Famous poet Nasir Kazmi passed away 49 years ago
کیپشن:   فائل فوٹو
02 مارچ 2021 (11:15) 2021-03-02

لاہور: پاکستان کے نامور شاعر ناصر کاظمی کو ہم سے جدا ہوئے 49 برس بیت گئے۔ ادب کا ذوق رکھنے والوں کے لیے ناصر کاظمی کی شاعری آج بھی مقبول اور زبان زد عام ہے۔

ناصر کاظمی انسانی نفسیات کے ترجمان شاعر تھے۔ غالب کی طرح ناصر کا انداز بیان بھی کچھ الگ ہی تھا۔ اشعار میں جذبوں کی شدت اور اظہار کی سادگی سننے والے کو عالم تحیر میں لے جاتی۔ ندرت خیال، تازہ کاری اور  قادر الکلامی نے انھیں اردو ادب میں امر کر دیا۔

انہوں نے آزادی کا ہنگام دیکھا اور ہجرت کے شاعر کہلائے۔ برگِ نَے ان کا پہلا مجموعہ کلام تھا جو 1952ء میں شائع ہوا۔ "برگِ نَے"، ”دیوان“، ”پہلی بارش“ اور ”نشاطِ خواب“ ان کی شاعری کے مجموعے ہیں۔ انفرادیت کا جو چراغ ناصر کاظمی نے جلایا، ان کے جانے کے بعد أسکی لو اور بھی بڑھتی ہی چلی گئی۔

ناصر کاظمی تقسیم ہند سے بہت پہلے آٹھ دسمبر 1925ء کو بھارتی پنجاب کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید محمد سلطان کاظمی برطانوی فوج رائل انڈین فوج سے وابستہ تھے۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم انبالہ سے ہی حاصل کی، بعد ازاں انہوں نے گریجویشن کیلئے لاہور کے اسلامیہ کالج میں داخلہ لیا لیکن تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ تقسیم ہند ہوئی تو ناصر کاظمی اپنے والدین کیساتھ لاہور آ گئے۔ جلد ہی والدین کی وفات کے صدمے نے انھیں آ لیا۔

ناصر کاظمی کا شمار برصغیر پاک وہند کے ممتاز اردو شعرا میں ہوتا ہے جن کی شاعری کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔

آٹھ دسمبر 1925ء کو دنیا کے آسمان پر چمکنے والا یہ سورج، دو مارچ 1972ء کو غروب ہو گیا۔

ان کی قبر پر یہ شعر درج ہے:

دائم آباد رہے گی دنیا

ہم نہ ہونگے، کوئی ہم سا ہوگا


ای پیپر