ان ’’بابوں‘‘ نے بڑا ظلم کیا ہے ہم پر
02 مارچ 2018 (15:25) 2018-03-02

بیسویں صدی کے اوائل نے نوع انسانی کو بہت سی حیران کن تبدیلیوں سے روشناس کرایا ۔ آخر کار امریکی خواتین کو ووٹ ڈالنے کی آزادی ملی ، انہیں زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے برابر تسلیم کر لیا گیا ، انہیں اپنی جائیداد خریدنے ، اپنے ذاتی پیسے رکھنے ، کالج جانے کی قانونی اجازت مل گئی۔ امریکہ جہاں پر کالوں کو گھر کا واش روم استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ ان کے رہنے کیلئے الگ علاقے ، ان کیلئے ٹرانسپورٹ میں علیحدہ نشستیں ہوا کرتی تھیں وہیں اسی امریکی معاشرے میں کالوں کو گوروں کے برابر تسلیم کر لیا گیا اور آج وہی کالے ، گوری خواتین کو اپنا شریک حیات بنائے زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر ان سب اقدامات میں ایک اہم کردار امریکی جج جیمز مک رینلڈز کا بھی تھا ۔ وہ اس سارے تاریخی عمل کے دوران اپنے قانون کے ڈنڈے کے ساتھ موجود رہے کہ کسی بھی طرح امریکی معاشرہ ان تمام فروعات سے نکل نہ پائے ، ان تمام لعنتوں سے چھٹکارا نہ حاصل کر لے۔ جیمز مک رینلڈ نے ایسوسی ایٹ جسٹس آف سپریم کورٹ کے عہدہ پر براجمان 27سال تک اپنی عجیب و غریب منطق سے امریکی معاشرے کو گھمائے رکھا۔ امریکی تاریخ کے سب سے اہم سول رائٹس کے کیس کیلئے ایک وکیل چارلس ہملٹن ہوسٹن عدالت میں پیش ہوا تو مک رینلڈ نے اپنی کرسی کا رخ 180کے زاویے پر موڑتے ہوئے اپنی پیٹھ ہملٹن کی طرف کر لی کیونکہ وہ کالا تھا ۔مک رینلڈ اعلانیہ طور پر کالوں اور یہودیوں سے نفرت کرتا تھا۔ جب ایک یہودی لوئس برینڈیز کو جسٹس کے عہدے پر نامزد کیا گیا تو مک رینلڈ نے علانیہ طور پر اس سے بات کرنے سے انکار کر دیا اور یہ بھی کہا کہ وہ جس تقریب میں ہو گا وہ اس کے ساتھ نہیں بیٹھے گا ،اور اس نے سالوں تک ایسا ہی کیا ۔جب کلرک بھرتی کرنے کی باری آئی تو مک رینلڈ نے ایک پالیسی کا اعلان کیا جس کے تحت سارے ’’یہودی ، شرابی ، کالے ،عورتیں اور سگریٹ نوش‘‘ اس نشست کیلئے نااہل تھے۔ اس کے علاوہ مک رینلڈ خواتین کی سرخ نیل پالش کا بھی سخت مخالف تھا۔ جب1920ء میں امریکی خواتین کو ووٹ ڈالنے کی قانونی آزادی ملی تو مک رینلڈ نے اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کمرہ عدالت میں کہا ’’یہ غلطی نہ کرو تم برباد ہو جائو گے‘‘۔ جج جیمز مک رینلڈکی انہی خدمات کی وجہ سے جب 1946ء میں وہ فوت ہوا آخری رسومات میں سپریم کورٹ کا ایک بھی جسٹس نہیں آیا ۔


جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ، اسی طرح سب جج بھی ایک جیسے نہیں ہوتے ، مگر دنیا کے نقشے پر وہی جج کامیاب ہوئے جو اصل میں جج بننا ہی نہیں چاہتے تھے۔ ان کا اصل فن اداکاری ، لکھاری ، فنکاری ، ہوشیاری تھا لیکن حالات انہیں کھینچ کر انصاف کے شعبے میں لے آئے ، مگر ان مہا فنکاروں نے جج کی کرسی پر بیٹھ کر بھی اپنے خوابوں کا پیچھا نہ چھوڑا ۔ جیسا کہ ایک اور جج صاحب ہیں مارک شاواریلا ۔ انہوں نے یہ مشہور کیا تھا کہ وہ بہت غصے والے ہیں اور معاشرے میں فساد کی جڑ صرف بچے ہیں ، اگر بچوں کی ٹھیک تربیت ہوگی تو معاشرہ بھی اچھا ہو گا اسی لئے وہ قانون کی تلوار چلاتے ہوئے بے دریغ بچوں کو پرائیویٹ تربیتی مراکز میں بھجوایا کرتے تھے۔ ان کے کیسز کے فیصلے بھی بڑے مزیدار ہوا کرتے تھے ۔ ایک 10سالہ بچی کو صرف اس لئے ایک ماہ کی خوفناک سزا دے دی کہ لائٹر سے کھیلتے ہوئے غلطی سے اس نے اپنے گھر کو آگ لگا ڈالی تھی ، مالک مکان بچی کو معاف کرنا چاہتا تھا مگرجج صاحب اصلاح پر قائم رہے۔ ایک ماں نے اپنی کار کے غائب ہونے کی اطلاع دی ،پتہ چلا کہ اس کا 11سال کا بیٹا اس کی کار لے گیا تھا ۔ اس گناہ میں جج صاحب نے بچے کو تقریبا 2سال کی سزا سنا دی جبکہ ماں بچے کی معافی چاہتی تھی ۔ایک اور 14سالہ بچے کو صرف اس لئے 3ماہ کی سزا سنا دی کہ اس نے ایک ویب سائٹ پر اپنے ٹیچر کا مذاق اڑایا تھا۔ بعد میں انکشاف ہوا کہ جج صاحب پرائیویٹ تربیتی مراکز کے ساتھ ایک معاہدے میں بندھے ہوئے تھے ۔ وہ بچوں کو ان مراکز میں بھجواتے ہیں جس کے جواب میں انہیں ان کا کمیشن مل جاتا اور وہ اس کاروبار سے لاکھوں ڈالر پتی ہو چکے تھے۔ پھر جج صاحب کو عوام کی لعن طعن کا سامنا کرنا پڑا اور 27سال کی سزا اس کے علاوہ تھی۔


مائیکل چیکو نیتی کوئی اتنا برا جج نہیں تھا ۔ بس وہ ذرا سا مختلف تھا ، وہ بھی شاید اداکار یا فلم رائٹر بننا چاہتا تھا مگر بن وہ جج گیا۔ جملے اس کے اندر سے پھوٹتے تھے ، آرٹ کا دلدادہ تھا اور جو بھی کیسز اس کے پاس آتے تھے انہیں وہ اک حسین موڑ دے کر آرٹ کی مورت بنانے کی کوشش کرتا تھا۔ اپنے فیصلوں کو وہ’’ تخلیقی انصاف‘‘ کہا کرتا تھا۔ مثال کے طور پر ایک صاحب نے دکان سے چوری کرنے کی کوشش کی تو جج صاحب نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کرانہیں اسی دکان کے سامنے پلے کارڈ کے ساتھ کھڑا کردیا ، ایک صاحب نے حضرت عیسیٰ ؑ اور پولیس کی بے حرمتی کی تو گدھے کے ساتھ باندھ دیا اور کہا کہ اسی طرح سے روزمرہ کے کام کرو ۔ ایک خاتون نے بلی کے بچے اپنے دروازے پر اکیلے چھوڑ دئیے تو جج صاحب نے انہیں سزا دی کہ وہ ساری رات شہر سے دور ، ویرانے میں اکیلے گزاریں گی اور ان کے پاس شدید سردی میں صرف ایک لائٹر ہو گا ۔ایک صاحب کی شکایت آئی کہ وہ کار میں اونچی آواز میں گانے سنتے ہیں تو جج صاحب نے انہیں جنگل میں بھیج دیا کہ اکیلے بیٹھ کر خاموشی کا حظ اٹھائو۔ کئی دفعہ جج صاحب کے فیصلے بہت مزیدار ہوتے مگر کئی بار سخت ۔ یہ سب ان کے موڈ پر منحصر تھا ۔ ایک صاحب نے اپنے کتے کو سر میں گولی مار کر قتل کر دیا تو جج صاحب نے اس کے سامنے دو آپشنز رکھیں۔ چھ ماہ کیلئے جیل چلا جائے یا پھر 20دن کیلئے کتے کا کاسٹیوم پہن کر سگنلز پر بچوں کو نشے سے بچنے کی تلقین کرے۔ ایک فیصلہ تو بہت ہی شاندار تھا جب تین افراد نے طوائف کو ہراساں کیا تو انہیں یہ سزا ملی کہ وہ اسی گلی میں مرغے کا کاسٹیوم پہن کر کھڑے ہو جائیں کیونکہ شاید لڑکیاں مرغیاں ہوتی ہیں اور مرد ان کو پالنے والے۔


اس موقع پر جون ایلیا کا ایک بے موقع شعر یاد آرہا ہے جس میں تھوڑی سی تبدیلی شاید ان کی روح کو خوشی سے سرشار کر دے گی ۔
ان بابوں نے بڑا ظلم کیا ہے ہم پر
ان میں اک رمز ہے ، جس رمز کا مارا ہوا ذہن
مژدہ عشرت انجام نہیں پا سکتا
زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا


مملکت خدادا د میں بھی رنگ و نور کی آتش بازیاں پھوٹ رہی ہیں۔ انصاف کوچہ و بازار میں بچے جن رہا ہے ۔ ’’تخلیقی انصاف‘‘ کی بے مثال کہانیاں رقم ہو رہی ہیں جنہیںامید ہے تاریخ کا بے رحم نشتر ہمیشہ کی طرح بے لاگ انجام تک پہنچائے گا ،جبکہ پاکستان کے جمہوری مستقبل سے پرامید مجھے جج جیمز مک رینلڈ کے بارے میں کسی دل جلے کا تاریخی فقرہ یاد آرہا ہے ۔


Judge McReynolds, the only known living enema.


ای پیپر