آبادی کا بم کیسے ناکارہ ہوا ؟
02 مئی 2018 2018-05-02

یہ دنیا ہمیشہ سے دو مختلف نظریات کے لوگوں کی اسیر رہی ہے۔ ایک وہ لوگ جو صرف تنقید کرنا جانتے ہیں ٗ جو صرف مسئلے کا ذکر کرتے ہیں ٗجو لوگوں کو ڈراتے ہیں اور ڈرا کے حکومت کرتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے لوگ بنا کسی لالچ کے اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور چپ چاپ دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ آپ سب نے اپنے اپنے ہیرو بنا رکھے ہوں گے لیکن کسی نے نارمن بورلاگ کا نام بھی نہیں سنا ہو گا۔ جی ہاں!نارمن بورلاگ جس کی وجہ سے شاید آج ہم زندہ ہیں۔ جس کی جدوجہد کی وجہ سے بیسویں صدی کے ایک ارب افراد موت کے منہ میں جانے سے بچ گئے۔

1968میں سٹین فورڈ یونیورسٹی کیلی فورنیا کے بائیولوجسٹ پال آلرک کی لکھی ایک کتاب مارکیٹ میں آئی جس کا نام تھا ’’The Population Bomb۔ اس کتاب میں آلرک کا کہنا تھا کہ آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ پوری دنیا میں خوراک پیدا کرنے کے وسائل موجود نہیں جو کہ موجودہ آبادی کو خورا ک مہیا کر سکیں۔آرلک نے انڈیا کی مثال دی کہ انڈیا کبھی بھی اپنی آبادی کو خوراک مہیا کرنے کے قابل نہیں ہو سکے گا۔آلرک کا ماننا تھا کہ اگر دنیا کو تباہی ٗ خانہ جنگی سے بچانا ہے تو دو چیزیں کرنے کی ہنگامی بنیادوں پر ضرورت ہے۔ ایک بچوں کی پیدائش کے عمل کو روکا جائے اور دوسرا لوگوں کے مرنے کے عمل کو تیز کیا جائے۔ اس کے علاوہ اس دنیا کے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ آرلک کے اس نظریے کو بین الاقوامی پذیرائی ملی ٗ ان کی کتاب کی لاکھوں کاپیاں فروخت ہوئیں ٗمیڈیا نے اس نظریے کو تسلیم کیا اور دنیا کیلئے بڑے خطرے کے طور پر پیش کیا ٗجبکہ سیاستدانوں نے اس کو اپنی انتخابی مہم کا نعرہ بنایا۔ آبادی کے خطرے کے اس نظریے نے عوامی جدوجہد کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ٗ بڑھتی ہوئی آبادی کے معاملے پر فلمیں بنیں جن میں یہ دکھایا گیا کہ اب کیسے پوری دنیا کا ایک ایک کونا لوگوں سے بھر جائیگا جو روٹی کی ایک لقمے کیلئے ایک دوسرے کا قتل کریں گے۔

اس مہم کے نتیجہ میں پوری دنیا کے ممالک نے ایکشن لیا۔ چین میں ایک بچہ پالیسی کا قانونی اعلان کیا گیا۔ والدین کیلئے ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے کو غیر قانونی قرار دیدیا گیا۔ پوری دنیا نے بچوں کی پیدائش کے قوانین پر ازسر نو غور کیا لیکن آرلک کے دعویٰ کے مطابق ایک آدھی صدی گزرنے کے باوجود پوری دنیا میں خوراک ضرورت سے زیادہ ہے ٗ کوئی بھوک سے نہیں مر رہا اور نہ ہی کسی کیلئے رہنے کی جگہ کم پڑی ہے۔

اس وقت جب ایک بائیولوجسٹ کتابیں لکھ کر دنیا کو بڑھتی آبادی کے مسئلے سے روشناس کرانے میں مصروف تھا دوسری طرف ایک اور بائیولوجسٹ اس کوشش میں مصروف تھا کہ کیسے دنیا کی آبادی کو خوراک باہم پہنچائی جا سکے اور انہیں بھوک سے مرنے سے بچایا جا سکے۔ نارمن بھی ایک بائیولوجسٹ تھا جس نے گندم کا ایک بیچ بنایا جو سخت سے سخت موسم میں چار گنازیادہ پیداوار دے سکتا تھا۔نارمن کے اس بیچ پر تجرباتی کام میکسیکو میں کیا گیا اور اس کے حیران کن نتائج سامنے آئے ٗ اسی بیج کو انڈیا ٗ پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی استعمال کیا گیا اورنتیجہ یہ نکلا کہ آج اسی گندم کی وجہ سے پاکستان اور انڈیا گندم برآمد کرتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سال1968 کو انڈیا نے گندم کے انقلاب کے طور پر منایا۔ یہ وہی سال تھا جب آرلک نے اپنی کتاب شایع کی اور اس میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا اس قابل نہیں کہ عوام کو خوراک دے سکے۔ نارمن کی کوشش نے اس مشکل کا حل تلاش کیا جس کا ذکر آرلک نے اپنی کتاب میں کیا تھا۔نارمن کو کروڑوں لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بچانے کیلئے نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔ وہ تمام ماہرین جنہوں نے یہ پیش گوئیاں کی تھیں کہ ہم سب بھوک سے مر جائیں گے وہ تمام کی تمام غلط ہوئیں اور بڑھتی ہوئی آبادی کا بم نارمن کی جدوجہد سے پھٹنے سے پہلے ہی ناکارہ کر دیا گیا۔ آج نارمن کی وجہ سے پوری دنیا کی آبادی کو خوراک کی کسی کمی کا سامنا نہیں ہے۔

آبادی کے مسئلے کو سمجھنے کیلئے ہمیں تاریخ میں جھانکنا پڑے گا۔ 19 ویں صدی کے آغاز میں پوری دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی تھی جہاں پر عوام کو بنیادی سہولیات میسر نہیں تھیں۔ یورپ ترقی یافتہ ہونے کے سفر کی طرف گامزن تھا وہاں نکاسی آب کا کوئی تصویر نہیں تھا ٗ ادویات کی کمی تھی۔ ملیریا ٗ ہیضہ ٗ طاعون ناقابل علاج بیماریوں میں شمار ہوتی تھیں۔ کھانے کی چیزوں میں صفائی اس وقت کا مسئلہ ہی نہیں تھا۔ اس وقت ایک خاندان میں پانچ سے سات بچے پیدا ہوتے تھے جن میں سے آدھے سے زیادہ بیماریوں کا شکار ہو کر بچپن میں ہی مر جاتے تھے جبکہ پانچ میں سے دو بچے جوانی کی حدود میں قدم رکھتے تھے۔ پھر یورپ میں انڈسٹریل ریولوشن آیا جس نے عوام کے معیار زندگی میں ایک انقلاب برپا کیا اور اسی صنعتی انقلاب نے زرعی انقلاب کو جنم دیا۔ لوگ غلامی سے نوکری کی طرف منتقل ہوگئے۔ فیکٹریوں کی وجہ سے جہاں زندگی کے ہر شعبے میں انقلاب آیا وہیں پر عوام کیلئے تیار ہونے والی چیزوں کی فراوانی میں اضافہ ہو گیا۔ ٹرانسپورٹ ٗ ادویات ہر شعبے میں عوام کیلئے سہولیات میسر آگئیں۔ معاشرے میں خواتین کا رول تبدیل ہوا اور وہ بھی معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے لگیں۔ اسی صنعتی انقلاب نے سفید پوش طبقے کو جنم دیا اور اس کے ساتھ ساتھ غریب طبقے کے معیار زندگی کو بھی بہتر سہولیات کی مدد سے بہتر کیا۔اس ساری ترقی کا براہ راست اثر کم سن بچوں کے مرنے کی تعداد پر پڑا ٗ جہاں پانچ میں سے دو بچے جوانی کی حدود میں قدم رکھتے تھے وہیں ادویات ٗ خوراک ٗ کی بہتر سہولیات کی وجہ سے بچوں کا فوت ہونا کم ہو گیا۔ اب اگر کسی خاندان میں پانچ بچے پیدا ہوئے توچار بچے جوانی کی حدود میں داخل ہوگئے۔یہ وہ صورتحال تھی جس کی وجہ سے آبادی ایک بم کی طرح بڑھنے لگی۔ صرف برطانیہ میں سو سال کے دوران 1750 سے 1850 کے درمیان آبادی 60 لاکھ سے ایک کروڑ 50160لاکھ ہو گئی۔1800160میں اس دنیا کی آبادی ایک ارب تھی ٗ 1940 میں دنیا کی آبادی 2 ارب 40 کروڑ ہو گئی ٗ 1970 میں 3 ارب 70 کروڑ ٗ جبکہ 2016 میں دنیا کی آبادی 7160ارب 40 کروڑ سے تجاوز کر چکی تھی۔

آج صورتحال یہ ہے کہ جتنے بچے دنیا میں آتے ہیں اسی ریشو سے بزرگ لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ستر کی دہائی میں ایک خاتون سات بچوں کو جنم دیتی تھی ٗ جن میں سے دو وفات پا جاتے تھے جبکہ پانچ باقی رہ جاتے تھے۔ جبکہ آج 2015 میں بچوں کے فوت ہو جانے کا تناسب 3.8 فیصد ٗ جبکہ خواتین کے دو سے تین بچے ایوریج ہیں۔ یہی صورتحال اس وقت پوری دنیا میں ہے۔ اس پورے عمل کو تقریبا 80160سال لگے ہیں جب پوری دنیا میں والدین چھ بچوں سے دو سے تین بچوں کی ریشو پر160آچکے ہیں۔ ملائشیا ٗ ساؤتھ افریقہ نے یہ صرف 34160سال میں کیا ٗ پاکستان نے صرف 20160سال ٗ جبکہ ایران نے اس کو صرف 10160سال میں کیا۔ آبادی کے بم کی آج وہ دہشت نہیں رہ گئی۔ انسانیت سے محبت کرنے والے لوگوں کی وجہ سے انسان محفوظ ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کب من حیث القوم ان ہیروز سے محبت کرنا سیکھیں گے۔


ای پیپر