Shakeel Amjad Sadiq columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
02 مارچ 2021 (11:15) 2021-03-02

 قارئین!اس سے پہلے کہ کالم باندھنے کے لئے میں اپنے شل اعصاب کو یکجا کروں۔اپنے ٹوٹے دل کی کرچیاں سمیٹوں۔اپنی پژمردہ فکر کو تازگی دوں۔آئیے میں پروفیسر محمد سیلم ہاشمی کی تحریر سے آپ کے دل کے تاروں کو چھیڑتا ہوں۔

’’پاکستان کی بربادی اور تباہی کے ذمہ دار یہ آسیب زدہ بوڑھے گدھ ہیں۔ زیادہ تر وہ جو اب بھی سرکاری عہدوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔ سرکاری کرسی سمیت قبر میں اترنا چاہتے ہیں۔ اخباروں اور برقی میڈیا پر ہمیں لمبے لمبے بھاشن دیتے ہیں۔ ملک کی تعمیر و ترقی کے نسخے بتاتے ہیں۔جو پاکستان کا حال ہے بھلا وہ کس وجہ سے ہے؟تعلیم میں دنیا میں 125 ویں نمبر پر…انسانی ترقی میں 147ویں نمبر پر…شہری سہولتوں میں سب سے نیچے…زچہ و بچہ کی اموات میں سب سے آگے…بدعنوانی میں سب سے آگے…بد انتظامی کیا بتانے کی ضرورت ہے؟اس سب کے آپ اور میں ذمہ دار نہیں ہیں، یہ بڈھے ہیں جو اب نصیحتوں کے دفتر کھول کر بیٹھ گئے ہیں۔یہ ہماری کسی رہنمائی کے قابل نہیں ہیں۔جب جوان تھے ملازمت میں تھے تو پاکستان کو نوچ نوچ کر لوٹتے رہے اب بگلا بھگت بن کر ہمیں بھاشن دے رہے ہیں‘‘

ایک رات نپولین اپنی ملکہ کے کمرے میں داخل ہوا تو ملکہ بیٹھی خط پڑھ رہی تھی۔’’کس کا خط ہے؟… نپولین نے پوچھاملکہ نے خط اس کی جانب بڑھا کر کہا: ’’ڈاکٹر ایڈورڈ کا… اس نے آپ سے درخواست کی ہے کہ انگریز قیدیوں کو آزاد کر دیا جائے ‘‘نپولین نے ہنکارا بھرا اور کچھ دیر سوچ کر کہا:’’ڈاکٹر ایڈورڈ نے دنیا پر بڑا احسان کیا ہے۔ اس کی بات ٹالی نہیں جا سکتی‘‘اور دوسرے دن انگریز قیدی رہا کر دیے گئے۔

واقعی ڈاکٹر جینر نے دنیا پر بڑا احسان کیا تھا۔ اس نے چیچک کا ٹیکہ ایجاد کیا تھا اور لاکھوں آدمیوں کو ایک بھیانک اور موذی مرض سے بچا لیا۔ایڈورڈ جینر انگلستان میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ پادری تھا۔ ایڈورڈ بڑا ہوا تو شاعری کرنے لگا مگر اس کا باپ چاہتا تھا کہ ہونہار ایڈورڈ ڈاکٹر بنے چنانچہ اس نے اسے تعلیم کے لئے برسٹل شہر کے ایک ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا۔ ایک دن ایڈورڈ چیچک کی بیماری کا حال پڑھ رہا تھا کہ اسے اپنے گاؤں کے بڑے بوڑھوں کی بات یاد آ گئی۔ اس نے بچپن میں بڑے بوڑھوں سے سنا تھا کہ اگر کسی آدمی کو گائے کے تھن میں ہونے والی (گئوتھن سیتلا) چیچک لگ جائے تو پھر اسے چیچک کبھی نہیں ہو سکتی۔ اس نے سوچا بزرگوں کی اس بات میں تھوڑی بہت سچائی تو ضرور ہو گی لہٰذا اس کی کھوج لگانی چاہیے۔ اس نے اپنے جاننے والے ڈاکٹروں سے اس پر بات چیت کی مگر ہر شخص نے اس کی بات کا خوب مذاق بنایا کہ دیہات کے جاہل گنواروں کی باتوں کو سائنس سے کیا واسطہ؟ مگر جینر کو تسلی نہ ہوئی۔برسٹل سے فارغ ہو کر وہ لندن چلا گیا۔ اور جان ہنٹر جیسے نامی گرامی ڈاکٹر کی نگرانی میں اپنی تعلیم مکمل کرنے لگا. وہیں ایڈورڈ کو معلوم ہوا کہ ایشیا کہ بعض ملکوں میں لوگ چیچک سے بچنے کے لئے چیچک کا تھوڑا سا مواد اپنے خون میں داخل کر 

لیتے ہیں۔ اس طرح انہیں چیچک تو نکلتی ہے مگر ہلکی سی یوں اسے یقین ہو گیا کہ چیچک کا مواد ہی انسان کو چیچک سے بچا سکتا ہے۔ایڈورڈ نے ڈاکٹری کا امتحان پاس کر لیا تو جان ہنٹر نے اسے مشورہ دیا کہ گاؤں واپس جا کر لوگوں کی خدمت کرے۔وہیں مطب کھولے اور فرصت کے اوقات میں چیچک پر تجربات بھی کرے۔ لندن میں تو گائے دیکھنے کو بھی نہ ملے گی پھر تم اس کے تھن پر سیتلا کے جو دانے نکل آتے ہیں ان کی جانچ کیسے کر سکو گے؟ جینر ہنٹر کی بات سے قائل ہو کر گاؤں آ گیا۔وقت گزرتا رہا۔ دھن کا پکا ایڈورڈ برابر تجربات کرتا رہا۔ بالآخر بیس سال کی لگاتار محنت کے بعد اس نے چیچک کا ٹیکا تیار کر کے دم لیا۔ پہلے پہل اس نے یہ ٹیکہ آٹھ سال کے ایک بچے پر آزمایا جس کا بام جیمز فلپس تھا۔ ایڈورڈ نے لڑکے کو گئوتھن سیتلا کے مواد کا ٹیکہ دیا پھر ڈیڑھ ماہ بعد چیچک کے مواد کا ٹیکہ دیا۔ایڈورڈ کے ان تجربات پر بڑا شور مچا کہ ’’ڈاکٹر جینر ایک معصوم بچے کی زندگی سے کھیل رہا ہے،ڈاکٹر جینر گنواروں کی باتوں میں آ کر سائنس کی توہین کر رہا ہے،ڈاکٹر جینر قدرت کے معاملات میں دخل دے رہا ہے۔ وغیرہ وغیرہ‘‘۔ غرض چاروں جانب سے اعتراضات کی بوچھاڑ تھی مگر ڈاکٹر کو اپنے تجربے پر پورا بھروسہ تھا۔وہ جانتا تھا کہ لڑکے کو چیچک ہر گز نہیں نکل سکتی اور اس کی پیش گوئی سچ نکلی… لڑکے کو چیچک نہیں نکلی۔

ڈاکٹر جینر نے اب ایک ایسے آدمی کو چیچک کے مواد کا ٹیکہ دیاجس کو اس سے پہلے گئوتھن سیتلا کے مواد کا ٹیکہ نہیں دیا گیا تھا۔ اس آدمی کو چیچک نکل آئی۔ ڈاکٹر جینر کا تجربہ کامیاب رہا۔اب سارے ملک میں ایڈورڈ کے ٹیکے کی دھوم مچ گئی تھی۔

 برطانیہ کی پارلیمنٹ نے ایڈورڈ کو بیس ہزار پونڈ کا انعام دیا۔ آکسفورڈ نے اسے ڈاکٹری کی اعزازی ڈگری عطا کی۔ اس کی شہرت ملک سے باہر پہنچی تو روس کے بادشاہ نے اسے سونے کی انگوٹھی بھیجی۔ نپولین نے اسے تعریف کا خط لکھا اور امریکہ سے لوگ ایڈورڈ سے ملاقات کو آئے۔ اس میں حیرانگی کی کوئی بات نہیں کیونکہ ایڈورڈ نے اپنی ایجاد سے لاکھوں کروڑوں انسانوں کی جان بچا لی تھی۔ اس ایجاد سے پہلے ایک سو سال میں یورپ میں چھ کروڑ آدمی چیچک سے مرے تھے۔ اب یورپ میں ایک آدمی بھی چیچک سے نہیں مرتا۔ایڈورڈ سے لوگوں نے کہا اپنا نسخہ کسی کو نہ بتائے بلکہ اسے خفیہ رکھے تو گھر بیٹھے سالانہ لاکھوں کماسکتا ہے مگر ایڈورڈ نے جو جواب دیا۔اس نے اسے ہر لحاظ سے ایک عظیم انسان ثابت کر دیا۔ اس نے کہا’’ میں ڈاکٹر ہوں۔میرا کام لوگوں کی جان بچانا ہے، میں سوداگر نہیں ہوں‘‘۔ چنانچہ اس نے اپنے ٹیکے کا نسخہ اخباروں میں چھاپ دیا تا کہ دنیا میں ہر جگہ لوگ اس دوا سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے پاس دولت بھی تھی اور شہرت بھی مگر اس نے اپنا دیہات میں مطب نہیں چھوڑا۔ ہر کسی نے کہا لندن چلے جائیں ۔اب تو آپ مشہور ہو گئے ہیں وہاں آپ کا مطب خوب چلے گا مگر ایڈورڈ اس کیلئے بھی نہ مانا اور کہا’’مجھے جو کچھ ملا اسی دیہاتی زندگی کی بدولت ملا پھر اسے کیوں چھوڑوں۔ یوں بھی لندن میں سیکڑوں ڈاکٹر موجود ہیں لیکن میرے قصبے میں تو کوئی دوسرا ڈاکٹر بھی نہیں جو میرے بعد غریبوں کا علاج کر سکے‘‘۔چیچک کا ٹیکہ اب تو بہت سستا ہو گیا ہے۔ آسانی سے ہر جگہ مل جاتا ہے مگر ڈیڑھ سو سال پہلے چیچک کا ٹیکہ بہت مہنگا تھا۔ایڈورڈ نے روپوں پیسوں کا لالچ کیے بغیر غریبوں کو مفت ٹیکے لگائے۔ ان کے مطب ہر صبح شام تک بھیڑ لگی رہتی۔

آج ایڈورڈ جینر کو دنیا سے رخصت ہوئے قریب پونے دو سو برس ہو چکے ہیں لیکن ان کا نام رہتی دنیا تک روشن رہے گا کیونکہ انہوں نے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو چیچک کے مہلک مرض سے نجات دلائی۔

کاش کہ ایسا ہو کہ ہمارے حکمرانوں کو غریب کا احساس ہو۔وہ اس عوام کے لیے کچھ کریں۔ان کی ضروریات سے آگاہ ہوں۔کاش! ہمارے سائنسدان اس لاچار عوام کے لئے کچھ کر گزریں۔وہ اپنی توانائیاں ملک و قوم کی خدمت کے لئے صرف کر دیں۔کاش! ہمارے ڈاکٹر اپنے پیشے کو انسان گزیدہ نہ بنائیں۔کاش! وہ انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔کاش! ہمارے ملک کے ڈاکٹر'ڈاکٹر ہی رہیں۔ڈاکوؤں کا بھیس نہ بدلیں۔کاش! ہم سب سمجھ جائیںاور آخرت میں منہ دکھانے کے قابل ہو جائیں۔ورنہ پلوں سے گزرا ہوا پانی اور گیا وقت ہاتھ نہیں آتے۔


ای پیپر