سانچ کو آنچ نہیں…!
02 مارچ 2018 (20:17) 2018-03-02

’’خد ا کی قسم ، میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں عوام کے لیے روٹی اور صاف پانی چاہتا ہوں۔ کسی سیاسی مقدمے کو ہاتھ لگانے کو دل نہیں کرتا، مگر مجبوری ہے ، یہ کیسیز سُننے پڑتے ہیں۔ ہماری نیت بالکل صاف ہے، جس طرح چاہیں امتحان لیں ، وکلاء مدد کریں۔ ملک کے لیے کچھ کرنے کا وقت آن پہنچا۔‘‘چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے ادویہ کی قیمتوں میں کمی کے از خود نوٹس (کیس) کی سماعت کے دوران دئیے جانیوالے یہ ریمارکس ہی آب زر سے لکھے جانے کے قابل نہیں ہیں بلکہ اسی کیس کے دوران اُن کے یہ فرمودات بھی سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں کہ ’’میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ عوام کو دو وقت کی روٹی اور صاف پانی مل جائے۔ ہمارے پاس ایسی چیزیں آتی ہیں کہ اللہ کا خوف آتا ہے ۔ میں اس ملک کا سب سے چھوٹا وکیل تھا، اب بھی ملک کا سب سے چھوٹا جج ہوں۔ پینشنرز کیس میں جن بیوائوں کو 1300 روپے پنشن ملتی تھی ، ہم نے 8000 روپے کر دی اب کم از کم ایک بیوہ دردِ سر کی گولی تو لے سکے گی ۔ میں واعظ نہیں ہوں ، صرف یہ چاہتا ہوں کہ لوگوں کے بنیادی حقوق اُن کو دئیے جائیں۔ ہمارا کوئی مقصد نہیں ، ہمیں ایسا دوستانہ ماحول بنانا ہو گا جس سے ملک کی صنعت کا ماحول ساز گار ہو ۔‘‘
جناب چیف جسٹس کے ان فرمودات سے جہاں اُن کی عاجزی ، انکساری اور کسر نفسی کا اظہار سامنے آتا ہے وہاں اِن سے عوام کو درپیش مسائل و مشکلات کے بارے میں اُن کی درد مندی اور تشویش کا اظہار بھی سامنے آتا ہے۔ اس سے جناب چیف جسٹس کے اُس کردار کا حوالہ بھی اُبھرتا ہے جو انہوں نے چند ماہ قبل اپنے کردار اور شخصیت کو گائوں کی روایتی بزرگ شخصیت ’’بابا رحمتے‘‘ کے کردار کے مشابہ کہہ کر دیا تھا۔ بابا رحمتے بقول جناب چیف جسٹس گائوں کی ایسی مدبر اور بزرگ شخصیت ہوتا ہے جو اپنے لوگوں کے دُکھ درد میں ہی شریک نہیں ہوتا اُن کے چھوٹے موٹے مسئلے مسائل بھی حل کرتا ہے ۔ گائوں کے لوگ اُس پر اعتماد کرتے ہیں ، وہ اُن کے تنازعات کے فیصلے کرتا ہے ، اپنے دستِ شفقت اور بزرگی سے وہ لوگوں کو تحفظ کا احساس دلاتا ہے، لوگ اُس کا احترام اور اُس کے دستِ شفقت کی قدر کرتے ہیں اور اُس کے فیصلوں کو دل و جان سے قبول کرتے ہیں۔ جناب چیف جسٹس اپنے لیے بابارحمتے کا کردار پسند کرتے ہیں تو یہ اُن کی وسیع الظرفی ہے، یہ اُن کی مثبت سوچ کی عکاسی ہے ، یہ اُن کا ایک بزرگ اور مدبر شخصیت کے طور پر اپنے لوگوں کی اُونچ نیچ میں شریک ہونے اور اُن کے دُکھ درد بٹانے کا جذبہ ہے۔ یقینا اس کی قدر کی جانی چاہیے لیکن اس کے ساتھ جناب چیف جسٹس کے حوالے سے یہ پہلو بھی بہر کیف موجود ہے کہ وہ آئے روز اپنے ریمارکس اور اپنے فیصلوں کے بارے میں وضاحتیں جاری کر رہے ہوتے ہیں کیا ملک کی سب سے بڑی عدالت کے منصفِ اعلیٰ کے منصب پر فائز شخصیت کی حیثیت سے انہیں اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی درد مندی ، انکساری ، کسر نفسی ، غیر جانبداری اور انصاف پسندی کا گاہے گاہے اظہار کرتے رہیں ؟ کیا اُن کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقدمات کی سماعت کے دوران دئیے جانے والے اپنے ریمارکس کی وضاحتیں کرتے پھریں؟ کیا اُن کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ اُن کے دئیے جانے والے فیصلے بذاتِ خود انصاف پسندی کا محکم ثبوت ہی نہ ہوں بلکہ ’’ججز نہیں بولتے اُن کے فیصلے بولتے ہیں‘‘ کے سنہری اصول کا عملی نمونہ بھی ہوں۔
جناب چیف جسٹس کے بارے میں لکھتے ہوئے
مجھے اعتماد اور بھروسہ ہے کہ میں جو کچھ لکھ رہا ہوں صاف نیتی سے لکھ رہا ہوں۔ میرے دل میں جناب چیف جسٹس اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی بے پناہ توقیر و تکریم ہے اور میں اعلیٰ عدلیہ یا اعلیٰ عدلیہ کے کسی قابلِ صد احترام جج کی توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتا لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کہ پاکستان میں عدل و انصاف کی روایات جہاں بہت شاندار رہی ہیں وہاں کچھ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جن کا ذکر کرتے ہوئے شرمندگی کا احساس بھی اُبھرتا ہے۔ بلا شبہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز آئین و قانون، حقائق و شواہد اور ماضی کی عدالتی نظیروں کو سامنے رکھ کر فیصلے دیتے ہیں۔ ان فیصلوں سے کسی کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے ۔ ماہرینِ قانون اِن فیصلوں پر اُنگلیاں بھی اُٹھاتے رہتے ہیں لیکن ایک بات ضروری ہے کہ فیصلہ کرنے والے ججز کی غیر جانبداری اور انصاف پسندی پر کسی کو اُنگلیاں اُٹھانے کی جرات نہیں ہونی چاہیے نہ ہی عزت مآب ججز کے فیصلوں سے کسی طرح کے انتقام یا ضد کی بُو آنی چاہیے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسا ہو رہا ہے اس کی وجہ کیا ہے اس بارے میں جہاں ہمیں سوچنا چاہیے وہاں عزت مآب ججز کو بھی ضرور اس بارے میں تھوڑا سا تردد کرنا چاہیے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ مقدمات کی سماعت کے دوران عزت مآب ججز کے بعض ریمارکس جس طرح سامنے آتے ہیں یا میڈیا اُن کو جس طرح رپورٹ کرتا ہے اس سے کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں ، کچھ منفی تاثرات اُبھرتے ہیں اور پھر اُن کی بنا پر غیر ضروری تنقید شروع کر دی جاتی ہے اور عزت مآب ججز کی ذات کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال کا ضرور تدارک ہونا چاہیے اور یہ اِسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جہاں فیصلوں کے آئین و قانون اور عدل و انصاف کے تقاضوں پر پورا اُترنے کا تاثر گہرا ہو وہاں عزت مآب ججز کی شخصی عظمت ، اُن کی بُرد باری ، اُن کے تحمل اور اُن کی انصاف پسندی اور غیر جانبداری کا نقش بھی مضبوط ہو۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں ہیرو بننے کا عمومی رجحان پایا جاتا ہے ۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اکثر اپنے آپ کو بہت بلند مقام پر فائز اور دوسروں کو عیوب میں مبتلا سمجھتے ہیں ۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز میں یہ عمومی رجحان پایا جاتا ہے لیکن فیصلوں کی حد تک یا عدلیہ کی فعالیت کے لحاظ سے پچھلے چند برسوں میں اس طرح کی صورتحال سامنے آتی رہی ہے کہ جس سے اس عمومی رجحان کے اعلیٰ عدلیہ میں موجود ہونے کے اشارے ملتے ہیں۔یہاں نظریہ ضرورت کے تحت دئیے جانے والے فیصلوں کے بارے میں اعلیٰ عدلیہ میں پائے جانے والے عمومی تاثر کی مثال دی جا سکتی ہے کہ پچھلے چند برسوں سے اعلیٰ عدلیہ کے بعض ججوں کی طرف سے اس نظریے کے تحت فیصلے دینے کو ہدفِ تنقید ہی نہیں بنایا جاتا رہا بلکہ اس نظریے سے بری الذمہ ہونے کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن عملاً ایسا نہیں ہوتا رہا جو عزت مآب ججز نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کیلئے دفن کرنے کے دعوے کرتے رہے ہیں اُن کے بعض ایسے فیصلے سامنے آتے رہے ہیں جن سے یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ یہ فیصلے صادر کر کے نظریہ ضرورت سے بڑھ کر کسی کی ضرورت کو یا اپنی ضرورت کو پورا کیا گیا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ کے عزت مآب ججز مارشل لائوں کے ادوار میں PCO's پر حلف اُٹھاتے رہے ہیں؟ کیا یہ حلف اُٹھانا نظریہ ضرورت کے تحت دئیے جانے والے فیصلوں کے مقابلے میں زیادہ کم تر بات نہیں تھی ۔
یہاں عزت مآب جسٹس افتخار محمد چودھری جو طویل عرصے تک پاکستان کے چیف جسٹس کے منصب پر فائز رہے ہیں کی مثال دی جا سکتی ہے۔ عدالتی فعالیت ، از خود نوٹسسز ، اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کی عدالت میں طلبی ، اُن کی جوابدہی، سرزنش اور ڈانٹ ڈپت اور انصاف کی فراہمی کے بلند بانگ دعوے اور اسی طرح کی دوسری باتیں اُن کے حوالے سے جہاں یاد آتی ہیں وہاں اُن کے حوالے سے یہ بھی حقیقت ہے کہ اکتوبر 1999 میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو ختم کر کے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کیا تو اس کے خلاف سپریم کورٹ میں رِٹ دائر کی گئی جس میں سپریم کورٹ کے جن عزت مآب ججز نے جنرل مشرف کے حق میں فیصلہ دے کر جنرل مشرف کے حقِ حکمرانی کو جائز قرار دیا اُن میں جسٹس افتخار محمد چودھری بھی شامل تھے ۔ پھر جنرل مشرف نے پی سی او کا نفاذ کر کے اعلیٰ عدلیہ کے ججز سے از سرِ نو حلف لیا تو حلف اُٹھانے والے ججز میں عزت مآب جسٹس افتخار محمد چودھری بھی سر فہرست تھے۔ عزت مآب جسٹس افتخار محمد چودھری چیف جسٹس بنے تو اُن کی سربراہی میں عدالتی اور جنرل مشرف کی سربراہی میں حکومتی معاملات بین بین چلتے رہے اور کسی بڑے ٹکرائو کی نوبت نہ آئی ۔ بعد میں مارچ 2007 میں جنرل مشرف کسی بات پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ناراض ہوئے تو چیف جسٹس کواستعفیٰ دے کر اپنا منصب چھوڑنے پر مجبور کیا۔ جناب چیف جسٹس نے اس سے انکار کیا تو انہیں اُن کے عہدے سے معزول کر دیا گیا ۔سپریم کورٹ کے ایک لارجر بینچ کے فیصلے کی روشنی میںوہ اپنے عہدے پر بحال ہوگئے۔ نومبر 2007 کے اوائل میں باوردی صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی پلس کا نفاذ کیا تو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے کئی ججز اپنے گھروں میں نظر بند کر دئیے گئے ۔ اس پر ججز کی بحالی کی تحریک چلی اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے معذول ججز دوبارہ اپنے عہدوں پر دوبارہ بحال ہوگئے۔چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنی بحالی کے بعد عدلیہ کی فعالیت کو انتہا پر پہنچا دیا۔ انہوں نے جہاں عوامی مفاد کے معاملات سے متعلقہ از خود نوٹس کیسز پر جرات مندانہ فیصلے دئیے وہاں حکومتی اہلکاروں کی ڈانٹ ڈبٹ اور اُن کی سرزنش میں بھی کسی طرح کی کمی نہیں چھوڑی۔ مقدمات کی سماعت کے دوران اُن کے ریمارکس آج کل کی طرح اخبارات کی شہ سُرخیوں کی زینت بنتے رہے لیکن جب بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض کی طرف سے جناب چیف جسٹس کے صاحبزادے ارسلان افتخار پر اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے ملک ریاض سے کروڑوں روپے بٹورنے کے الزامات پر مبنی مقدمہ سامنے آیا تو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بقول ایک سینئر اخبار نویس ’’ارسلان کے ابو‘‘ بن گئے اور اُن کے عدل و انصاف کے سنہری تذکرے ہی نہیں بلکہ اُن کی ’’ہیرو شپ‘‘ بھی اس مقدمے میں دب کر رہ گئی۔
اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے ماضی قریب کی یہ تفصیل کچھ زیادہ خوش کن نہیں لیکن حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا اب عزت مآب چیف جسٹس محترم میاں ثاقب نثار اپنی درد مندی کا اظہار کرتے ہوئے یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم میرا کوئی سیاسی ایجنڈانہیں، ہماری نیت صاف ہے ، جس طرح چاہیں امتحان لے لیں تو پھر اُنہیں اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ سانچ کو آنچ نہیں ہوتی۔ قوم یقینا اُن کے ارشادات پر یقین کرتی ہے لیکن عدلیہ کے فیصلوں پر اگر کوئی رائے زنی ہوتی ہے یا اس پر کوئی منفی تبصرے سامنے آتے ہیں تو ادب سے یہ گزارش کی جاتی ہے کہ اسے بھی گوارہ کیا جانا چاہیے۔


ای پیپر