نواز لیگ نواز شریف کی ہی رہی
02 مارچ 2018 (15:36)

مسلم لیگ ن ایک بار پھر بحران سے نکل آئی۔ نواز شریف کو پارٹی عہدے پر نااہلی سے متعلق عدلیہ کا فیصلہ عملی شکل نہ اختیار کر سکا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بھائی کو جگہ تو دی لیکن وہ بدستور پارٹی کے قائد رہیں گے لہٰذا یہ پارٹی نواز شریف کی ہی رہے گی۔ یہ صرف بڑا فیصلہ ہی نہ تھا بلکہ سیاسی مستقبل کیلئے بہت اہم بھی تھا ۔یہ ایک بڑی سیاست بھی تھی۔


سپریم کورٹ نے نواز شریف کو پارٹی صدارت کیلئے نااہل قرار دینے کے ساتھ ان کے تمام فیصلوں، اقدامات اور نوٹیفکیشنز کو غیرقانونی قرار دئے تھے۔ نواز لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ نے منگل کو شہباز شریف کو پارٹی صدر منتخب کرلیا اور نواز شریف کو تاحیات قائد بنادیا،شہباز شریف کو مستقل صدر بنانے کی منظوری ن لیگ کے جنرل کونسل اجلاس میں دی جائے گی۔ نواز لیگ کے اس فیصلے کے اندر دو تضادات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔شہباز شریف اداروں کے درمیان محاذآرائی سے دور رہنے والے ہیں جبکہ نواز شریف کا بیانیہ اس کے برعکس ہے۔ شہباز شریف کے لئے یہ امتحان ہوگا کہ وہ اپنے قائد کی بات بھی مانیں۔


مسلم لیگ نون کی سربراہی بظاہر شہباز شریف کے پاس آگئی ہے۔ لیکن حقیقی اختیارات بھی تک میاں نواز شریف کے پاس ہی رہیں گے جنہیں تاحیات پارٹی کا قائد چن لیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے باوجود وہ پارٹی کے معاملات میںحاوی رہیں گے۔ عدالتی فیصلے کے بعد پارٹی قیادت میں یہ تبدیلی قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ضروری تھی۔کسی اور کو یہ منصب دیا جاتا تو پارٹی کے اندر دھڑے بندی کا خطرہ تھا۔ ضیاء دور میں اسٹیبلشمنٹ نے دو پارٹیاں بنائیں۔ ایک نواز لیگ دوسری ایم کیو ایم۔ جب ایم کیو ایم کا رول باقی نہیں رہا تو اس کے خلاف آپریشن ہوا اور وہ آج دھڑے بندی کا شکار ہے۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ تمام تر کوششوں کے باوجود نواز لیگ کی تاحال دھڑے بندی نہیں کر سکی ہے۔ اس کی وجوہات ایک سے زائد ہیں۔


شہباز شریف کا ملکی امور اور حالیہ تضاد کو دیکھنے کا نقطہ نظر وہ نہیں جو میاں نواز شریف کا ہے۔ شہبازشریف کی سوچ کا عکس ان کے پتوکی کے جلسے سے بھی ملتا ہے۔ شہباز شریف نے عمران خان پر تنقید کی اور اپنے ترقیاتی کام گنوائے۔انہوں نے نہ نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلوں پر کوئی بات کی ، نہ اداروں کے حوالے سے کوئی سخت بیان دیا، نہ ہی محاذآرائی کی بات کی بلکہ صرف اپنے ترقیاتی کاموں کی بات کی ۔ وہ بھلے اس طرح پالیسی رکھیں۔ لیکن پارٹی کے قائد کے طور پر ان کے بڑے بھائی کا سایہرہے گا۔ ایک اور دقت یہ بھی ہوگی کہ نواز شریف کا بیانیہ عوامی اور مقبول ہو چکا ہے جس سے شہباز شریف یا اداروں سے محاذ آرائی نہ کرنے کا حامی آنکھیں نہیں چرا سکتا۔ صرف اتنا ہی نہیں ۔ مریم نواز بھی اب ایک لیڈر کے طور پر ابھری ہیں ۔ وہ بہرحال آنے والے وقت میں یا بوقت ضرورت میدان میں آسکتی ہیں۔مریم نواز نے ایک نیا کیڈر پیدا کیا ہے۔ان کے مقبول لیڈر کے طور پر ابھرنے سے شہباز شریف پر فرق پڑا ہے۔ مریم نواز سے مختلف سوچ رکھنے والے بھی مانتے ہیں کہ ان کے لہجے، حکمت عملی اور زبردست کوششوں نے پارٹی میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔


جب میاں نواز شریف کو وزارت سے ہٹایا گیا اس وقت شہباز شریف پارٹی کے اعلیٰ منصب کے قریب تھے۔ لیکن انتخابی قوانین میں ترمیم کے ذریعے بڑے میاں صاحب پارٹی کے عہدے پر بحال ہو گئے۔ عدالت کے حالیہ فیصلے نے ایک مرتبہ پھر صورت حال تبدیل کردی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ شریف خاندان کی کلی طور پر شہباز شریف کو حمایت حاصل ہے اور وہ مکمل یا کلی طور پر خاندان کے نمائندہ ہیں۔ ایک تضاد بہرحال موجود ہے، جو کسی طور پر حل نہیں ہو رہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق احتساب عدالت کے امکانی فیصلے کے بعد مزید شدت اختیار کرے گا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ نواز شریف نے پارٹی کی صدارت میاں شہباز صاحب کے حوالے تب کی ہے جب ان کی صاحبزادی بطور لیڈر اپنی حیثیت منوا چکی تھی۔


شہباز شریف کو پارٹی صدارت اور آئندہ انتخابات جیتنے کی صورت میں وزارت عظمیٰ کے منصب کا موقع مل جائے گا۔ شہباز شریف صوبے میں اچھے منتظم ثابت ہوئے ہیں ضروری نہیں کہ وہ قومی سطح پر بھی اچھے لیڈر ثابت ہوں۔ وہ کوئی ایسا کرشماتی یا مقبول لیڈر نہیں جو اپنے بھائی کے بغیر انتخابات جیت سکے۔ خاص طور پر جب دوسری طرف ان کے بڑے بھائی اور بھتیجی زیادہ مقبول ہوں۔


شہباز شریف کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔ جب پارٹی کی صفیں دو متوازی رجحانات کے ساتھ ہوں اس صورت حال میں انہیں نہایت ہی خبرداری سے چلنا پڑے گا۔ ایک طرف محاذ آرائی کی پالیسی ہوگی دوسری طرف ان کی مصالحت کی ۔پارٹی کے رہنما کو یقین ہے کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی انتخابات جیتنے کے لئے ضرورت پڑے گی۔ صرف ترقیاتی کام جو شہباز شریف نے پنجاب میں کرائے ہیں وہ انتخابات جیتنے کے لئے ناکافی سمجھے جارہے ہیں۔


نواز شریف کی مزاحمت اور عوام میں مقبولیت اپنی جگہ پر پارٹی کو ایک اور سنجیدہ چیلینج درپیش ہے۔ سپریم کورٹ نے جب نواز شریف کے بطور پارٹی کے صدر کئے گئے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے پارٹی کو سینیٹ کے انتخابات سے باہر رکھنے کی کوشش کی ۔لہٰذا سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی پارٹی کی یہ توقعات پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔ نواز لیگ کے امیدوار آزادانہ حیثیت سے انتخابات لڑ سکتے ہیں اور بعد میں کوئی بھی پارٹی میں شمولیت کر سکتے ہیں۔ انتخابات جیتنے کے بعد کتنے پارٹی کے وفادار رہیں گے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔


شہباز شریف کو پارٹی کا صدر بنایا گیا ہے لیکن اس سے پارٹی کے اندر مقتدرہ ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اب نواز شریف پارٹی کے قائد ہیں۔ ممکن ہے کہ آئندہ چند ماہ میں تب معاملات تبدیل ہوں جب نواز شریف کے خاندان کو سزا ملے گی۔ نواز شریف اقتدار میں بھی ہیں اور اپوزیشن میں بھی۔ وہ مظلومیت اور ہمدردی کا ووٹ بھی لیں گے اور پنجاب میں ترقی کا بھی۔ پہلے قبل از وقت انتخابات کرانے کی بات کی جارہی تھی۔ کیا اب یہ کوشش کی جائے گی کہ انتخابات کو آگے لے جایا جائے؟ ۔ تاکہ نواز لیگ اور شریف خاندان کے اندر کے تضادات مزید ابھر کر سامنے آسکیں۔


ای پیپر