Aqeel Khan columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
02 مارچ 2021 (11:13) 2021-03-02

پاکستان میں سینیٹ کے الیکشن 3 مارچ 2021 کو ہونے جارہے ہیں۔ اس بار سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات پر انتخابی دنگل سجے گا۔ فاٹا کی چار نشستوں پر انتخابات نہیں ہوں گے جس کے باعث اس بار سینیٹ کی نشستیں 104 سے کم ہو کر 100 رہ جائیں گی۔ فاٹا کی باقی چار نشستوں پر سینیٹرز 2024میں ریٹائر ہوجائیں گے جس کے بعد فاٹا کی آٹھ نشستوں کافیصلہ ہوگا کہ یہ سیٹیں خیبرپختونخوا کو دی جائیں گی یا صوبوں میں برابر تقسیم ہوں گی۔ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد اس کی نشستوں کی تقسیم کا آئینی سوال ابھی حل طلب ہے۔

سینیٹ الیکشن کا میدان سجنے کوہے ۔ سیاسی جماعتیں سیاسی شطرنج کا احاطہ کرتے ہوئے اپنے اپنے مخالفین کی چال کو ناکام بنانے کیلئے حکمت عملی بنارہی ہیں مگر اسکی اہمیت امیدواروں اور نشستوں کے علاوہ اس کے طریقہ کار نے مرکزی اہمیت اختیار کرلی ہے۔حکومت چاہتی ہے کہ رائج طریقہ کار یعنی خفیہ رائے شماری کو ختم کرکے آرڈیننس کے ذریعے شو آف ہینڈ کو نافذ العمل قرار دیاجائے جبکہ عدالت نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ طریقہ کار بدلنے کی یہ شق آئین میں کہیں نہیں لکھی لہذا سینیٹ الیکشن کے طریقہ کار میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کی جا سکتی ہے۔عدلیہ کا کہنا ہے کہ یہ اتنا آسان عمل نہیں ہے آرڈیننس کے ذریعے سینیٹ الیکشن میں ترمیم ہو جائے۔ اس طریقہ کار سے ترمیم کرنے کا مقصدہے کہ آئندہ آنے والی ہر حکومت آرڈیننس کے ذریعے ہر بار سینیٹ الیکشن کے طریقہ کو تبدیل کرتی رہے گی۔ہمیں آئین کو مد نظر رکھتے ہوئے اس عمل کو باریک بینی سے دیکھنا ہو گا۔

چاروں صوبوں میں سات ، سات جنرل نشستوں پر الیکشن ہورہا ہے اور چاروں اسمبلی میں ارکان اسمبلی کی تعدادالگ الگ ہونے کی وجہ سے ترتیب کچھ اس طرح ہونگی۔پنجاب سے سینیٹ کی 7 خالی جنرل نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں۔پنجاب میں ارکان اسمبلی کی کل تعداد 371 ہے اور 371کو خالی نشستوں کی تعداد 7 سے تقسیم کیا جائے تو ہر امیدوار کے لیے مطلوبہ ووٹوں کی تعداد 53 بنتی ہے۔ یعنی پنجاب سے ایک جنرل نشست حاصل کرنے کے لیے امیدوار کو 53 ووٹ حاصل کرنا ہوں گے۔

سندھ سے سینیٹ کی سات خالی نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں ۔ وہاں پر ارکان اسمبلی کی کل تعداد 165 ہے ۔ اگر سات جنرل نشستوں کی بات کی جائے تووہاں پر امیدوار کو 23 ایم پی ایز کے ووٹ لیکر سینیٹر منتخب کرایا جا سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی سات خالی جنرل نشستوں پرانتخابات ہورہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ارکان اسمبلی کی کل تعداد 144ہے اوریہ اراکین اسمبلی اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔اگر سات جنرل نشستوں کی بات کی جائے تو 21 ایم پی ایز کے ووٹ ایک سینیٹر منتخب کرسکیں گے۔

 بلوچستان سے بھی سینیٹ کی سات خالی نشستوں پر انتخابات ہونگے اور وہاں پر ارکان اسمبلی کی کل تعداد 65 ہے اور اگرسات جنرل نشستوں کی بات کی جائے تو 9 ایم پی ایز ایک سینیٹر منتخب کرسکیں گے۔

سینیٹ انتخابات 2021 کے ممکنہ نتائج کے مطابق تحریک انصاف 28 نشستوں کے ساتھ سینیٹ کی اکثریتی جماعت بن جاسکتی ہے۔پیپلز پارٹی 19 سینیٹرز کے ساتھ دوسری، مسلم لیگ ن 18 نشستوں کے ساتھ تیسری اور بلوچستان عوامی پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ چوتھی بڑی جماعت بن کر سامنے آسکتی ہے۔

یہ تو ممکنہ نتائج ہیں نا مگر یہاں پر شریفوں کی بولی میں بہت کچھ ادھر سے اُدھر ہوجاتا ہے۔ابھی پچھلے دنوں ایک ویڈیو دیکھی جو شائد سینیٹ کے 2018الیکشن کے حوالے سے منظر عام پر آئی اس میں جو کچھ دکھایا گیا اگر یہ حقیقت ہے تو پھر جنرل الیکشن میں غریب آدمی یہ حرکت کرلے تو پھر کونسا گناہ ہوگیا۔ جہاں ہمارے اپنے نمائندگان اپنا سودا کرتے ہیں تو پھر غریب کی غربت اس کو یہ کام کرنے پر مجبور کرتی ہوتو پھر کسی کو کیا گلہ؟

الیکشن کا دن دور نہیں اور نتائج بھی پوشیدہ نہیں رہیں گے مگر یہ حقیقت ہے کہ شرفاء کی بولی کا ذکر عام ہوگا۔ کوئی اپنے ضمیر کی آواز کا نام دے گا تو کوئی ملک کی بقا کا۔ کوئی سیاسی جماعت اپنے ممبر کو برا بھلا کہے گی تو کوئی اس کی تعریف کے پُل باندھ رہا ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سینیٹ کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے حکومت کی یا اپوزیشن کی؟


ای پیپر