لوٹ کے بدھو گھر کو آئے
02 مارچ 2018 (20:12)

دیرینہ دوست انجم ضیاء کے بھائی عدم سدھار گئے۔ جانا ضروری ٹھہرا حالانکہ حد رجہ مصروفیات نے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ وہ مجھے یاد تو آتا ہے مگر کام کے بعد والی صورت حال تنی ہوئی تھی۔ سواری کی سہولت تو موجود تھی مگر ہم تو کوئی اچھے ڈرائیور ثابت نہیں ہوئے تھے۔ویسے بھی زندگی میں ڈھنگ کا کوئی کام ہم سے ظہور پذیر نہیں ہو سکا۔ یہ لکھنے لکھانے اور پڑھنے پڑھانے کا شغل نہ ہوتا تو ہم کب سے جاہلیت کی حدوں کو چھو چکے ہوتے۔ لہٰذا ہم نے ڈرائیور مستعار لے کر ارادہ سفر بلکہ اذن سفر باندھا۔ ہمیں شیخوپورہ کی طرف جانا تھا۔ میری کم علمی کی انتہا تو یہ کہ میں شیخوپورہ کی تاریخی حیثیت اور مقام سے بالکل نا بلد تھا۔ جب سے موٹر وے بنی ہے اس وقت سے لوگ اس کی دیدسے محروم ہیں۔ ان میں ایک میںبھی شامل ہوں۔ میں نے شیخوپورہ کا لفظ پہلی دفعہ احمد ندیم قاسمی کے افسانے ’’ سفارش‘‘ میں پڑھا تھا۔ میںیہ بات آپ کے گوش گزار کرتا چلوں کہ اگر یہ افسانہ انٹرمیڈیٹ کے اردو کے سلیبس میں شامل نہ ہوتا تو شاید اسے پڑھنے کی کبھی جسارت نہ ہوتی اور میں احمد ندیم قاسمی کے افسانہ نگاری میں دیہاتی پہلوؤں اور سماجی و معاشرتی عکاسی سے بالکل محروم رہ جاتا۔ سفر کے دوران پہلا ٹول پلازہ ہمیں پتو کی شہر میں داخل ہونے سے پہلے ادا کرنا پڑا۔ لہٰذا میں نے بالترتیب گاڑیوں کے ریٹس کے اعتبار سے مبلغ پنتیس روپے نصف جن کے ساڑھے سترہ روپے ہوتے ہیں ادا کر کے رسید وصول فرما لی۔ حضور میں عرض کرتا چلوں پاکستان میں ’’ٹول ٹیکس‘‘ وہ واحد ادارہ ہے جس میں صارف کرپشن نہیں کر سکتا۔ ( ادارہ یا محکمہ خواہ خود جتنی مرضی کرپشن کرے) ہم رسید وصول کر کے روڈ کے دونوں اطراف پھیلی ہوئی خوبصورت و نفیس نرسریوں کا نظارہ کرنے لگے۔ پتوکی کی پھولوں اور پودوں کی نرسریاں پورے ایشیا میں اپنی ایک خاص حیثیت رکھتی ہیں۔ اور ملک کا نام روشن کررہی ہیں۔ سفر گزرتا گیا اور ہم ’’بابو صابو‘‘ انٹرچینج پر جا پہنچے ۔ لہٰذا ہم نے کڑی سکیورٹی اور نگرانی میں پورے اڑتالیس روپے کی رسید ہاتھ میں تھام کراور اپنا سا منہ لے کر چپ چاپ چل دیے۔ یعنی کہ مقصد یہ تھا کہ یہ موٹر وے آپ کے دادا جی نے نہیں بنائی جو منہ اٹھا کر آپ اس پر سفر کرو گے۔ ہم ( محمد انور طاہر، غلام محی الدین اجمل اور دوست ڈرائیور بٹر) کچھ راستے چپ گڑپ سے رہے۔ اب ہمیں موٹر وے چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑا تھا۔ موٹروے چھوڑنے سے پہلے ہم نے اپنے ذمے واجب الادا رقم ادا کی اور رسید واپس کر کے موٹر وے کا شکریہ ادا کیا اور نیچے اتر گئے۔ ابھی اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ گرفتار ہو گئے۔ اگلے روڈ کاراستہ لینے سے پہلے پھر ٹول ٹیکس آ گیا اور ہم پورے اٹھائیس روپے دے کر شیخوپورہ ، فیصل آباد روڈ پر آ گئے۔یعنی اس روڈ کی منہ دکھائی فقط اٹھائیس روپے تھی جو موٹروے سے خاصی سستی ٹھہری۔ مگر چاند اور چراغ کی روشنی سے تو آپ خاصے واقف ہیں۔ یہ روڈ بتا رہا تھا کہ اگر آپ کو شیخوپورہ سے فیصل آباد جانا ہے تو آپ کو پورا سو کلو میٹر سفر درکار ہے ۔ ہمیں چونکہ اس پر صرف پندرہ کلومیٹر سفر کرنا تھا اور ہماری جائے مقام ہماری دسترس میں آ جانا تھی۔ ابھی ہم نے چند کلومیٹر سفر ہی کیا تھا کہ ایک اور ٹول پلازہ ہمیں بڑی تمکنت کے ساتھ نظر آیا۔ جو مسلسل گھورے جا رہاتھا اور بتانے کی کوشش میں تھا کہ یہ سڑک بھی آپ کی نہیں ہے۔ لہٰذا ہم نے چپ چاپ بیالیس روپے ’’سپرد آب‘‘ کیے اور چل دیے۔ شوگر لیول جو ہلکے سے ناشتے کی وجہ سے کم ہو رہا تھااور کم ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد جائے فوتیدگی‘‘ پر پہنچ گئے ۔ گاڑی کا میٹر چیک کیا تو ہم نے پوری ایمانداری اور دیانت داری سے ایک چھیانوے کلومیٹر سفر طے کیا تھا۔ اور پورے ایک سو ترپن روپے ٹال ٹیکس کی مد میں ادا کیے تھے۔یک طرفہ ’’ٹول ٹیکس‘‘ روداد کے بعد واپسی کی روداد بھی یقین جانیے! پوری ایمانداری کے ساتھ ایسی ہی ہے۔ ( ایسی ہی ہونی تھی تبدیلی اتنی جلدی نہیں آتی)


جناب من! یہ ایک کار کا ٹیکس تھا جو سب سے چھوٹی گاڑی کا ٹیکس ہے۔ کار کے بعد ویگن ، بس ، ٹرک اور ہیوی گاڑیوں کا ٹیکس سینکڑوں کی فگر میں ہے۔ یہ ٹیکس ہماری زندگی میں پائی جانے والی ایک سہولت پر ہے۔ ہم تو زندگی میں سانس لینے سے لے کر خارج کرنے پر بھی ٹیکس دیتے ہیں۔ ہم پیدا ہونے سے لے کر مرنے پر بھی ٹیکس دیتے ہیں۔


ہم تو کفن کے کپڑے سے لے کر قبر تک ٹیکس دیتے ہیں مگر اتنی ٹیکس ادائیگی کے بعد بھی ہمیں ناقص خوراک، آلودہ پانی، گدھے کا گوشت، گندے پانی کی سبزیاں ، جعلی ادویات، جعلی مشروب، مہنگے ڈاکٹرز، مہنگی تعلیم، نا خالص گھی، لاقانونیت اور کرپشن ملتی ہے۔ ہمارے ٹیکسوں سے ساڑھے چار ارب کی کرپشن ڈاکٹر عاصم کے ذمے نکلتی ہے۔ عمران خان کے ذریعے تین سو ارب کی کرپشن نواز شریف کے ذریعے نکلتی ہے۔ اس کے علاوہ کامران ٹیسوری الگ سے موجود ہیں۔ ایان علی کے ذریعے منی لانڈرنگ ہوتی ہے۔ عقل کے اندھو ، جاہلو ،یہ پیسہ ہمارا ہے۔ ہم روز ٹیکس دیتے ہیں۔ ہم روز پٹرول پر ایک لٹر کی صورت میں پنتیس روپے کی مد میں ٹیکس دیتے ہیں۔ ہوش کے ناخن اگر ہم نے ابھی بھی نہ لیے تو کوئی حکومت کوئی حکمران ہمارا خیال نہیں کرے گا۔ ہمیں خود فیصلہ لینا ہو گا کہ کون بہتر ہے اور کون کرپٹ ہے۔ کون انسانیت کے مرتبے پر فائز ہے اور کون کرپشن کے عہدے پر فائز ہے۔ میرے عزیزہم وطنو ! ابھی بھی وقت ہے صبح کا بھولا شام کو گھر آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ چلیں اگر ہمارے زندگی میں شام آگئی ہے تو کوئی بات نہیں مگر ہماری نسل درنسل نو کی زندگی میںشام نہیں آنی چاہیے۔ ٹیکسوں کی آمدنی ہماری آمدنی ہے اور اس آمدنی پرہمارا حق ہے۔ اور ہم پنا حق کیوں کرپشن اور کھلواڑ کی صورت میں کرپٹ لوگوں کو دے رہے ہیں۔ آئیے سوچیے ابھی وقت ہے اور یہی سوچنے کے لیے موزوں اور مناسب وقت ہے۔ ابھی فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر اب ہم شام کو آ جائیں گے تو بھولا نہیں کہلائیں گے۔ اگر اپنے ہی گھر کو آئیں گے تو بدھو کہلائیں گے۔ ’’اور بدھو ہماری طرح لوٹ کے شام کو گھر ہی آتے ہیں‘‘ جیسے ہم آئے تھے۔ تھوڑا بہت تلخی حالات پر کڑھے اور صبح پھر اپنے کام میں جت گئے۔ اللہ اللہ خیر سلا۔


ای پیپر