آزادی صحافت اور پاکستان
02 May 2018 2018-05-02

کولمبین ڈرگ مافیا کے خلاف خبر اس کی زندگی کی آخری خبر ثابت ہوئی۔اسے لالچ دی گئی، سمجھایا گیا اور پھرڈرانے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی بھی عمل اسے اس کے فرض کی ادائیگی سے نہ روک سکا۔ اس نے سچ عوام کے سامنے لانے کی قسم کھائی تھی۔ وہ کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا کے ایک اخبار روزنامہ ایل اسپیکٹیٹر کا ایڈیٹر تھا۔ وہ اخبار کے مختلف شعبوں میں کام کر کے ایڈیٹر کے عہدے تک پہنچا تھا۔ وہ بل فائیٹنگ، ثقافت اور سیاست کے شعبوں میں رپورٹنگ کا ماہر تھا۔ ایک دن اسے کسی سورس سے خبر ملی کے سیاسی لوگ اور ڈرگ مافیا کے گٹھ جوڑ سے ہیومین اور ڈرگ ٹریفیکنگ کا مضبوط اور وسیع نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔اس نے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا اور سیاسی لوگوں اور ڈرگ مافیا کے گٹھ جوڑ کی سٹوری مرحلہ وار شائع کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مافیا نے اسے

روکنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ حق اور سچ پر قائم رہا۔ جرائم اور سیاست کی الجھی ہوئی گتھیاں سلجھنے لگیں۔ اشرافیہ کے ناموں نے کولمبین سوسائٹی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ مافیا اور سیاست کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنے کا سلسلہ ابھی جاری تھا کہ 17 دسمبر 1986 کو ڈرگ مافیا کے دو شوٹرز نے اسے بروٹا میں اخبار کے دفتر کے سامنے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ مافیا کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ اپنے ڈر کی دھاک بٹھانے اور آزادی صحافت کو مافیا کے پیروں تلے روندنے کے لیے مافیا نے اخبار کی عمارت کو بھی دھماکے سے اڑا دیا اور صحافی کے گھر کو بھی آگ لگا دی۔ آزادی صحافت کے حق میں آواز بلند ہوئی، عوامی پریشر کے بعد حکومت نے قاتلوں کو گرفتار کیا، ان پر مقدمہ چلا اور چار مافیا ارکان کو صحافی کو قتل کرنے اور قتل کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں سولہ سال اور آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ مافیا کے صحافت اور صحافیوں کے دلوں میں خوف پیدا کرنے کے منصوبے کو ناکام کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے قتل کیے گئے صحافی کے نام سے 1997میںUNESCO Guillermo Cano World Press Freedom Prize

ایوارڈ دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ ایوارڈ اقوام متحدہ کی جانب سے ہر سال 3 مئی کو آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر دیا جاتا ہے۔

1997 سے آج تک یہ ایوارڈ دینے کا سلسلہ جاری ہے۔یہ ایوارڈ ان اداروں اور افراد کو دیا جاتا ہے جنھوں نے صحافت کی آزادی کیلیے گراں قدر خدمات سر انجام دی ہوں۔ آپ یقیناًاس صحافی کا نام جاننا چاہیں گے۔اس گمنام صحافی کا نام Guillermo Cano Isaza تھا۔ اس گمنام صحافی کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس کا مجسمہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سن 2000 میں اسے بیسویں صدی کے آزادی صحا فت کے ہیروز میں شامل کیا گیا ہے۔آج صحافت کی آزادی کے عالمی دن کے موقع پر ہم پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم Isaza Guillermo Cano کے اصولوں کو اپنائیں ،حق اور سچ کے لیے ڈٹ جائیں، چا ہے اس کے لیے ہمیں اپنی جان کو ہی خطرے میں کیو ں نہ ڈالنا پڑ جائے ہم اپنے ضمیر سے ایک حلف لیں کہ جو بھی لکھیں گے سچ لکھیں گے اور سچ کے سوا کچھ نہیں لکھیں گے۔

آپ Isaza Guillermo Cano کی آزادی صحافت کے لیے دی گئی قربانی کو ذہن نشین کریں اور اس کا موازنہ ملک پاکستان میں رائج صحافت کے اصولوں، آزادی صحافت کی اہمیت ، صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں درپیش مشکلات ،صحافی بننے کے معیار اور صحافت کی آزادی کی اصل روح کے ساتھ کریں تو آپ ایک دلچسپ صورتحال کا مشاہدہ کر سکیں گے۔ملک پاکستان میں صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ صحافی اگر آزاد رہ کر کچھ لکھنا یا بولنا چاہے تو اس کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ اخبار اور نیوز چینل مالکان ہیں۔صحافی حضرات کو اخبار اور چینل کی پالیسی پر چلنا پڑتا ہے۔ بعض ادارے سچ لکھنے اور بولنے کی قیمت ادا نہیں کر سکتے۔وہ سچی خبروں اور آئینہ دکھانے والے صحافیوں کا وزن برداشت نہیں کر سکتے۔ ان حالات کے پیش نظر اگر میں یہ کہوں کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے تو میں یقیناًجھوٹ بولنے کا مرتکب ہوں گا۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے کالموں اور پروگراموں میں سیاسی لوگوں کو گالیاں دینے کو صحافت سمجھ لیا ہے۔ ہم دو پارٹیوں کے رہنماؤں کی لڑائی کروا دینے کو آزادی صحافت سمجھتے ہیں۔ ہم کسی بھی شخص پر بے بنیاد الزام لگا کر اسے بلیک میل کرنے کو صحافت کی خدمت قرار دیتے ہیں۔ ہم اپنے کالموں اور پروگراموں میں کسی بھی ایشو کا یک طرفہ موازنہ کر کے اپنی رائے دوسروں پر تھوپ دینے کو صحافت کا اعلی درجہ قرار دیتے ہیں۔ ہم جسے پسند نہیں کرتے اس کی رائے کو توڑ مڑوڑ

کر پیش کرنا صحافت کی اولین ذمہ داری سمجھتے ہیں اور ملک پاکستان کا اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ ملک میں صحافی بننے کا کوئی بھی نظام اور معیار موجود نہیں ہے۔ اتنے اہم پیشے کے لیے ٹریننگ اور تعلیم کا کوئی معیار مختص نہیں کیا گیا ہے۔ ان پڑھ، جاہل اور گنوار اور لوگ خود کو صحافی کہتے دکھائی دیتے ہیں اور کسی بھی شخص کی جھوٹی سچی خبر لگا کر یا چلا کر اسے بلیک میل کرنا صحافت کی خدمت سمجھتے ہیں۔ ملک پاکستان میں صحافت کی پہچان صرف ایک اخبار یا چینل کا کارڈ ہوتا ہے اور جو لوگ زندگی کے ہر شعبے میں ناکام ہو جاتے ہیں وہ ایک تھرڈ کلاس اخبار کی نمائندگی حاصل کر کے ایک ہی جھٹکے میں معتبر بن جاتے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کارڈ پر لکھا ہوا اپنا نام تک نہیں پڑھ سکتے لیکن خود کو صحافی کہلوانا اپنا حق سمجھتے ہیں اور اگر یہ دو نمبر اور گھٹیا لوگ کوئی جرم کرتے ہوئے پکڑے جائیں تو اخبار بڑی سی سرخی لگا کر اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دے دیتے ہیں اور کسی حکومتی اور غیر حکومتی ادارے کی جرات نہیں ہوتی کہ اس پر ہاتھ ڈال سکیں۔ (جاری ہے)


ای پیپر