طبقاتی محرومی
02 مارچ 2018 (20:13)

کسی بھی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ معاشرے کے ہر طبقہ کے لیے روزگار مہیا کرے ۔عوام کے جان مال کی حفاظت کرے اور صحت کی سہولیات اور انصاف فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو پانچ سال ہونے کو ہیں ان پانچ سالوں میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بہت سارے کارنامے سرانجام دیے ہوں گے، مختلف طبقات کے لیے بھی اپنے فرائض سرانجام دیے ہونگے لیکن دوطبقے ایسے ہیں جہاں صوبائی حکومت نے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیاان طبقات میں معذور افراد اور لکھاری شامل ہیں اور بد قسمتی سے دونوں طبقات کومعاشرہ بھی حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے معاشرے میں رہنے والے افراد بھی ان دونوں طبقوں کو عزت دینے کے لیے تیار نہیں اور صوبائی حکومت نے بھی بے یارومددگار چھوڑا ہوا ہے۔ دنیا کی ہر شے اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے معرض وجود میں آئی ہے۔انسان چھوٹے قد کا ہو، خوبصورت ہو، بد صورت ہو یا ذہنی طور پر معذور ہویہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم ہے اور اللہ تعالیٰ انسان کو جس حال میں بھی پیدا کرتا ہے یہ اللہ تعا لیٰ کی حکمت ہوتی ہے۔ انسان کا معیار تقویٰ اور پرہزگاری پر ہونا چاہیے تھا مگر بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں معیار ظاہری شکل و صورت اوردولت کی کثرت پر رکھاگیا ہے۔ صوبے میں چھوٹے قد اور ذہنی طور پر معذور افراد کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ نہ ان کو ملازمت کے مواقع ملتے ہیں اور نہ ہی معاشرے میں ان طبقات کو وہ عزت اور وقار ملتا ہے جس کا وہ حق دار ہوتے ہیں۔ تعلیمی میدان میں بھی کوئی خاص ترجیح نہیں دی جاتی بلکہ احساس محرومیوں کا شکار ہو کر ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور لوگوں کے طنز اور مذاق برداشت کرتے رہتے ہیں خاص طور خواتین کے ساتھ جو استحصال ہوتا ہے وہ ناقابل برداشت ہے ان میں اکثریت تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہوتی ہے دوسرا ان خواتین کو گھروں سے وہ تربیت نہیں دی جاتی جن کا وہ حقدار ہوتے ہیں۔ گھروں میں رہ کر ہمیشہ وہ دوسروں کے رحم کرم پر ہوتے ہیں۔ انسان کو اپنی ذلت اور محرومیوں کا احساس تب ہوتا ہے جب وہ دوسروں کے رحم کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جہاں تک ملازمت کی بات ہے تو حکومت کی طرف سے 2 فیصد کوٹہ تو ضرور رکھا گیا ہے لیکن ان کی تعداد کے حساب سے یہ کوٹہ بہت کم ہے دوسرا ملازمت دیتے وقت کوئی شفافیت کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ اس لیے صوبائی حکومت کو چاہیے کہ معذور افراد کو خصوصی توجہ دیں ان کے لیے ٹریننگ انسٹیٹیوٹ بنائیںجہاں پر انہیں ذہنی اور جسمانی تربیت مل سکے۔ کوٹے میں اضافہ کرے، ان کے لیے مہینہ کا وظیفہ مقرر کرے تاکہ ان کا گزر اوقات بہتر طریقے سے ہو سکے۔ حکومت کے ساتھ ہمارے معاشرے میں رہنے والوں کی بھی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ معذور افراد پر طنز اور مذاق کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کریں اور زندگی کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے معذور افراد کی مدد کریں۔


دوسرا طبقہ لکھاری کا ہے۔ ادیب اور شاعر انسانی رویوں کی ترجمانی کے ساتھ بہترین نسل کو پروان چڑھاتا ہے مہذب، کشادہ نظر،روشن خیال اور متوازن معاشرہ کی تشکیل میں ادب کے کردار کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شاعر ہو ادیب ہو یا کوئی اور مصنف اس کا تعلق اسی آدم گری سے ہے ۔وہ معاشرے کی فکری ،جذباتی،اور عملی زندگی کا ترجمان ہوتا ہے اور معاشرے کے مسائل کو اپنے قلم کے ذریعے اجاگر کرتا ہے۔ کبھی آزاد نظموں کے ذریعے، کبھی شاعری او رکبھی آرٹیکل کے ذریعے معاشرے میں جاری بے انصافیوں اور عوامی مسائل کو برملا اظہار کرتا ہے۔ اپنی تاریخ، روایات اور تہذیب کو اپنے قلم کے ذریعے زندہ رکھتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو حکومت کو ان کی کمزوریوں کا آئینہ دیکھانے کے ساتھ اصلاح کرنے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں مگر انتہائی بدقسمتی کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صوبائی حکومت نے اس طبقہ کو کوئی ترجیح نہیں دی۔ ان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کا مزاج بن چکا ہے کہ ان کی خوشامد کی جائے یا دوسروں لفظوں میں حکمران طبقہ اپنے مزج کے خلاف بات برداشت نہیں کرتے اور لکھاری ہمیشہ حکمرانوں کی پالیسیوں کے خلاف سرگرم عمل ہوتا ہے۔ شاید اس لیے حکمران طبقہ ان کو پسند نہیں کرتا۔ ادب کے بغیر کسی مہذب معاشرے یا تہذیب انسانی کا تصور نا ممکن ہے۔ معاشرہ انسان کے مہذب اجتماع کا دوسرا نام ہے جس کی بنیاد یں مخصوص اجتماعی اقدار پر استوار ہوتی ہیں اور پوری معاشرتی عمارت تاریخی پس منظر ،معاشی افتاد اور سماجی بندھی میں بندی ہوئی ہے۔ لکھاری ان میں اینٹ گارے کا کام کرتا ہے ۔اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ان طبقات کے بہتری لیے ہنگامی اقدامات کرنے کے ساتھ معاشی طور پر بھی سپورٹ کرے۔ ان طبقات کے محرومیوں کا ازالہ کرے تاکہ خوشی کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔ خاص طور پر معذور افراد جو پہلے ہی احساس محرومی کا شکار ہوتے ہیں اگر حکومت بھی ان کی مدد کرنے میں غفلت کا مظاہرہ کریتو ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔حکومت کو ہر حال میں ان کی مدد کرنی چاہیے۔


ای پیپر