اتحاد امت کے داعی پیر سید ہارون گیلانی
02 مارچ 2018 (15:28) 2018-03-02

بلوچستان کے شہر کوئٹہ کو ایک بار پھر دہشت گردوںنے خون میں نہلانے کیلئے ایف سی اور پولیس اہلکاروں پر حملے کئے جن میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے چار جوان اور دو پولیس اہلکارشہید ہوئے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت میں دہشت گردی کا پہلا حملہ بدھ کی صبح اس وقت ہوا جب ڈی ایس پی حمید اللہ دستی اپنی اہلیہ کے ہمراہ گھر سے دفتر جارہے تھے۔ پولیس افسر کی ڈبل کیبن بلٹ پروف گاڑی سمنگلی روڈ پر پہنچی تو پہلے سے گھات لگا کر بیٹھے دہشت گردوںنے فائرنگ کر دی۔ حملہ میں ڈی ایس پی حمید اللہ اور ان کی اہلیہ عندلیب قیصرانی ایڈووکیٹ تو محفوظ رہے تاہم گاڑی کے پچھلے حصہ میں بیٹھے چار محافظوں میں سے دو موقع پر شہید ہو گئے۔ اس دوران گاڑی میں سوار محافظوں نے بھی دہشت گردوں پر جوابی فائرنگ کی جس پر حملہ آور فرار ہو گئے۔ ڈی ایس پی حمید اللہ کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ اہم نوعیت کے مقدمات پر کام کر رہے تھے جس پر انہیں کالعدم تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں بھی مل رہی تھیں۔ اس حملہ کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔ کوئٹہ میں ہی دہشت گردی کا دوسرا واقعہ نواحی علاقے نوحصار خونی تالاب کے قریب فرنٹیئر کانسٹیبلری کی چیک پوسٹ پر ہوا جہاںتقریبا پندرہ سالہ خودکش بمبار نے خود کو بارود سے اڑا لیا۔ اس دھماکہ میں چار ایف سی اہلکار محمد عامر، محمد عمران، جاوید احمد اور محمد ارشد شہید جبکہ سات زخمی ہو گئے۔ لیویز حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ کے بعد شدید فائرنگ بھی کی گئی۔ فرنٹیئر کانسٹیبلری کی چیک پوسٹ پر ہونیو الے حملہ میں دس کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔


بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑاصوبہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قدرتی وسائل سے مالامال کر رکھا ہے۔دشمن قوتوںنے ہمیشہ کوشش کی کہ یہاں لسانیت و صوبائیت پرستی کے بیج بوکر علیحدگی کی تحریکیں کھڑی کی جائیں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جایا تاکہ اس اہم صوبہ میں انہیں اپنے مذموم ایجنڈے پورے کرنے کا موقع مل سکے۔ منظم منصوبہ بندی کے تحت یہاں ٹارگٹ کلنگ کو پروان چڑھایا گیااور پھر پورے ملک میں یہ ماحول بنانے کی کوشش کی گئی کہ بلوچستان میں دوسرے صوبوں کے لوگ محفوظ نہیں ہیں۔ انڈیا نے یہاں بہت سرمایہ خرچ کیا اور دہشت گردی کی آگ بھڑکانے کیلئے کلبھوشن جیسے نیٹ ورک کھڑے کئے۔ بھارتی سرمایے پر پلنے والی علیحدگی پسند اور دہشت گرد تنظیموںنے بیرونی قوتوں کے آلہ کار کے طور پر کام کیا اورتخریب کاری و دہشت گردی کی ہولناک وارداتیں کی گئیں۔ گزشتہ ڈیڑھ عشرے میں خاص طور پر یہاں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ خاص طور پر جب سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ شروع ہوا ہے بھارت اور بعض دیگر ملکوں کی ایجنسیوںنے بلوچستان اور اس کے دارالحکومت کوئٹہ کو خاص طو رپر ٹارگٹ کر رکھا ہے۔ کبھی وکلاء پر حملے ہوتے ہیں۔ ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں پر حملے کر منافرت کی فضا پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔بلوچستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی میں شدت پیدا کرنے کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ سی پیک کا سب سے بڑا حصہ اسی صوبے سے گزر کر ساحلی شہر گوادر تک پہنچتا ہے ۔اس لئے بھارت کسی طور یہاں امن و امان کی مستحکم صورتحال برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کی زیر قیادت باقاعدہ ایک سیل قائم کررکھا ہے جسے سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی اور اس پر کروڑوں ڈالر خرچ کئے جارہے ہیں۔افواج پاکستان کی کوششوں سے اگرچہ بیرونی ایجنسیوں کے نیٹ ورک تقریبا ختم کر دیے گئے ہیں تاہم دشمن کی جانب سے وقتا فوقتا تخریب کاری کر کے اپنی حاضری ڈالنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ سی پیک منصوبہ کے حوالہ سے بلوچستان میں مختلف نوعیت کے خدشات پھیلانے کی بھی سازشیں کی گئیں لیکن پاکستان کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سی پیک ملک کی ترقی اور خوشحالی کا منصوبہ ہے اور چاروں صوبے اس سے فیض یاب ہوں گے۔ بہرحال اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وطن عزیز کا چاروں اطراف سے گھیرائو کیا جارہا ہے۔ انڈیاآئے دن کنٹرول لائن پر فائرنگ کر کے نہتے شہریوںکو نشانہ بنا رہا ہے تو دوسری جانب افغانستان کے راستے دہشت گردوں کو تربیت دیکر بلوچستان اور دیگر صوبوں میں داخل کیا جارہا ہے۔ یعنی مشرق اور مغرب دونوں اطراف سے خطرات پیدا کر دیے گئے ہیں۔ ملک کو درپیش موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان میں اتحادویکجہتی کا ماحول پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسی کے پیش نظر ھدیۃ الھادی پاکستان کے سربراہ پیر سید ہارون علی گیلانی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جمعرات کے دن ایک بڑی آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں پروفیسر حافظ محمد سعید، شیخ رشید احمد، لیاقت بلوچ، محمد علی درانی، سینیٹر ظفر علی شاہ، اجمل خاں وزیر،خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، سجادہ نشین دیوان احمد مسعود چشتی، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، مولانا امیر حمزہ، ڈاکٹرسید مہدی رضا، علامہ امین شہیدی، حافظ عاکف سعید ، حافظ عبدالغفارروپڑی ودیگر مذہبی و سیاسی قائدین، علماء کرام اور دانشور حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ یہ اس لحاظ سے بہت کامیاب پروگرام تھا کہ اس میں پاکستان کے معروف سجادہ نشیں حضرات خاص طور پر شریک ہوئے اور انہوںنے مذہبی و سیاسی قائدین کے ساتھ مل کر وطن عزیز کی نظریاتی وجغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کا عزم کیا۔ اس کا کریڈٹ یقینی طور پر پیر سید ہارون علی گیلانی کو جاتا ہے جو ہرمشکل وقت میں اسی طرح متحرک اور دینی و سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہونیو الی آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ بھی بہت جاندار تھا جس میں کہا گیا کہ کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں نظام مصطفی کے نفاذ اور اتحاد امت کیلئے ملک گیر سطح پر بھرپور جدوجہد کی جائے گی اوراس سلسلہ میں چاروں صوبوں و آزاد کشمیر میں جلسوں اور کانفرنسوں کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔فرقہ واریت کے خاتمہ اور ملک میں اتحادویکجہتی کے فروغ کیلئے مذہبی جماعتیں، علماء کرام ،مشائخ عظام اور سجادہ نشین حضرات باہم متحد ہیں۔ دشمنان اسلام کی پاکستان میں انتشار اور خلفشار پھیلانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ دشمن قوتیں سی پیک اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کی خوفناک سازشیں کر رہی ہیں۔ بیرونی سازشوں کے مقابلہ کیلئے ملک بھر کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کو متحد کیا جائے گا اور عوامی سطح پر اتحادویکجہتی کی فضا پیدا کی جائے گی۔ اے پی سی میں شریک تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور سجادہ نشین حضرات کی جانب سے بھارتی و امریکی دبائو پر جماعۃالدعوۃ اور فلاح انسانیت فائونڈیشن کے تعلیمی ادارے، ہسپتال، ایمبولینسیں، ڈسپنسریاں اور دیگر اثاثے قبضہ میں لینے کی بھی شدید مذمت کی گئی اور اسے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی توہین قرار دیاگیا۔آل پارٹیز کانفرنس میں شریک خواجہ معین الدین کوریجہ کی طرف سے کی گئی اس بات کی سب نے تائید کی کہ جماعۃالدعوۃ اور ایف آئی ایف کے اداروں پر ایڈمنسٹریٹر بٹھانے اور اثاثوں پر قبضہ کے حوالہ سے آج درگاہوں سے بھی بھرپور آواز اٹھنی چاہیے ۔ اے پی سی کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ امریکہ، بھارت اور ان کے اتحادی منظم منصوبہ بندی کے تحت مشرقی و مغربی سرحدوں پر خطرات کھڑے کر رہے ہیں۔ حکومت دشمن ملکوں کے مذموم عزائم ناکام بنانے کیلئے چین، روس اوربرادر اسلامی ملکوں کے ساتھ مل کر مضبوط دفاعی پالیسیاں ترتیب دے۔بھارت، امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف پراکسی وار میں مصروف ہیں۔ افغانستان میں قونصل خانوں کے نام پر بھارتی دہشت گردی کے اڈے بند کروائے جائیں اور وطن عزیز پاکستان سے بیرونی ایجنسیوں کی مداخلت ختم کی جائے۔ ھدیۃ الھادی کی اے پی سی میں جہاں بھارتی آرمی چیف کی دھمکیوں، عقیدہ ختم نبوت پر حملوںاورکشمیر، فلسطین، شام اور دیگر خطوں میں جاری ظلم و بربریت کا ذکر کیا گیا وہیں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ پاکستان اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل کئے گئے اس ملک کے دفاع کیلئے کسی قسم کی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔


ای پیپر