Photo Credit Yahoo

 بچوں کےساتھ زیادتی،خصوصی عدالتیں قائم کرنے کاحکم ، بھارتی سپریم کورٹ
02 مئی 2018 (19:03) 2018-05-02

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے بچوں کےساتھ زیادتی کیس کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کاحکم دے دیا ، حساس مقدمات میں خصوصی عدالتیں سماعتوں کو ہرگز غیر ضروری طورپر ملتوی نہ کریں ، پولیسمقدمات کی تفتیش کےلیے ٹاسک فورس قائم کرے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے ملک میں بڑھتے ہوئے بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر ان کی تیز تر تفتیش اور ان مقدمات کےلیے خصوصی عدالتیں بنانے کا حکم دے دیاہے۔

کشمیر میں 8سالہ بچی کےساتھ ہندو گروپ کی جانب سے زیادتی کے بعد بھارتی حکام پر اس گھناو¿نے جرم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کےلیے سخت دبائو ہے۔چیف جسٹس دیپک میسرا کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے کہا ان جیسے حساس مقدمات میں خصوصی عدالتیں سماعتوں کو ہرگز غیر ضروری طورپر ملتوی نہ کریں۔ بھارتی چیف جسٹس ،دیپک میسراعدالت نے پولیس کو بھی حکم دیاہے کہ وہ ان مقدمات کی تفتیش کےلیے ٹاسک فورس قائم کریں اور خصوصی عدالتیں اس تفتیش پر سماعت کریں۔

بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہائی کورٹس کو کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ اطفال دوست عدالتیں قائم کی جاسکیں۔ سپریم کورٹ کے یہ احکامات کشمیر میں بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے خلاف پائے جانے والے غم غصہ کے بعد آئے ہیں جس سے ان جیسے روز بروز پیش آنے والے واقعات پر توجہ مبذول ہوئی ہے۔انسانی حقوق کے کارکنوں کاکہناہے کہ حکومت بچوں کےساتھ زیادتی کے واقعات کو سنجیدہ نہیں لیتی جس کے ثبوت کشمیر کے نئے نائب وزیراعلی کویندر گپتا ہے جنھوں نے پیر کو عہدے کا حلف اٹھانے کےبعد کشمیر میں بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے گھناو¿نے واقع کو چھوٹا واقعہ قراردیاتھا۔


ای پیپر