نذیر قیصر۔۔ ایک بانکا شاعر
02 مئی 2018 2018-05-02

ایک صاحب نے سوال کیا آپ کیا کرتے ہیں ؟نذیر قیصر نے کہا : ” جی میں شاعر ہوں “

وہ تو ٹھیک ہے مگر آپ کرتے کیا ہیں ؟ سوال کرنے والے نے دوبارہ زور دے کر پوچھا تو نذیر قیصر بولے : ” حضرت ! میں نے بتایا ناں میں ایک شاعر ہوں ،کیا یہ جواب کافی نہیں،کیا ایک شاعر کو شاعری کے علاوہ بھی کچھ کرنا چاہئے؟ وہ صاحب خاموش ہوگئے۔ دراصل پاکستان میں تخلیق کار خاص طور پر شاعر صر ف شاعری کے بل بوتے پر گزر بسر نہیں کر سکتا ۔ہمارے ہاں شاعروں ادیبوں کو تخلیقی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ،روٹی روزی کے لئے الگ سے بھی کوئی کام کرنا پڑتا ہے کہ شاعری سے روٹی نہیں کمائی جاسکتی،دوسرے معنوں میں تخلیق کاروں کو زندہ رہنے کے لئے تخلیقی کاموں کے علاوہ بھی مشقت کرنی پڑتی ہے ،وجہ یہ ہے کہ ادبی کتب اول تو بکتی بہت کم ہیں اور ایسے حالات میں،شاعر ادیب کو اگر رائلٹی مل بھی جائے تو اس سے اس کے گھر کا چولہا نہیں چلتا۔ یہی سبب ہے کہ تخلیق کاروں کو اپنی تخلیقی مصروفیت کے ساتھ پیٹ کے لئے کوئی اور دھندا بھی کرنا پرتا ہے ۔ دو چار اہلِ قلم ہی ایسے ہونگے جنہوں نے صرف قلم ہی سے رزق کمایا ایسے خوش نصیبوں میں مستنصر حسین تارڑ، اے حمید یا اس طر ح کے چند ادیب شاعر اور ہونگے ۔تمہید کچھ طویل ہوگئی بات نذیر قیصر سے شروع ہوئی تھی جو ایک کل وقتی شاعر ہیں بلکہ اول و آخر شاعر ہیں ۔بقول اقبال ساجد :

دنیا نے زر کے واسطے کیا کچھ نہیں کیا

اور ہم نے شاعری کے سوا کچھ نہیں کیا

کچھ یہی حال ہے ہمارے پسندیدہ شاعر نذیر قیصر کا ۔آپ ہر لمحہ شاعری کی کیفیت میں بسر کرتے ہیں۔ ان سے ہماری دوستی ملتا ن کے زمانے کی ہے۔ مجھے ملتان میں اطہر ناسک مرحوم نے نذیر قیصر سے ملوایا تھا، ملوانے سے قبل ناسک نے نذیر قیصر کے کئی خوبصور ت اشعار سنائے ۔ بعد میں ہم انہیں چھاﺅنی کے علا قے میں جا کر ملے تھے ، ان دنوں نذیر قیصر اسی علا قے میں مقیم تھے ، پھر تو اکثر ان سے ملاقات رہنے لگی ۔ شہر کے مشاعرو ں میں،تقریبات میں، بابا ہوٹل اور دیگر کئی جگہوں پر ہو نے والی ملاقا تیں آ ج بھی میرے ذہن میں تروتا زہ ہےں ۔

اطہرناسک کی طرف سے سنائے جانے والے نذیر قیصر کے اشعار اب بھی میرے حافظے میں محفوظ ہیں :

خواب تھے رات کے پیالے میں

اور پیا لہ الٹ گیا مجھ سے

۔۔۔۔

آنکھیں چہرہ ہاتھ لئے پھر تا ہوں

کیا کیا اپنے ساتھ لئے پھر تا ہوں

اس دور میں نذیر قیصر کی شاعری کی کئی کتابیں شائع ہو کر پذیرائی حا صل کر چکی تھیں جن میں ” گنبد خوف سے بشارت“ ”آنکھیں چہرہ ہاتھ “خامشی ،غارحرا ،دل مر ا شامل ہیں ان کی شاعری پر فیض ،احمد ندیم قاسمی سے لے کر ،بانو قدسیہ اور منیرنیازی تک کئی نامور اہل قلم نے اپنی آراءدے رکھی ہیں ۔

پھر اچانک نذیر قیصرمنظر سے غا ئب ہو گئے ۔ ہم لاہو ر آ گئے تو پتا چلا کہ نذیر قیصر ماڈرن کالونی کوٹ لکھپت میں رہا ئش پذیر ہیں مگر مشاعروں میں کم دکھا ئی دیتے ہیں،ملاقات پر نذیر قیصر اسی تپاک سے ملے شاعری بھی سنائی مگر انہوں نے اپنی گوشہ نشینی ختم نہ کی ۔ اگلی ملا قا ت میں حقیقت کھلی کہ کچھ خا ص حلقے ان کی توانا شاعری سے خا ئف ہیں اور انہیں دانستہ نظر انداز کیا جا رہا ہے ، اُ ن کا قصو ر صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے ، کیا محض اسی وجہ سے کسی جینوئن اور طاقتور فنکار کو نظر انداز کر دیا جائے کہ وہ مسلمان نہیں یا پھر ہمارے فرقے سے الگ ہے ؟ یہ تو کوئی جواز نہیں، پاکستان میں اقلیتوں کو بھی آزادی کے ساتھ زندہ رہنے کا حق حاصل ہے اور اگر کو ئی ہندو ، سکھ ، عیسائی فنکارانہ صلاحیتوں سے مالا مال ہے تو وہ پاکستان کا اثاثہ ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ مذہبی حوالے سے اس کے عقائد کیا ہیں ؟ ہے تو وہ بھی پاکستانی ۔ بہرحال یہ مقامِ شکر ہے کہ نذیر قیصر پھر سے ادبی حلقوں میں دکھائی دینے لگے ہیں ۔نذیر قیصر فیض اور فراز کے بعد اپنے لہجے کے میٹھے شاعر ہیں ،ا ن کی شاعری میں ایک خا ص کومل امیجری اور مزا حمتی شعور کا حسین امترا ج محسوس کیا جا سکتا ہے ، نذیر قیصر اِس وقت ظفر اقبال ، خورشید رضوی کے بعد کی صف کے سینئر ترین جینوئن اوار توانا شاعر ہیں ، انہیں بہت پہلے پرائیڈ آ ف پر فارمنس مل جانا چاہیے تھا مگر ان کانام ایوارڈ کے لئے اوپر جاتا توہے لیکن بقول ان کے کہیں را ستے میں ” ڈراپ“ ہو جا تا ہے ۔

نذیر قیصر کی نعتیہ شاعری کا مجمو عہ بھی ” اے ہوا مو¿ذن ہو“ کے نام سے پذیرائی حا صل کر چکا ہے ، ان کی نعتیہ شاعری بہت سے مسلمان شعرا ءسے زیادہ اچھو تی ہے اور طاقتور ہے ۔ان کی غزلوں میں محبت کے کئی رنگ جدید طرز ِاحساس کے ساتھ نمایاں ہیں ، وہ واقعتا ملک ِسخن کے شہزادے ہیں، اور ان کی شاعری پہاڑی چشموں کی آوازکی طرح روح پر اثر کرتی ہے ۔ ان کے اشعار بانسری کی لے پر خون میں گھل جانے کی تاثیر رکھتے ہیں۔ ان کی بھر پور اور توانا غزلوں کے اشعار پڑھ کر اندازہ لگا لیں کہ اس وقت ان جیسے اشعا ر کسی شاعر کے ہاں دکھا ئی دیتے ہیں ؟ یقین نہ آ ئے تو صرف درج ذیل چند اشعا ر دیگ میں سے چند چاولوں کی طرح نکال کر دیکھ لیں :

چار دیے تیری دہلیز پہ روشن ہیں

ایک دیا میں اور جلا نے آ یا ہو ں

تو نے تیغ سے لہو کی بوند گرا ئی تھی

میں دھرتی سے پھول اٹھا نے آیا ہو ں

سبز پنکھاہے گھر میں نیم کا پیڑ

اور یہ پنکھاہوا سے چلتا ہے

سیر کرتی ہے وہ حویلی میں

چاند بھی کھڑکیا ں بدلتا ہے

خطہئِ بہشت بھی میرے لئے

پا ک سر زمین سے بڑا نہیں

کتنا مشکل ہے دیکھنا اُ س کو

دیکھ کر مسکرا نا پڑ تا ہے

اس خرابے میں دل نہیں لگتا

اس جگہ دل لگا نا پڑ تا ہے

خامشی اپنی اپنی ہو تی ہے

شور مل کر مچا نا پڑ تا ہے

دیپ سونے کا ہو کہ مٹی کا

اس کو شعلہ دکھا نا پڑتا ہے

خوا ہش اند ر سے خا لی ہو تی ہے

در پہ تالا لگا نا پڑ تا ہے

زندگی راستہ نہیں دیتی

راستہ خود بنانا پڑتا ہے

کتنے دنو ں کے بعد شجر نے چھتری کھولی

کتنے دنوں میں دن بار ش کا واپس آیا

کھڑکی کھول کے میں نے اسے پکارا قیصر

ایک پرندہ ، ایک ستا رہ واپس آ یا

جتنی مجھ سے تمہیں محبت ہے

زندگی اس حساب سے کم ہے


ای پیپر