بھارت: امریکی کمیشن کو ویزا دینے سے انکار
02 مارچ 2018 (20:21) 2018-03-02

2013ء کے بھارتی انتخابات کے بعد عالمی برادری کے سادو لوح یہ توقع کر ر ہے تھے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی حلیف جماعتوں کی حکومت کے کلیدی وزراء پاکستان بارے بات چیت کرتے ہوئے اپنے لب و لہجہ کو مہذب بنانے کی کوشش کریں گے ۔4برس گزرنے کے باوجود بھارتی وزراء کے آتش بار اور دھواں دھار بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں حکومت خواہ انتہا پسند جن سنگھی پریوار کی ہو یا اعتدال پسند کانگرسیوں کی، اسلام بیزاری اور پاکستان دشمنی بھارتی حکام کے خمیر و ضمیر میں رچی بسی ہے۔عالمی برادری یہ جاننا چاہتی ہے کہ بھارتی حکومت اور اس کے بزرجمہران اپنے قریب ترین ہمسایہ ملک پاکستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے منافرانہ ’’اظہاریوں‘‘ کو آخر کب بالائے طاق رکھیں گے۔بھارتی سیاستدان اور حکمران 2018ء میں بھی اسلام ،پاکستان اور اقلیتوں کے حوالے سے جس جارحانہ اور منفی لب ولہجہ میں گفتگو کرتے ہیں، اس سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنمائوں اور حکمرانوں کے لاشعور اور تحت الشعور میں آج بھی اٹل بہاری باجپائی اور ایل کے ایڈوانی کے افکار و خیالات کی گہری چھاپ موجود و موجزن ہے۔ یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ جب دو ممالک اور ان کے حکمران باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرتے ہیں تو ان کے لب و لہجہ میں شائستگی کا ظہور اولین تقاضا کی حیثیت رکھتا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ بھارت میں صرف چہرے بدلے ہیں، نظام نہیں بدلا۔ محض چہروں کی تبدیلی سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری نہیں آ سکتی ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاوہ بھارت پاکستان کے ساتھ پائیدار مذاکرات کرسکتا ہے کہ جہاں ہر انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتخابی منشور سرتاپا پاکستان دشمنی کا مظہر ہوتا ہے…2004 ء اور 2014ء میںبھارتیہ جنتا پارٹی کے منشور میں واشگاف الفاظ میں متعصب ہندو رائے دہندگان کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اکھنڈ بھارت کی بحالی اور قیام کیلئے مقامی و بین الاقوامی سطح پرہمہ جہتی مساعی بروئے کار لانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی ،نیز یہ کہ ’ خطے میں رام راج کا غلبہ ہمارا خواب ہے ‘۔ اس سے قبل انتخابات میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی میں پاکستان دشمنی کارڈ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بھارت دنیا کاوہ واحد ملک ہے، جہاں تقریباً گزشتہ اڑھائی عشروںسے پاور پالیٹکس کوانتہا پسند ہندو سیاست اور قیادت نے یرغمال بنارکھاہے۔
ارباب خبر و نظر جانتے ہیں کہ نریندر مودی بھارتی ریاست گجرات کے مسلم بیزار اور اسلام دشمن وزیراعلیٰ کی حیثیت سے 2002ء میں ہزاروں مسلمانوں کے قاتل کی حیثیت سے بھارت کے انتہا پسند ہندو عوام اور میڈیا میں مقبولیت حاصل کر چکے تھے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ سیکولر بھارت کے نعرے کی آڑ میں نریندر مودی اور اُس کی ہمنوا سیاسی جماعتیں بھارت میں 20 ویں صدی کے دوسرے عشرے کی انتہا پسندانہ شدھی اور سنگٹھن کی تحریکوں کا احیاء کر رہے ہیں اور بھارت میں ہندو دہشت گردی کی علامت عسکری گروہوں کی باقاعدہ پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ امریکہ نے 2002ء میں گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کو انسانی حقوق کی بدترین پامالی قرار دیتے ہوئے نریندر مودی کو امریکہ کا ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ ایک مذہبی انتہا پسند شخصیت ہیں اور اُن کے ہاتھ بے گناہ اور معصوم اقلیت کے لہو سے رنگے ہوئے ہیں۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جون 2014ء کے بعد امریکی معیارات، ترجیحات اور رویوں میں کلیتاً تغیر اور تبدل کو سٹرٹیجک پالیسی کا درجہ دے دیا گیا۔ نریندر مودی کا بھارت امریکہ کا خطے میں سب سے بڑا اتحادی قرار پا چکا۔ باراک اوباما نے بھارت کے حالیہ دورے کے دوران نریندر مودی اور زعفرانی انقلاب کے علمبردار جن سنگھی پریوار کی سیاسی جماعتوں کے
رہنماؤں کو گلوبل پارٹنر اور سول نیو کلیئر اتحادی کی حیثیت سے مزید رعایات ، مراعات ، نوازشات اور غیر مشروط معاہدات کا حقدار گردانتے ہوئے سول نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کی باقاعدہ منظور دی اور یقین دلایا کہ بھارت کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا… امریکی حکام خطے میں صرف اور صرف بھارت ہی کو اپنا حقیقی دوست جانتے ہیں جبکہ دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی جنگ نے پاکستان کے17 سالہ غیر مشروط تعاون اور قربانیوں کو وہ زبانی جمع خرچ کرتے ہوئے سراہتے تو ضرور ہیں لیکن عملاً پاکستان کے حوالے سے معاندانہ جذبات کا اظہار کرتے ہوئے رتی بھر تامل محسوس نہیں کرتے۔ وہ پاکستان میں دہشت گرد گروہوں اور تنظیموں کی تو بات کرتے ہیں لیکن اپنے مفادات کے حصول کے لیے بھارت میں موجود ویشوا ہندو پریشد، بجرنگ دَل اور شیو سینا ایسی بیسیوں عسکریت پسند منظم مسلح تنظیموں کی غارت گریوں سے عمداً چشم پوشی کر رہے ہیں۔ یقینا ایسے ہی دہرے معیارات کی وجہ سے امریکہ ترقی پذیر ممالک کے عوام کی نگاہ میں توقیر و تعظیم سے محروم ہے۔
عالم یہ ہے کہ28فروری2018ء کو بھارت نے مذہبی آزادی سے متعلق امریکی عالمی کمیشن کے وفد کو ویزا دینے سے تیسری مرتبہ انکار کر دیا۔ وفد کے رکن تھامس ریس کا کہناہے کہ’ نئی دہلی عیسائیوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف مظالم کو عالمی برادری سے چھپانا چاہتا ہے‘۔ مذہبی آزادی سے متعلق امریکی عالمی کمیشن کے رکن نے انکشاف کیا’ بھارت میں سرکاری سرپرستی میں ہندوتوا کی مہم چلائی جا رہی ہے‘۔ مذہبی آزادی سے متعلق امریکا کے عالمی کمیشن کے وفد کے رکن تھامس ریس نے امریکی ٹی وی کو بتایا’ کمشن کا تین رکنی وفد بھارت میں سیاسی، سماجی رہنما ئوں سے ملنا، وہاں کی انسانی حقوق کی صورت حال اور مذہبی آزادی کا جائزہ لینا چاہتا تھا لیکن واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے نے ویزا دینے سے انکار کر دیا۔ ریس نے کہا ’ بھارت میں سرکاری پشت پناہی میں ہندو بنیاد پرست عیسائیوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملے کررہے ہیں اور انہیں زبردستی ہندو بننے پر مجبور کررہے ہیں‘۔ تھامس ریس نے مطالبہ کیا ’بھارتی وزیراعظم مودی اقلیتوں پر مظالم بند کرائیں‘۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اپنے بیان میں بھارتی پالیسی پرسخت ردعمل کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا ’ بھارت عالمی انسانی حقوق کے کنونشن کی خلاف ورزی نہ کرے اور امریکی کمیشن کے ارکان کو ویزا دے کر صورت حال کا جائزہ لینے دیا جائے‘… ادھر بھارت نے پاکستانی زائرین کے مذہبی ویزوں پر غیر علانیہ پابندی لگا دی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان سے ہر سال سیکڑوں زائرین حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے عرس میں شرکت کے لیے اجمیر کا رخ کرتے ہیں، اس سلسلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدہ بھی موجود ہے، جس کے تحت بھارت 500 پاکستانیوں کو عرس میں شرکت کے لئے ویزے جاری کرنے کا پابند ہے، رواں برس بھی سیکڑوں پاکستانیوں نے بھارتی ہائی کمیشن کو ویزوں کے لئے درخواستیں دی تھیں تاہم عرس کے آغاز سے چند روز قبل بھارتی حکام نے تمام درخواستیں مسترد کر دیں، جس کے نتیجے میں اب پاکستانی عرس میں شرکت نہیں کرسکیں گے، اس سے قبل دسمبر میں بھی بھارت نے پاکستانی زائرین کو حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ کے عرس میں شرکت سے روک دیا تھا‘…علاوہ ازیں یکم مارچ 2018ء کو ڈائریکٹرز گلڈ آف پاکستان ( ڈی جی پی) کی کور کمیٹی نے بھارتی فلمساز تنظیموں کی جانب سے پاکستانی فنکاروں کے خلاف اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ بھارتی فلمسازوں کا ایک طبقہ امن عمل کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے‘۔ ڈی جی پی کے عہدیداران کا کہنا ہے’ فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سائن ایمپلائز ( ایف ڈبلیو آئی سی ای) اور انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرز ایسوسی ایشن ( آئی ایم پی پی اے) کے توہین آمیز بیانات اور اقدامات سے برصغیر میں امن کی کوششوں کو دھچکا لگے گا، فنکار امن اور محبت کے سفیر اور کشیدگی کے خاتمہ میں معاون ہوتے ہیں‘۔ قیام امن کیلئے ڈی جی پی کی کور کمیٹی کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ ’پاکستان میں بھارتی فلم اور ڈراموں پر پابندی لگائی جائے، ان اشتہارات پر بھی پابندی لگائی جائے جن میں بھارتی فنکار ہیں، پاکستانی فنکاروں کو بھی بھارتی فلم، ڈرامہ یا اشتہار میں کام کرنے سے روکا جائے‘۔ اس کے باوجود امریکیوں کی بھارت نوازی کا عالم یہ ہے کہ ستمبر 2013ء کو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا تھا کہ ’ امریکا نے جاسوسی کے لیے پاکستان میں دنیا کا مہنگا ترین اور وسیع جاسوسی نظام قائم کیا ،نئے سیل بنائے اور اس کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی بڑھادی، امریکا کو پاکستان کی جوہری تنصیبات کی سکیورٹی پر شدید تحفظات ہیں اور اسے خدشہ ہے کہ پاکستان میں موجود شدت پسند کیمیائی ہتھیار بنالیں گے‘۔ حالانکہ بھارت میںخود مختاری کی تحریکیں ارنچل پردیش، آسام، بوڈالینڈ، کھپلنگ میگھا لیا، میزو رام، ناگا لینڈ، تیرہ پورہ، بندیل کھنڈ، گورکھا لینڈ، جھاڑ کھنڈ وغیرہ میں برسوں سے جاری ہیں۔ کیا ان تحریکوں کے بانی اور کارکنان بھارت کے ایٹمی اثاثوں کیلئے کسی خطرے کا موجب نہیں بن سکتے ہیں؟ کیا یہ بھارت کے ’’ انتہا پسند‘‘ اور‘‘ شدت پسند‘‘نہیں ہیں پھر بھارت کے ایٹمی اثاثوں کو بربادی اور تہس نہس ہونے سے بچانے کیلئے امریکی خفیہ پلاننگ کیوں نہیں کر رہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ بھارت عسکریت پسندوں اور انتہا پسند ہندو دہشت گردوں کی جنت ہے۔


ای پیپر