جوش کردار سے کھل جاتے ہیں
02 مارچ 2018 (20:16) 2018-03-02

تقدیرازل سے مذاہب عالم کا مرکزی موضوع رہاہے، قرآن کے مطابق ہرکمیونٹی کیلئے ہادی بھیجاگیا اورسب کی تعلیمات کا نکتہ ارتکازخدا وآخرت پرایمان اورعمل صالح تھاجسے کتاب برحق" دینـ" سے موسوم کرتی ہے تاہم تاریخی جبر دین کو جامد رسومات پرمبنی مذہب بنا دیا کرتاہے۔گمان اغلب ہے کہ تقدیرسے متعلق فرسودہ روایات دینی فکر کے بجائے مذہبی اسلوب کا نتیجہ ہیں ۔پارسیت یامجوسی وزرتشتی روایت کومورخین دنیا کا قدیم ترین مذہب قراردیتے ہیں ، بعینہ کہا جاتا ہے کہ دنیا کا کوئی مذہب ایسانہیں ہے جوتقدیرسے متعلق زرتشتی عقائدکی بھینٹ نہ چڑھاہو۔"خطباتـ" میں اقبال جرمن مورخ وفلسفی سپینگلرکا یہ الزام نوٹ کرتے ہیں کہ "اسلام کے فکری ڈھانچے پرمجوسی فکرکی چھاپ ہے" جوابالکھتے ہیں یہودیت و مسیحیت کے فلاں عقائدبھی توپارسیت کی چھاپ ہیں اور وہ کونسا عالمی مذہب ہے جو زرتشتی عقائدکی دست بردسے محفوظ رہا؟
فتح ایران کے بعدجب عرب وپارس کے دوفکری ،تہذیبی اورتمدنی دریا ہم رکاب ہوئے توفطری تھا کہ اس بحرسے باہم متجاوز ومتحارب لہریں اٹھتیں، سوجہاں اسلام نے بھولی بھٹکی تہذیب فارس کا قبلہ درست کیاوہاں کچھ خوش پوش فلسفوںکے آگے ڈھیربھی ہوا۔ایسا نہیں تھاکہ ان مرصع،مرقع، مقفٰی ، بحرتفحص اورصنعت و وضعیت سے بھرپورفلسفوں کے سوالات کا جواب دینے سے قرآن کا دامن خالی تھا، یہ فلسفے کچھ سیاسی سٹیک ہولڈرزکیلئے نفع بخش تھے، ان پرقرآن کی قلعی چڑھا ئی گئی۔ لہٰذا تیسری صدی ہجری جو فکراسلامی کی معراج ہے اسی میں فقہ، تفسیر اور حدیث کے علوم مدون ہوئے اور فلسفے کے پانچ schools) ( مرجۂ، جبریہ، قدریہ، معتزلہ اورالاشعریہ اسلامی علم الکلام(Islamic theology) کی اقلیم پرنمودارہوئے ۔مرجۂ کوفلپ ۔ کے ۔ہٹی اوردیگرمستشرقین تاریخ اسلام کا پہلا لبرل سکول قراردیتے ہیں ، تاہم معتزلہ اورالاشعری سکولز کا بھی تعلق ہماری موجودہ بحث سے نہیں ہے ہم جبریہ اور قدریہ مکاتب فکرپر بات کریں گے
پارسی تخیلات کا عظیم مظہرجبریہ سکول تھا،جس نے کہاسب کچھ دست قدرت نے طے کررکھا ہے انسان مجبورمحض ہے، امویوں نے لپک کراس طرح مصرع کو اچک لیا، اس سے بغاوت یا اپوزیشن کو کچلناآسان ہوگیاہزاروں جانوں کو تہ تیغ کرکے خداکے کھاتے میں ڈالنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا،جس فکرکی آب یاری ایمپائریا ریاست اپنے ذمہ لے وہ پھپھوندے کے عناصررکھنے کے باوجود پھلتی پھولتی ہے۔مفادپرست مذہبی طبقہ اہل اقتدارکا حاشیہ برداربن جایا کرتاہے مگر بسا اوقات خالص نیت سکالرزبھی رائج العام عوامی تصورکا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ رائج فکرکے خلاف صور پھونکنا امیران عزیمت کاکام ہوتاہے، باقیوں کیلئے رخصت ہے۔تو عجب نہیں! معتزلہ سکول کے صاحب کشاف امام زمخشری کے برعکس امام رازی نے قرآن کو جبریہ سکول کے چشمے سے دیکھااورقرآن کے اجتماعی نظم کے برعکس انفرادی آیات سے نظریہ جبرکوثابت کیا، خداکے حکم کے بغیرپتا تک نہیں ہلتا،بیشک اللہ ہرچیزپرقادرہے، کچھ رطب ویابس ایسا نہیں جس کا تعین کتاب مبین میں کرنہ دیا گیاہو، لوح محفوظ پرسب کچھ لکھا جاچکا، امام رازی اورامام غزالی کی قابل قدرتوانائیاں نئے سے نئے دلائل کی وضعیت میں صرف ہوئیں کہ انسان ماورالطبعی طورپرعمل کرتاہے، حقیقی عامل خداہے۔فطرتاًردعمل میںقدریہ سکول سامنے آیاجس نے کہا انسان اپنے عمل میں خودمختارہے، بحث گنجلک ہوئی تو ایک اموی خلیفہ نے تصوف اسلامی کے جدامجدجناب خواجہ حسن بصری کوخط لکھا کہ قول رسولؐ سے گتھی سلجھائی جائے۔خواجہ حسن بصری نے جواب لکھا اگرچہ ایسی حدیث رسولؐ نظرسے نہیں گزری جو قول فیصل ہو،تاہم اسوہ رسولؐ یہ بتاتاہے کہ آپؐ انسانی اختیار و ارادے کے قائل تھے۔ سواشعری سکول کے بانی امام ابولحسن الاشعری، مفسر قرآن امام رازی، حجۃ الاسلام امام غزالی کے کچھ حقیقی اور کچھ سیاق وسباق سے محروم تصورات ڈکٹیٹرزاورروایتی علما کی کاوشوںسے مسلم نفسیات میں ایسے پیوست ہوئے کہ ــ" عمل سے فارغ ہوا مسلماں بناکے تقدیرکا بہانہ"۔ایسی نابغہ روزگار شخصیتوں کے انقلابی افکارکو قالین کے نیچے دبانا ہماری آج تک اٹوٹ روایت ہے، مسلم برصغیرمیں شاہ ولی اللہ کے ساتھ یہی سلوک جاری ہے۔تاہم تقدیرسے متعلق قرآن کا بیانیہ کیاہے؟
مظاہرفطرت ہوں یاانسانی معاشرت میں کارفرما اصول قرآن بہ یک وقت سائنسی اورمذہبی دونوں اسلوب اختیار کرتاہے جوایک دوسرے کا مبدل نہیں بلکہ جزو لاینفک ہیں جہاں سائنسی زبان کا علت ومعلول کا سلسلہ ٹوٹتاہے وہاں مذہبی زبان ان سلسلوں کی غایت اولیٰ کا بیانیہ پیش کرتی ہے ۔ جب ٹھنڈی ہوا چلتی ہے تواس میں بارش کی نویدہوتی ہے، یہ بارش کون برساتاہے، بیشک وہ تمہارارب ہے، آیت کا پہلا حصہ سائنسی حقیقت جبکہ دوسرا مذہبی سچائی بتارہاہے، مظاہر ونظائرفطرت کی بیش بہا مثالوں سے قرآن کا دامن لبریزہے۔بعینہٖ افراد و اقوام کی ترقی و تنزلی کے سائنسی اٹل قوانین ہیں جو قرآن نے بیان کیے ہیں ۔ قرآن نے کہا اے پیغمبرآپ نے کبھی سوچا بھی تھا کہ آپ کو نبوت ملے گی۔یہ خداکی رحمت ہے تم پر، جب کفارنے کہا کہ کسی دولت منداوربااثرکو نبی کیوں نہ بنایاگیاتو قرآن کہتاہے تم کیسے نبوت بانٹتے پھرتے ہو، تمہاراخداجانتاہے کہ کس کونبی بناناہے، گویا نبوت جہاں رحمت خداوندی ہے وہاں کسی میرٹ کا بھی تقاضا کرتی ہے۔"جب ابراہیم پیغام حق کی بجاآوری میں آزمائش وابتلا سے سرخروہوئے تو ہم نے کہا،ہم آپ کوبنی نوع انساں کا امام بنائے دیتے ہیں ، بولا میری اولادکی بابت؟ فرمایا ظالموں سے ہماراکوئی وعدہ نہیں!" ا لحاصل ابراہیم نے خودکو کارکردگی کی بنیادپراس منصب کے اہل ثابت کیا، اوران کی اولاداگرظلم کی راہ اختیارکرے گی توصرف اس بنیادپرسرفرازنہیں ہوں گے کہ وہ اولادابراہیم ہیں ۔
قرآن خلقت عظیم (انسان)کی تخلیق کے چار مدارج (خلق، تسویہ، تقدیراورہدایت) بیان کرتا ہے۔ خلقت عدم سے وجودمیں لانے کا عمل ہے، تسویہ اس تخلیق عظمیٰ کوعیوب وزوائداورافراط وتفریط سے پاک کرنے کا عمل ہے نفس وفطرت انسانی اس پرگواہ ہے، تقدیررولزآف گیم ہیںجنہیں انسان اپنے نفس اورمظاہرفطرت پر غور و فکر سے سمجھ سکتاہے،مگراس کی جزباتیت ،اورسہل کوشی راہ کا پتھر ہیں اس لیے انبیاء کے ذریعے ہدایت کا اہتمام کیا ہے۔
حاصل کلام:ام الکتاب، لوح محفوظ یا کتا ب المکنون جس کا قرآن بھی ایک حصہ ہے دراصل استعارتاًوہ کتاب الٰہیہ ہے جوآئین کائنات وحیات وممات ہے،Natural cum social laws کا مجموعہ ہے جنہیں "الامر" سے موسوم کیا گیاہے۔حکم الٰہی کے بغیر پتا بھی نہیں ہلتا ، یا کوئی خشک وتر ایسا نہیں جس کا کتاب مبین میں ذکرنہ ہو جس کا مفہوم یہ ہے کہ ہر شے " الامر" کے طے کردہ قوانین کی پابند ہے ۔علم الآدم اسمائہا کلہاکا نعرہ لگاکرقدرت نے یہ علوم نفس انسانی کو روزآفرینش سے ودیعت کررکھے ہیں ، فرمادیاگیا ہے کہ جوکچھ آسمانوں اورزمینوں میں ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے انسان کیلئے مسخرکردیاگیاہے۔ جوکوئی جوش کرداروجذب وکیف سے سمجھنا چاہے گا تقدیرکے رازکھل کھل جائیں گے جوانسانی معاشرت کے بحرانوں اورظلم واستحصال پردل لہوسے بھرے گا، عالم الامر سے حصہ پائے گا،انبیا کا سللہ ختم ہوا ،پھربھی مشاہدے، تجربے اور(trial & error) کی سان پرمعروضی حقائق قلب سلیم پر کھلتے رہیں گے ،کوئی ابن خلدون بنے گا تو کوئی اسپینگلریا ٹوائن بی۔ جو مظاہرو نظائر فطرت پرغورکرے گا جابربن حیان، ابن الہیثم ،گلیلیو، نیوٹن اورارشمیدس بن کرابھرے گا ۔عالم الامرـیا لوح تقدیرپریہ لکھاہے "کہ انسان کوبقدرسعی ملے گا" ہرشخص کی سوانح عمری نہیں لکھ دی گئی، غالب نے کیا خوب کہا ہے"جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا"۔ جوش کرداراورندرت فکروعمل سے ہی کوئی سکندراعظم بنتاہے توکوئی تیمور!
راز ہے رازہے، تقدیر جہان تگ وتاز
جوش کردارسے کھل جاتے ہیں تقدیرکے راز


ای پیپر