Peasant movement, successful, British government, defeat, PM Modi, BJP
02 مارچ 2021 (12:54) 2021-03-02

نیو دہلی: بھارتی کسانوں کا کہنا ہے کہ کسانوں کی تحریک انگریزوں کے خلاف بھی کامیاب ہوئی تھی اور اب مودی حکومت کو بھی ہرا دیں گے۔

بھارتی کسان مودی کے گلے کی ہڈی بن گئے ، سنگھو ، ٹکری اور غازی پور میں کسانوں کے دھرنے جاری ہیں ۔ کسانوں کی جانب سے 1915 میں انگریزوں کے ہاتھوں جان دینے والے کسانوں کی یاد میں ٹکری بارڈ میں تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ خواتین نے بھی اس تقریب میں بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ مودی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے گھر بار چھوڑ کر یہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں ، حکومت کو کالے قوانین واپس لینے ہوں گے ۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارت کی دلت کمیونٹی نے متنازع زرعی قانون کے خاتمے کیلئے کسانوں کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا ۔

دلت کمیونٹی رہنما کا کہنا تھا کہ حکومتی ہٹ دھرمی کے باعث احتجاج میں شامل ہونے پر مجبور ہوئے ، دلت کمیونٹی نے سبز پگڑیاں باندھ کر کاشتکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔

اس سے قبل بھی کسانوں کا ساتھ دینے لیے مختلف کمیونٹیز سامنے آچکی ہیں جبکہ بھارتی کسان اپنے حق کیلئے 96 روز سے دہلی کے داخلی اور خارجی راستوں پر دھرنے دے رہے ہیں ۔

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہ مشیل بیچلیٹ نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے بھارتی کسانوں کو سوشل میڈیا پر اظہار رائے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے کسانوں کے احتجاج پر تبصرے کرنے کی بجائے ان پر بغاوت کے الزامات لگائے گئے ہیں ۔

مشیل بیچلیٹ نے کہا کہ کسانوں کو سوشل میڈیا پر اپنے اظہارے رائے سے روکا گیا ہے اور یہ عمل انسانی حقوق کے قواعد کے خلاف ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر پر پابندیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔


ای پیپر