بغل میں بوتل، منہ پہ پٹرول پٹرول…
02 مارچ 2018 (15:33) 2018-03-02

دوستو، جس طرح جب بریانی پک جاتی ہے تو اسے ’’دم‘‘ پہ رکھا جاتا ہے، اس ’’عمل‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ بس اب بریانی والا پتیلا بہت جلد چولہے سے اترے گا، اس میں سے بریانی نکلے گی اور پھر پلیٹوں میں سب کو تقسیم ہوگی…اسی طرح حکومت بھی ان دنوں ’’ دم‘‘ پہ ہے، گنتی کے چند ماہ رہ گئے اس کے جانے میں … اسی ’’جاتی‘‘ حکومت نے عوام پر مسلسل آٹھویں بار پٹرول بم سے حملہ کردیا اور پٹرول تین روپے چھپن پیسے مہنگا کردیا…جس کے بعد اب پٹرول کی نئی قیمت اٹھاسی روپے سات پیسے فی لٹر ہوگئی…ڈیزل کی قیمت میں دو روپے باسٹھ پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد ڈیزل کی فی لٹر قیمت اٹھانوے روپے پینتالیس پیسے ہوگئی۔نئی قیمتوں کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت 6روپے28پیسے بڑھ گئی جبکہ لائٹ ڈیزل کے نرخ میں 1روپے فی لٹر کا اضافہ کیا گیا …ماضی میں نظر دوڑائیں تو 2012ء میں جب پٹرول کی قیمت پچیاسی روپے فی لٹر ہوئی تو اوپن مارکیٹ میں آئل کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی تھی…آج پٹرول کی قیمت نئے اضافے کے ساتھ 88 روپے سے اوپر پہنچ چکی ہے… جبکہ اوپن مارکیٹ میں آئل کی قیمت 66 ڈالر فی بیرل کے قریب ہے…واقفان حال اور معاشی ماہرین بتاتے ہیں کہ ، حکومت صرف ٹیکسز کی مد میں فی لٹر پٹرول 35 روپے، اور ڈیزل پر 40 روپے سے زائد فی لٹر ٹیکس لے رہی ہے…حکومت پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا کریڈٹ لیتے نہیں تھکتی تھی ،حالانکہ اس کی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں گراوٹ تھی…اسحاق ڈالر پریس کانفرنس کر کے بڑے فخر سے اعلان کیا کرتے تھے… مگر آج شاید سب کو سانپ سونگھ گیا ہے…


حیرت انگیز طور پر ایک طرف تیل عالمی منڈی میں سستا ہونے کے باوجود یہاں مہنگا کیا جارہا ہے، دوسری جانب ایک حیران کن معجزہ یہ ہوا کہ چھ ماہ پہلے ہر پاکستانی سوالاکھ روپے کا مقروض تھا لیکن اب ہر پاکستانی صرف پچانوے ہزار روپے کا مقروض ہے، یہ معجزہ کیسے ہوا؟ چھ مہینے پہلے ملک کی آبادی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 18 کروڑ تھی۔ اب مردم شماری کے بعد 24 کروڑ ہوچکی ہے۔ آبادی کا بڑھنا ، مطلب قرضداروں کی تعداد کا بڑھنا ہے۔ زیادہ قرضداروں پر تقسیم ہونے کے بعد قرضہ کم ہوجایا کرتا ہے۔ اگر پاکستان کی آبادی دو ارب تک پہنچ جائے تو ہر شخص پر قرضہ صرف پچاس روپے رہ جائے گا۔ لہٰذا ہمت کیجیے، آبادی بڑھائیے ، اپنے لئے… قوم کے لئے…۔ بس یہی ایک صورت بچی ہے قرض کم کرنے کی…۔آبادی کم ہونے کی وجہ شاید ہمارے جیسے کئی آوارہ حضرات ہیں، جو نہ دن کو گھر ہوتے ہیں نہ رات کو ٹھکانے پر ہوتے ہیں…اسی لئے مردم شماری کے دوران گنتی میں ہی نہیں آتے…


پٹرول عالمی منڈی میں سستا اور ہمارے ملک میں مہنگا کیوں ہے… پہلے تو معیشت یعنی اکنامکس کا ایک اصول سمجھنے کی ضرورت ہے، جو چیز پیداوار میں کم ہوگی ،اس کی طلب زیادہ ہو تو لازمی سی بات ہے کہ وہ چیز خودبخود مہنگی ہوجاتی ہے، چونکہ پاکستان میں پٹرول نکلتا نہیں ،باہر سے خریدنا پڑتا ہے، پھر اس کی طلب میں بھی مسلسل اضافہ ہی ہورہاہے ،یہی وجہ ہے کہ پٹرول یہاں سستا نہیں بلکہ مہنگا بیچا جاتا ہے… یہ وجوہات ہمارے یہاں کوئی نہیں بتاتا…سرکاری سطح پر کبھی یہ نہیں بتایاجاتا کہ پٹرول کا عوام سوچے سمجھے بغیر استعمال کیوں کررہے ہیں… بیشتر لوگ پٹرول کو اب مہنگے دودھ کی جگہ چائے میں ڈال کر پینے لگے ہیں،لاہور میں توگرمیوں میں پٹرول کی اس وقت شدید قلت پیدا ہوجاتی ہے جب یہاں کے لوگ جو لسی کے شوقین ہیں، پٹرول کی میٹھی اور نمکین لسی بنابناکر پینے لگتے ہیں… پٹرول کی زیادہ کھپت اس لئے بھی ہورہی ہے کہ لوگ اب گھی کے بجائے سستا موبل آئل استعمال کرنے لگے ہیں، کوکنگ آئل کی جگہ پٹرول ہی ہانڈی میں ڈالا جاتا ہے…طلباء و طالبات بھی انک والے پین میں سیاہی کی جگہ پٹرول ہی ڈالتے ہیں…سگریٹ کے چین سموکرز اپنے لائٹرز پٹرول سے فل رکھتے ہیں… شدید گرمیوں میں برف کے گولوں پہ پٹرول کا ہی چھڑکاؤ کیا جاتا ہے… آئس کریم کی تیاری میں بے تحاشا پٹرول استعمال کیا جاتا ہے…حکومت پٹرول اسی لئے سستا نہیں کرتی کہ اسے اندازہ ہے پٹرول سستا کرتے ہی یہ سارے نتائج نکلیں گے اور لوگ اسی طرح پٹرول کھانے پینے لگیں گے…


ملکی تاریخ کا جائزہ لیں توپٹرول کی قیمتوںمیں جب بھی اضافہ ہوا تو جمہوری حکومتوں نے کیا، مشرف دور کو گزرے زیادہ عرصہ نہیں گزرا، جب عالمی معاشی بحران میں بھی یہاں پٹرول اور ڈالر کی قیمت کو بڑھنے سے روکا گیا…جمہوری حکومت میں چونکہ سیاست دانوں کی بھرمار ہوتی ہے اس لئے وہ عوامی فیصلے کرتے ہیں…جب ایک سیاست دان سے پوچھاکہ وہ سیاست میں کس طرح وارد ہوئے تو فرمانے لگے، مجھے بچپن سے ہی مقابلہ کی عادت تھی اور جھوٹ کی بھی ،پھر محلہ داری میں کسی کے خلاف بولنا ہوتا تو میری خدمات لی جاتی تھیں بس یہی عادت سیاست میں لے آئی…جب ان سے اگلا سوال کیاگیا کہ آپ آج جس مقام پرہیں یہ سب آپ نے اپنی محنت سے حاصل کیا یا اس میں کسی کی دعاؤں کا بھی دخل ہے۔ ؟ جس کے جواب میں ان کا کہنا تھاکہ، جی میری محنت کا دخل تو یقینا ہے لیکن دعا کا دخل بھی کہہ سکتے ہیں کیوں کہ میری نانی نے مجھے سیاستدان کہا تھا …نانی کے حوالے سے انہوں نے پورا واقعہ بھی سناڈالا… کہنے لگے، ایک بار میری نانی کو کافی دن سے بخار تھا اور وہ میرے بڑے بھائی صاحب کو کافی دن سے کہہ رہی تھیں کہ ڈاکٹر کے پاس لے جائیں لیکن وہ نہیں لے گئے ،ایک دن غصہ میں چلا رہی تھیں کہ میری کوئی خبر گیری نہیں کرتا، مجھے ان کی بے بسی اچھی نہیں لگی، میں نے وعدہ کیا اب ایسانہیں ہوگامیں آپ کی قدر کرونگا اور ہر بات مانوں گا ،وہ خوش ہو گئیں اور کہا اس گھر میں تم ہی ہو جو میرا خیال رکھتے ہو لیکن اپنی مصروفیت کی وجہ سے میں بھی ان کو ہسپتال لے جانا بھول گیا جس پر انہوں نے کہا بیٹا تم تو سیاستدان کی طرح صرف بیان ہی دیتے ہو عمل نہیں کرتے بس شاید وہ قبولیت کی گھڑی تھی میں سیاستدان ہی بنا ،یہ سب میری نانی کی دعا کا کمال ہے کہ آج میں کامیاب سیاست دان ہوں…


ہمارے پیارے دوست بائیک پہ کہیں جارہے تھے، اچانک پٹرول ختم ہوگیا، پہلے تو انہوں نے بائیک کو زمین پہ لٹا کر اس کا روحانی رابطہ سعودی عرب کے تیل کے کنووں سے کرایا،جس کے بعد پٹرول پمپ پہنچے ، ان کا پیٹ پٹرول کی ٹینکی پہ تھا، انہوں نے پمپ والے نوجوان کو مخاطب کرکے کہا… دو لٹر پٹرول ڈال دو … پٹرول پمپ کا ملازم جو شاید فیصل آبادی تھا، حیرت سے پوچھنے لگا… کون سی ٹینکی میں ،؟؟


ایک بار ہم بھی اچھرہ کے قریب پٹرول پمپ پہ دوست کے ہمراہ گاڑی میں موجود تھے، دوست نے گاڑی میں پٹرول ڈلوانا تھا، دیکھا کہ بائیک والے خواتین کو پمپ سے دور اتارکر آتے اور پٹرول ڈلوا کے واپس ان کے پاس جاتے پھر انہیں بٹھا کے چلے جاتے، پھر ہماری نظر اچانک پٹرول پمپ پہ لگے نوٹس بورڈ پہ لگی، جہاں تحریر تھا…جلانے والی اشیا کو پٹرول پمپ سے دور رکھئے…یہ بات بھی اپنی جگہ سو فیصد حقیقت ہے کہ خواتین کی زبان ہی دنیا کی واحد چیز ہے جو پٹرول کے بغیر بھی روانی سے چوبیس گھنٹے چلتی رہتی ہے…


اب چلتے چلتے آخری بات…بخیل کے اندر وفا نہیں ہوتی،حاسد کو کبھی راحت نہیں ہوتی، تنگ دل کا کوئی دوست نہیں ہوتا،جھوٹے میں مروت نہیں ہوتی،خائن کبھی قابل اعتماد نہیں ہوتااوربد اخلاق کے اندر محبت نہیں ہوتی…


ای پیپر