یہ دل والوں کی دنیا ہے
02 مئی 2018 2018-05-02

درد کی شدت انسانوں کی سوچ بدل دیتی ہے ۔ رنج والم کے تجربے سے گزرنے کے بعد انسان کو ایک تو اپنی بے بسی کا اندازہ ہوتا ہے اور دوسرے اپنے جیسے انسانوں کے دکھ درد کا احساس بڑھ جاتا ہے اور وہ دوسرے انسانوں کو تکلیف میں دیکھ کر بے چین ہو جاتا ہے ۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو دکھ اور مصیبتیں ابن آدم کو انسان بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں اسی لیے شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے

کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

اس کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی ایکسپرٹ تھا۔ ایک کامیاب پیشہ ورانہ کیریئر میں آئی ٹی کی فیلڈ میں اس دوڑ میں دوسروں سے آگے نکلنے کا فطری خواہشمند ۔ قدرت جب کسی بندے سے کوئی کام لینا چاہتی ہے تو اُسے انسانیت کا شعور عطا کردیتی ہے پھر اس کا تعلق خواہ کسی بھی شعبے سے ہو انسانیت سے محبت اس کا دین ہوتا ہے ۔ وہ ایک المیے یا ایسے ذاتی حادثے سے گزرا جس کے درد کی شدت نے اسے بدل کے رکھ دیا۔ ایک دن جب وہ اپنے معمول کے کام میں مصروف تھا کہ اس کی اہلیہ نے فون کرکے بتایا کہ ان کی بیٹی جس کی عمر تین سالہ تھی کہ اس کا سانس بند ہوگیا ہے ۔ یہ سنتے ہی پہلے تو اسے یوں لگا جیسے اس کی اپنی سانسیں بھی بند ہوجائیں گی لیکن معاملہ جوانمردی کا متقاضی تھا۔ بیٹی کو ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ اسے(CHD) Congenital Heart Diseascیا دل کی پیدائشی بیماری ہے بچی جانبر نہ ہوسکی لیکن علاج کے دوران اسے اس بات کا شدت سے احسا س ہونے لگا کہ پاکستان میں دل کے پیدائشی امراض کے علاج کے لیے نہ تو تربیت یافتہ عملہ ہے اور نہ ہی وسائل جس کی وجہ سے لاکھوں گھروں کی امیدوں کے چراغ ٹمٹماتے ہوئے بالآخر گل ہوجاتے ہیں۔ اس ذاتی صدمے نے اسے ترغیب دی کہ وہ اپنی بیٹی کی زندگی تو نہیں بچا سکا لیکن اپنے جیسے دیگر بے بس انسانوں کی مدد کرے گا جن کے آنگن کے پھول ان کی آنکھوں کے سامنے مرجھا جاتے ہیں مگر وہ کچھ نہیں کر پاتے۔ اس نے اپنی کمزوری کو اپنی طاقت بنانے کا راز سیکھ لیا تھا۔ یہ معروف سوشل ورکر محترم فرحان احمد کی لائف ہسٹری ہے جنہوں نے آج سے کئی سال پہلے پاکستان چائلڈ ہارٹ فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی جہاں CHDمیں مبتلا بچوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے اور اوپن ہارٹ بائی پاس سرجری جس کا اوسطاً خرچہ 5لاکھ روپے ہے مفت فراہم کی جارہی ہے ۔ فرحان احمد صاحب اس فاؤنڈیشن کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو اس فلاحی مشن کے لیے وقف کردیا ہے تاکہ غربت میں پسے ہوئے نادار اور بے آواز گھرانے جن کے پاس ہسپتال پہنچنے کا کرایہ بھی نہیں ہوتا ان کے بچوں کو بین الاقوامی اعلیٰ معیار کا علاج مفت فراہم کیا جاسکے۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا یہ بڑی حریت انگیز داستان ہے جس کا سارا کریڈٹ فرحان احمد اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے جو شب وروز انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔

پاکستان چائلڈ ہارٹ فاؤنڈیشن کا قیام 2011ء میں لاہور میں عمل میں آیا۔ لاہور کا انتخاب اس لیے کیا گیا تاکہ یہاں پورے ملک کے قابل ترین ماہرین قلب تک رسائی

حاصل کی جاسکے۔ فرحان احمد ذاتی تشہیر بازی کے خلاف ہیں جس وجہ سے انہوں نے اپنی اس کاوش کا نام اپنی بیٹی کے نام سے منسوب کرنے کی بجائے اسے پاکستان کے نام سے منسوب کیا جو ان کی ملک اور عوام سے محبت کا اشارہ ہے حالانکہ مخیر حضرات اپنی اس طرح کی خدمات کے لیے قائم ٹرسٹ کو اپنے یا اپنے افراد خانہ کے نام سے موسوم رکھتے ہیں لیکن فرحان احمد کا مؤقف یہ ہے کہ پاکستان چائلڈ ہارٹ فاؤنڈیشن کے نام سے ان کا لگایا ہوا پودا ان کے بعد بھی اسی طرح مخلوق خدا کو ریلیف فراہم کرتا رہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کا نام کیا ہے ۔ پھول کو آپ کسی بھی نام سے پکاریں اس کی خوشبو وہی رہتی ہے ۔ جب یہ سطوررقم کی جارہی ہیں تو لاہور میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کے دل کے وارڈ میں 6سالہ علی عباس اور 12سالہ عثمان دل کے اوپن ہارٹ بائی پاس کے بعد تیزی سے روبصحت ہورہے ہیں۔ اس آپریشن کا مکمل خرچہ PCHFنے اپنے ذمے لے رکھا ہے ۔ یہ دونوں بچے پیدائشی طورپر دل کے امراض CHDمیں مبتلا تھے۔ فاؤنڈیشن نے اب تک اس طرح کے ایک ہزار سے زیادہ آپریشن کا انتظام کیا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان اعدادوشمار میں اضافہ ہورہا ہے ۔

اس وقت فرحان احمد صاحب کی اس تنظیم کا لاہور میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کے ساتھ الحاق ہے جس کے تحت فاؤنڈیشن کے میڈیکل سٹاف کو مذکورہ ہسپتال کے اندر تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ PCHFنے اس طرح کے معاہدے اتفاق ہسپتال لاہور ،پاکستان آرمی کے AFICراولپنڈی، رحمن کارڈئیک سنٹر پشاور اور آغا خان ہسپتال کراچی جیسے معتبر اداروں کے ساتھ شراکت عمل کی بنیاد پر کر رکھے ہیں۔ حال ہی میں حمید لطیف ہسپتال لاہور کے ساتھ بھی اسی طرح کا ایم او یو سائن ہوا ہے ۔ فرحان احمد نے بتایا کہ شروع میں جب ہم نے CHDپر کام کرنا شروع کیا تو ہم علاج کے لیے بچوں کو انڈیا بھیجتے تھے وہاں آگرہ ہسپتال میں ڈاکٹر راجیش شرما کے ساتھ ہمارا اشتراک عمل تھا مگر مسئلہ یہ تھا کہ ایک تو یہ بہت مہنگا پڑتا تھا دوسرا آپریشن کے بعد فالو اپ بڑا مسئلہ تھا، ویزا کے مسائل تھے۔ جب ہم نے اس کارخیر کا آغازکیا تو لاہور میں چلڈرن ہسپتال کے ڈین آف فیکلٹی ڈاکٹر مسعود صادق نےٖ ہماری بے پناہ مدد کی ۔ انہوں نے ہمیں ہرطرح کی رہنمائی دی اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ہمارے مشن کے ساتھ منسلک کردی۔ ہمیں یاد ہے کہ ہم نے بینک اسلامی میں جب اکاؤنٹ کھلوایا تو ہمارے پاس 14ہزار روپے تھے جبکہ ایک آپریشن کا خرچ ساڑھے چار لاکھ روپے آتا ہے ۔ یہ 2011ء کی بات ہے اگلے سال ہم نے فاؤنڈیشن کو سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)میں باقاعدہ طورپر رجسٹریشن کروائی جس کے بعد ہمیں فنڈریزنگ کی اجازت مل گئی۔ ہم نے آج تک گورنمنٹ سے ایک روپے کی امداد نہیں لی لیکن آپ حیران ہوں گے کہ ہم نے دل کے علاج کی مد میں اب تک 345ملین روپے خرچ کئے ہیں جس کا اہتمام ہمارے دوستوں اور ہمدردوں نے اپنی جیب سے کیا ہے ۔ ہمارے جمع کردہ عطیات کا 100فیصد حصہ خالصتاً علاج پر خرچ ہوتا ہے ۔ فرحان احمد کا کہنا ہے کہ اب تک ہم نے ایک ہزار سے زیادہ مریضوں کا آپریشن کیا ہے ۔ ہمارا ٹارگٹ یہ ہے کہ ہم سالانہ 365آپریشن کا ہدف حاصل کریں یعنی ایک آپریشن یومیہ مگر اس کے لیے ہمیں کثیر فنڈ درکار ہیں۔

انہوں نے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہرسال 40ہزار بچے دل کے پیدائشی نقص CHDکے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جن میں 15ہزار کی نوعیت سیریس ہوتی ہے جو علاج کے بغیر موت کی منہ میں چلے جاتے ہیں۔ صحت پر قومی بجٹ 3فیصد ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولتیں ناپید ہیں۔ دوسرامسئلہ یہ بھی ہے کہ پورے پاکستان میں اس وقت صرف 8سے 10پیڈیا ٹرک ہارٹ سرجن ہیں جبکہ پیڈیا ٹرک کارڈیالوجسٹ کی تعداد 25کے قریب ہے ۔ آپ خوداندازہ لگالیں کہ CHDکا شکار بچوں کے والدین کے لیے یہ کتنی بڑی آزمائش ہے ۔ تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ عوام میں حتیٰ کہ ڈاکٹروں میں بھی CHDکے بارے میں آگہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں اس بیماری کی تشخیصPre-birth Screeningکے ذریعے ہو جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے ۔ ہمارے ہاں یہ تشخیص بائی چانس یا حادثاتی طورپر ہوتی ہے ۔ بعض اوقات یہ آخری مرحلے میں جا کر پتا چلتا ہے ۔ ہمیں مدر اینڈ چائلڈ یعنی زچہ وبچہ کی تحفظ ونگہداشت کے سسٹم کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے آگاہی بہت ضروری ہے ۔

محترم فرحان احمد صاحب نے کہا کہ ہمارے وسائل کی نسبت ہماری Commitments کئی گنا زیادہ ہیں مگر ہم اپنی استطاعت کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اور مشکلات کا مقابلہ کررہے ہیں۔ فرحان احمد کی زندگی کا سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ وہ CHDکے شعبے میں ایک Centre of Excellenceقائم کردیں جسے پاکستان میں بچوں کے دل کے پیدائشی امراض کے علاج میں ایک ماڈل انسٹی ٹیوٹ کا درجہ حاصل ہو۔ ان کا یہ خواب اب انہیں سونے نہیں دیتا اور وہ پہلے سے زیادہ جذبے کے ساتھ اس پر مصروف عمل ہیں۔ اس سلسلے میں فیروز پور روڈ پر 9کنال قطعہ اراضی کا انتظام ہوچکا ہے جس پر اگلے تین سال میں 100بیڈ کا ایک چلڈرن ہارٹ ہسپتال تعمیر کیا جائے گا جو علاج اور آپریشن کے ساتھ ساتھ ایک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی ہوگا۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا بچوں کے دل کے امراض کا ہسپتال ہوگا۔ پاکستان میں ہمیں سالانہ 12500بچوں کے دل کے آپریشن کی ضرورت ہے ۔ اگرہمیں ایک لاکھ پاکستانی ایک سال کے لیے 1000روپے ماہانہ عطیہ دیں تو اس سے ہم مجوزہ ادارہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس پر لاگت کا تخمینہ 1009.3ملین روپے ہے ۔ فرحان احمد صاحب کو یقین ہے کہ ان کا اگر یہ خواب پورا ہو جائے تو انشاء اللہ پاکستان میں CHDکا شکار ہربچے کے لیے مفت بائی پاس آپریشن ممکن ہو جائے گا۔ انہیں پورا یقین ہے کہ انہیں اس مشن میں کامیابی ہوگی۔

پاکستان میں سوشل ڈویلپمنٹ سیکٹر یا NGOسیکٹر کا مطالعہ کیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ یہاں پر انتظامی اخراجات اداروں کے ریوینیو کا 50سے 60فیصد ہوتے ہیں۔ یہ پہلا فلاحی ادارہ ہے جس کا اعلان ہے کہ ہمارے انتظامی اخراجات صفر ہیں۔ یہ حیرت انگیز بھی ہے اور ناقابل یقین بھی مگر یہ ایک حقیقت بھی ہے جس کی تصدیق عالمی سطح پر جانی جانے والی آڈٹ کمپنی ERNEST & Youngکی رپورٹ سے بھی ہوتی ہے ۔ فرحان احمد صاحب کے مطابق انتظامی اخراجات کلی طورپر بورڈ آف ڈائریکٹر کے ارکان ذاتی طورپر پورے کرتے ہیں۔


ای پیپر