تتلی سے چاہتوں کے زمانے نہیں رہے
02 مارچ 2018 (20:15)

بچپنے کا حسن تتلیوں کے تعاقب میں، غباروں میں، مٹی گارے میں مست ہو کر کھیلنے میں ہے۔ بچے کہاں کسی کی پروا کرتے ہیں، نہ ہی انہیں زیادہ دیر تک باندھ کر رکھا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے ارد گرد کی دنیا دیکھنا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔وہ بچہ نا سمجھ ہے،نا سمجھی میں ہی تتلیوں کے تعاقب میں اپنا نقصان کروا بیٹھتا ہے۔ گھر سے دور نکل جاتا ہے، بھلا مانس مل جائے تو گھر واپسی ورنہ ماں کو غم یوسف میں ڈال کر انجانی راہوں کا ہو لیتا ہے۔ درندوںکا کوئی مذہب نہیں ہوتا ،وہ تو بس ہوس اورلالچ کی آگ بجھانے کی فکر میں رہتے ہیں۔کسی کا گھر لٹے انہیں اس سے کب سروکار ہوا ہے۔مجھے یقین ہو چکا ہے کہ اب تتلی سے چاہتوں کے زمانے نہیں رہے ۔


ماضی میں بھی ہم بچوں کے اغوا بارے سنتے چلے آئے تھے ۔جو گداگری اور اس جیسے جرائم کا ایندھن بنانے کے لیے اٹھائے جاتے تھے۔ مگر اب کے تو کوئی اور ہی ہوا چلی ہے ، بات اغوا سے آگے نکل پڑی ہے۔ اغوا ، جنسی زیادتی اور پھر قتل۔ یہ بات سچ ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ہوتے تھے مگر زیادتی کے بعد قتل جیسے واقعات کی شدت میں اضافہ ،یقینا ریاست ،قانون اورمعاشرے کے کردار پر سوال اٹھا رہا ہے ۔ دوہزار سولہ میں سو بچے بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔ نوے فیصد سے زائد قاتل تاحال کھلے گھوم رہے ہیں ،یقینا اپنے شکار میں بھی مصروف ہیں۔ دوہزار سترہ کے ابتدائی چھ ماہ میں بھی سو کے لگ بھگ بچے بچیاں اسی درندگی کا شکار ہو کر جان سے گئے ۔ اسی فیصد قاتل نامعلوم ۔باقی جو پکڑے گئے ،گواہی نہ ہونے کی صورت میں آزاد۔ مگر زینب کے قتل پر پہلی بار پاکستان میں سائنسی بنیادوں پر کام کیا گیا ۔ مگر کیا قاتل کو قرار واقعی سز املی؟ اہم ترین سوال یہ بھی ہے کہ زینب کے بعد بھی کئی بچے اسی جرم کا شکار ہوئے۔ مگر ہماری حکومت ایک اکیلے عمران علی کی گرفتاری پر جو ڈھول پیٹ رہی ہے وہ کافی نہیں ہے۔ باقی بچوں کو بھی انصاف دلایا جائے ۔ یہ تسلیم کیا جائے کہ پاکستان کے ہر صوبے اور شہر میں بچوں کے ساتھ بد فعلی ہوتی ہے ،انہیں قتل کیا جاتا ہے، جو سنگین جرم ہے ،جس پر خاموشی جرم کی پرورش کا ذریعہ ہے۔والدین کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور خاموش بیٹھ کر اپنے لٹنے کا تماشا نہیں دیکھنا چاہیے۔ حکومتوں ، میڈیا ہاؤسز اور عام آدمی کو اسے این جی اوز کا ایجنڈا قرار دے کر اس سے چشم پوشی کرنا بھی ایک جرم ہی ہے۔عمران علی کے پہلے شکار کواگر پوری دیانت داری سے جانچا جاتا تو باقی کی ۸ بچیاں بچائی جا سکتی تھیں۔

بنے ہیں اہل ہوس،مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں ، کس سے منصفی چاہیں


بعض اوقات میں یہ سوچ کر ماؤف ہو جاتی ہوں کہ بطور انسان ہمارا کردار اتنی پستیوں میں کیوں گر رہا ہے؟ہم سوال اٹھانے والے واقعات پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں اور غیر ضروری معاملات پر لاشیں گرا دیتے ہیں۔ کہتے ہیں نا کہ دیگ کا ایک دانہ ہی اس کے ذائقے کا تعارف ہوتا ہے ۔اسی طرح ایک انسان کا غلط رویہ بھی پورے معاشرے کے کردار پر سوال کھڑا کر دیتاہے ۔یوں گہیوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے، پاکستانی معاشرے کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔ایک غلط کردار کہیں یا کچھ منفی کرداروں کی وجہ سے پوری کہانی گندی ہو رہی ہے۔ ہمارے بچوں کی معصومیت کو داغ دار کیا جا رہا ہے۔ ہم فقط تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔ اپنے بچپن میں جاؤں تو ایک بات پورے یقین سے کہتی ہوں ،ہم نے بہت محفوظ بچپن گزارا ہے ،ہمارے بچے غیر محفوظ ہیں۔ہمارے والدین، ارد گرد رہنے والے ہمسائے، ہمارے اساتذہ سبھی اپنی کم تعلیم کے باوجود باشعور تھے۔ عزت والے تھے اور دوسروں کی شرم کی حفاظت کرنا جانتے تھے۔


ہمارے ہاں بچوں کی بے حرمتی پر خاموشی کا رواج ہے۔ معصوم بچے جو اپنے ارد گرد کے افراد کے ہاتھوں جنسی زیادتی ،جس کو میں جنسی آلودگی کہتی ہوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ گھر والے خود ساختہ غیرت کا ڈھول گلے میں ڈال کر چپ کر جاتے ہیں،بات پھیلی تو بد نامی ہو گی ۔یہی معاشرہ عورت کی پسند کی شادی پر اسے ختم کر دیتاہے۔ معاشرے کا یہ دوہرا معیار ہی مجرم کو شہ دیتا ہے۔پھر وہ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا شکار کرتا چلا جاتا ہے۔ جنسی زیادتی کو چھپایا جانا اور پسند سے نکاح کرنے کو نا جائز قرار دینا ،کیا بچے ہماری غیرت کا حصہ نہیں ؟آخر یہ رواج کب ختم ہو گا؟بچے جو قوم کامستقبل ہیں،آج وہی داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔


قصور کی زینب اور اس سے پہلے درندگی کا شکار ہونے والی تمام بچیوں کا مجرم پکڑا گیا۔ ہم سب جانتے ہیں کب اور کیسے۔ اس کا جرم بھی ثابت ہو چکا ہے مگر اس کے باوجود اس کے خلاف فوری کاروائی کرنے کی بجائے ، سزائے موت، ایک بار عمر قید،سات برس کی قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی،جو میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ قید، جرمانہ اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں پھر قید اور اس کے بعد پھانسی، ساتھ میں اسے اپیل کا حق بھی دے دیا گیا۔ یعنی وہ بندہ اپنی طبعی عمر تو جی گیا۔ تاریخ شاہدہے کہ ایسے معاملات میں عدالتوں نے جرم ثابت ہونے پر بغیر کسی رعایت کے ،سزا پر فوری عمل درآمد کا حکم سنایا ہے ۔جس کا مقصد معاشرے میں اس جرم کی روک تھام تھا۔ جبکہ اخباروں میں اب بھی آئے روز کسی نہ کسی بچے کے ساتھ زیادتی کی خبریں عام ہیں۔عمران کو سزا ہونے کے بعد بھی اب تک بچوں کے ساتھ زیادتی کے کئی کیسز سامنے آئے ہیں۔ جو اس جانب اشارہ کرتے ہیں ،اے منصفوں جو کرنا ہے کر لو، ہم اپنا کام کرتے رہیں گے۔


عمران علی کے سزا بارے عوام میں ایک رائے تو مستحکم ہو رہی ہے کہ جرم ثابت ہونے اور عمران علی کے اعتراف جرم کے بعد اسے صرف اور صرف موت کی سزا سنائی جاتی جس پر عمل درآمد بھی سالوں بعد ہونے کی بجائے دنوں میں ہوتا۔ کیا اس درندے نے ان معصوم بچیوں کو کوئی رعایت دی تھی کہ جب تم اس عمر کو پہنچ جاؤ ،تب کچھ کروں گا۔ منصفوں کو اس حوالے سے غور کرتے ہوئے سخت ترین سز ا پر فوری عمل درآمد کرانا چاہیے۔
زینب کیس کے بعد ہمارے معاشرے میں اہم ترین تبدیلی یہ آئی کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی پر بحث شروع ہوئی ۔ لوگ بولنے لگے، سوال اٹھانے لگے۔ قلم کار بھی اٹھے،والدین کا کردار ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ بچوں سے پہلے ان کو یہ تعلیم دی جائے کہ اپنے بچوں کے پہلے محافظ آپ ہیں،اس کے بعد بچے، معاشرے اور استاد کی باری آتی ہے۔ اب شعور شمع روشن ہو رہی ہے،آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ تو وہیں ریاست بھی اپنا فرض ادا کرنے کی طرف بھر پور توجہ دے۔ایسے واقعات پر کڑی نظر رکھے اور جو کیس اس سے پہلے سامنے آ چکے ہیں ،ان کی مدعی بن کر انصاف کے تقاضے پورے کرے کیونکہ تاحال ہزاروں زینبیں انصاف کی منتظر ہیں اور لاکھوں عمران قانونی شکنجے کے ۔


ای پیپر