیا جاؤں۔۔۔ کوئی چارہ نہ تھا ۔۔۔ پیچھے لگ گیا۔۔۔ آن واحد میں ایک کمرے کے اندر پہنچا دیا گیا۔۔۔ جہاں ٹھگنے قد کا سربراہِ مملکت شمالی کوریا عام درجے کے میز اور کرسی پر بیٹھا تھا ۔۔۔ سامنے پرانی طرز کا ایک صوفہ رکھا تھا ۔۔۔ میرے سر پر سفید بال اور چہرے کی جھریاں دیکھ کر کہا بزرگوارم بیٹھیے۔۔۔ آپ جس ملک سے آئے ہیں مجھے اس کے جغرافیائی محل وقوع اور جو لڑائیاں اب تک لڑتے آئے ہیں کی وجہ سے خاص دلچسپی ہے۔۔۔ مگر آپ نے یہ جو کہا ہے ہماری معیشت کھوکھلی ہے اور ایٹمی طاقت بہت بڑی ۔۔۔ کبھی اپنی حالت زار پر بھی غور کیا ہے۔۔۔ ایٹمی طاقت آپ کی بھی بھلی سی ہے معیشت کہیں کھڑے ہونے کا نام نہیں لیتی۔۔۔ ساٹھ کی دہائی میں جب میں ابھی پیدا نہیں ہوا تھا ۔۔۔ ہمارے شمال والوں (جنوبی کوریا) کا ایک بزنس وفد آپ کے یہاں گیا۔۔۔ انہوں نے ٹاکنگ پوائنٹ کے طور پر ایک رٹا رٹایا فقرہ کہہ دیا۔۔۔ جو دنیا کا ہر ڈپلومیٹ یا بڑا بزنس مین میزبان ملک کے لوگوں کے کانوں میں رس گھولنے اور ان کے دل نرم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔۔۔ یہ الفاظ کاروباری مطلب کی خاطر آپ کو بھی سنا دیئے گئے کہ ہم آپ کی ترقی سے بہت متاثر ہیں اور بس اسی کی نقل کرنے کی خاطر آئے ہیں۔۔۔ آپ ہیں کہ نصف صدی سے اسی ایک فقرے پر لٹو ہوئے جا رہے ہیں۔۔۔ ہمارے جنوب والے کہیں آگے نکل گئے ہیں اور آپ وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔۔۔ اب آپ نے ہمارے بارے میں کہہ دیا ہے کہ معیشت کی دیواریں بہت کمزور ہیں۔۔۔ ایٹمی طاقت کا بوجھ نہیں برداشت کر سکیں گی۔۔۔ کیا آپ کو معلوم ہے ہم ملک دو اور قوم ایک ہیں۔۔۔ ہم شمال والوں نے وہ ایٹمی طاقت بنائی ہے کہ ایک دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔۔۔ امریکیوں کو صبح شام کی تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔۔۔ساتھ ہی ہمارے جنوب کے رشتہ داروں نے ایسی معیشت تعمیر کی ہے کہ جاپان سے دیکھی نہیں جا تی۔۔۔ باقی ترقی یافتہ ملکوں کا کیا مذکور۔۔۔ وہ ہماری دیواریں ہیں کوئی دن جاتا ہے ہم ایک دوسرے میں مدغم ہو جائیں گے۔۔۔ کل آبادی ہماری دس کروڑ کے قریب ہو گی اور رقبہ وسیع تر۔۔۔ زبردست ایٹمی طاقت کے لیے مضبوط معیشت کی پختہ بنیادیں جنوب کی جانب تیار کھڑی ہیں۔۔۔ پھر ہمارا کوئی مقابلہ نہ ہو گا۔۔۔ اور یہ جلد ہونے والا ہے۔۔۔ چند برسوں یا دو تین دہائیوں کی بات ہے۔۔۔ آپ کی قوم کے لیے میرا پیغام ہے۔۔۔ دونوں کوریاؤں کے ساتھ دوستی کے تعلقات بنایئے۔۔۔ اُن کے ساتھ تجارت کو فروغ دیجیے اور ہمارے ساتھ سٹرٹیجک تعاون کرتے رہیے۔۔۔ جس کی شروعات نوّے کی دہائی میں ہوئی تھیں جب ہمارے شمال اور جنوب ایک ہو جائیں گے۔۔۔ زبردست ایٹمی قوت اور بے پناہ معاشی طاقت کے ساتھ ناقابل تسخیر سپر طاقت ہوں گے۔۔۔ خطے میں طاقت کا توازن بحال ہو گا۔۔۔ یہ آپ کے بھی کام آ سکتا ہے۔۔۔ ایک جانب چین دوسری طرف ہم آپ کے علاقائی دوست ہوں گے آپ کی ہمت اور حوصلہ مزید بندھیں گے۔۔۔ مگر اپنے لیے ایک نظام ریاست و حکومت پر متفق ہو جایئے اور اس پر ڈٹ کر قائم رہیں۔۔۔ روز کی سیاسی اتھل پتھل اچھی نہیں ہوتی۔۔۔ وہ خاموش ہو گیا۔۔۔ اس کا چہرہ سپاٹ تھا ۔۔۔ معلوم نہیں خشونت تھی یا تدبر۔۔۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی۔۔۔ آنکھ کھل چکی تھی۔۔۔ صبح کے اخبارات پر نگاہ پڑی تو تصویر میں جنوبی کوریا کے صدر مون جی آن دونوں کوریاؤں کو تقسیم کرنے والی لکیر کے اس پار کھڑے اپنے شمالی کوریا کے ہم منصب کم یانگ آن کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں۔ جو دیکھا خواب تھا مگر جو سنا فسانہ نہیں تھا ۔


ای پیپر