دائتورین بھی کمال لوگ ہیں
02 مارچ 2018 (20:14)

جاپانی بڑی دلچسپ قوم ہے‘بہت محنتی اور جانفشانی سے کام کرنے والی قوم۔اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپانیوں نے کیسے خود کو سنبھالا اور مسلسل ترقی کی جانب سفر جاری رکھا۔آپ جاپان میں کچھ دن گزاریں‘آپ کو تعلیم سے لے کر صحت تک کوئی ایسا ادارہ نظر نہیں آئے گا جہاں لوگ کام صرف پیسے یا اپنے مفاد ے لیے کرتے ہوں یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنے سرکاری اداروں کی نہ تو نجکاری کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی ادارے پی آئی اے کی طرح سخت خسارے میں ہے۔وہاں لوگ اپنے مفادات سے زیادہ اہمیت ملکی مفاد او ر نام کو اہمیت دیتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ دووسری جنگِ عظیم کے بعد بھی سٹیبلش ہو گئے اور آج اس ملک سے بھی بہت آگے نکل گئے جسے آزاد ہوئے ستر برس بیت گئے مگر ابھی تک ہم ہر میدان میں ترقی کی جانب رینگ رینگ کر چل رہے ہیں ۔دوسری جنگ میں سب سے زیادہ نقصان جاان نے اٹھایا اور وہ مکمل طور پر ٹوٹ گئے مگر انہوں نے ایک بات کا فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر دوبارہ ہم ایک زندہ قوم بن سکتے ہیں تو اس کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے تعلیم۔تعلیم کے میدان میں ترقی ہی ہمیں دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے قابل کر سکتی ہے۔اسی خیال کے پیشِ نظر انہوں نے تعلیمی میدان میں وہ کارہائے نمایاں کیے کہ دنیائے علم کے ساتھ ساتھ خود امریکہ بھی دنگ رہ گیا کہ یہ قوم دوبارہ مہذب قوم بن کر ابھری اور دنیا پر راج کرنا شروع کر دیا۔


بیسویں صدی کے آغاز میں انہوں نے جہاں کئی تعلیمی ادارے قائم کیے وہاں ٹوکیو میں مشرقی علوم کی واحد درسگاہ دائتو یونیورسٹی بھی قائم کی جس نے آگے چل کر ثابت کیا ملک کی باگ دوڑ میں دائتورین اپنا نمایاں کردار ادا کریں گے۔اور ایسا ہی ہوا‘دائتو یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والی قوم نے پورے جاپان میں اپنا لوہا منوایا۔ہمارے دوست پروفیسر مظہر دانش آج سے پندرہ سال قبل دائتو گئے اور بطور ریسرچ سکالر بھی کام کیا اور تدریسی فرائض بھی سرانجام دیتے رہے۔انہوں نے بہت قریب سے دائتو کے تعلیمی نظام کو دیکھا ۔آج سے تینس سال قبل جب وہ مستقل پاکستان واپس آئے تو منڈی بہائوالدین میں اپنا ایک ایسا ایجوکیشن سسٹم متعارف کروایا جو بالکل دائتو یونیورسٹی ی طرز پر تھا۔آج اس سسٹم کو تین سال گزر گئے ہیں ‘پچھلے ہفتے مجھے بھی انہوں نے دائتو سکول کے سالانہ پروگرام پر مدعو کیا اور مجھے یہ جان کر مزید حیرانی ہوئی کہ انہوں نے دائتو کے ساتھ ساتھ برصغیر کی معروف علمی و ادبی دانش گاہ اوری اینٹل (یونیورسٹی) کا نام بھی ساتھ لگایا ہوا ہے۔ سکول کا نام کچھ یوں ہے’’دائتو اوری اینٹل سکول آف ٹو مارو‘‘یعنی دائتوآنے والے وقتوں میں اورینٹل کالج بنے گا۔اب اوری اینٹل کی تعلیم کون نہیں جانتا۔اردو زبان و ادب کی تعلیم میں برصغیر سمیت پوری دنیا میں جس ادارے نے اپنا نام بنایا وہ بلاشبہ اوری اینٹل کالج ہے جو پنجاب یونیورسٹی کا حصہ ہے۔بلکہ یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ پنجاب یونیورسٹی خود اوری اینٹل کالج کا حصہ ہے‘کیونکہ پہلے اوری اینٹل کالج بنایا گیا اور اس کے کچھ عرصے بعد اس کے بطن سے پنجاب یونیورسٹی نے جنم لیا۔میرے سمیت ہزاروں ایسے اوری اینٹلسٹ ہیں جن کی زندگی اس ادارے نے بنائی۔برادر مظہر دانش بھی چونکہ اس ادارے سے پڑھے ہوئے تھے لہٰذا انہوں نے اپنے اسکول کے نام کے ساتھ اوری اینٹل کا لفظ بھی لگا دیا۔مجھے تقریب میں شرکت کر کے اس لیے بھی بے انتہا خوشی ہو رہی تھی کہ میں ’’ دائتورین ‘‘ اور ’’اوری اینٹلسٹ‘‘ سے مخاطب ہوں اور دانش نے یہ کام کر کے بلاشبہ اہلِ علاقہ پر احسان کیا۔


ہمارا المیہ یہ ہے کہ تعلیمی نظام پر ایجوکیشنسٹ کی بجائے بزنس مین قابض ہو گئے۔آپ اپنے ارد گرد نجی اداروں پر نظر دوڑائیں‘آپ خود میری بات سے اتفاق کریں گے کہ ان لوگوں کا مسئلہ کبھی بھی تعلیم یا طالب علم نہیں رہا۔ان کا ہمیشہ مسئلہ ذاتی مفاد اور پیسہ ہوتا ہے۔مجھے تقریبا دس سال ہو گئے پرائیویٹ سیکٹر سے وابستہ ہوئے اور اس تمام عرصے میں مجھے نوے فیصد تعلیمی اداروں کے ایسے مالکان نظر آئے جن کا مقصد ادارے کی زیادہ سے زیادہ شاخیں بنانا رہا۔انہیں کبھی اس بات سے واسطہ نہیں رہا کہ ہمارا تعلیمی نظام کس چیز کا متقاضی ہے یا ہمارے طالب علم ہم سے کس چیز کی توقع رکھتے ہیں ۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار تعلیم کا ہوتا ہے اور افسوس ہمارا تعلیمی نظام دولت اکٹھی کرنے والوں کے ہتھے چڑھ گیا۔اس کا نتیجہ کیا نکلا‘وہ ہم سب کے سامنے ہے۔اس سے بھی زیادہ اذیت کی بات یہ ہوئی کہ جہاں حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ سرکاری اداروں کو اس قابل بناتی کہ لوگ پرائیوٹ اداروں کا رخ بھی نہ کرتے مگر حیرت تب ہوئی جب حکومت خود اپنے تعلیمی اداروں کی نج کاری پر اتر آئی اور بزنس مینوں کو مزید فائدہ پہنچنے لگا۔سرکار کو فائدہ تو ہوا ہی مگر تعلیم کے نام پر غریبوں کو لوٹنے والوں کے ہاتھ بھی مزید مضبوط ہو گئے۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ اہم اپنے بچوں کے لیے تعلیمی اداروں کا انتخاب کرتے ہوئے یہ نہ سوچیں کہ اس ادارے کی شاخیں کتنی ہیں بلکہ یہ سوچنا ہوگا کہ اس ادارے کے مالکان کتنے پروفیشنل ہیں اور اس کے پالیسی میکرز میں کون کون آتے ہیں ۔جب اداروں کے سربراہان پروفیسر مظہر دانش جیسے لوگ ہوں گے تو اداروں کے نام سے لے کر تعلیمی پالیسیوں تک ‘اداروں کے مالکان تہذیبی اور تاریخی حقائق کو سامنے رکھیں گے۔وہ جانتے ہوں گے کہ اگر ادارے کے نام کے ساتھ دائتوں کا لفظ لگانا ہے تو اس کی تاریخ کیا ہے اور اگر اوری اینٹل کا لفظ لگانا ہے تو اس کی تاریخ کتنی تابناک ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ میرے اس عزیز دوست نے دائتو ادارہ بنا کر اہلِ علاقہ پر احسان کیا ‘اگر وہ چاہتا تو ساری عمر جاپان میں رہتا اور پیسہ اکٹھا کرتا مگر اس نے پیسہ سے زیادہ تعلیم کا سوچا اور اپنے ملک واپس آ کر تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی کوشش میں لگ گیا۔اب اس میں وہ کتنا کامیاب ہوگا یہ فیصلہ وقت کرے گا مگر ایک بات تو طے ہے کہ اگر ہم یہ سوچنے پہ لگ جائیں کہ یہ ملک ٹھیک ہو ہی نہیں سکتا تو واقعی کبھی نہیں ہوگا۔پہل کسی نے تو کرنی تھی سو اس مردِ مجاہد نے پہل کر دی اور ا ب اس کو آپ کا ساتھ چاہیے۔کھوکھلے نعرے لگانے والے تو بہت ہوں گا مگر کام کر کے دکھانے والا کوئی کوئی ہوتا ہے۔میں اسے سیلوٹ پیش کرتا ہوں کہ اس نے نعرہ نہیں لگایا‘کام کا آغاز کیا۔


ای پیپر