محنت کشوں کا عالمی دن
02 مئی 2018 2018-05-02

جب تک یہ کالم ! قارئین تک پہنچے گا اس وقت تک دنیا بھر کے محنت کش 132 واں یوم مئی منا چکے ہوں گے۔ پاکستان میں بھی مزدور تنظیمیں پورے جوش وخروش سے محنت کشوں کا عالمی دن مناتی ہیں۔ اس دن کی مناسبت سے جلسے، جلوس ، ریلیاں اور مظاہرے منعقد کئے جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی اس دن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کرتی ہیں۔ صدر ، وزیر اعظم اور اہم سیاسی رہنما بیانات جاری کرتے ہیں۔ اس دن محنت کشوں اور محنت کی عظمت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں نہ صرف یوم مئی کی چھٹی ہوتی ہے بلکہ سرکاری تقریبات کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ میڈیا پر خصوصی پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ اخبارات میں خصوصی مضامین چھپتے ہیں۔

مگر اس سب کے باوجود پاکستان کے محنت کشوں کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے محنت کشوں کی غالب اکثریت بنیادی حقوق اور سہولیات سے محروم ہیں۔ لیبر قوانین موجود ہیں مگر ان کا اطلاق محض خواب بن کر رہ گیا ہے۔ پاکستان کا قانون اور آئین محنت کشوں کو یونین سازی کا حق دیتا ہے مگر عملی طور پر ایسا کرنا ناممکن حد تک مشکل بنا دیا گیا ہے۔ یونین بنانا عملاً جرم بنا دیا گیا ہے جس کی سزا کم از کم ملازمت سے برطرفی اور جھوٹے مقدمات کا اندراج ہے۔ کم از کم تنخواہ تو ویسے بھی کم ہے مگر اس پر بھی عملدر آمد نہیں ہوتا۔ سوشل سکیورٹی ، EOBI پنشن اور دیگر سہولیات محنت کشوں کی واضح اکثریت کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ہر دن کسی نہ کسی کی زندگی میں خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے مگر کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو کسی مخصوص خطے ، ملک ، مذہب ، فرقے یا قوم کے لئے اہم ہوتے ہیں۔ جیسے عید، کرسمس ، قومی دن یا یوم آزادی وغیرہ۔ مگر ایسے دن بہت کم ہوتے ہیں جو بلارنگ و نسل ، ملک و قوم ، مذہب و مسلک ساری دنیا میں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ انہی دنوں میں سے ایک یوم مئی ہے۔ دنیا بھر کے مزدور ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔ وہ شکاگو میں شہید ہونے والے اپنے ساتھی مزدوروں کی قربانی کی یاد مناتے ہیں۔ انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے شہید ساتھیوں کی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ یہ دن دنیا بھر کے محنت کشوں کو یہ یاد دلاتا ہے کہ مزدوروں کو آج جو مراعات، سہولیات اور حقوق حاصل ہیں یہ سب سرمایہ داروں کی فیاضی یا رحم دلی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ محنت کشوں کی کئی نسلوں کی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہیں۔ محنت کشوں کو جو جمہوری، آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق حاصل ہیں وہ ان کی مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک طبقاتی سماج میں رہتے ہیں جہاں ایک طرف استحصال کرنے والے ہیں اور دوسری طرف وہ ہیں جن کا مسلسل استحصال ہو رہا ہے۔ اس لئے طبقاتی سماج میں مسلسل طبقاتی کشمکش اور جدوجہد جاری رہتی ہے۔ کبھی یہ کشمکش شدت اختیار کر لیتی ہے اور کبھی یہ مدھم ہو جاتی ہے۔ یہ طبقاتی کشمکش اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک طبقاتی تفریق کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ محنت کش عوام کو معاشی اور سماجی مساوات اور برابری حاصل نہیں ہو جاتی۔ جب طبقاتی استحصال اور جبر پر مشتمل نظام برقرار رہے گا تب تک یہ کشمکش اور جدوجہد بھی جاری رہے گی۔

یوم مئی کا واضح پیغام یہ ہے کہ محنت کشوں کو اپنے حقوق ، سہولیات اور مراعات کے لئے خود ہی جدوجہد کرنی پڑے گی۔ محنت کش طبقہ اپنے لئے خود ہی نجات دہندہ بن سکتا ہے ان کے دکھوں ، تکلیفوں اور اذیتوں کا مداوا ان کو خود ہی کرنا ہے۔ ان کے لئے دوسرا کوئی مسیحا نہیں بنے گا۔

یکم مئی 1886ء کو امریکہ کے شہر شکاگو میں لاکھوں محنت کش ہاتھوں میں سفید پرچم تھامے سڑکوں پر نکلے۔ وہ آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کا مطالبہ کر رہے تھے۔ وہ یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ آٹھ گھنٹے کام کریں گے۔ آٹھ گھنٹے سوئیں گے اور آٹھ گھنٹے اپنے خاندان کے ساتھ گزاریں گے۔ امریکہ ، آسٹریلیا اور یورپ کے کئی ممالک کے محنت کش کئی سالوں سے آٹھ گھنٹے کے قانون اوقات کار کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس وقت تک سرکاری اور قانونی طور پر یومیہ اوقات کار مقرر نہیں تھے۔ اس وجہ سے سرمایہ داروں کو یہ حق حاصل تھا وہ ان سے جتنا چاہیں کام لیں۔ سرمایہ دار اس مطالبے کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے بلکہ ریاستی طاقت اور جبر کے ذریعے اس مطالبے کو دبانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہی کچھ اس دن شکاگو میں ہوا۔ پولیس نے طاقت کے ذریعے اس جلوس اور تحریک کو روکنے کی کوشش کی۔ متعدد مزدور شہید ہو گئے۔ بیسیوں زخمی ہوئے جبکہ سینکڑوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ کئی مزدور رہنماؤں کو بعد ازاں پھانسی دے دی گئی۔ امریکی ریاست کے تمام تر جبر ، ظلم اور سفاکیت کے باوجود آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کی تحریک جاری رہی اور بالآخر 8 گھنٹے کے اوقات کار نافذ ہو گئے۔ 1889ء میں اس دن کو عالمی سطح پر منانے کا فیصلہ ہوا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔سرمایہ داری کی تقریباً تین صدیوں پر محیط تاریخ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ محنت کشوں اور سرمایہ داروں کے درمیان مستقل کشمکش جاری ہے۔ قوت محنت بیچنے اور خریدنے والوں کے درمیان مسلسل جدوجہد جاری ہے۔ اس کشمکش اور جدوجہد کی اہم وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دار مسلسل اپنے منافعوں کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ وہ پیداواری عمل کو زیادہ سے زیادہ منافع بخش بنانا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ محنت کشوں کا زیادہ سے زیادہ استحصال کرتے ہیں۔ وہ کم سے کم اجرت دے کر زیادہ سے کام لینا چاہتے ہیں دوسری طرف محنت کش اپنے اوقات کار میں کمی اور اجرتوں میں اضافہ چاہتے ہیں سرمایہ داروں کے منافعوں کا بڑا حصہ محنت کشوں کے استحصال پر مبنی ہوتا ہے۔ عمران خان اور ان کے حامی دانشور یہ ثابت کرنے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں کہ بدعنوانی ہی دولت اکٹھی کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جبکہ وہ طبقاتی استحصال کو نظرانداز کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ بدعنوانی دولت اکٹھی کرنے کا اہم ذریعہ ہے مگر اس سے بھی بڑا ذریعہ استحصال ہے یعنی محنت کشوں کو ان کی اجرت کا پورا حصہ نہ دو اور ان کی مراعات سہولیات اور حقوق میں کمی کرکے زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرو۔

محنت کشوں کی غربت، معاشی بدحالی، بھوک وافلاس اور بنیادی ضروریات اور سہولیات سے محرومی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ محنت نہیں کرتے یا وہ کام چور ہوتے ہیں بلکہ اس کی وجہ وہ استحصال ہے جو سرمایہ دار کرتا ہے۔ ان کو پوری اجرت نہیں دیتا۔ انہیں سوشل سکیورٹی، یونین سازی اور دیگر حقوق اور سہولیات سے محروم رکھتا ہے ٹھیکیداری نظام اور عارضی ملازمت بھی اس استحصال کا اہم ذریعہ ہے۔

گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان میں ٹھیکیداری نظام کو بہت فروغ حاصل ہوا ہے نجی شعبے کو تو ایک طرف رکھیے یہاں تو حالات اس نہج تک جاپہنچے ہیں کہ سرکاری اداروں میں بھی کنٹریکٹ ملازمتوں کی وبا عام ہو چکی ہے۔ جو حکمران اپنے سرکاری اداروں میں مستقل ملازمتیں فراہم نہیں کرتے وہ کس طرح سے نجی اداروں سے ٹھیکیداری نظام کی لعنت کو ختم کرسکتے ہیں۔ ٹھیکیداری نظام جدید غلامی کی ایک شکل بن چکی ہے۔ اس نظام میں ایک ٹھیکیدار اپنی کمپنی کے ذریعے مختلف صنعتی مالیاتی اور تجارتی اداروں کو افرادی قوت فراہم کرتا ہے۔ یہ محنت کش کام تو فیکٹریوں ، بینکوں اور تجارتی اداروں میں کرتے ہیں مگر اپنی تنخواہ ٹھیکیدار سے وصول کرتے ہیں۔ جس ادارے میں یہ کام کرتے ہیں وہ ان محنت کشوں کی کسی قسم کی بھی ذمہ داری سے مبرا ہوتا ہے اور ٹھیکیدار جب چاہے انہیں فارغ کرسکتا ہے۔ پاکستان کا آئین ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو ظلم، استحصال اور ناانصافی سے بچانے کے لیے اقدامات کرے مگر جہاں ریاست ہی استحصال ، ظلم اور ناانصافی کو فروغ دے رہی ہو تو وہاں محنت کشوں کے حقوق کی حفاظت وہ کیسے کرے گی۔ پاکستان میں محنت کشوں کے حالات بہت خراب ہیں۔ وہ بنیادی حقوق، سہولیات اور ضروریات سے محروم ہیں۔ یوم مئی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انہیں باہمی اتحاد اور اجتماعی جدوجہد کا راستہ اپنانا ہوگا۔ محنت کشوں کو خود کو منظم کرنا ہوگا۔ انہیں سیاسی طورپر متحرک اور مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ تیشوں کا مسیحا کوئی نہیں۔ انہیں اپنی قیادت خود تراشنا ہوگی۔


ای پیپر