یہ سبز پرچم ہماری عزت۔۔۔
02 مئی 2018 2018-05-02

نبیوں ولیوں صوفیوں کا کہنا ہے کہ ’’جس کے پہنچ جانے کا خطرہ ہو رکاوٹیں اسی کی راہ میں منفی قوتیں کھڑی کرتی ہیں‘‘ انسانی تاریخ ہمیں ان الفاظ کی تائید کرتی نظر آتی ہے۔۔۔ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی اور دوسری نظریاتی مملکت جس کا قیام جغرافیایی معاشی اور سیاسی لحاظ سے جس طرح بھی دیکھا جائے ایک معجزے سے کم نہیں۔ پاکستان بلاجواز نہیں وجود میں آیا احادیث کے علاوہ دوسرے مذاہب میں بھی اس خطے میں ایک ایسی اسلامی مملکت کے وجود کے اشارے ملتے ہیں جو اسلا می دنیا کے عروج کا نشان ہو گی۔ شاید اسی لئے ہر جانب سے قیام سے قبل ہی اسے توڑنے اور ختم کرنے کی سازشیں شروع ہو چکی تھیں جو آج تک جاری ہیں۔۔۔اندرونی و بیرونی دشمن نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وجود کے خلاف ہمیشہ متحرک رہے۔۔۔ شیخ مجیب ہو یا سرحدی گاندھی۔۔۔اسفند یار ولی ہو یا عطا اللہ مینگل۔۔۔پاکستان کے دشمنوں کے آلہ کار بنے اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں مصروف رہے۔۔۔مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی وجوہات کچھ اور تھیں جنہیں میں تفصیل سے اپنے کچھ کالمز میں بیان کر چکی ہوں۔۔۔ پچھلے 30 سال سے دہشت گردی ،معاشی بدحالی اور نالائق سیاست دانوں کی ناقص و خود غرضانہ پالیسیوں کے باعث پہلے بلوچستان میں لسانی ، گروہی اور قومیتی بنیادوں پر چند غداروں کی مدد سے دشمنوں نے جو بھی چالیں چلیں ، سب ناکام ہوئیں۔۔۔ ملک کی محافظ فوج اور عوام کے درمیان غلط فہمیوں کی آگ کو بھڑکانے کی بھی کوششیں ناکام ہوتی رہیں ۔۔۔اب ایک نیا شوشہ منظور پشتین کی صورت میں کھڑا کیا گیا۔۔۔بلکہ باقاعدہ بیرونی طاقتوں اور ایجنسیوں نے اپنی جانب سے بڑے حساس وقت پر لانچ کیا ہے جو کبھی ڈنمارک میں ، کبھی فاٹا میں کبھی سوات میں پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہاہے۔۔۔لیکن فاٹا اور سوات کے محب وطن پشتونوں نے منظور کی گیم کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔۔۔ یہ نوشتۂ دیوار ہے۔غیرت مند پشتون سوشل میڈیا پر جلسوں میں ، اپنے جذبات کا کھل کر اظہار بھی کر رہے ہیں۔۔۔ فوج کی کسی پالیسی پر یا چند افراد سے اختلافات ہو سکتے ہیں ، آپس میں مختلف طبقات کی ایک دوسرے سے شکایات اپنی جگہ لیکن پاکستان کے دشمن جان لیں کہ اختلاف او رنفرت میں فرق ہوتا ہے ہم نفرت صرف اس سے کرتے ہیں جو پاکستان کو زک پہنچانے کا سوچے۔۔۔ بھلے وہ کوئی بھی ہو ۔۔۔
منظور پشتین جس کے دل میں اچانک ہی پشتونوں کی '' محبت کا درد '' جاگا ہے اس سے محب وطن پشتونوں بلکہ سارے پاکستانیوں کے چند سوالات ہیں :
منظور پشین اور اس کے حواری اس وقت کہاں تھے جب فاٹاکے لوگ میران شاہ کے پاس ( اشا جنکشن ) حکیم خاں کی پوسٹ سیکڑوں روپے دے کر کراس کرتے تھے ؟
جب RAW اور NDS کے آیجنٹس ملا سنگین، مولوی شیر باد اور سید نوآریانا فاٹا کے عوام کو چیک پوسٹوں پر کھلے بندوں مار رہے تھے۔
تاوان کی خاطر معصوم قبائلی اغوا ہو رہے تھے اور انہیں افغانستان پہنچایا جا رہا تھا۔ تب منظور پشتین اینڈ کمپنی کو کیوں دم سادھے بیٹھے تھے ۔ جب یہ را اور این ڈی ایس کے کارندوں سے پس پردہ ملاقاتوں میں پاک افواج کے نفرت انگیز تقریروں کی ریہرسل کر رہے تھے ،اس وقت پاک آرمی کے بہادر اور نڈر افسران و جوان او رمحب وطن ناموس وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے تھے۔ عوام کو گمراہ کرنے سے کچھ نہیں حاصل ہو گا دریا خیل والے قصے من گھڑت ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خوشحالی مہر علی کے رہنے والے ایاز خاں اور اس کے بیٹے کو پاکستانی جھنڈا لہرانے کے جرم میں شہید کیا گیا تھا۔. شکاخیل قبیلے کے فیروز خان اور ان کے بھائی دن دہاڑے کھیتوں میں گولیوں سے بھون دئیے گئے ۔ ان کا جرم بس اتنا تھا کہ وہ محب وطن تھے ۔کیا وہ پختون نہیں تھے۔ یہ پشتون تحفظ موومنٹ کے محافظ اس وقت پشتونوں کے جرم بے گناہی میں اس قتل ناروا کیوں چپ تھے۔ اور ہاں، جب حیدر خیل کے ہدایت اللہ داور کا خون بہایا گیا ؟ صحافی حیات اللہ آف حماز کو مفتی قہر نے اغوا کر کے مار ڈالا۔۔۔اس کا بھائی مہر علی میں رہتا ہے ذرا اس سے سچائی پوچھو۔۔۔ رزمک ، مہر علی، میران شاہ کے ایک ہزار لوگ دن دہاڑے اٹھائے گئے اور قتل کر دیے گئے ؟ کیا جرم تھا ان کا ؟ کون ہیں ان کے قاتل ؟۔۔۔رزمک کیڈٹ کالج کے طلبا اغوا ہوئے کیا وہ مظلوم پشتون نہیں تھے ؟ ۔۔۔آرمی پنلک سکول پشاور کا سانحہ ایک سیاہ ترین باب ہے، کیا یہ یہ ننھے منے شہید پشتون نہیں تھے ؟۔.قاری حسین او ردوسرے جب خود کش حملہ آوروں کو تربیت دے کر انہیں او رمعصوم شہریوں کو موت کی گھاٹ اتار رھے تھے تب زبانیں کیوں خاموش تھیں ؟ ۔۔۔جنہیں ملک دشمن عناصر نے مار ڈالا ان پشتونوں اور پاکستانیوں کا دکھ کیوں نہیں ہے؟ جو قاتل مارے گئے یا جو لوگ کنار ، لامانہ، برمل اور کھوسٹ وغیرہ میں عیاشی کر رہے ہیں کیا وہ گمشدہ افراد کہلائیں گے ؟۔۔۔بی بی سی لندن اور دوسرے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے وقت پاکستان آرمی کو ولن اور غداروں کو ہیرو کے طور پر کس کے ایما پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پشتون تحفظ موو منٹ کے تحت۔۔۔. ؟ پاکستانی پرچم کی بے حرمتی کرنے والے کیسے پاکستان کے حامی کہلا سکتے ہیں ؟ چند ہزار دہشت گردو ں کی موت یا گمشدگی کااحساس ہے مگر ایک لاکھ فوجیوں اور سول آبادی کی شہادت یاد نہیں ؟ اب جب کہ آرمی نے محب وطن عناصر کی مدد سے دہشت گردی کو کافی کنٹرول کر لیا ہے تو ایک نیا قضیہ شروع.۔منظور پشتین کے جلسوں میں پاکستان کے خلاف نعرے لگانے والے زیادہ تر غیرملکی ہوتے ہیں ، کون ہیں یہ سب ؟ اصل پختون تو اسلحے سمیت پاک افغان بارڈر پر پاک فوج کا ساتھ دینے پہنچ جاتے ہیں۔ با شعور پختون سمجھتے ہیں کہ یہ ففتھ جنریشن وار ہے جس کا مقصد منفی پراپیگنڈہ کے ذریعے افواج اور عوام کو آپس میں لڑا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا ہیں خاص طور پر اسلامی دنیا کے خلاف تو یہ پلان بہت عرصے سے جاری ہے۔شام لیبیا کویت عراق یمن وہاں کیا ہوا ؟ اب پاکستان نشانے پر ہے مگر یاد رکھو پاکستان مٹنے کے لیے نہیں بنا اس کی تخلیق کا راز کچھ اور ہے۔
اگرچہپشاور کور کمانڈر لیفٹنٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہویے علاقے میں امن اور معصوم عوام کی جانوں کے زیاں کو روکنے کے لئے یہ ضرور کہا کہ ''پشتون تحفظ موومنٹ کے مطالبات جائز ہیں جنہیں آینی دایرہ کار میں رہتے ہویے پورا کیا جایے گا '' لیکن اسے فوج کی کمزوری نہ سمجھا جایے حکمت عملی بھی کسی چیز کا نام ہے۔ آیین قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہویے وہی کرے گا جو وطن کی سلامتی کے حوالے سے صحیح ہو گا۔ جنگ او ر لڑآیی میں گندم کے ساتھ گھن بھی پستا ہے۔ لیکن شر کو مٹانے کو کچھ سخت فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ اگر پاکستان کے پرچم کی توہین ہو گی ،اسے لہرانے والوں کو دھمکیاں ملیں گی یا مارا جایے گا تو ملکی آیین کے مطابق اس کی سزا کیا ہو گی ؟ کچھ لاپتہ افراد کے حوالے سے مشکوک افواہیں بھی گردش کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں قبایلی ذاتی دشمنیاں بھی فایدہ اٹھا تی ہیں۔ جیسا کہ بلوچستان میں بھی ہوتا رہا۔ تحفظات دونوں جانب ہیں۔ غیرملکی میڈیا اس تحریک کو خوب ہوا دے رھا ہے۔کچھ سیاسی حلقے بھی انسانی حقوق کی آڑ میں اس تحریک کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے چکر میں ہیں۔ ایسے وقت میں جب نام نہاد جمہوریت کی نیا ڈول رہی ہے ، ملک کے طول و عرض میں سیاسی اکھاڑے سجے ہیں۔ ایسی تحریک کا نقصان سادہ عوام کو ہی ہو گا۔ شاید اسی لئے آرمی اس مسئلے کو سوجھ بوجھ کے ساتھ حل کرنا چاہتی ہے۔عملی طور پر فاٹا میں اندھیری رات ختم ہو رہی ہے۔اور دشمن اپنا وار خالی جانے پر چیں نچیں ہے دوسری جانب کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کی داد رسی کے لئے خود آرمی چیف جنلر قمر باجوہ کی موجودگی ایک بہت مثبت سگنل ہے۔ ثبوت ہے اس بات کا کہ پاکستانی عوام کو اپنی فوج پر اعتماد ہے اور انشاللہ دھرتی ماں کی حفاظت اور ہلالی پرچم کی سربلندی کے لئے ہر مرحلے پرہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔


ای پیپر