اپنے حصے کی شمع
02 مارچ 2018 (15:29) 2018-03-02

واصف علی واصف کہا کرتے تھے کہ بھوکے کو کلمہ پڑھانے کی ضرورت نہیں ہے اسے کھانا کھلانے کا حکم ہے ۔ پیٹ کی بھوک ختم ہوگی تو اس کے ذہن میں اچھی بات سننے کی دل میں آرزو جاگ اُٹھے گی۔ یہ بات درست ہے کہ بھوکے کو کھانا کھلانے کا حکم ہے مگر ہم نے اس کے مطالب و معانی اپنی اپنی مرضی اور منشا کے مطابق نکال لئے ہیں۔ آج کل بازاروں میں لوگ دسترخوانوں پر لنگر انداز ہورہے ہیں اور لوگوں کی بھوک کے خاتمے کا اہتمام کر رکھا ہے جس میں بحریہ ٹائون کے سربراہ ملک ریاض پیش پیش ہیں۔ قرآنِ حکیم کے حکم پر اگر عمل کرنا ہے تو یہ سب طرزِ شکم پروری میری سمجھ سے بالا تر ہیں کہ ہم نے یہ انداز جو اپنا رکھا ہے اس میں ہم بھوکوں کی بھوک کم کررہے ہیں یا بھوکوں کی ایک خاص تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں۔ مانگنے والے کو دھتکار نے کا حکم نہیں ہے۔ اس کو مانگنے سے پہلے اس کی ضرورت پوری کرنے کا حکم ہے ۔بہت سے لوگ اس میدان میں کام کر رہے ہیں، کچھ گمنام اور کچھ نامور شخصیات کی نمود کے سارے سامان موجود ہیں ۔ ملک کی لوٹی ہوئی رقم سے نیاز بانٹنے والے زکوٰۃ دینے والے لوگوں میں سخی کہلواتے ہیں اور وہ اسی زعم میں اپنے گھروں کے باہر قطاروں میں لگے ہو ئے مانگنے والوں کو اپنی ذاتی تشہیر کا اشتہار بناتے اور اُن کی خودداری کو مجروح کرتے ہیں۔ کیمرے کی آنکھ میں آٹے کا ایک تھیلا دیتے وقت مسکراہٹوں کا تبادلہ کرتے ہوئے وہ کتنے خوش ہوتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جس معاشرہ کے ہم فرد ہیں اس میں لوگ بھوکے کیوں ہیں ۔ آغا شورش کاشمیری نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ بیماربے دوا کیوں ہیں بچوں کو تعلیم کیوں نہیں ملتی لوگ ننگے ہیں تو کس لئے ؟ سب کے لئے مکان کیوں نہیں ؟ دولت چند خاندانوں ہی کا حصہ کیوں ہے مرید فاقہ مست ہے پیر جام بدست ۔ اس کے ہاں روشنی اس کے ہاں اندھیرا۔ جس معاشرہ میں آنکھوں کے چراغ بجھ رہے ہوں جہاں دل ٹوٹ گئے ہوں ، انسان مادی ضرورتوں کا غلام ہوگیا ہو ایسے معاشرے قائم نہیں رہ سکتے۔ ہمارے ایک صحافی بھائی اعجاز شیخ نے جناح ہسپتال میں طعام المسکین کا ذکر کیا اور اس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے خصوصی دعوت دی مگر میں نظر انداز کرتی رہی اور میرے ذہن میں وہی خاکہ موجود تھا کہ جس طرح دسترخوانوں پر لوگ عرصہ انتظار میں ہوتے ہیں ایسا ہی ایک اضافہ یہ بھی ہوگا۔ گزشتہ روز ڈاکٹر اجمل نیازی کی عیادت کے لئے جناح ہسپتال جانا ہوا تو وہ ہسپتال سے فارغ ہوگئے تھے لیکن اُن کی عیادت نہ ہوسکی مگر معاً خیال آیا کہ یہاں ایک ایسا ادارہ موجود ہے جس کے حوالے سے اعجاز شیخ نے مجھے دعوت دی ہوئی تھی۔ میرے ساتھ میری دوست گل رعنا شیریں بھی موجود تھی ہم نے اچانک طعام المسکین مرکز کا دورہ کیا اور بغیر اطلاع کئے آنکھوں دیکھا حال آپ تک پہنچا رہی ہوںکہ واقعی اس کوکہتے ہیں ضرورت مندوں اور حاجت مندوں کی حاجت روائی اور یہ حق ادا ہوتے ہوئے میں نے بچشم خود دیکھا ہے کہ ناشتے سے لے کر رات کے کھانے تک ہزاروں مریضوں کے لواحقین کھانا کھارہے ہیں اور اُن کی تعظیم بھی کی جارہی ہے ۔ جلیل چوہدری اس کے محرک ہیں اور مسجد نبوی میں ایسا ہی طعام المسکین مرکز موجود ہے ۔ جہاں عزت نفس مجروح نہیں ہوتی اور لوگوں کی ضرورت اور سہولت کے اسباب بڑی فراخدلی سے پورے کرنے والے تاجر لوگ اپنی تجارت میں ضرورت مندوں کا حصہ بھی ادا کر رہے ہیں۔ کاش کہ ہماری حکومت قرآن پاک پر عمل کرے تو کوئی پاکستانی بھوکا نہ رہے ۔ جس طرح حضرت عمر ؓ نے کہا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے بکری کا بچہ بھی بھوک سے مرگیا تو عمر کی باز پرس ہوگی ۔ ایسے لوگ جو حکومت کے کام کو آسان کر رہے ہیں اور اپنے حصے کی شمع روشن کر رہے ہیں اُن کی حوصلہ افزائی کی بجائے انہیں تنگ کرنا کہاں کا اسلوب حکمرانی ہے۔ دس ہسپتالوں میں ایسے ہی ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کی جارہی ہے ۔ ادویات لے کر دینا، مریض کی فوتیدگی کی صورت میں ایمبولینس فراہم کرنا، دفن کے لئے کفن اور زادِ راہ گھر تک یہ کام یہی مرکز کر رہا ہے۔ ہمدرد فائونڈیشن کے بانی حکیم سعیدشہید نے بھی اپنے حصے کا کام کیا ہے اور اُن کی بیٹی سعدیہ راشد بدستور کام کر رہی ہے ۔ صحت کے میدان میں اور تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والوں کی بھی ایک کہکشاں موجود ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک آدمی اپنی بساط کے مطابق تھوڑا سا کام کر سکتا ہے مگر 21 کروڑ عوام کی خوشحالی اس وقت تک ناممکن ہے جب تک ریاست ایسے فلاحی منصوبوں کی خود سرپرستی نہیں کرے گی۔ دی روشن سکول فہد عباس اور اُن کے والد گرامی ضمیر الحسن ملک کی بے پناہ قربانیوں اور ایثار کی بدولت روشن ہے اور یہاںپر بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کئے جارہے ہیں ۔ اسی طرح محترمہ صباحت رفیق کا بھی جذبۂ خدمت اطفال اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ اخوت کے ڈاکٹر امجد ثاقب کے کام کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ۔ شیخو پورہ کے شہباز خاں کے کام کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے اپنے گھر کے تین مرلے میں سکول شروع کیا تھا اور آج اس کی پانچ برانچیں اس انسان کے عزم بالجزم کا پتہ دیتی ہیں۔ شہباز خاں نے اپنی دنیا آپ پیداکی ہے اور ایسے لوگوں کا وجود میں سمجھتی ہوں کہ سماج میں ایک توازن قائم رکھے ہوئے ہے ۔ معاشی مشکلات، گھریلو حالات اور دیگر وجوہات کی بنا پر ننھے نونہال اپنی معصوم آنکھوں میں روشن مستقبل کا خواب حاصل نہ کرسکنے پر مظلومیت کی ایسی تصویر بنے نظر آتے ہیں کہ خلقِ خدا اور اہلِ درد کا دل خون کے آنسو روتا ہے اور اس کی ذمہ داری ہم سب پر ہے مگر کچھ لوگ اپنی ذات میں ایک انجمن ہوتے ہیں اس لئے شہباز خاں نے یہ پہاڑ جیسی ذمہ داری پوری کرنے کا عزم کر رکھا ہے اور اُن کے زیرِ سایہ محنت مزدوری کرنے والے بچوں کو فراغت کے بعد تھوڑا سا وقت اُن کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی دیا جارہا ہے ۔ شہباز خاں کے دروازے اس مقصد کے لیے کھلے ہیں ۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کا کام بھی فلاح انسانیت کے لئے گراں قدر ہے۔ اس کی بھی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ ہم سب کو اپنی بساط کے مطابق نیکی کی اس آب جُو میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے اور خدمت خلق کی یہ شمع ہمیشہ روشن رہے اور کوئی آدمی یہ نہ کہہ سکے کہ ظلمتوں سے کرن دست سوال دراز کر رہی ہے ۔


آنکھ روشن ہے جیب خالی ہے
ظلمتوں سے کرن سوالی ہے
میں احمد فراز کی آواز میں اپنی آواز ملا کر آخر میں صرف یہی کہوں گی کہ
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی شمع جلاتے جاتے


ای پیپر