Supreme Court, Pakistan, orders, demolition, illegal chambers, Islamabad
02 مارچ 2021 (10:57) 2021-03-02

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں غیرقانونی چیمبرز مسمار کرنے کا حکم دے دیا ۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد بار کی درخواست خارج کر دی ، ساتھ ہی وکلاء کی متبادل جگہ ملنے تک وقت دینے کی استدعا بھی مسترد کر دی گئی ۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پر غیرقانونی چیمبرز کو برقرار رہنے دیں ؟ مزید کہا کہ وکلاء کا فٹبال گراؤنڈ پر کوئی حق دعویٰ نہیں ، جس نے پریکٹس کرنی ہے اپنا دفتر کہیں اور بنا لے ۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے منگل تک وکلا چیمبرز گرانے سے روک دیا تھا ، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس جاری بھی کیا تھا ۔

وکلا کے غیر قانونی چیمبرز گرانے کے حکم کے خلاف اپیل کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت پر دباؤ نہ ڈالیں ، عدالت کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گی ، سب لوگ کیوں آگے آگئے ہیں ، روسٹرم سے پیچھے ہٹ جائیں ، کیا آپ کو آواز نہیں آ رہی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم وکیلوں کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بھی وکیل رہ چکے ہیں یہ کام کبھی نہیں کیا ، وکیلوں کے کلپ نظر آتے رہتے ہیں ، وکلا عدالتوں کے بارے میں کیا کیا بات کرتے ہیں ، کوئی عقل اور شعور ہونا چاہیے ۔ آپ جس ادارے کا حصہ ہیں کچھ اُس کا ہی خیال کریں۔ جہاں کچھ وکیل اکٹھے ہوتے ہیں کچھ الٹا بولتے اور کرتے ہیں ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ فٹبال گراؤنڈ پر 3 منزلہ چیمبرز تعمیر کیے گئے ، چیمبرز وکلا کی ذاتی ملکیت تصور ہوتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بار ایسوسی ایشنز چیمبرز کو لیز پر دیتی ہیں ۔ بار ایسوسی ایشن کو چیمبرز لیز پر دینے کا اختیار کہاں سے آ گیا ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پبلک کی زمین پر چیمبرز بنانے کا اختیار کہاں سے آ گیا ؟ ملک میں کہیں بھی گراؤنڈ میں چیمبرز نہیں بنے ۔


ای پیپر