Asif Inayat columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
02 مارچ 2021 (11:12) 2021-03-02

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جانباز مرزا ہوا کرتے تھے جنہوں نے تحریک آزادی میں اپنے گھر میں کم اور انگریز سرکار کی جیل میں زیادہ قیام کیا۔ جب کبھی جیل سے رہا ہو کر اپنے گھر آتے تو گاؤں والے پوچھتے مرزا کدھر رہے ہو ، کافی عرصہ سے نظر نہیں آئے وہ حیران ہوتے کہ جن لوگوں کی آزادی کے لیے اپنی آزادی قربان کیے دے رہا ہے، وہ اس کی قید کو جانتے ہی نہیں، اعلیٰ پائے کے مصنف، شاعر، دانشور اور آزادی کے متوالے تھے مگر ایسے نگینہ لوگ اب کتابوں میں ہی ملتے ہیں۔ 

پچھلے دنوں ’’عروج کو نہیں تکبر کو زوال ہے‘‘ کے عنوان سے کالم جس میں جناب پرویز صالح کا ذکر آیا۔ بہت دوستوں کے فون آئے کہ پرویز صالح صاحب کدھر ہوتے ہیں، آج کل کیا کرتے ہیں وہی پرویز صالح کہ 1980ء کی دہائی میں ضیاء آمریت کے خلاف اور بحالی جمہوریت کے لیے جدوجہد کا نمایاں کردار رہے۔ ضیاء الحق کے اقتدار کا سورج سوا نیزے پر تھا ملک کو افغان وار میں جھونک دیا گیا، کلاشنکوف ، ہیروئن کلچر کے ساتھ غریب دشمنی اور بدعنوانی کو بطور پالیسی رائج کر دیا گیا۔ ایما ڈنکن برطانوی صحافی لکھتی ہیں:

جناب بھٹو نے تعلیمی اداروں اور سکولوں کو قومیانے کی جوپالیسی اختیار کی تھی، اسے بھی ختم کر کے پرائیویٹ سکولوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا۔ 

ضیاء الحق کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان میں پرائیویٹ انگلش میڈیم سکولوں پر بہار آ گئی۔ رہائشی علاقوں میں ماڈل سکولوں، کیمبرج سکولوںکے بورڈ عام دکھائی دیتے ہیں۔ بعض سکولوں کے نام پڑھ کر وہ زمانہ یاد آجاتا ہے جب اعلیٰ اور اچھی تعلیم کا تعلق عیسائیت کے ساتھ وابستہ تھا۔ پورے پاکستان میں عیسائی بزرگوں کے ناموں پر بھی ان گنت انگلش میڈیم سکول کھولے گئے ہیں۔ اس کی بنیاد مہنگی تعلیم کے ذریعے غریبوں کو تعلیم سے محروم رکھنا تھا، جو جناب بھٹو کے ووٹر تھے۔  

 سندھ کا شایدہی کوئی قابل ذکر گھر ہوگا جس کا سیاسی قیدی نہ ہو گا۔ پنجاب میں جیلیں آباد ، شاہی قلعہ لاہور میں سیاسی قیدی۔ تمام زمانوں کے … جب سے کوڑوں کی سزا ایجاد ہوئی تب سے ضیاء تک لوگوں کو اتنے کوڑے نہیں مارے گئے ہوں گے جتنے صرف ضیاء کے دورمیں مارے گئے ۔ بین الاقوامی سازش کے تحت ایک سیاسی تحریک کو نظام مصطفی کا نام دے کر جناب بھٹو کا اقتدار ختم کیا گیا تھا حالانکہ قومی اتحاد کی قیادت ضیاء کی مداخلت کے خلاف تھی جی ہاں! نواب زادہ نصر اللہ تو اس سے 

بات کرنا پسند نہیں کرتے جبکہ نئے انتخابات کے معاہدہ کے باوجود ضیاء آ گیا اس کی آمد پر خوش ہونے کی حماقت میں اصغر خان سب سے آگے تھے جو مستقبل کے وزیراعظم بنے پھرتے تھے۔ بہرحال بین الاقوامی استبدادی قوتوں کو، امریکی سامراج کو للکارنے، مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے، آئین اورایٹمی پروگرام دینے والے مسلمان سورما جناب ذوالفقار علی بھٹو کو سولی چڑھایا جا چکا تھا۔ ان کی بیٹی، بیوی ، خاندان اور جماعت کو جیلوں اور جلا وطنیوں کی نذرکیا گیا۔ پیپلزپارٹی اور اتحادی جماعتوں پر زندگی کے لمحے تنگ کر دیے گئے ۔ حکومت مخالفین جیلوں، شاہی قلعے، کوڑوں، پھانسیوں ٹکٹکیوں کے گھاٹ اترنے لگے اور دوسری طرف ضیاء کا ساتھ دینے والے وزیر بن گئے ۔ گویا ضیاء کا ساتھ دینا وزارت کا میرٹ ٹھہرا ۔ جناب پرویز صالح جن کے والد جناب محمد صالح خان چیف سیکرٹری بلوچستان ریٹائر ہوئے ایک دیانت دار آفیسر تھے ۔ بعد میں چیئرمین پبلک سروس کمیشن بنا دکئے گئے۔ بلوچستان ساروان قبائل میں سے شہوانی قبیلہ سے تعلق تھا۔ ماڈل ٹاؤن میں 6 کنال کے گھر میں رہتے تھے۔ پرویز صالح ایچی سن کالج ، گورنمنٹ کالج پنجاب یونیورسٹی، انگلینڈ سے تعلیم یافتہ مگر ضیاء الحق کا ساتھ نہیں دیا اور قومی محاذ آزادی جائن کر لی۔ معراج محمد خان پہلے ہی جیل میں تھے۔ جناب پرویز صالح صاحب نے بطور وائس چیئرمین پارٹی کی رہنمائی کی۔ ایم آر ڈی میں 10/12جماعتیں تھیں ۔ بس پھر پرویز صالح جیل، شاہی قلعہ اور چنددفعہ گھر میں نظر بندی گویا تین مرتبہ شاہی قلعہ 15بار جیل اور 6بار گھر میں نظر بندی دوسری طرف جبکہ متعدد بار جیل میں بیڑی بھی لگائی گئی جو جناب سید شفقت اللہ شاہ ایڈیشنل سیکرٹری ہوم کی مداخلت سے اتاری گئی۔ وزارت کو توقبول نہ کیا اور عوامی جدوجہد میں جت گئے۔ 

ایم آر ڈی 1985ء کے بعد تحلیل ہو گئی۔ جونیجو آ گئے، مارشل لاء اٹھا لیا گیا اور پرویز صالح نے پیپلز پارٹی جوائن کر لی باقاعدہ جوائن کرنے والوں میں، میں بھی شامل تھامگر امریکہ میں ہونے کی وجہ سے میری نمائندگی اعظم بھائی ، معظم بھائی (جنت مکین)نے مع سیکڑوں ساتھیوں کے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب ہی بنیادی طور پر پیپلزپارٹی میں ہی تھے۔ 1988ء میں پرویز صالح رکن اسمبلی، سپیشل اسسٹنٹ وزیراعظم پاکستان، چیئرمین لٹریسی کمیشن رہے۔ وفاقی وزیر کے برابر عہدہ بھی ملا مگر اپنی جیب خرچ کی جائیداد بیچی مال نہیں بنایا۔ بلوچستان ، نیلا گنبد، مال روڈ ، ماڈل ٹاؤن کی جائیدادیں بیچ کر سیاست اور قومی خدمت کی نذر کی پھر اپنی باقی ماندہ متاع سے کاروبار کرنے لگے۔ پرویز صالح اس وقت تک پارٹی میں متحرک رہے جب تک جھوٹ بولتے ڈر لگتا تھا پھر سچ بولتے ہوئے جب ڈر لگنے لگا تو گھر بیٹھ گئے۔ یہاں تو تحریک پاکستان کے جانباز کسی کو یاد نہیں کہ کون کیا کیا قربان کر گیا اور یہ ملک ملا ۔ جو تاریخ پاکستان کو 1992ء سے شروع کرتے ہیں ان کو کیا پتہ پرویز صالح کون ہیں۔ 

بطور صدر ینگ لائرز آرگنائزیشن اور کنوینر ایم آر ڈی میں نے ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم پر بہت تقریبات کیں معروف قانون دان دانشور، صاحب اسلوب کالم نگار سیاست دان محمد سلیمان کھوکھر، سابق صدر گورنمنٹ کالج راحیل احمد بٹ ،خواجہ عماد الدین، آغا سہیل، عرفان کامریڈ (مرحوم)، رضوان ڈار، ڈاکٹر اعجاز خاور خواجہ، زاہد حسین خان (ہیرو)، فہیم طارق چدھڑ، ڈاکٹر علیم جوئیہ، افتخار شاہد، طاہر مسعود گل، ارشد رؤف، میاں محمد افضل، ندیم گورائیہ،ثمینہ زریں، چوہدری محمد اختر (وکلاء صاحبان) میرے ذاتی دوست تھے اور انہی کی معاونت سے میرے لیے ممکن ہوا کہ ضیاء دور میں رسول بخش پلیجو، جناب پرویز صالح، معراج محمد خان اور دیگر آمریت مخالف سیاستدانوں کو وکلاء فورم پر دعوت دیتا میرے والد گرامی اور بھائی خصوصاً معظم بھائی (جیل روڈ چیئرمین) اعظم بھائی شہیدؒ کی شفقت میری قوت رہی۔ پرویز صالح کی بدولت مجھے پاکستان کے سیاسی نظام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور انہی کی بدولت آمریت کے ظلم واستبداد کہ نازی اور تاتاری بھی ہاتھ جوڑ دیں سے بھی واقفیت ہوئی۔ 

 آپ کوئی بھی آمرانہ دور دیکھ لیں احتساب کے نام پر آیا مگر اس کی بنیاد اور پالیسی بدعنوانی ہی ہوئی مگر جو آمروں کے ساتھ ہوئے اگر پہلے سیاست کرتے تھے تو احتساب کو بھگتیں ورنہ پھر اقتدار کے مزے لیں یہی وہ مقام ہے جہاں سے لازوال کرپشن کی شروعات میں تیزی آتی رہی۔ پرویز صالح نے ضیائی اقتدار کا حصہ بننے کی بجائے سیاست میں جدوجہد اور جیلوں کا راستہ اختیار کیا مگر محترمہ کی شہادت کے بعد سیاسی کلچر ایسا ہوا کہ پرویز صالح جیسے سیاست دان نہیں صوفیاء میں شمار ہونے لگے اور خاموش ہو گئے ۔ اب ان دوستوں کو معلوم ہو گیا ہو گا پرویز صالح گوشہ نشین کیوں ہوئے مگر جانباز مرزا کو کون بھولے گا ’’جناب گلزار احمد بٹ‘‘ (گلزاربھائی) کی وساطت سے:

بچا لو چار تنکے، سنبھالو بال و پر اپنے

کہ بجلیوں کی زد میں ہے گلستاں ہم نہ کہتے تھے

قفس کی تیلیاں ٹوٹیں نہ زنجیر قفس ٹوٹی

صیاد ہے اب بھی تم پہ حکمراں ہم نہ کہتے تھے

زمانہ جس حیات جاوداں پہ جاں دے بیٹھا

حقیقت میں وہ مرگ ناگہاں ہے ہم نہ کہتے تھے


ای پیپر