Jamal Khashoggi's assassination report has been revised, says former US intelligence chief
کیپشن:   فائل فوٹو
02 مارچ 2021 (10:14) 2021-03-02

واشنگٹن: امریکا کے خفیہ ادارے نیشنل انٹیلی جنس کے سابق سربراہ رچرڈ گرینیل کی جانب سے الزام عائد کیا ہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ نے صرف اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی کی قتل رپورٹ میں ردوبدل کیا ہے۔

انہوں نے یہ اہم بیان سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر کے ذریعے دی ہے۔ رچرڈ گرینیل نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے حال ہی میں جمال خاشقجی کی قتل کے معاملے پر جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں نئی چیز کوئی نہیں ہے تاہم اس کی کانٹ چھانٹ کرکے اسے میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی انتظامیہ نے سعودی ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان پر اپنی رپورٹ میں الزام عائد کیا تھا۔ تاہم سعودی حکام نے اس رپورٹ پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔

خبریں ہیں کہ صدر بائیڈن پر کانگریس کا دباؤ تھا کہ وہ اس رپورٹ کو جاری کریں۔ اس رپورٹ کے جاری ہوتے ہی امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تناؤ بڑھ چکا ہے۔ ادھر پاکستان سمیت دیگر ممالک نے بھی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ 2018ء میں واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ صحافی جمال خاشقجی کو اس وقت کر دیا گیا تھا جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی سفارتخانے میں گئے تھے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے حاصل کی گئی ویڈیو میں انھیں اندر جاتے تو دیکھا جا سکتا ہے لیکن اس کے بعد وہ کبھی واپس نہیں آئے۔

یہ واقعہ ہوتے ہی سعودی عرب نے اس پر سخت ایکشن لیا تھا اور اس میں ملوث 18 سعودی شہریوں کو گرفتار کرکے ان پر کیس چلایا تھا۔


ای پیپر