سوویت یونین اور اب امریکی انخلاء
02 مارچ 2020 2020-03-02

افغانستان سے سوویت یونین کے انخلا کے محض چند ہی سال بعد یعنی 1992 میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔جن مجاہدین نے مل کر قابض فوج کو نکلنے پر مجبور کیا وہ آپس میں لڑ پڑے اور پھر قتل و غارت گری کا بازار چل پڑا۔ اس دوران قندھار میں ملا عمر نے پچاس طلبہ کو ساتھ ملا کر طالبان نام سے ایک تنظیم کا اعلان کیا۔ طالبان نے اس وقت کی صورت حال کے مطابق ملک میں اسلامی نظام شریعت کے نفاذ کا نعرہ لگادیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پچاس افراد پر مشتمل چھوٹا سا گروپ بڑھ کر 15 ہزار طلبہ اور عام لوگوں پر مشتمل فورس میں تبدیل ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے قندھار سے اٹھنے والے طالبان افغانستان کے طول و عرض میں پھیل گئے۔ سوویت یونین کے دور میں اور اس کے بعد خانہ جنگی کے دوران بے گھر ہونے والے بچوں کو اس تنظیم کے نعرے نے اپنی طرف لبھایا اور کھینچا۔ طالبان اس وقت افغانستان کے ٹھکرائے ہوئے لوگوں کا ایک مضبوط سہارا بن چکے تھے۔ طالبان میں شمولیت کو لوگ خصوصاً بچے اپنے لیے اعزاز سمجھنے لگے۔ طالبان اتنے مضبوط ہوئے کہ انہوں نے تین اکتوبر 1994 کو قندھار پر اپنا جھنڈا لہرا دیا۔ پھر وہ قندھار سے بھی شریعت کا پرچم لے کر نکلے اور دیکھتے ہی دیکھتے 1995 میں کابل پہنچنے سے پہلے تک 12 صوبوں پر قابض ہو چکے تھے۔ کابل پر بھی قبضے کی کوشش ہوئی لیکن اس وقت احمد شاہ مسعود کی فورسز نے طالبان کو شدید نقصان پہنچایا۔ طالبان نے پھر حملہ کیا اور بالآخر 26 ستمبر 1996 کو احمد شاہ مسعود کو اپنی فوج سمیت جان بچا کر کابل سے نکلنا پڑا۔ اس طرح طالبان نے ملا عمر کی قیادت میں اسلامی امارات افغانستان کی بنیاد ڈالی۔ کابل میں حکومت قائم کرنے کے بعد طالبان کی مقبولیت بڑھتی چلی گئی اور 1998 تک تقریباً 90 فیصد افغانستان پر قبضہ کرلیا۔ افغانستان میں خانہ جنگی کے دوران تقریباً 10 لاکھ افراد مارے گئے۔ ایک لاکھ خواتین بیوہ ہوئیں، لاکھوں بچے یتیم ہوئے اور ہزاروں لوگ ہمیشہ کے لیے معذور بنے۔ افغانستان کا پورا انفراسٹرکچر تباہ و برباد ہو چکا تھا۔ افغانستان کو فوری طور پر از سرِنو تعمیر کی ضرورت تھی روزگار کے مواقع ختم ہو چکے تھے۔ ایسے میں طالبان نے 1998 میں تمام غیر ملکی این جی اوز کو ملک سے نکال دیا۔ اپنے ہی عوام پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ طالبان کی افغانستان پر پہلی حکومت 1996 سے 2001 تک قائم رہی۔ پہلے دور حکومت میں طالبان کو صرف پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تسلیم کیا۔ اسی دور میں طالبان نے سعودی شہری اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پناہ دی۔ اقوام متحدہ نے دہشت گردوں کے تربیتی مراکز قائم کرنے اور اسامہ بن لادن کو سہولت کاری فراہم کرنے کے الزامات لگا کر طالبان پر پابندیاں عائد کردیں۔ اس سے پہلے اسامہ بن لادن نے سوویت یونین کے خلاف امریکی جہاد میں بھی حصہ لیا۔ امریکا ہی کے فنڈ سے جگہ جگہ افغانستان میں ٹریننگ کیمپ لگائے لیکن سوویت یونین کے انخلا کے بعد امریکا کی پالیسی یکسر تبدیل ہو گئی۔ مجاہدین کہلانے ولے یکدم دہشت گرد قرار دے دیے گئے ان پر پابندیاں عائد کردی گئیں۔ پھر کچھ وقت کے بعد امریکا میں نائن الیون کا واقعہ ہو گیا۔ نائن الیون 2001 کے ایک ہفتہ بعد ہی امریکا نے القاعدہ کے نام پر افغانستان پر جنگ مسلط کر دی۔ فضائی حملوں کے بعد امریکا کی قیادت میں نیٹو کی فورسز افغانستان میں داخل ہوئیں۔ نیٹو کی ایک لاکھ 40 ہزار فوج افغانستان میں داخل ہوئیں ان میں ایک لاکھ امریکا کے فوجی تھے۔ امریکا نے ہر قسم کے تجربات افغانستان پر کیے دنیا کا سب سے بڑا بم بھی افغانستان پر ہی گرایا۔ پھر کیا تھا امارات اسلامی کے قیام کے بعد شہروں سے نکل کر پہاڑوں پر چلے جانے والے شمالی اتحاد کے جنگجو واپس آنا شروع ہوئے۔ احمد شاہ مسعود کی قیادت میں جنگجوﺅں نے نیٹو فورسز کا بھرپور ساتھ دیا۔ شمالی اتحاد کی قیادت متحارب گروپوں نے طالبان سے علاقے چھیننے شروع کئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بیشتر حصہ پر دوبارہ سے قابض ہو گئے۔ اس طرح طالبان کا پہلا دور امریکا کی قیادت میں نیٹو کی فورسز اور شمالی اتحاد نے ختم کرایا۔ طالبان کے بعد اب کسے قتدار دلایا جائے اس کے لیے جرمنی کے شہر بون میں افغانستان پر کانفرنس بلائی گئی۔ اس کانفرنس نے حامد کرزئی کو سقوط طالبان کے بعد پہلے افغانستان کے انتظامی معاملات کا سربراہ اور پھر صدر بنایا۔ طالبان ملک کا بڑا حصہ خالی کرنے کے بعد قندھار اور گردونوح میں چلے گئے۔ طالبان آرام سے نہیں بیٹھے انہوں نے پھر گوریلہ جنگ شروع کی اور اپنی طاقت کے ذریعے 2006 تک دوبارہ سے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ طالبان کی دوبارہ سے اٹھتی ہوئی مقبولیت اور علاقوں پر قبضہ کے باوجود امریکا نے 2012 میں فوجی آپریشن ختم کرنے کااعلان کر دیا اور دسمبر 2014 سے فوجیوں کا انخلا شروع کیا۔ بارک اوباما کے دور صدارت میں 2011 سے 2013 کے درمیان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی کئی کوششیں کی گئیں لیکن کامیابی نہیں ہو سکی۔ امریکا کے فوجیوں کی لاشیں پہنچنے پر امریکی عوام نے حکومت پر دبا و¿بڑھایا۔ عوام کے بڑھتے ہوئے دباو¿ کی وجہ سے 2015 میں پھر کوشش ہوئی وہ بھی ناکام رہی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے تو اپنی انتخابی مہم کے ایجنڈہ پر فوجوں کی واپسی کو ٹاپ پر رکھا تھا۔ ٹرمپ نے اس ناممکن مشن کو ممکن بنانے کی ذمہ دوری زلمے خلیل زاد پر عائد کی۔ زلمے دل جمعی سے لگے رہے ان کی پاکستان نے بھرپور مدد کی۔ افغان صدر اشرف غنی بھی اس دوران طالبان کو پرکشش پیش کش کرتے رہے قیدیوں کی غیر مشروط رہائی کا بھی کہا لیکن طالبان تیار نہیں ہوئے۔ طالبان کی جانب سے مسلسل یہی کہا جاتا رہا کہ اشرف غنی بھی حامد کرزئی کی طرح امریکا کی کٹھ پتلی حکومت ہیں وہ امریکا ہی سے براہ راست مذاکرات کریں گے۔ طالبان کو مذاکرات اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے قطر کا دارالحکومت دوحہ دیا گیا۔ دوحہ میں طالبان نے آزادی سے سیاسی سرگرمیاں شروع کیں اور امریکا سے یہیں مذاکرات بھی شروع کیے۔ تقریبا دو سال کے دوران مذاکرات کے 9 دور ہوئے اور بالآخر کئی تحفظات کے باوجود 29 فروری کو دوحہ میں معاہدہ پر دستخط ہو گئے۔ دوحہ معاہدہ افغانستان میں امن کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اب دو ہفتے کے اندر بین الافغان مذاکرات شروع ہونے ہیں اور یہ مرحلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مذاکرات میں افغانستان کے آئین میں تبدیلی اور اگلی حکومت کی تشکیل بڑا نازک اور اہم مرحلہ ہے۔ طالبان کو پہلے دور میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بھرپور حمایت حاصل تھی لیکن اس مرتبہ وہ کسی بھی عمل سے غیر حاضر رہے یا انہیں خود ہی دور رکھا گیا۔ طالبان نے اس مرتبہ کسی کی پراکسی بننے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے طالبان کے ماضی کے دشمن تصور کیے جانے والے کئی نئے ملک دوست بن چکے ہیں۔ برے وقتوں میں ماضی کے دشمن یا مخالف تصور کیے جانے والوں نے دوحہ معاہدہ کو عملی جامہ پہنانے میں بہت ساتھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان اور امریکا کے نمائندوں نے دوحہ کانفرنس میں کھل کر ان ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔ دوحہ معاہدہ نے خطے میں اور عرب ممالک میں نئی صف بندی کا اشارہ بھی دے دیا ہے۔

امید یہی ہے کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد سوویت یونین دور والا کھیل نہ کھیلا جائے۔


ای پیپر