مودی مویشی
02 مارچ 2019 2019-03-02

میں سمجھتا تھا اور لکھا بھی تھا مودی کھل نائیک اور مودی پھنے خان لیکن یہ بننے کے لیے تو انسان ہونا ضروری ہے جبکہ مودی کا حالیہ رویہ دیکھ کر مودی مویشی زیادہ موزوں لگتا ہے۔ ہندوستان جو سواارب کی آبادی کا ملک ہے قرب قیامت کی علامت ہے کہ اس کا حکمران نریندر مودی ہے ایک چائے فروش کے گھر پیدا ہونے والا قصاب چائے فروش سے ترقی کر کے ہندوستان کا وزیراعظم بن گیا۔ جو نفرت کو سیاست میں ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ گجرات میں مسلمانوں کے خلاف اس نے جس درندگی کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ ڈیڑھ ارب آبادی کا ملک ایک شخص کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ وہ دوبارہ وزیراعظم بننے کے لیے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو تلف کرنا اور خطے کو جہنم میں بدلنا چاہتا ہے ۔ کیا اس کو انسان کہا جا سکتا ہے؟ شاید مویشی بھی اس سے زیادہ حساس ہوں۔ مودی ایک بے شرم، ڈھیٹ اور انسانیت سے عاری شخص ہے ۔ وہ وطن عزیز کے متعلق اس حوالے سے بے خبر ہے کہ ہمیں تو 9/11 سے ہی جنگ کا سامنا ہے بلکہ جب روس افغانستان میں داخل ہوا تب سے ہم حالت جنگ میں ہیں۔ ہم 21 کروڑ عوام نہیں 21 کروڑ افواج بن چکے ہیں۔

سن 2000ء تھا شاید جب میری واہگہ ریلوے سٹیشن پر ڈیوٹی تھی۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے مسافر انٹرنیشنل مسافر شمار ہوتے ہیں۔ ہندوستان سے آنے والے مسافروں کی حالت یہ تھی کہ بدن پرپورے کپڑے بھی نہیں ہوتے تھے، پاؤں میں جوتے ایک نمبر بڑے سائز کے، سر کے بالوں سے زیادہ چہرے پہ جھریاں، آنکھیں زندگی سے خالی، خوف چہروں سے عیاں، غربت دھمال ڈالے نظر آتی۔ بے بسی، ذلتوں، ظلمتوں کے مارے یہ لوگ ہندوستان کے مسافر ہوتے جو تھوڑے سے تجارتی سامان کے ساتھ آتے نہ جانے ان کو بھیجنے والا انہیں اس کام کی کیا اجرت دیتا ۔ ایک اجازت شدہ حد سے زیادہ سامان جس میں آرٹیفیشل جیولری، ساڑھیاں، پان رکھنے والے مسافروں کی مارے خوف کے دل کی دھڑکن سنائی دیتی۔ پاکستانی مسافروں کی حالت بہتر ہوتی بحرحال میں جب بھی ان کو دیکھتا تو سوچتا کہ یہ ایٹمی قوت کے شہری ہیں؟ مجھے ان لوگوں پر بہت ترس آتا۔ غربت سے اٹے ملک ہندوستان کے وزیراعظم کس بھرتے پہ خطے میں بدمعاشی کر رہا ہے میں حیرا ن ہوں۔ ہندوستان کو سوچنا چاہیے اور علم ہونا چاہیے کہ غربت، دہشت گردی کے لیے بہترین ایندھن ہے اور الحمد للہ اس ایندھن میں یہ خود کفیل ہی نہیں ایکسپورٹ بھی کرتا ہے۔ ہندوستان کی غربت نے وہاں کی روایات کا خاتمہ کر دیا ہے۔ ہمارے ملک کے ایک صحافی نے ہندوستان کی خاتون صحافی سے کہا کہ آپ لوگ جینز اور شرٹ پہنتے ہیں آپ ماڈرن اور ایڈوانس ہو گئے ہیں اس نے جواب دیا کہ جینز کی پینٹ کے ساتھ چار شرٹ میرا بہت اچھا گزار ا کرتی ہیں اگر میں روایتی لباس پہنوں جو کہ ساڑھی ہے تو روزانہ ایک ساڑھی نہیں پہن سکتی اور پھر مجھے اپنی ذاتی ٹرانسپورٹ چاہنے میں ویگنوں اور بسوں میں سفر نہیں کر سکتی یہ فیشن نہیں میری غربت پر پردہ ہے۔ جس ملک میں عورتوں کے ساتھ اپنے ملک اور اپنے خاندان میں زیادتی ہو جائے سالانہ ہزاروں عورتوں کی عزت لٹ جاتی ہے اور لاکھوں مقدمات رپورٹ ہی نہیں ہوتے لاکھوں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں رپورٹ کیے جانے والے جرائم میں عورتوں کے ساتھ زیادتی جبر زنا کا جرم تیسرے چوتھے نمبر پر ہے۔ جو امن میں بھی عوام کو روٹی نہ دے سکے انصاف اور تحفظ نہ دے سکے وہ جنگ میں کیا دے سکتے ہیں اور جس کے کروڑوں عوام آج بھی سڑکوں پر سوتے ہوں، کیا وہ جنگ لڑ سکتا ہے؟ میرے مطابق یہ ایٹم بم ، ایف 16، تو ہیں، گولے، بم، گولیاں، مشین گنیں، ٹینک تو بہت دور کی بات ہے خدا کی قسم ہم صرف سرحدوں سے فوج بھی ہٹا دیں اور فوج کو اپنے شہروں گھروں پر تعینات کر دیں ہندوستان کی فوج کی جرأت نہیں کہ وہ ہماری سرحد کے اندر داخل ہو اور چند گھنٹے رُک پائے۔ وطن عزیز کے 50 ہزار باشندے ہی اگر ہم اس کے ملک میں داخل کروا دیں تو اس کی ساری آرمی پولیس اور ایجنسیاں اپنا ملک چھوڑ دیں۔

مودی مویشی پاکستان تو دو بڑی سپرطاقتوں کو اپنے ملک نہیں اپنے ہمسایہ ملک سے واپسی کی راہ پر مجبور کر چکا ہے ذرا اندازہ کر اپنے ملک کے لیے جب بندوق اٹھائے گا تو تمہیں کس قہر کا سامنا کرنا ہو گا یہ 1970ء کا پاکستان نہیں ہے یہاں کوئی علیحدگی پسند بنگالی نہیں جبکہ ہندوستان میں 67 کے قریب علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں جن میں 8 سے زائد میں شدت ہے جبکہ کشمیر کی آزادی کا صرف اعلان باقی ہے۔ وطن عزیز میں سیاسی، جانی اور ذاتی دشمنی والے لوگ اور سیاست دان ہندوستان کے مقابلے میں ایک پیج پر ہیں فوج کے ساتھ ہی نہیں فوج سے آگے کھڑے ہونے کے متمنی ہیں جبکہ ہندوستان میں سیاسی جماعتیں اور قیادتیں پلوامہ کے واقعہ کا مودی مویشی کو ذمہ دارا ٹھہرا رہی ہیں۔ یہ دور دنیا میں ملکوں کو جنگوں کے ذریعے نہیں معیشت اور ثقافت کے ذریعے فتح کرنے کا دور ہے ہر جنگ کے مقاصد ہوتے ہیں مودی مویشی جو جنگ شروع کرنے جا رہا ہے اس کا مقصد اس کے اپنے ملک میں انتخابات میں کامیابی ہے گویا ہندوستان کے قومی ہیجان کا اندازہ لگائیں کہ نفرت کی بنیاد پر ووٹ دینے کا تاثر ہے جبکہ پاکستان امن کی علامت ہے مودی مویشی کی جنگ دراصل پاکستان ہی نہیں ہندوستان اور انسانیت کے خلاف جنگ ہو گی۔

یہاں تک لکھا تھا کہ جنا ب عمران خان کی تقریر آ گئی چند منٹوں کی تقریر انتہائی جامع، بامعانی، انسانیت دوست ، انسان دوست اور ذمہ دار حکمران کی تقریر سن کر مجھے اپنے کالم کے ٹائٹل مودی مویشی کی مزید وضاحت ہو گئی عمران خان کا خطاب اور مودی بڑھکیں واقعی انسان اور مویشی کا فرق رکھتے ہیں۔ مودی سے نہیں پوری دنیا سے سوال ہے جس کا تاریخ چیخ چیخ کر جواب دے رہی کہ دنیا میں جس قوم نے بھی آزادی مانگی ہے وہ آزادی سے زیادہ دیر محروم نہیں رہی ۔ عقاب سنگینوں کے سائے میں زیادہ دیر نہیں بٹھائے جا سکتے۔ کشمیر آج نہیں تو کل اب زیادہ دیر کی بات نہیں آزاد ہو کر رہے گا۔ مودی کھل نائیک بنے نہ فنے خان بنے ایک بڑی ریاست کے سربراہ ہونے کی ذمہ داری پوری کرے ہم تو عرصہ دراز سے حالت جنگ میں ہیں بلکہ 1979ء سے روسی فوج کی افغانستان دراندازی سے حالت جنگ میں ہیں بدنصیب ہیں کہ دنیا میں سب سے گندا ، مکار اور بدترین ہمسایہ جبکہ گھٹیا دشمن ہمیں ملا ۔ شاید ہندوستان کی آرمی اتنی مہارت اور جنگجو نہ و جتنے میرے وطن کے 21 کروڑ میں سے تمام بالغ لوگ جنگجو ہیں جس طرح وطن عزیز نے دہشت گردی دیکھی اور بھگتی اور بھگت رہا ہے اگر ہندوستان میں گن کر دس بم بلاسٹ ہو جائیں خود کش حملے ہو جائیں تو میرا دعویٰ ہندوستان کے مسلمانوں کے علاوہ باقی ایک کروڑ 15 لاکھ لوگ گھروں سے نہیں نکلیں گے۔ ہندوستان کو سوچنا چاہیے کہ جتنا بڑا انفراسٹرکچر اتنی بڑی تباہی آتی ہے جتنا بڑا سر اتنی بڑی سر درد ، جتنا بڑا وجود اتنا بڑا بخار لہٰذا انسانیت دشمن، انسان دشمن رویے کو ترک کر دے اور انسانوں جیسا رویہ کرے نہ کہ مویشیوں جیسا۔ یہ پرانا پاکستان نہیں جو 1970ء میں تھا جناب بھٹو صاحب کی ایٹمی قوت ، محترمہ بینظیر کی میزائل ٹیکنالوجی اور نواز شریف کے ایٹمی دھماکوں اور مسلسل جنگ میں رہنے کے بعد عسکری اعتبار سے نیا پاکستان ہے لہٰذا انسان بنو مویشی نہ بنو مودی ۔


ای پیپر