ریاستی نظام میں عدلیہ کا کردار طے شدہ ہے
02 مارچ 2018 (15:31)

چیف جسٹس پاکستان جناب ثاقب نثار نے ایک از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ خدا کی قسم میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے ، ہماری نیت صاف ہے کسی طرح بھی ٹیسٹ کر لیں۔جس ملک میں مسائل زیادہ ہوں، انتظامی ادارے کام نہ کر رہے ہوں، حکومتیں بد عنوانی اور اقرباء پروری کو اپنے اختیارات سے تعبیر کرتی ہوں اور عام لوگوں کو کہیں ریلیف نہ مل رہا ہو وہاں عدالتوں کی از خود کارروائیوں کی بہت گنجائش نکلتی ہے ۔ پاکستان میں انتظامی ڈھانچہ مکمل تباہ ہو چکا ہے ۔ اوپر سے نیچے تک قانون کی عملداری ختم ہو چکی ہے ۔ جس کی وجہ سے عوام مشکلات کا شکار ہیں، عدلیہ وہ کام کر رہی ہے جو جمہوری حکومتیں اور ان کی سول انتظامیہ نہیں کر پا رہیں بلکہ غلط کر رہی ہیں۔ اگر ایک طرف عدلیہ بہت سرگرم ہے تو دوسری طرف سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف عدلیہ کو اس کے ماضی کے کردار کے تناظر میں بہت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیںکہ صرف ان کے خاندان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ پانامہ کیس خود عدلیہ نے شروع نہیں کیا۔ پانامہ پیپرز کے سامنے آنے کے بعد دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سیاسی ہیجان پیدا ہوا۔ تحریکِ انصاف نے سیاسی دباؤ اتنا بڑھایا کہ خود میاں صاحب نے سپریم کورٹ میں کیس چلانے پر رضا مندی کا اظہار کیا۔ یہ دوسری بات ہے کہ اگر یہ کیس سپریم کورٹ میں نہ چلتا تو بھی میاں نواز شریف کو سیاسی دباؤ پر اقتدار سے الگ ہونا پڑتا اور بات اس سے بھی آگے جاتی۔ اعلیٰ عدلیہ کو بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی پر نظر ثانی کا اختیار ہے پارلیمنٹ بنیادی حقوق سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی۔ پارلیمنٹ میںقانون سازی قوم کے اجتماعی مفاد اور فلاح کو سامنے رکھ کر کی جانی چاہئے اور جب بھی پارلیمنٹ میں آئین سے ماورا کوئی اقدام کرنے کی کوشش کی جائے گی لا محالہ عدلیہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی پر نظر ثانی کرے۔ یہ حق اسے قانون نے دیا ہے اور یہ حق استعمال کرنے کا مقصد کسی ادارے کی توقیر میں کمی لانا ہر گز نہیں ہو سکتا بلکہ یہ قومی مفاد میں اٹھایا جانے والا قدم ہی تصور کیا جائے گا۔ ایسی قانون سازی جو ملک و قوم کے لئے فائدہ مند نہ ہو اور ملک کے آئین سے ہی متصادم ہو اسے کسی طور پر بھی قبول نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ اگر عدلیہ آئین اور قانون کی پاسداری اور حفاظت کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کرے گی تو پھر کون کرے گا۔


قومی سطح پرقانون اور انصاف کی پامالی کی ایک بڑی وجہ ہمارا وہ طبقاتی نظام ہے جس میں اشرافیہ ہر قانون، ہر انصاف سے آزاد ہوتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس وڈیرہ شاہی نظام میں انصاف وڈیروں کی جیب میں ، قانون ان کے پیروں میں ہوتا ہے ۔ ہر وڈیرہ اپنے علاقہ کا بادشاہ ہوتا ہے اور انتظامیہ اس کے اشارۂ ابرو پر کام کرتی ہے یہ تو وڈیرہ شاہی نظام کی خوبیاں ہیں لیکن چونکہ ہماری حکومتی ساخت بھی وڈیرہ شاہی پر استوار ہے لہٰذا ہمارا حکمران طبقہ بھی انصاف اور قانون کو اپنی مرضی کا غلام سمجھتا ہے ۔ ہم ملک کے نظام کے حوالے سے دیکھتے ہیں تواس طبقاتی نظام میں ریاست کے نام پر ایک ایسی مشینری کھڑی کی گئی ہے جس کا مقصد اشرافیہ کا تحفظ ہے ۔ جب حکمران طبقات کے سامنے ان کے مفادات ہوتے ہیں تو قانون اور انصاف کو سیاسی انتقام کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔جب سیاسی مفادات کا مسئلہ سامنے آ جاتا ہے تو قانون اور انصاف حکمرانوں کے ہاتھوں کی تلوار بن جاتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ ہمارے ملک میں عدلیہ کی تاریخ زیادہ روشن نہیں رہی ہے یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ قابلِ رشک نہیں رہی ہے ، جس کا برملا اظہار میاں نواز شریف اپنے جلسوں میں کر رہے ہیں۔لیکن ماضی میں عدلیہ کے قابلِ رشک کردار نہ ہونے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ عدلیہ بد عنوانوں کا محاسبہ نہ کرے اور لوگوں کو ریلیف نہ دے۔ ساتھ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ ہر آمر کو کسی نہ کسی سیاسی پارٹی اور قائدین کی حمایت حاصل رہی ہے ۔ اس ملک میں سب سے زیادہ قیادت میں رہنے والی مسلم لیگ (ن) کو زیادہ تر ججوں اور ڈکٹیٹروں کی کھلی تائید رہی ہے ۔ ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک تمام حکمران اعلیٰ عدالتوں میں تعیناتیوں کی فہرست بناتے ہوئے اپنی پسند اور نا پسند کو ہی میرٹ سمجھتے رہے ہیں اور وہ شاہد یہ سمجھنے میں حق بجانب بھی تھے کہ آئین کے آرٹیکل 193تا 197میں کسی جگہ لفظ میرٹ استعمال نہیں ہوا۔ 10سال کی پریکٹس خواہ وہ کیسی ہی کیوں نہ ہو اور کسی بھی معیار کی کیوں نہ ہو اور اسی قسم کی بعض پابندیوں کے علاوہ اور کوئی میرٹ نامی چیز نہیں تھی حتیٰ کہ سول جج کی تعیناتی کا طریق کار زیادہ پیچیدہ اور قواعد و ضوابط کا پابند تھا۔ مزید برآں اس کے لئے مقابلے کا امتحان پاس کیا جاتاہے اور انٹرویو وغیرہ کے علاوہ نفسیاتی و میڈیکل ٹیسٹ کا امتحان پاس کرنا ضروری ہے ۔ لیکن عدلیہ کی آزادی سے قبل تک اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تعیناتی میں صرف حکمرانوں کی مرضی شامل ہوتی تھی۔ فوجی حکمرانوں کے دور میں اپنی پسند اور منشاء کا معیار کچھ اور ہوتا ہے اور سیاسی ادوار میں میرٹ کا بنیادی نکتہ پارٹی سے وفاداری رہا۔ میاں نواز شریف کے ماضی کے دونوں ادوار میں ایسا ہی ہوا جب پارٹی کے وفادار لوگ نوازے گئے۔ سیاسی وابستگیوں کے عوضانے میں اعلیٰ عدالتی عہدے بانٹنے والے آج کی عدلیہ کو سیاسی اور پی سی او زدہ ہونے کا طعنہ دے رہے ہیں۔
اگر غور کریں تو کچھ عرصہ سے اعلیٰ عدلیہ کا کردار تاریخی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے لیکن بعض حلقے اس صورت حال کو بڑھا چڑھا کر اپنے مفادات کے لئے استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے مسائل بڑھے اور ان کی شدت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ۔ کسی بھی ریاستی نظام کے اندر عدلیہ کا کردار تاریخی طور پر طے شدہ ہے ۔ اس کے بارے میں دعوے کسی بھی طرح کئے جا ئیں مگر حقیقت صرف ایک ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ عدلیہ کسی بھی رائج نظام کے اندر سٹیٹس کو برقرار رکھنے کی ذمہ دار ہوتی ہے ۔ وہ قانون پر عمل درآمد کراتی ہے اور وقت کے ساتھ نئے نئے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے قانون کی تشریح اور تعبیر کرتی ہے ، اس میں وہ قانون کے اندر تبدیلیوں کو سموتی رہتی ہے جو معاشرے میں رونما ہوتی ہیں۔ اس طرح قوانین اور آئینی دفعات ارتقائی عمل سے گزرتے رہتے ہیں اور انتظامیہ عدلیہ کی فراہم کردہ راہیں اختیار کر کے وہ لچک پیدا کرتی رہتی ہے جو وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے ۔کسی بھی معاشرے میں پارلیمنٹ انہی طبقات کے مفادات کو تحفظ دیتی ہے جو معاشرے کے مختلف شعبوں میں اثر و رسوخ اور طاقت رکھتے ہیں۔ جب عدلیہ ان کے مفادات کے راستے میں حائل ہوتی ہے تو یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ ایسی ہی صورتحال ہے عدلیہ کی بات پر عملدرآمد کے لئے کوئی تیار نہیں اور اس کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے ۔ جب کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ آئین کے مطابق عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے جب کہ شواہد اس کی تصدیق نہیں کر رہے۔ جلسوں میں عدلیہ کے خلاف بہت غیر معیاری زبان استعمال کی جا رہی ہے ، ماضی میں جب بھی جمہوری نظام پر شب خون مارا گیا تو سیاسی اور عوامی حلقوں نے آنے والے فوجی حکمرانوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جب کہ حالات کو بند گلی تک لانے کی ذمہ داری اس وقت کے حکمرانوں اور سیاستدانوں پر بھی عائد ہوتی ہے ۔


ای پیپر