ہے کوئی محمد ابن قاسم؟

02 مارچ 2018 (20:20)

کھنڈر عمارتیں ،بمباری کی باقیات ، بارود کی بو ، مردوزن کی چیخیں ،قطار اندر قطاربچوں کے لاشے ، جوگزرے گئے وہ شہید…جو باقی بچ گئے … اُن کی ـ ’اللہ اکبر‘ اور’ المددیارب العالمین‘ کی صدائیں… نمناک فضائیں…دلگیر نوحے …ننھی ننھی میتوں پہ رقصاں ہوائیں …یہ مقام…مقامِ آہ و گریہ زاری…دور ِحاضرکا میدانِ کربلا …یہ جگہ کوئی عام جگہ نہیں … یہ مقام کوئی عام مقام نہیں …یہ شہر…بامِ رقص و سرود اور عیاشی کا گڑھ نہیں …یہ لبرل ازم کے نرغے میں گھرا سعودی عرب نہیں …یہ ہے ’ملحمۃالکبریٰ‘ کی خون آشام داستانوں کی نشاندہی کا مرکز… یہ ہے لہو لہومشرقی غوطہ … بلادالشام… وہی شام… جس پر بمباری کرنے والوںکے احساس کی ڈھلتی’ شام ‘…کا نوحہ …لکھنے والا لکھے گا …کہ جس وقت آل سعودکے مرکز ِدین ودنیا میں ماڈرن اسلام کے داعی ملاؤں کی نوک ِقلم سے …مسلم خواتین کے جسموں سے برقعے یا عبائے اتروانے کے فتوے صادر کئے جارہے تھے عین اسی وقت… جی ہاں عین اسی وقت… بلادالشام کے جنگ زدہ مشرقی شہر غوطہ میںشامی بہنیں …روٹی کے چند ٹکڑوں کے عوض اپنی عزتیں بیچنے پر مجبورتھیں …لکھنے والا لکھے گا کہ جس وقت برج خلیفہ کے سائے کے نیچے مندروں کی تعمیرپراتحاد بین المذاہب اور فیشن ایبل عرب کا پرچار جاری تھا عین اسی وقت اسدی افواج کے حرکارے…محصور مشرقی غوطہ پربمباری کر کے’ انسانیت‘کے بُت گرا کر انسانی ’عظمت‘ کی نئی تاریخ رقم کرنے میں مگن تھے … لکھنے والا لکھے گا کہ جس وقت شامی بچوں کے قطار اندر قطارکفن پوش لاشوں پر انسانیت بین کر رہی تھی عین اسی وقت… جی ہاں!عین اسی وقت… اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ …متعدد اسلامی ممالک کی افواج کا جھنڈا تھامے… سعودی فرمانرواؤںکے عشائیوں میں’ نادھن دھنا… نادھن دھنا ‘کر رہے تھے …اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں دبی انسانیت کی چیخوں پر کانوں میں روئی کے گالے ڈالے… مسلم امہ کی واحد اسلامی ایٹمی ریاست’ پاکستان‘ کے کرتا دھرتا ’ہنوز دہلی دُور است‘ کے منترے کی عکاسی کر رہے تھے…لکھنے والا لکھے گا کہ’مجھے کیوں نکالا‘ … سے لے کر ’مجھے نظر نہیں آرہا‘ … تک کی کہانی بیان کرتا پاکستانی میڈیا … دیکھ تو سب کچھ رہا تھا لیکن موم بتی مافیا کے ایجنڈے کی محبت اس کے قلم کو صفحۂ فرطاس پر جنبش لینے سے روک رہی تھی … اس کا کیمرہ شام پر بمباری کرتے جنگی جہاز تو عکس بند نہیں کر پا رہا تھا لیکن اسے سری دیوی‘ کی مرگ کے اسرار رموز واضح دکھائی دے رہے تھے ، اس کے لئے پاکستان سپرلیگ ، ماڈرن فیشن شوز ، بالی وڈ فلمیں ، پرنس ہیری کی شادی ،جسٹن ٹرڈو کی بھارت یاترا ،میلانیا کی ٹرمپ سے ُدوریاں ،میڈونا کا نیا گانا ، سعودیہ کی اعتدال پسندی ، دبئی میں مندر کی تعمیر ، حرم میں ہراسگی کے واقعات ، نہال ہاشمی کے ہاشمی نسخے ، مریم نواز کا میک اپ ، عمران
خان کی مدرسہ حقانیہ کے لئے امداد ، نواز شریف کی شعرو شاعری ، ڈاکٹر شاہد مسعود کی دبڑدوس اور بابارحمتا کی پُھرتیاں زیادہ اہم تھیں …اہمیت نہیں تھی تو شام میں گرتے لاشوں اور بہنوں کی تار تار …رداؤں… کی اہمیت نہیں تھی …لکھنے والا لکھے گا کہ جس وقت امت مسلمہ کی کلمہ گو بہنوں کی ردائیں چیخ چیخ کر پکار رہی تھیں کہ ’ ہے کوئی محمدابنِ قاسم ‘…’ ہے کوئی سلطان صلاح الدین ایوبی ‘ … ’ ہے کوئی حجاج بن یوسف‘ … جو لشکرِ اسلام کی کمک کی کمان تھامے اور مدد کو آئے… لیکن عین اسی وقت دورِحاضر کا محمد بن قاسم…دور حاضر کا سلطان صلاح الدین ایوبی … دورحاضر کا حجاج بن یوسف …دور حاضر کا عیاش مسلم حکمران … اپنی امارت اور لبرل ازم کے نشے میں دھت مشرق وسطیٰ کے کسی فائیو سٹار ہوٹل کی کار پارکنگ میں کھڑی لیموزین کے اندر …ستو پی کے سو رہا ہوگا …جبکہ بلادالشام کا کوئی معصوم یتیم بچہ …رخت سفر باندھے …تن تنہا صحرا عبور کرتے اپنی نمناک نگاہوں اورہچکچاتی ہوئی آہوں کے ساتھ یہ کہہ رہا ہو گا …
آکے دیکھو! میرے جسمِ بے جان کو
اس سلگتے ہوئے وطنِ ویران کو
وہ وطن …جس کے بے بس مکینوں نے بھی
اپنے خوابوں کے مُردے دفن کر دئیے
سارے سپنے بھی نذرِ کفن کر دئیے
آکے دیکھو ! میرے جسمِ بے جان کو
اس سلگتے ہوئے وطنِ ویران کو
لکھنے والا لکھے گا کہ جس وقت کسی پر امن مسلم ملک میںوالدین اپنے بچوں کے لئے برانڈڈ کپڑے اوراسپائیڈر مین جیسے برقی کھلونے خرید رہے ہوں گے، اس کے ساتھ ہنسی خوشی کھیل رہے ہوں گے…جھوم رہے ہوں گے ، گا رہے ہوں گے … عین اسی وقت، امداد کا منتظر…بھوکا پیاسا کوئی چند سالہ شامی دریتیم …اپنا رخت سفر تھامے ،بنا کسی رہنما ، تن تنہا …شام کا صحرا عبور کرتے ہوئے پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہوگا …ایسے میں خدا کی خدائی شرمائے یا نہ شرمائے انسانیت ضرورشرما رہی ہوگی …
یہ وہ وقت ہے کہ جس وقت احکامات رسول خداؐہی ہمارے لئے مشعل راہ ہونگے …
حدیث پاک میں ارشاد ہے :’جب اہلِ شام تباہی اور بربادی کا شکار ہو جائیں تو پھر تم میں کوئی خیرباقی نہ رہے گی‘ (سنن الترمذی2192،باب ماجافی الشام، حدیث صحیح)بلادالشام جنگ زدہ ہے ، نوے فیصد برباد ہو چکا ہے ، مشرقی غوطہ تباہ کر دیا گیا ہے ، ایک دہائی پر محیط تباہی کی اس کہانی سے وابستہ آٹھ لاکھ سے زائد خاندان بے یارومددگار ہیں اور ہم طاغوتی قوتوں سے خیر کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ ایک اور حدیث پاک ہے ’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک عراق کے بہترین لوگ شام اور شام کے بدترین لوگ عراق منتقل نہ ہو جائیں اور تم شام کو اپنے اوپر لازم کر لو ‘ (مسنداحمد )شام کا علاقہ مشرقی غوطہ زیر عتاب ہے اور اس سے متعلق نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے ’ مسلمانوں کا خیمہ جنگ کے روز غوطہ میں ہوگا ، مدینہ کی طرف سے جسے دمشق کہا جاتا ہوگا ،جو مدائن شام کے بہتر علاقوں میں سے ایک ہے ‘ (ابوداود)اورنبی اکرمؐ کی احادیث کے مطابق ملحمتہ الکبری یعنی آخری جنگ یعنی ممکنہ تیسری جنگ عظیم میں مسلمانوں کا ہیڈکوارٹر شام ہوگااور اس جنگ میں مسلمانوں کی نصرت یمن سے کی جائے گی…
احادیث کی روشنی سے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ وقت قریب ہے ، لیکن کیا ہم اس وقت کے لئے تیار ہیں ،ہم بحیثیت مسلمان نہ سہی، بحیثیت انسان تو شامی بھائیوں کی …اپنی مدد آپ کے تحت مدد کر سکتے ہیں، بلادالشام میں قیامت کے مناظر ہیں ،خدارا … اٹھئے … خواب غفلت سے جاگئے … شامی بہنوں ، بھائیوں اور بچوں کی مدد کیجئے ورنہ مورخ یہ بھی لکھے گا کہ ستو پی کے سونے والوں کو کوئی جگانے کی کوشش کرر ہاتھا تو بھی سونے والا گھوڑے بیچ کے سوتا رہا ، ایسے وقت میں مسلم امہ پر جہاد فرض ہے ، جی ہاں جہاد فرضِ عین ہے …جنگ زدہ علاقے میں نوحہ کناں … شامی بھائیوں ، بہنوں اور بچوں کی امداد بھی کسی جہاد سے کم نہیں اور یہ طے ہے کہ ُاس جہاد کا وقت اب آ چکا ۔

مزیدخبریں