دلوں پر راج
02 May 2018 2018-05-02

عمران خان نے مینار پاکستان کے سایہ تلے جلسہ کیا کیا ایک سیاسی بھونچال آ گیا۔ اس کے سیاسی مخالفین بھڑک اٹھے۔ تنقید کے اصولوں سے نابلد خواتین حضرات نے گویا ان پر یلغار کر دی کہ وہ بڑا جلسہ کرنے میں ناکام ہو گئے۔ یہ کہ وہ تو سیاستدان لگتے ہی نہیں، کے پی کے میں انہوں نے کون سے کارنامے سر انجام دیے ہیں کہ دوسرے صوبوں میں اگر وہ عام انتخابات جیت جاتے ہیں۔ عوامی خدمت کے ریکارڈ قائم کر دیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔۔!

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے ملکی سیاست میں یہ سیاسی اجتماع بہت بڑا تھا۔ پی پی پی کا دعویٰ درست معلوم نہیں ہوتا کہ جب محترم بے نظیر شہید انیس سو چھیاسی میں وطن واپس لوٹیں تو جو جلسہ انہوں نے اس تاریخی اور اہم مقام پر کیا وہ ہی بڑا تھا۔ بلا شبہ وہ ایک تاریخی جلسہ تھا۔ مگر اس وقت یہ جگہ آج کی نسبت کم تھی۔ اب تو اس کا رقبہ ایک سو تیس ایکڑ بتایا جاتا ہے۔ لہٰذا کہنا پڑتا ہے کہ پی ٹی آئی کی ’’طاقت دکھانی‘‘ بڑی تھی۔

یہ کہنا بھی غلط نہیں ہو گا کہ عمران خان نے اپنی گزشتہ تقریروں کے انداز سے ہٹ کر یہ تقریر کی جس میں عوامی امنگوں اور خوابوں کی جھلک واضح تھی۔ انہوں نے اس درد کی ٹیسیں بھی بیان کیں جو ان کے جسم میں غریبوں کمزوروں اور بے بسوں کے لیے اٹھتی ہیں۔ اپنی والدہ مرحومہ کے تلخ ترین دنوں کا بھی بتایا جس پر کچھ لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئیں۔ ان کی آواز بھی بھرا گئی۔ بعض خواتین تو مسلسل روتی رہیں اور بعض ان کی سلامتی کی دعائیں مانگتی رہیں۔ یہ منظر میں نے پہلی بار دیکھا کہ عمران خان کے لیے آنسو بہہ نکلے!

اب اگر رانا ثناء اللہ ان خواتین کو کہیں کہ ’ٹھمکے بتاتے ہیں کہ وہ کہاں سے آئیں‘‘ تو اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا نے پھر جو ان کی دھول اڑائی ہے ۔ وہ اخیر ہے۔ یہاں میں اس کی تفصیل بیان نہیں کر سکتا۔ عابد شیر علی نے بھی جو زبان استعمال کی اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ اللہ انہیں ہدایت دے۔

بہر حال عمران خان اور ان کی جماعت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ اور اب وہ اس اہل ہے کہ ملکی باگ ڈور سنبھال سکے۔ اس کے گیارہ نکات سے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ وہ اقتدار میں آتی ہے تو وہ تعلیم ، صحت ، انصاف اور پولیس نظام پر اپنی توجہ مرکوز کر دے گی۔ کیونکہ یہ طے ہے کہ کوئی بھی ریاست انصاف کے ساتھ تعلیم، صحت سے محروم عوام کو مفید شہری بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی لہٰذا پی ٹی آئی کا منشور بہت مثبت اور ترقی پسندانہ ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ اس پر عمل درآمد کیسے کر پائے گی۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ عمران خان ایک با مقصد و باعمل سوچ رکھنے والا سیاستدان ہے۔ اس نے بغیر اختیارات اور اقتدار کے وہ کچھ کر دکھایا جو ماضی کا کوئی حکمران اختیارات رکھتے ہوئے بھی نہیں کر سکا۔ لہٰذا گمان یہ ہے کہ وہ ان شعبوں میں آسانی سے اصلاحات لا کر سماجی نظام کو بہتر بنا دیں گے۔ پولیس کے بارے میں اتنا ہی کہنا کافی ہوگا کہ کے پی کے میں انہوں نے ستر فیصد تک پولیس کی کارکردگی کو بہتر کر دیا ہے۔ اب وہ روایتی پولیس نہیں۔ یہ درست ہے کہ وہاں ابھی مکمل طور سے پولیس کی سوچ تبدیل نہیں ہوئی مگر وہ پہلے والی بھی نہیں ہے جس میں عوام کو بے پناہ مشکلات در پیش تھیں۔ لہٰذا مجھے پوری امید ہے کہ وہ گیارہ نکاتی پروگرام پر بآسانی عمل کر گزریں گے۔ مگر میں نہ مانوں کی رٹ لگانے والے ان کے عزم جذبے اور جوش سے اتفاق نہیں کرتے۔ اور اندیشیوں اور وسوسوں کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔ جبکہ یہ حقیقت ہے کہ وطن عزیز کی غالب اکثریت انہیں دل و جان سے قبول کر رہی ہے۔ اسے یقین ہے کہ عمران خان کا ارادہ مضبوط ہے۔ وہ دیانت دار ہے۔ دولت کی ہوس اسے ذرا بھی نہیں۔ لہٰذا وہ اسے اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ ان کے سپنے سارے نہ سہی کچھ ہی سہی پورے ہو سکیں۔ اسی لیے وہ اس کے لیے آنسو بہا رہے ہیں۔ اور دُعا کر رہے ہیں۔ جنہیں ان سے پر خاش رکھنے والے اہمیت نہیں دے رہے۔

اور وہ ان کے خلاف طرح طرح کی باتیں کیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ انہیں تقریر کرتے وقت ہلنا نہیں چاہیے تھا۔ انہیں سیدھا کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ یہ کہ انہیں اتناوقت نہیں لینا چاہیے تھا۔ وہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ کسی سیاستدان نے اتنا طویل خطاب پہلی بار کیا مگر لوگ جم کر بیٹھے رہے۔ ان کے ساتھ آئے ہوئے بچے بھی انہماک کے ساتھ ان کا خطاب سنتے رہے۔ اس پر دانشور حلقے اور غیر جانبدار تجزیہ نگار حیران ہیں کہ جنون کا نظارہ انہوں نے زندگی میں اس روز دیکھا۔ ایسی محبت اور وابستگی بہت کم سیاسی رہنماؤں کے حصے میںآئی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بھی عوام کا پیار ملا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو بھی لوگوں نے اسی طرح اپنے دل میں جگہ دی تھی۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب وہ کوئی ریلی نکالتیں اور بعد ازاں جلسہ منعقد کرتیں تو لوگ ان کے ساتھ شروع سے لے کر آخر تک ہوتے اور ان کا خطاب سنتے۔ اب بھی ان کا دل چاہ رہا ہوتا کہ وہ ان سے مخاطب ہوں تو وہ ہمہ تن گوش انہیں سنیں۔ عمران خان تیسرے سیاسی رہنما ہیں جو عوام کے دلوں میں بس چکے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اب تک ان کی خدمات ہیں اگرچہ وہ محدود ہیں مگر ہیں ضرور پھر رہنما کا کردارہوتا ہے۔ جو عمران خان کا رویہ اور کردار ہے وہ عوام دوست ہے۔ اس میں کوئی چالاکی ہو شیاری نہیں ۔ اور لالچ بھی ان میں فی الحال دکھائی نہیں دیتا۔ مزاج ان کا قدرے مختلف ہے اور کسی کھرے آدمی کا ایسا ہی ہوتا ہے۔

محسوس کیا جا سکتا ہے کہ آئندہ پی ٹی آئی کامیاب ہو گی۔ جس کے وزیر اعظم مایوس عوام کو زندگی کی مشکلات اور اذیتوں سے نجات دلائیں گے۔ کیونکہ اب بھی اگر کسی نے آگے بڑھ کر عوام کے دکھوں کو نہ سمجھا، ان کے زخموں پر مرہم نہ رکھا تو وہ بدظن ہو جائیں گے۔ ان کا اعتماد خطرناک حد تک کم ہو جائے گا۔ لہٰذا عمران خان جو خدمت کے جذبے سے بخوبی آشنا ہیں اور انہوں نے اس کا باقاعدہ و باضابطہ ثبوت بھی دیا ہے ۔اقتدار میں آجاتے ہیں تو ان کی زندگی میں انقلاب بر پا کر دیں گے اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ اس وقت ایسا دوسرا کوئی سیاسی رہنما سیاسی افق پر موجود نہیں خود کو لیڈر کہلائے ہیں ان کے پیچھے ذائیات ہے ان کے اپنے مفادات ہیں۔مثال کے طور پر میاں نواز شریف ہیں وہ اپنے اقتدار سے محرومی کا رونا رو رہے ہیں، ووٹ کی عزت کا واویلا عوام کے لیے نہیں اپنے لیے کر رہے ہیں۔۔۔

وگرنہ وہ اب ہی کیوں شور مچاتے۔۔۔ یعنی عوام جب چیخ چلا رہے تھے کہ ان کے زیر اثر سرکاری ادارے ان کے ساتھ غیروں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔ رشوت سفارش کے بغیر ایک کام بھی نہیں کرتے۔ ہر طرح کے مافیاز نے ان کو یرغمال بنا رکھا ہے۔۔۔ قانون نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی۔۔۔ انصاف مہنگا اور مشکل ہے۔۔۔ تعلیم اور صحت ان کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں۔ یوں ان کی عزت خاک میں ملا دی گئی ہے تو وہ بولتے، سڑک پر آتے، احتجاج کرتے مگر وہ بھی کیوں۔۔۔ حکومت تو ان کی تھی اب بھی ہے کیوں لوگوں کو انقلاب اور زندہ رہنے کے لوازمات مہیا نہیں کیے گئے۔۔۔ لہٰذا عمران خان ہی ہے جو عوام کے لیے اپنے دل میں درد رکھتا ہے۔ اس کی بدنی بولی صاف بتا رہی ہے، اس کا لہجہ واضح طور سے پتا دیتا ہے کہ وہ اپنے عوام کے لیے جینا چاہتا ہے۔ ان کو ان کا کھویا ہوا وقار، عزت اور احترام واپس دلوانا چاہتا ہے اور اس مقصد کو پورا ہوتا دیکھنا چاہتا ہے جس کے لیے یہ ملک معرض وجود میں آیا۔۔۔ لہٰذا لوگو! یہ تمہارے لیے آخری موقع ہے کہیں اسے ضائع نہ کر دینا۔۔۔؟

اب کے ہم بچھڑے تو کون کسے پہچانے گا

وقت کی اڑتی دھول ہمارے چہروں پر جم جائے گی


ای پیپر