”کہ دِل نواز تواِی“
02 مئی 2018 2018-05-02

پاکستان کے صدر جنرل محمد ایوب خان، کا ترقی کے حوالے سے اپنی قوم پر بہت بڑا احسان ہے، پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس مال روڈ سے، انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کا نیو کیمپس، نہر کے کنارے دلکش اور خوبصورت ماحول میں ، شہر کی صورت میں آباد کیا، اُس نہر میں بڑی تعداد میں کشتیاں بھی موجود تھیں، اور چپو بھی ساتھ بندھے ہوتے تھے، اُس وقت خال خال نہر کے ساتھ والی سڑک پر، کئی کئی منٹوں کے بعد کوئی گاڑی گزرتی تھی۔ اگر کسی منچلے یا دل جلے نے نہانا ہوتا تھا، یعنی تیراکی کا شوق پورا کرنا ہوتا تھا، تو وہ ٹھوکر ”نوازبیگ“ نہیں ٹھوکرنیاز بیگ کے قریب جاکر یہ انداز مجنونانہ اپناتا، کئی دل جلے تو، والدین کی اُمیدوں واُمنگوں ، کو خاک میں ملاتے ہوئے، گرلز ہوسٹلز کی کھڑکی نہیں دروازہ کھلوا کر ”حربہ ہدیانہ“ استعمال کرتے ہوئے ”چلودلدارچلو“ چاند کے پار چلو، گنگناتے ہوئے، حفیظ خان، جہانگیر بدر، غلام مصطفی میرانی، لیاقت بلوچ کے سکواڈ تربیت یافتہ کو بعض اوقات ، جُل دے جاتے، مگر وہ بھی کسی سے کم نہیں تھے۔ گئے گزرے وقتوں کی بات چھوڑیں، وقت بدلتے ہی انہوں نے بھی بدلتے دیر نہیں کی، خیر میں بات کررہا تھا، چاند کے پار چلو ....ہم ہیں تیار چلو۔ اُن دِنوں چونکہ، میرا ننھیالی نام دلدار خان، میرے مرحوم والدین کو دلبرجان لگنے کے باوجود ”محمدنواز خان“زیادہ عزیز تھا، اور خود مجھے ”محمدنواز“ کے معنوں اور مفہوم کے جاننے کے بعد یہ نام بہت ہی اچھا بلکہ پیارا لگتا ہے، کیونکہ

نوازشیںدلِ ماراکُن کہ دِل نواز تواِی

بہرحال پتا نہیں راگ کیسے چھڑ گیا میں تو غزل سنانا چاہتا تھا، پوری غزل تو شاید آپ سننا گوارا نہ کریں، مگر مطلع اور مقطع پہ تو آپ کو اتفاق کرنا ہی پڑے گا۔ بقول شاعر

تھے ایک ہاتھ میں غم دُوسرے میں خواب مرے

ہرایک رہ پہ ساتھ تھے سراب مرے!

مُودی نے ابھی سے یعنی شعبان میں رمضان کے لیے”خارجہ بیان“ یعنی ایک تیر سے دوشکار کرتے ہوئے، بلوچستان میں دہشت گردی کروا کر اور ہزارہ برادری کے لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کے بعد، مسلم ممالک کے حکمرانوں کو ”مزید“ بیوقوف بنانے کے لیے ہمارے پیغمبرعالم ﷺ کے بارے میں، اندرون ملک اور بیرون ملک، اپنے آپ کو امن وآشتی کا پرچارک ثابت کرنے کے لیے کہا کہ پیغمبر اسلامﷺکی تعلیمات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ اور کہا کہ ”مسلمان“ اپنے غریب ”بھارتی“ بھائیوں کا خیال رکھیں، اور ان کے بھائی چارے، اور مساوات کے درس سے سبق حاصل کریں۔

اب مودی کے ”اقدام مساوات“ کے بعد بھارتی مسلمانوں کو گائے کو ہاتھ لگانے، گائے کا کاروبار کرنے، گائے کو ذبح کرنے، گائے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے پر قتل کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ اُس کے سپریم کورٹ کے ایک جسٹس نے گائے کے گوبر کو بھی پوتر، یعنی پاک قرار دے کر اُس کا احترام کرنے کا حکم دیا ہے، اور گائے کا ”شناختی کارڈ“ بنانے پر کروڑوں روپے مختص کردیئے ہیں ،غالباً یہ دنیا کا واحدملک ہے، کہ جہاں جانور کو انسان کا درجہ دیتے ہوئے شناختی کارڈ بنائے جارہے ہیں۔

مگر مودی یہ بات مت بھولے، کہ بابری مسجد پہ شیوسینا کے رہنما نے حملہ کرنے کے بعد، اسلام قبول کرلیا تھا، اور اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر معافی مانگ رہا ہے، اللہ تعالیٰ ہرایک کی توبہ قبول فرمانے والا ہے۔ اب کیا پتا قدرت کے کرشمے کا، ہوسکتا ہے ، خود مودی کا اپنا مستقبل بھی یہی ہو بہرحال میں نے تو بات شروع کی تھی، نہر کے پُل سے جس پر چین کے صدر ”شی جن پنگ“ نے بطور شی، چینی نہر پہ مودی کو بلا لیا ہے، اور اس کے ساتھ کشتی رانی کی ہے اور ساتھ چینی موسیقاروں نے بالی ووڈ کا 1982ءکا فلم یہ وعدہ رہا کا مشہور گانا ” تو ہے وہی دل نے جسے اپنا کہا “ سنوا کر، مودی کی دعویٰ دار بے شمار بیگمات کو تڑپا کر رکھ دیا، ٹرمپ اور مودی کی یہی خصوصیت اور انفرادیت ،ہماری مشترکہ” مفادات کونسل“ کی طرح زولہ آورکے تابع ہے۔

کشی رانی کرتے ہوئے، شی جن پنگ نے مودی کو اور مودی نے، شی جن پنگ کو چائے بنابنا کر چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں پیش کی، گانا سن کر مودی کے چہرے پہ مسکراہٹیں بکھر گئیں، لیکن اچھا یہ ہوا کہ وہ جذباتی ہوکر بھی آپے سے باہر نہیں ہوئے شاید اِس لیے کہ وہ اپنے ملک میں نہیں تھے۔ ایک بات جو مجھے یاد آئی کہ میں نے پنجاب یونیورسٹی کی جو بات شروع کی تھی وہ بے محل اور مہمل نہیں تھی۔ میں تو صرف یہ بات بتانا چاہتا تھا کہ آج کل گلوکار علی ظفر کا میشاشفیع کو ہراساں کرنے کا جو الزام ہے، میں کسی کی طرف داری کرنے پر تیار اِس لیے نہیں ہوں کہ شیطان حضرت آدم علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام کو اگر بہکا سکتا ہے تو پھر وہ کسی کو بھی بہکا سکتا ہے، حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی اللہ سے دعا مانگنی پڑی تھی ۔سورة یوسف میں ارشاد ہے کہ ” زلیخا اُس کی طرف بڑھی (حالانکہ وہ اس وقت خاتون اول یعنی ملکہ وقت تھی)اور یوسف بھی اس کی طرف بڑھتا ، اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا۔ور برہان کا مطلب ہے، کہ خدا کی سمجھائی ہوئی دلیل، اور دلیل یہ تھی کہ میرے رب نے مجھے یہ عزت اور منزلت بخشی اور میں یہ کام کروں، اب خدا جانے کہ کس وقت کس پہ ٹرمپ کی روح سرایت کر گئی تھی۔ مگر میرا تجربہ جوکہ مخلوط تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے ہے، جب تک عورت کی مرضی شامل نہ ہو، تو کوئی مرد کا بچہ، چاہے ”آمروقت“ ہی کیوں نہ ہو، عورت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اپنی مرضی تو چار بیویاں ہونے کے باوجود بھی کسی پہ مسلط نہیں کی جاسکتی، آخر میں اپنا پرانا مو¿قف پھر دوہراتا ہوں کہ آصف زرداری اور میاں نواز شریف کو چین کی دوستی پہ نہیں اترانا چاہیے، دونمبر کی چیزیں بنانے والا ملک، کیا پتا ہمارا ایک نمبر دوست ہے، یا دو نمبر، ہمارے تو کسی لیڈر کو اُس نے چائے بنا بنا کر کبھی نہیں پلوائی، نہ ہی نہر کے پل پہ بلایا ہے۔

حدیث مبارکہ ہے کہ حضرت زینب بنت حضور کے ہاں آپ تشریف لائے، پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ بلکہ عرب میں اِس ”برائی“ کی وجہ سے بربادی آجائے گی جس کے دن قریب آنے کو ہیں۔ آج یاجوج ماجوج نے اتنا سوراخ کردیا ہے۔ پھر حضور کریم ﷺ نے اپنے انگوٹھے، اور قریب کی انگلی سے ایک حلقہ بناکر بتایا۔ حضرت زینب ؓ نے سوال کیا یا رسول اللہ کیا ہم اس کے باوجود بھی ہلاک کردیئے جائیں گے کہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ جب فسق و فجور بڑھ جائے گا، تو یقیناً بربادی ہوگی۔ قارئین فسق وفجور ، بدکاری اور گناہ گاری کو کہتے ہیں، آپ حدیث مبارکہ کے ایک ایک لفظ پہ غوروفکر کریں، کیونکہ اس کا بھی ثواب ہے۔ دنیا میں ٹرمپ کے ملک سے بھی زیادہ ، فسق و فجور والا مودی کا ملک بھارت ہے، جس نے بالی وڈ کے ذریعے، دنیا میں اندھیر مچایا ہوا ہے، ایک دفعہ ایک سعودی نے مدینہ منورہ میں مجھے کہا، جس کے گھر میرا قیام تھا، میںآپ کے ملک کی فلمیں ہروقت دیکھتا رہتا ہوں، اس کے بعد اس نے بھارتی بیہودہ ناچ گانوں کا چینل چلا دیا، کچھ لمحے کے بعد مجھے سمجھ آئی، پہلے میں سمجھا یہ کوئی یورپی ملک ہے، تو میں نے اسے بتایا، یہ تو ہندوستان ہے، ماشاءاللہ، پاکستان تو بہت صاف ہے، جیسے ہمارا شہر کراچی ہے، صفائی نصف ایمان ہوتا ہے، ایک کروڑ مسلمانوں کے ایمان پہ کوئی انگلی نہیں اُٹھا سکتا، نہ مرادعلی شاہ پہ نہ میئر کراچی پہ کیونکہ ہرکسی کو اپنی زندگی بھی پیاری ہے۔


ای پیپر