فرق صرف ایک ہے
02 May 2018 2018-05-02

فرق صرف ایک ہے ۔وہ فرق ہے جمہوریت کا۔یہ جمہوری نظام کا اعجاز ہے کہ وہ بس ڈرائیور کے بیٹے کو دنیا کی پانچویں بڑی طاقت کی وزارت داخلہ کے عہدہ جلیلہ پر فائز کر دینا ہے ۔یہ بات کراچی کے ساحلوں سے خنجراب تک بستی ہوئی پاکستانی قوم کو ہی سمجھ نہیں آتی۔اگر پاکستانی قوم کو سمجھ آتی بھی ہے تو اس مائنڈ سیٹ کو نہیں آتی جو لٹھ لے کر جمہوریت کے پیچھے پڑا ہوا ہے ۔جمہوریت کی نشو نما اس کے پھلنے پھولنے میں رکاوٹ ہے ۔اس کی راہ میں مزاحم ہے ۔ورنہ وہ قوم،وہ معاشرہ،وہ ملک جس کی اساس ہی جمہوریت پر ہو۔جس کا وجود ہی ووٹ کی طاقت سے متشکل ہوا ہو۔وہ اینٹی ڈیمو کریٹک کیسے ہو سکتا ہے ۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت مخالف مائنڈ سیٹ کا پراپیگنڈہ بہت مضبوط ہے ۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جمہوریت کے متعلق ہمارا تصو ر بہت دھندلاہے۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ ہماری جمہوری پر فارمنس معیارکے مطابق نہ ہو۔ اگر یہ خامیاں نہ ہوتیں تو شاید ہمارامعیار جمہوریت بھی بر طانیہ،بھارت اور امریکہ کے مساوی ہوتا۔لیکن پھر اپنے معاشرے میں جمہوری نظام کی رخشندہ مثالیں یاد آتی ہیں تو سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے ۔ دل میں کسک اٹھتی ہے کہ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکسترمیں ہے ۔ایسی ان گنت مثالیں موجود ہیں ہمارے اپنے معاشرے میں کہ خاک نشیں اٹھے اور اپنی اہلیت، صلاحیت لیاقت کے بل بوتے پر اقتدار کے ایوانوں تک جا پہنچے۔ایسے ہی جیسے امریکہ، برطانیہ،بھارت اور دیگر معاشروں میں سیاسی کارکن اعلیٰ ترین مناصب تک جا پہنچتے ہیں۔ساجد جاوید بھی ایسا ہی ایک کردار ہے ۔یہی تو جمہوریت کا حسن ہے یہی تو اس کا کرشمہ ہے کہ مزدوری کیلئے گئے تارک وطن کا بیٹا برطانیہ کا وزیر داخلہ بن چکا۔برطانوی تجزیہ نگار کہتے ہیں۔ساجد جاوید جس کا باپ بس ڈرائیور تھا۔وہ وزارت عظمیٰ سے محض چند قدموں کی دوری پر ہے ۔ہو سکتا ہے کہ وہ برطانیہ کا وزیر اعظم نہ بن پائے۔اگر ایسا ہوا تو وجہ کچھ اور ہو سکتی ہے ۔اس کا رنگ نسل مذہب پس منظر نہیں۔

ساجد جاوید کا کل تک نام بھی نہیں سنا تھا۔ایسا بھی ممکن ہے کہ ان سے زندگی میں کبھی ملاقات بھی نہ ہو۔ساجد کا والد 1960 میں ساہیوال سے مزدوری کی غرض سے برطانیہ کے شہر راچڈیل پہنچا۔برطانیہ کے اس چھوٹے سے شہر میں ساہیوال سے جا بسنے والوں کی اتنی بڑی تعداد رہتی ہے کہ اب یہ راچڈیل کا جڑواں شہر ہے ۔ساجدجاویدکا باپ تو بس ڈرائیور تھا لیکن اس کا وژن تھا کہ اس کی اگلی نسل مزدوری کی چکی کا ایندھن نہیں بنے گی۔لہٰذا جاوید نے یونیورسٹی آف لنکا سٹر سے اکنامکس اور سیاسیات کی ڈگری حاصل کی۔تعلیم کے بعد بینکنگ کو بطور پروفیشن اپناکے انہوں نے کونزر ویٹو پارٹی جوائن کی۔اپنے پروفیشن میں آگے بڑھے اور ڈوئچے بنک کے

ایم ڈی کی پوسٹ تک جا پہنچے۔بینکنگ چھوڑ کر سیاست کے میدان میں پیش قدمی کی۔پہلا الیکشن 2010ء کے عام انتخابات میں لڑا اوربرومز گروو کے حلقہ سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہو گئے۔اور یکے بعد دیگر ے تھریسامے کے اکنامک سیکرٹری اور فنانشل سیکرٹری کے عہدوں پر فائز ہوئے۔پھر کابینہ میں ایک سال کیلئے ثقافتی سیکرٹری کے عہدے پرفائز رہے۔دھیرے دھیرے آگے بڑھتے وہ بورڈ آف ٹریڈ کے چیئر مین اور سیکرٹری مواصلات کے عہدوں پر فائز ہوئے۔

30 اپریل 2018 ء کی صبح برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کے دفتر سے جاری پریس ریلیز نے برطانوی حلقوں کو چونکا کر رکھ دیا۔پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ مستعفی وزیرداخلہ امبرڈ کی جگہ پر48 سالہ ساجد جاوید کو وزارت داخلہ کے عہدے پر فائز کیا جا رہا ہے ۔سابق وزیر داخلہ پر الزام تھا کہ انہوں نے قانون سازوں کو تارکین وطن سے متعلق غلط معلومات مہیا کی ہیں۔ساجد جاوید تارکین وطن اور دیگر اقلیتی کمیونٹیز سے بہتر اور نرم سلوک کے حامی ہیں۔ساجد جاوید نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی وہ کوئی جنت ارضی نہیں۔دنیا میں کوئی ایسا مثالی معاشرہ موجود نہیں۔انسانوں کے نسلی گور ہی مذہبی تعصبات رہتے ہیں۔بر طانیہ میں بھی تارکین وطن کو ایسے تعصبات کا سامنا رہتا ہے ۔منصب نسل پرست گورے ایشیائی باشندوں کوتحقیر کا نشانہ بناتے ہیں۔یورپی معاشرے میں سکارف کے خلاف مہم اس کا ثبوت ہے ۔برطانیہ میں مسلمانوں پر تیزاب پھینکنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔خود ساجد جاوید کو بھی دیگر مسلمانوں کی طرح Punish A Muslim کا نشانہ بھی بننا پڑا لیکن اس کے باوجود آج وہ برطانیہ کے وزیر داخلہ ہیں۔کیونکہ برطانوی معاشرتی اقدار جمہوری رویے دھرتی پر رہنے والے سب شہریوں کیلئے یکساں مواقع کے راستے کھولتے ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس معاشرے میں جہاں ’’سکن ہیڈز‘‘ اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔اس معاشرے میں فیکٹری مزدور کا بیٹا نذیر احمد برطانوی ہاؤس آف لارڈ کا تاحیات رکن بن جاتا ہے ۔ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تلاش معاش کیلئے گیا چوہدری سرور ہاؤس آف کامنز کا رکن منتخب ہوتا ہے ۔اسی معاشرے میں گوجر خان کی سعیدہ وارثی بیرونس کے عہدے پر پہنچی ہے ۔آج بر طانوی معاشرے میں بھارت،پاکستان سے تعلق رکھنے والے تارکین کی پارلیمنٹ تک پہنچ جانے والوں کی تعداد دودرجن سے تجاوز کر چکی ہے ۔یہ تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے ۔وہ وزارتوں پر فائز ہیں۔جام اس کے حصے میں آتا ہے جو آگے بڑھ کر اس کو تھام لے۔ایسی مثالیں صرف جمہوری معاشروں میں ملتی ہیں۔جہاں ساجد کریم یورپی پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہوتا ہے ۔ناز شاہ خانگی مسائل کا شکار ہو کر بھی پارلیمنٹ میں پہنچتی ہے ۔صادق خان گولڈ سمتھ کے ارب پتی صاحبزادے کو شکست دیکر لندن کا پہلا مسلمان میئر منتخب ہوتا ہے ۔اسی ووٹ کی طاقت سے امریکہ کی پونے تین سو سالہ تاریخ میں پہلا سیاہ فام بارک اوباما اکلوتی سپر پاور امریکہ کا صدر بنتا ہے ۔ ایک مرتبہ نہیں دو بار۔وہ بارک اوباما جس کے اجداد افریقی غلاموں کے طور پر جہازوں میں بھر کر امریکہ لائے گئے تھے۔یہ جمہوری جدوجہد ہے جو اروند کجری وال کو انکم ٹیکس کے دفتر سے اٹھا کر نئی دہلی کا چیف منسٹربنا دیتی ہے ۔ووٹ کی طاقت جمہوری جدو جہد ٹی سٹال کے بیرے مودی کو گجرات کی وزارت اعلیٰ اور گجرات سے سب سے بڑی جمہوریہ بھارت کا وزیر اعظم بنادیتی ہے ۔بے خبر دانشور سوال اٹھاتے ہیں کہ پاکستان میں ایسا کیوں نہیں۔تاریخ سے نابلد دانشوروں کو اطلاع ہو کہ جب سب جمہوری جماعتوں کو موقع ملا اس ملک میں معراج خالد پیدا ہوئے،حنیف رامے،غلام حیدروائیں پیدا ہوئے۔ اجمل خٹک،جہانگیر بد ر،میاں افتخار، جے سالک ایسے سیاسی کارکن سامنے آئے۔وقت اور سپیس کی کمی ہے ۔ورنہ پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے ۔ صرف اور صرف جمہوریت تمام انسانوں کو مساوی مواقع دیتی۔آگے بڑھنے کی اپنی جگہ بنانے کی۔


ای پیپر