awais ghauri columns,urdu columns,epaper,awais ghauri
02 مارچ 2021 (11:09) 2021-03-02

بچپن کی بہترین یادوں میں پہلی درجہ بندی پر براجمان سال کے وہ دو مواقع بھی شامل ہیں جب ہم عید منانے کیلئے گائوں جایا کرتے تھے۔ جب ہم بچے تھے تو ہمیں رشتہ داروںسے ملنے کا بہت شوق ہوتا تھا۔ ہمیں عموماً سال میں دو بار اپنے ’’کزنوں‘‘ سے ملنے کا موقع ملتا تھا جب ہم چھوٹی اور بڑی عیدپر گائوں جایا کرتے تھے۔ وہ وقت ہماری زندگی کی بہترین یادوں میں شامل ہے۔ ہم کیونکہ اپنے رفیق کے بڑے محبوب سپوت تھے اس لئے ہمارا پروٹوکول شاہی ہوتا تھا۔ ہمارے لئے کھانے پینے کا سامان لاہور سے جاتا تھا اور گاڑی کی چھت پر ہماری سپورٹنگ ٹائروں والی سائیکل بھی باندھی جاتی تھی جسے چلا کر ہم اپنے کزنوں اور گائوں والوں کا دل جلایا کرتے تھے۔ سال میں ان دو مواقع کے علاقوں بھی ہم ’’کزنوں‘‘ کو اکثر میل ملاقات کا موقع مل جاتا تھا۔ اس موقع کا نام ہم سب کزنوں نے مل جل کر ’’فنکشن‘‘ رکھا ہوا تھا۔ یعنی خاندان میں کوئی شادی ہو یا مرگ، ہم بلاتخصیص اس کو فنکشن کہا کرتے تھے۔ عید کے بعد جب سارے کزن اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو رہے ہوتے تھے توایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہوئے شرارتی مسکراہٹ سے کہا کرتے تھے ’’اچھا پھر اگر کوئی فنکشن ہوا تو ملاقات ہو گی‘‘۔ یعنی اگر خاندان میں کسی کے سر پر سہرا سجا یا نتھنوں میں روئی ڈالی گئی تو ضرور ملاقات ہو گی۔

 ہمارے گائوں میں ایک بڑا دلچسپ کردار چاچا پھتو بھی ہوا کرتا تھا۔ وہ چوپال میں حقہ سامنے رکھ کے پاکستان کے مسائل کل حل بتایا کرتا تھا کہ پاکستان کی تباہی کے ذمہ دار یہاں کے کرپٹ سیاستدان ہیں ٗ پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے والا بھٹو تھا اور پاکستان کے مسائل کا واحد حل ہے کہ ان سب کرپٹ سیاستدانوں کو جہاز میں بٹھاکر سمندر میں پھینک دیا جائے۔اس کی گائوں میں ایک چھوٹی سے دکان ہوا کرتی تھیں۔اسے آپ ایک چھوٹا سا ڈپارٹمنٹل سٹور بھی کہہ سکتے ہیں جس میں کریانے کا سامان ٗ سبزی ٗ منیاری اور کاسمیٹک سب کچھ موجود ہو سکتا تھا اکثر سامان ’’شارٹ‘‘ ہوا کرتا تھا۔کاروبار برائے نام ہی چل رہا تھا مگر چاچا پھتو تو اس چھوٹی سی دنیا کیلئے بنا ہی نہیں تھا ٗ اس کا جہاں کچھ اور تھا۔اس کے پاس پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہوتا تھا۔اس کا ماننا تھا کہ اسے کسی طرح بس ایک دن کا وزیر اعظم بنا دیا جائے تو وہ چند دنوں میں پاکستان کے تمام قرضے ادا کر دے گا۔ غربت ختم کر دے گا اور سپر پاور امریکہ کو نیست و نابود کردے گا۔

وطن عزیز کے طول و ارض میں آپ کو ایسے افراد کی کثیر تعداد ملے گی جن کے ذہن میں پاکستان کی ترقی کے تمام طریقے موجود ہوتے ہیں اور ان کو ضرورت ہے صرف عہدے کی۔ ان کو کسی طرح وزیر اعظم بنا دیا جائے تو یہ نوے دن میں سارا قرضہ اغیار کے منہ پر دے ماریں ٗ چند ماہ میں کروڑوں نوکریاں پیدا کر دیں ٗ ملک میں معیشت کو براک کے پر لگا دیں۔ سیاحتی مقامات پر غیر ملکیوں کا رش لگا دیں اور پاکستان کو سپر پاور بنا دیں۔

اسٹیبلشمنٹ کو ایسے ہونہار بروائوں کی تلاش رہتی ہے۔ یہ ملک بھر سے ایسے شہ دماغوں کو ڈھونڈ نکالتی ہے جن کے پاس ان تمام مسائل کا حل ہوتا ہے۔ دراصل اس کے دو کام ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستانی عوام کو میڈیا ٗ درسی کتب اور دیگر ذرائع سے یہ بتایا جائے کہ سیاست کرنا ایک شیطانی کام ہے ٗ جس بھی کسی انسان کے ساتھ سیاستدان کا لاحقہ جڑا ہے اس کا مطلب ہے کہ اس میں اس معاشرے کی سب برائیاں موجود ہیں (مگر ان کا تازہ ترین سدھایا ہوا سیاستدان ان تمام برائیوں سے مبرا ہوتا ہے)۔ پاکستان کے برے حالات اور مسلسل پسپائی کی طرف جانا دراصل سیاستدانوں کی وجہ سے ہے ٗ پاکستان نے آج تک جتنی بھی ذلتیں اور پسپائیاں دیکھی ہیں وہ سب سیاستدانوں کی بدولت ہیں اور سب سے بڑھ کر پاکستان میں غریبوں کے پاس دولت نہ آنے کے ذمہ دار یہ سیاستدان ہی ہیں۔

اس پیغام کو پاکستان کا غریب طبقہ بہت شدت کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ اس غربت طبقے میں بھی بہت سے درجے ہیں۔ لیکن ہم بنیادی درجوں کی بات کر لیتے ہیں۔ ایک غریب طبقہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو دل لگاکر تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کبھی اچھے نمبر حاصل نہیں کرپاتے ٗ دل لگا کر کاروبار یا نوکری کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہو پاتے لیکن یہ طبقہ مسلسل اپنی حالت بہتر کرنے کی کوشش مصروف رہتا ہے اور چند دہائیوںتک معاشرے کے باعزت گھرانوں میں شامل ہونے لگتا ہے اور اگر کبھی ان کے خاندان میں کوئی زیادہ نمبر لینے والا یا کاروباری اور نوکری کی باریکیوں کو سمجھنے والا پیدا ہوجائے تو یہ خاندان ترقی بھی کر لیتا ہے اور لوئر مڈل کلاس یا پھر مڈل کلاس میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ طبقہ سمجھتا ہے کہ ان کی خامیاں ان کی کامیابی کے راستے میں رکاوٹ ہے اور وہ ان خامیوں کو سمجھنے اور دور کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتا ہے۔

غریبوں کا ایک دوسرا اور اہم طبقہ بھی ہے جس کی پاکستان میں تعداد بہت زیادہ ہے شاید 50فیصد سے بھی زیادہ۔ یہ طبقہ سکول سے بھاگا ہوتا ہے یا پھر ڈنڈے کھا کر پڑھا ہوتا ہے۔کاروبار میں اس کا دل نہیں لگتا اور نوکری میںکام چوری اس کی عادت ہوتی ہے۔ مگر اپنی ناکامی کا سارا ملبہ اس طبقے کو کسی نہ کسی پر ڈالنا ہوتا ہے۔ اب مزے کی بات ہے کہ اس ملبے کیلئے اسٹیبلشمنٹ اپنی اعلیٰ خدمات تو پہلے سے ہی پیش کر رہی ہے تو یہ غریب طبقہ اپنی ہر ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کے امیروں اور سیاستدانوں کو سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ان لوگوں کی نظر میں ہر گاڑی والا ٗ مہنگے کپڑے پہننے والا چور ہوتا ہے۔ ان کے پاس اس کی کوئی توجیہہ نہیں ہوتی لیکن بس ان کو کئے گئے پروپیگنڈے کے باعث یہ یقین ہو جاتا ہے کہ ان امیروں کی گردن مار کر ہی ان کے سرمایے پر قبضہ کیا جا سکتا ہے یا کوئی جادو کی چھڑی آئے اور یہ سیاستدان بیک جنبش چھڑی غائب ہو جائیں۔ 

اس سارے عمل میں نقصان پاکستان کا ہوتا ہے جہاں پر فرضی کہانیوں پر یقین کرنے والے حقائق سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ صدق دل سے یقین کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی تباہی کی وجہ یہاں کا کرپٹ سیاستدان ہے مگر جب دنیا کے بہترین ادارے کرپشن کے ثبوت ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو دس بڑے بڑے ڈبوں میں سے ردی کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا ٗ معلوم نہیں پاکستان کی کب ان ’’پھتوئوں‘‘ سے خلاصی ہو گی؟جن کو لگتا ہے کہ سڑکیں ٗ میٹرو ٗ ہسپتال بنانا بائیں ہاتھ کا کام ہوتا ہے ٗ جن کو لگتا ہے کہ قرضہ کسی کے منہ پر ویسے ہی دے مارا جاتا ہے اور جو اپنے گھر میں ویلے بیٹھے سوچتے رہتے ہیں کہ کاش مجھے ایک دن کا وزیر اعظم بنا دیا جائے۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ اب شاید کزنوں سے اس وقت ہی ملاقات ہو سکے جب ’’فنکشن‘‘ میسر آئے۔


ای پیپر