ناصر ناکا گاوا سے جناح باغ میں ملاقات ۔۔۔؟
02 May 2018 2018-05-02

میں صبح سو کر اُٹھا ہی تھا ۔۔۔ آنکھیں مل رہا تھا کہ فون پر ٹر ٹر ۔۔۔ ٹر ٹر ۔۔۔ شروع ہو گئی ۔۔۔ ( وہ ’’ٹر ٹر‘‘ نہیں جو اکثر بیگم کرتی ہے؟) ۔۔۔

’’وہ کون سی بیکار چیز ہے جو آپ کے کپڑوں کے اندر ہے‘‘؟ ۔۔۔

یا اللہ ۔۔۔ خیر ۔۔۔ یہ صبح سویرے اٹھتے ہی ۔۔۔ کیا مصیبت پڑ گئی ۔۔۔ میں سوتا بھی زمین پر ہوں، میں نے اپنے کپڑوں کو جھاڑا ۔۔۔

خود کو جھنجھوڑا ۔۔۔ کچھ پلے نہ پڑا تو پھر سے SMSپڑھنے لگا ۔۔۔؟

’’وہ کون سی بیکار چیز ہے جو آپ کے کپڑوں کے اندر ہے‘‘ ۔۔۔ ؟!

اب جگہ خالی تھی ۔۔۔ میں موبائل کا بٹن گھماتا چلا گیا۔ مجھے کمر پر شدید خارش ہونے لگی ۔۔۔ اور اللہ دتہ لونے والا کے خارش کے حوالے سے لکھے کچھ ’’درد ناک گانے‘‘ یاد آنے لگے ۔۔۔ جی آپ نے کیا فرمایا؟ ۔۔۔ اللہ دتہ لونے والا لکھاری نہیں! ۔۔۔ سوری ۔۔۔ اللہ دتہ مرچی والا ہو گا ۔۔۔؟!

’’وہ کون سی بیکار چیز ہے جو آپ کے کپڑوں کے اندر ہے‘‘؟ ۔۔۔

کافی نیچے جا کے لکھا ہوا تھا ۔۔۔ ’’نہیں پتا ناں‘‘ ۔۔۔؟

میں بٹن گھماتا رہا ۔۔۔ آخر میں لکھا تھا ۔۔۔ ’’ میں صدقے جاواں تسی آپ ای او‘‘ ۔۔۔ یعنی صبح سویرے مجاز نے ہمیں جگا کے رکھ دیا اور واضح کر دیا کہ ’’کپڑوں کے اندر بیکار سی چیز ۔۔۔ تم خود ہی ہو‘‘ ۔۔۔ صبح سویرے یہ ضمیر کو بیدار کرنے والا SMS بعد میں مجھے اچھا لگا ۔۔۔!

ایک دن میں صنوبر خان اور افتخار مجاز ایک ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے ۔۔۔ میں نے ’’سنجیدگی‘‘ سے پوچھا ۔۔۔ بھائی تم دونوں میں سے بیکار آدمی کون ہے؟۔۔۔

’’تم خود ہو‘‘ ۔۔۔ وہ دونوں یک زبان بولے ۔۔۔

واہ بھئی ۔۔۔ کیا اتحاد کیا ہے دونوں نے ۔۔۔ سوچا بھی نہیں ۔۔۔ ممکن ہے جواب غلط ہو جاتا ۔۔۔

افتخار مجاز کے SMS کے بعد اِک اور آ گیا ۔۔۔؟

’’آسان سوال کا جواب دیں کار آپ کی‘‘ ۔۔۔؟

نیچے سوال تھا ۔۔۔ عمران خان کون سا کھیل کھیلتے ہیں ۔۔۔ ’’فٹ بال یا کرکٹ‘‘ ۔۔۔؟

اس وقت عمران خان نہ فٹ بال کھیل رہا ہے نہ کرکٹ ۔۔۔ ’’بڑا کھیل‘‘ کھیلنے والا ہے ۔۔۔ مگر ہمیں کیا؟ ! ۔۔۔ (’’اوپر‘‘ والوں نے اس بار الیکشن سے پہلے سب کو ’’آس‘‘ دلا دی ہے خاص طور پر ’’خاں صاحب‘‘ کو ۔۔۔ ویسے خان لگتا ہے جیسے بچپن سے ہی وزیر اعظم کا حلف اٹھانے کی پریکٹس کرتا رہا ہے ۔۔۔ وزارتِ عظمیٰ کا سن کے خان باقاعدہ شرماتا ہے ۔۔۔ Shyness چہرے سے عیاں ہوتی ہے؟) ۔۔۔

میں نے جواب لکھا ’’کرکٹ‘‘ اور گردن اِدھر اُدھر ہلانے لگا ۔۔۔

’’بیچارے موبائل فون والے جنہیں پتا ہی نہیں۔۔۔ کہ عمران کرکٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہوا‘‘۔

’’والد صاحب ۔۔۔ موبائل فون والوں کا مقصد اپنی معلومات میں اضافہ کرنا نہیں ۔۔۔ دیہاڑی لگانا مقصود ہے اُن کا‘‘ ۔۔۔ میرا گیارہ سالہ بیٹا بول پڑا میں نے جب تفصیل نکالی تو پتا چلا کہ موبائل فون والوں کے ’’علم میں اضافہ‘‘ کرنے پر آپ کو بیس روپے پڑ چکے ہیں ۔۔۔

میں نے بیٹے کو بتایا ہی نہیں کہ ایسے ہی آسان ترین پندرہ سوالوں کے میں موبائل پر کل بھی جواب دے چکا ہوں جن میں یہی سوال کل دوبارہ دھرایا گیا تھا کہ ’’عمران خان کون سا کھیل کھیلتے ہیں فٹ بال یا کرکٹ‘‘ ۔۔۔ اور پھر یہ ’’مشکل ترین‘‘ سوال بھی تھا کہ ’’کیا بھارت کی کرکٹ ٹیم ہے‘‘ ۔۔۔

’’گویا ۔۔۔ تین سو روپے کا نقصان اپنی ذہانت کے باعث میں کل بھی کر چکا ہوں‘‘ ۔۔۔ میں نے خود ہی شرمندہ ہوتے ہوئے سوچا ۔۔۔ اور گھبراہٹ میں اپنی جیب پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔ یہ سوچتے ہوئے کہ ’’اب باقی نہیں جانے دوں گا‘‘ ۔۔۔؟

ٹر ٹر ۔۔۔ ٹر ٹر ۔۔۔ ’’ہیلو‘‘ ۔۔۔

فون کی گھنٹی بجی ۔۔۔ ’’اُس طرف کوئی نہایت نفیس سی آواز تھی!‘‘ ۔۔۔

’’پہچانا‘‘ ۔۔۔؟!

’’نہیں؟‘‘ ۔۔۔ میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔۔۔

’’جاپان‘‘ سے بول رہا ہوں ۔۔۔

’’وہ جاپان ۔۔۔ جسے ڈوبتے سورج کی سرزمین کہتے ہیں؟‘‘ ۔۔۔

’’جہاں مرغی کا انڈا ۔۔۔ دو ہزار روپے میں ایک ملتا ہے!‘‘ ۔۔۔

وہ تھوڑا مسکرائے ۔۔۔ پھر بولے ۔۔۔

’’جاپان میں چودہ سو پچھترروپے میں ملتا ہے مرغی کا انڈا ۔۔۔ حافظ صاحبؔ حساب کتاب درست رکھا کریں؟‘‘ ۔۔۔ وہ بولے ۔۔۔

حسن عباسی ساتھ تھے وہ بولے ۔۔۔ جاپان سے کال ہے سنجیدگی سے سن لیں ۔۔۔؟ ’’جاپان میں آپ کا کوئی واقف ہے‘‘ ۔۔۔ وہ صاحب بولے ۔۔۔ ’’جاپانی وزیر اعظم‘‘ ۔۔۔ میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔

’’جاپانی وزیر اعظم ۔۔۔ آج چھٹی پر ہیں ۔۔۔ میں اُن کا قائم مقام بول رہا ہوں‘‘ ۔۔۔ حضور میں اس وقت لاہور کے جناح باغ میں واک کر رہا ہوں ۔۔۔ ہوا چل رہی ہے موسم نہایت خوشگوار ہے ۔۔۔!

وہ سنجیدہ ہو گئے ۔۔۔

’’تو آپ کا واقعی جاپان میں کوئی ملنے والا نہیں؟‘‘۔۔۔

’’نہیں تو‘‘ ۔۔۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔

’’تو میں ناراض ہونے لگا ہوں‘‘ ۔۔۔ ’’بس بس ۔۔۔ بس بھائی ناصر ناراض مت ہونا ۔۔۔ میں تو آپ کا لاہور آنے کا انتظار کر رہا ہوں‘‘ ۔۔۔ یہ میری جاپان میں اردو زبان کی ترویج و ترقی کے لیے سب سے اہم نمایاں کام کرنے والی ویب سائٹ کے مالک جناب ناصر ناکا گاواسے پہلی ڈائریکٹ بات چیت تھی ۔۔۔

ہوا مزید تیز ہو گئی ۔۔۔ جناح باغ میں لگے فوارے چلنے لگے ، پانی کی فوار نے موسم مزید خوشگوار بنا دیا ۔۔۔ رات کے اٹھ بج چکے تھے ۔۔۔ میں ہوائیں انجوائے کر رہا تھا ۔۔۔

گرمی کے موسم میں ہوا چل پڑے ۔۔۔ دل خوش ہو جاتا ہے ۔۔۔ ناصر ناکا گاوا کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے دماغ معطر تھا کہ اچانک بجلی بند ہو گئی ۔۔۔ (گرچہ لوڈ شیڈنگ میں بہت زیادہ کمی واقع ہو چکی ہے مگر پھر بھی اس شدید گرمی میں یہ تھوڑی سی لوڈ شیڈنگ بھی ’’مشکل‘‘ ہے سہنا) ۔۔۔

فوارے بند ہو گئے ۔۔۔ ہوائیں رُک گئیں ۔۔۔ واک کرنے والے دوست اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے ۔۔۔ مجھے افتخار مجاز کا صبح آنے والا SMS یاد آنے لگا ۔۔۔ ’’وہ کون سی بیکار چیز ہے جو ہماری خوشیوں کی دشمن ہے‘‘ ۔۔۔ ’’لوڈ شیڈنگ‘‘ میں نے دل ہی دل میں سوچا اور اندھیرے میں اپنی موٹر سائیکل کی بجائے کسی اور کی موٹر سائیکل کو چابی لگانے لگا ۔۔۔ ’’پورے اعتماد کے ساتھ‘‘ ۔۔۔!!!


ای پیپر