نیب کو ایک مسعود محمود کی تلاش
02 مارچ 2018 (15:35) 2018-03-02

نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو جسے نیب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہوئے 20 سال ہونے کو ہیں اس کا رعب اور دبدبا اس کی اصل طاقت ہے۔ اس ادارے کے چند ایک سربراہوں کو چھوڑ کر اکثر سربراہوں کا کردار کافی سوالیہ رہا ہے۔ جس کے بارے میں مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی نے توہین عدالت کی سزا بھگتنے کے بعد 28 فروری کو رہائی پائی ہے، وہ تو اپنے نظریے میں ایک مضبوط آواز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نہال نے جیل سے باہر قدم نکالتے ہی پاکستان زندہ باد، میاں نواز شریف زندہ باد، جمہوریت زندہ باد کے نعرے خود لگائے ۔ وہ نواز شریف کے بیانیے کی مضبوط آواز محسوس ہوئے۔ نہال ہاشمی نے بابا رحمت سے بھی مکالمہ کیا اور انہیں بتایا کہ آپ نے سزا دی ۔ میں نے اپیل کی مگر آپ نے نہیں سنا۔ یہ گلہ درست ہے سزا مکمل ہونے تک اگر اپیل نہیں سنی جاتی۔ یہی تو نواز شریف کا بیانیہ ہے۔ ماضی کے لہجے میں نہال ہاشمی بولے اور کہہ ڈالا سب کو اپنا اپنا کام کرنا چاہیے۔ یہیں سے تو مسائل شروع ہوتے ہیں۔ اگر جابر سطان کو خوش کرنے کے لیے جسٹس منیر انصاف کا خون نہ کرتے تو کسی اور بابا رحمت کو جابر سلطان کے لیے نظریۂ ضرورت نہ دینا پڑتا۔ مگر اب ماضی دفن ہو چکا مگر کچھ لوگ ماضی میں ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں۔ اب ایک اور چیمپئن ادارہ ہے جس کی بنیاد رکھتے ہوئے آئین دشمن مشرف نے اس کی بنیاد ہٹلر کی گسٹاپو کی طرز پر اٹھائی تھی ۔ خاص طور پر ایک وزیر اعظم اور منتخب وزیر اعظم یہ پوچھ نہیں سکتا آخر تم نے کس کی اجازت سے کارگل کا کھیل شروع کیا۔ وزیر اعظم ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھیوں تک سے مشاورت نہیں کی ۔ کوئی کمیشن نہ بننے دیا۔ وزیر اعظم نواز شریف کو مشرف کے ساتھیوں نے جس تذلیل کے ساتھ اٹھا کر کوٹھری میں پھینک دیا ۔ یہ بھی ماضی کے قصے ہو گئے ۔ 12 اکتوبر کے بعد مشرف کے حکم پر کئی ن لیگی لیڈر تو ایسے تھے جن کو نازیوں کے قیدیوں کی طرح قید میں ڈال کر بھول گئے۔مشرف کی طرح ضیاء الحق نے بھی جبر کی ایک تاریخ لکھی تھی اس نے بھی بھٹو کو ٹھکانے لگانے کے لیے ایک مسعود محمود وعدہ معاف گواہ چنا تھا جس نے مارشل لاء کے زیر سایہ طوطے کی رٹ لگائی۔ اس وقت بھٹو کے خلاف ضیاء الحق کو ولی خان ، مفتی محمود اور میاں طفیل محمد مل گئے تھے مگر آج بھی کھیل وہی ہے مسعود محمود کی تلاش ٹرپل ون بریگیڈ کے سربراہ جنرل چشتی نے کی ۔ مگر آج مسعود محمود کی تلاش کے لیے ریٹائر جج کو چنا ہے۔ جس شخص کو وزیر اعظم نے چنا تھا کہ وہ انصاف سے کام کرے گا، چیئر مین نیب کو اپنے ادارے کے لوگوں کی طرف سے پہلے دیکھنا چاہیے جن کی رگوں میں نومبر 99ء سے لے کر پلی بار گیننگ کے قانون پر پابندی تک دولت کی خوشبو دوڑ رہی تھی۔ نہال ہاشمی نے عزت ماآب جسٹس (ر) سے سوال کیا ہے کہ نیب کے افسروں کے گھروں میں چھاپا مارا جائے تو ملک کی آدھی دولت ان کے گھروں سے برآمد ہو گی۔ اب نیب کا اداروہ کھل کر ایک ایجنڈے کی راہ لے چکا۔ الیکشن سے پہلے مرکزی حکومت اور پنجاب حکومت کو ناکارہ بنانے کا عمل شروع ہو چکا۔ چیئرمین نیب کو معلوم ہے اسے کس طرح کام کرنا ہے۔ محترم جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سپریم کورٹ کے ہوئے بہت سے فیصلے دیے ہیں۔ وہ لاپتہ افراد کا معاملہ کیوں انجام نہ پہنچا سکے۔ چیئر مین نیب ایک آمر کے بنائے ہوئے ادارے کو مہذب انداز سے نہیں چلا پا رہے۔ یہی وجہ ہے پنجاب میں افسروں کی گرفتاری سے ڈرا دھمکا کر وہ کون سا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔کیا یہ سب کچھ اس ایجنڈا کا حصہ ہے جس کے ذریعے عمران خانکے لیے راستے ہموار ہو سکیں۔ آخر اس ادارے کے اندر بھی تحریک انصاف کے حامی بیٹھے ہیں۔ یہ الزام تو ایک ایسی جماعت لگا رہی ہے جو مرکز اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں حکمران ہے۔ یہی وجوہات ہیں جن کی بنا پر پنجاب اسمبلی نے نیب کی کارروائیوں کے خلاف ایک قرار داد منظور کی ہے ۔ یہ قرار داد درست ہے یا غلط البتہ اس پر تحریک انصاف اور عمران خان نے شدید احتجاج کیا ہے۔ یہ قرار داد پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ نے پیش کی ۔ قرار داد میں سخت مؤقف اپنایا گیا ہے جس میں نیب کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ نیب اب تلاش کیا کر رہی ہے، یہ کام کرنا تھا تو بہت پہلے کرتی اب جو کچھ ہو رہا ہے مسلم لیگ (ن) اس کو پری پول رگنگ میں تصو ر کرتی ہے۔ حکمران محسوس کرتے ہیں کہ نیب کے تیز دانت نکالنے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ کام وہ دستور پاکستان کے مطابق کرنا چاہتی ہے کیونکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد احتساب صوبائی چیپٹر بن گیا ہے مگر حیران کر دینے والی بات تو کپتان کا حالیہ کردار ہے کیونکہ عدالتوں کی طرف وہ کسی اشارے سے ہی گئے ہیں۔ کیونکہ دھرنوں سے انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا اور ہو بھی نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف کو شکنجے میں لیے بغیر تحریک انصاف 2018ء میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ کپتان کو یقین کسی نہ کسی نے ضرور دلایا ہے کہ آپ کی مدد ہو گی پھر ہو کیا رہا ہے۔ پانامہ ایشو کو ہی لے لیجیے کسی درخواست گزار کی طرف سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا مگر سارا بوجھ تو دوسری جانب ڈال دیا گیا۔ آپ ہی خود کو پاک صاف ثابت کریں مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ پھر اب تک جو کچھ ہو چکا ہے، اس کا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوا البتہ کچھ اداروں پر سوال ضرور اٹھنا شروع ہوا۔ البتہ کچھ اداروں پر سوال ضرور اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ نواز شریف کے ہاتھ سے وزارت عظمیٰ گئی۔ پارٹی کی صدارت بھی گئی۔ اب چھوٹے بھائی کو بھی ’’ڈان‘‘ کیا جا رہا ہے مگر ڈان ثابت کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو لانا ، دکھانا پڑے گا۔ مگر کپتان احد چیمہ سے توقع رکھتے ہیں جس طرح 1977ء میں بھٹو کے خلاف ایف ایس ایف کے سربراہ مسعود محمود نے بھٹو کی کارگزاریوں کا ’’کچا چٹھا ‘‘کھولا تھا، اسی طرز پر اس عہد کا کوئی نہ کوئی اور کہیں نہ کہیں مسعود محمود نظر آ جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو کیا ہو گا؟ یہاں تو معاملہ ہی ’’یوٹرن‘‘ لے چکا۔ کپتان عدالت عظمیٰ سے صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ لے چکے، اب تو بنی گالہ کا بھی کھاتہ کھل گیا۔ وہی معاملہ پانامہ والا اب کپتان کے محل کا نقشہ بھی جعلی نکل آیا۔ خبریں لیڈ سٹوری کی صورت میں نہیں آئیں۔ جعلی ڈاکٹریٹ کی ڈگری والے وکیل اب بنی گالہ کے جعلی سرٹیفکیٹ کا ملبہ بھی (ن) لیگ کے پٹواریوں پر ڈال رہے ہیں۔ پنجاب ہاؤس میں نواز شریف نے خوشگوار موڈ میں تبصرے کیے۔ کچھ شعر بھی سنائے۔ کپتان کے لیے پریشانی کی بات تو یہ ہے کہ 5 سال تک ان کی صوبائی حکومت کی کارکردگی بہت اچھی نہیں ہے۔ چند ماہ کی حکومت رہ گئی۔ کرپشن کی خبروں سے وزیراعلیٰ پرویز خٹک پریشان ہیں۔ ایسے ماحول میں جب کپتان سارا تکیہ عدالت عظمیٰ سے کیے بیٹھے ہیں، انہیں الیکشن کی تیاری کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے کھاتے میں کچھ نہیں۔ جب نواز شریف نے پارٹی قیادت بھی نہیں چھوڑی وہاں بھائی مسلم لیگ (ن) کے صدر بن گئے۔ شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف سے اختلاف ضرور رکھتے ہیں مگر اُن کی سیاست کا مرکز نواز شریف ہی ہیں۔ کچھ دانش وروں کو خیال تھا کہ نواز شریف کے ہٹتے ہی وہ سیاست بھی چھوڑ دیں گے۔ نواز شریف پارٹی کے تاحیات رہبر ہیں مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ نواز شریف سرگودھا کے کوٹ مومن گئے۔ پارٹی کے ایم پی اے کے اچانک انتقال سے تعزیت بھی کرنی تھی۔ وہاں سابق وزیراعظم نے کھل کر اپنے اسی بیانیہ کو جاری رکھا جس کی وضاحت عزت مآب چیف جسٹس کئی بار دے چکے اور قسم کھا کر دے چکے کہ اُن کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں مگر یہاں بھی نواز شریف نے ایک سخت بات کی ہے۔ ’’اٹل فیصلہ کر لیا ہے جو ووٹ کی عزت نہیں کرے گا ہم اس کی عزت نہیں کریں گے‘‘۔ یہی نعرہ الیکشن 2018ء کا موضوع بنے گا۔ پارٹی صدارت چھوڑنے کے باوجود نواز شریف کا انداز اب بھی جارحانہ، لہجہ میں برہمی اور شکایت ہے۔ یہ اس لیے بھی کہ ان کے پاس اب کھونے کے لیے کچھ نہیں وہ تو جیل جانے کے لیے بھی تیار بیٹھتے ہیں۔ مگر حیران کر دینے والا تبصرہ چودھری اعتزاز احسن کا ہے۔ وہ مریم نواز کی سیاست کو درست سمت سمجھتے ہیں مگر مریم کے لہجہ میں تلخی کیوں نہ ہو۔ خاص طور عدالت عظمیٰ کے ججوں نے اُن کے والد کے خلاف جو فیصلے دیئے ہیں، اس کی وہ سخت ناقد ہیں۔ کل ہونے والے سینیٹ کے انتخاب میں جن لوگوں کو عدالتی فیصلے پر آزاد قرار دیا گیا ہے، وہ نواز شریف کے ہی وفادار ہیں۔ سیاسی بحران کا یہ معاملہ اس سال کے آخر تک بھی ختم ہونے والا نہیں۔ سپریم کورٹ، جرنیلوں کا احتساب اور نیب کے ماضی کے طرز تفتیش کو ختم کرنے کے لیے قانون سازی ہو گی۔ رکاوٹوں کے باوجود مسلم لیگ (ن) کل ہونے والے سینیٹ انتخاب میں بڑی پارٹی بن جائے گی جس کے بعد اس طرح پارلیمنٹیرین اپنا قانون سازی کا حق استعمال کریں گے جو بہت سی قوتوں کو پسند نہیں ہو گا۔ احتساب کا دائرہ پھیلے گا۔ کئی مقتدر ادارے زد میں آئیں گے۔


ای پیپر