جموں میں مسلمانوں کی نسل کشی
02 مارچ 2018 (15:27)

یہ حقیقت ہے کہ 1947ء میں جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی خواہش تھی کہ ریاست پاکستان کا حصہ بن جائے جبکہ ہندو اور سکھ کشمیر ریاست کی بھارت میں شمولیت چاہتے تھے۔ چنانچہ اگست کے مہینے سے ہی جموں میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے مابین جھڑپیں ہونے لگیں۔ فساد بڑھتا چلا گیا۔ حتیٰ کہ ہندو اکثریت اور ڈوگرا فوج نے مل کر مسلمانانِ جموں کا قتل عام کیا۔


تقسیم ہند کے وقت جموں میں متحدہ پنجاب سے زیادہ مسلمان ہلاک ہوئے۔ افسوس کہ اخبارات نے اس مسلم کشی پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ایک ممتاز و نیک نام دانشور، پروفیسر کرسٹوفر نیڈن آسٹریلیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ نوجوانی میں کینبرا یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے تو عالمی سیاسیات کی تعلیم پاتے ہوئے مسئلہ کشمیر میں دلچسپی لینے لگے۔ انہوںنے بھی اپنی کتاب ''کشمیر: تاریخ جو لکھی نہیں گئی'' (Kashmir: The unwritten history) میںتحریک آزادیٔ کشمیر پر حقائق لکھے ہیں۔ ان کے پی ایچ ڈی مقالے کا موضوع ''وادی پونچھ کی جنگ آزادی'' تھا۔


اس مقالے میں انھوں نے ثابت کیا کہ ریاست جموں و کشمیر میں تحریک آزادی کا آغاز وہیں آباد مسلمانوں نے کیا۔ اسے پاکستان سے درآمد نہیں کیا گیا جیسا کہ بھارتی حکمران طبقہ الزام لگاتا ہے۔1947 میںجموں و کشمیر میں تین ایسے عمل انجام پائے جن کی بنا پر یہ پوری ریاست پاکستان یا بھارت میں شامل نہیں ہو سکی۔ سب سے پہلے وادی پونچھ کے مسلمانوں نے مہاراجا ہری سنگھ کے خلاف بغاوت کر دی۔ مسلمان پونچھ ریاست کو پاکستان میں شامل کرنا چاہتے تھے۔دوسرے جموں میں وسیع پیمانے پر ہندو مسلم فساد ہو گیا اور اس زمانے کے اخبارات انکشاف کرتے ہیں کہ ڈوگرا فوج اور ہندوئوں کے ہاتھوں مسلمانانِ جموں کا قتل عام ہوا۔یہ ایک طرح سے مسلمانوں کی نسل کشی تھی جس میں لاکھوں اسلامیان شہید ہوئے۔ تیسرے پونچھ میں تحریک آزادی جنم لینے کے بعد مجاہدین جو علاقے فتح کرنے میں کامیاب رہے، وہاں انھوں نے اپنی حکومت قائم کر لی۔ بعدازاں یہ علاقے ''آزاد کشمیر'' کے نام سے معروف ہوئے۔


جیسے ہی14 اور 15اگست1947 ء کو پاکستان و بھارت معرض وجود میں آئے، اس قضیے نے جنم لیا کہ ریاست جموں و کشمیر کس ملک کا حصہ بنے؟ 26اکتوبر تک مہاراجا ہری سنگھ کی یہی کوشش رہی کہ وہ اپنی ریاست کو خودمختار بنا لے اور یوں اپنا اقتدار بحال رکھے۔ مگر اسے اور اس کی ڈوگرا فوج کو ناکامی ہوئی۔اگست 1947 ء میں انگریز حکومت کے خاتمے سے ریاست جموں و کشمیر پر دو بڑے اثرات مرتب ہوئے۔ اوّل مہاراجا ہری سنگھ اپنی ضمانتی و پشت پناہ، برطانوی حکومت سے محروم ہو گیا۔ اب وہ کشمیری عوام پر اپنی مرضی نہیں ٹھونس سکتا تھا۔ ورنہ پہلے ریاست میںعوام بغاوت کرتے، تو انگریز مہاراجا کی مدد کرتے یا اسے کشمیریوں پر ظلم ڈھانے کی کھلی چھٹی دے دیتے تھے۔دوسرے پاکستان اور بھارت کی حکومتوں نے مہاراجا ہری سنگھ پہ دبائو ڈالا کہ وہ کسی ایک ملک کے ساتھ ریاست کا الحاق کر دے۔ مہاراجا سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ ریاستی جیلوںمیں قید تمام سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کو رہا کرے۔ انگریزوں نے برصغیر سے جاتے ہوئے یہ قانون بنایا کہ ہر ہندوستانی ریاست کا حکمران یہ طے کرے گا، اس نے پاکستان میں شامل ہونا ہے یابھارت میں ! اب مہاراجا ہری سنگھ کو بھی یہی فیصلہ کرنا تھا۔ دوسری طرف ریاست کے باشندے شدت سے انتظار کرنے لگے کہ دیکھیں جموں و کشمیر کا مستقبل کس نوزائیدہ مملکت سے وابستہ ہوتاہے۔ وادی پونچھ کے باشندوں کو پاکستان کا حمایتی پا کر ڈوگرا حکومت چوکنا ہو گئی۔ ادھر مسلمانوں کو بھی ہری سنگھ کے لیت و لعل سے اندازہ ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔


ریاست میں 77فیصد آبادی مسلم تھی مگر یہ ہندو راجا اپنا اقتدار برقرار رکھنے پر تلا بیٹھا تھا۔ چنانچہ پونچھ والوں نے حرکت میں آنے کا فیصلہ کیا تاکہ ڈوگرا شاہی کو نابود کر سکیں۔ اب وادی میں مختلف مقامات پر ریاستی فوج اور پونچھ و میرپوری مجاہدین کے مابین لڑائی ہونے لگی۔ اس دوران ڈوگرے نہتے مسلمانوں کا قتل عام کرنے لگے۔ طاقت کے نشے میں سرشار ہو کر انھوں نے وادی کی مقامی آبادی پر بے محابا ستم کیے۔اس زمانے میں سردار محمد ابراہیم خان راولاکوٹ میں مقیم تھے۔ آپ پاکستان کی حمایتی کشمیری جماعت، مسلم کانفرنس کے راہنما تھے۔ انھوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ صرف27اگست1947ء کے دن ڈوگرا فوج نے وادی میں پانچ سو سے زیادہ مسلمان شہید کر دیے۔اخباری خبروں و تحقیقی مضامین سے بھی عیاں ہے کہ ڈوگرا فوج نے وادی میں دیہات جلا ڈالے، مسلمانوں کے جلسوں پر بے دریغ فائرنگ کی اور کئی علاقوں میں مارشل لاء لگا دیا۔ اس ظلم و ستم نے تمام وادی میں تحریک آزادی کی لہر دوڑا دی۔ اب پونچھیوں نے ڈوگرا راج کا طوق گلے سے اتارنے کا تہیہ کر لیا۔چنانچہ نوجوان پونچھی منظم ہونے لگے اور ماہ اگست کے آخر تک ان کی مسلح جدوجہد شروع ہو گئی۔ نوجوان، سردارعبدالقیوم خان اس تحریک آزادی کے سرکردہ راہنما تھے۔ ان مجاہدین نے ڈوگرا شاہی پر ایسے زبردست انداز میں ہلّہ بولا کہ وہ دم دبا کر بھاگ اٹھی۔ چنانچہ اگلے چھے ہفتوں میں پونچھ شہر کے علاوہ پوری وادی مجاہدین نے فتح کر لی۔مجاہدین کی فتح سے مہاراجا بہت تلملایا، اس نے ڈوگرا فوج کو حکم دیا کہ وہ پوری قوت سے وادی پونچھ سے ''باغیوں'' پر حملہ کر دے۔ ساتھ ہی جموں کے مسلمانوں پر بھی ہلہ بول دیا گیا۔


حقیقت یہ ہے کہ پاکستانیوں نے وادی پونچھ کی بغاوت میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا بلکہ یہ تحریک آزادی وہیں کے باسیوں کی برپا کردہ تھی۔ وجہ یہ کہ اس زمانے میں حکومت پاکستان کا بال بال انتظامی اور سیاسی مسائل میں پھنسا ہوا تھا۔ لاکھوں مہاجرین کی آمد نے اس کے سامنے مسائل کا پہاڑ کھڑا کر ڈالا۔ لہٰذا پاکستانی حکومت اس قابل نہیں تھی کہ سرکاری طور پر وادی پونچھ کے مجاہدین کی مدد کر پاتی۔ لیکن وادی کے مسلمان پنجابی اور پختون مسلمانوں سے نسلی، خاندانی، ثقافتی، معاشی اور مذہبی رشتہ رکھتے تھے۔ اسی رشتے کے باعث سرحد اور پنجاب میں مقیم مسلمانوں کو یہ تحریک ملی کہ وہ بھی جہادِ کشمیر میں شریک ہو جائیں۔ مثال کے طور پر وادی پونچھ کے سدھن قبائل اپنے آپ کو سدوزئی پٹھان بتاتے ہیں۔ لہذا صوبہ سرحد سے پٹھان مصیبت میں گھرے بھائیوں کی مدد کے لیے فوراً آ پہنچے۔ ڈوگرا فوج سے مقابلہ کرنا ان کے لیے مشکل نہ تھا۔ انہی وجوہ کی بنا پر وادی کے مجاہدین کو پاکستانی امداد کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ بھارت اچھی طرح جانتا ہے کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اس لئے اس نے اس کو دبا رکھا ہے اور ہم آدھا سانس لے رہے ہیں۔ اگر ہمارا یہی حال رہا کہ کشمیر کو بے حال چھوڑ دیا تو خدانخواستہ ہمارا پورا سانس بھی بند ہو سکتا ہے۔ بھارت اسی لیے تیزی کے ساتھ پاکستان پر بالادستی حاصل کرنے کے مختلف طریقے اپنا رہا ہے۔


اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر ایک متنازع مسئلہ ہے اور تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ۔ کشمیر تو کجا ہمیں تو جونا گڑھ، حیدر آباد دکن اور بنگال کا مسئلہ بھی اٹھانا چاہئے۔ اگر ہم یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل کرائے گا تو یہ دیوانے کا خواب ہے۔ ہمارے پاس دو ہی آپشن ہیں اپنے مسائل کے حل کیلئے ایک تو یہ کہ او آئی سی کی تشکیل نو کی جائے، اس میں سے امریکی یہودی عنصر خارج کیا جائے اور دوسرا آپشن یہ ہے کہ عالم اسلام کے وہ تمام ممالک جو بنیادی اور عوامی طور امریکہ مخالف ہیں ان کا ایک بلاک بنایا جائے جو عالمی سطح پر مسلمانوں کو درپیش مسائل کی نہ صرف تشہیر کرے بلکہ ان کا حل ڈھونڈے۔ مسلمان جب تک سائنسی بنیادوں پر اپنی عسکری قوتوں کو یکجا نہیں کریں گے یہ یہود و ہنود اور نصاریٰ انہیں نگل جائیں گے۔


ای پیپر