لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے
02 مارچ 2018 (15:23)

گزشتہ دنوں سینیٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ1976ء سے 2017ء تک ہر سال اوسطاً 29ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر برد ہو جاتا ہے ۔پانی کی قلت دن بدن سنگین صورت حال میں تبدیل ہوتی چلی جا رہی ہے ۔جبکہ اس حوالے سے حکومت کسی قسم کے اقدامات نہیں کر رہی ۔ڈیمز کی کمی کی وجہ سے ہر سال اربوں ڈالرز کا پانی ضائع ہو جاتا ہے ۔ملک میں اس وقت پانی ذخیر ہ کرنے کی صلا حیت انتہائی کم ہے ۔پاکستان میں بر سر اقتدار آنے والی حکومتوں نے اپنی ڈنگ ٹپائو پالیسیوں کی بدولت 46برسوں سے کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا۔دوسری طرف بھارت مسلسل ڈیمز تعمیر کرتا چلا جا رہا ہے ۔ہندوستان کی آبی جارحیت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ۔ بھارتی حکومت نے راء کے ہیڈ کواٹر میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر روکنے کے لئے ایک ڈسک قائم کر رکھا ہے جس کا باقاعدہ بجٹ منظور کیا جاتا ہے ۔اس ڈسک کا کام پاکستان کو آبی ذخائر کی تعمیر سے روکنا ہے اور فنڈنگ کر کے وہ اس مقصد کے لئے پاکستان میں موجود اپنے آلہ کاروں کو استعمال کر رہا ہے ۔کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ یہ میڈیا میں معتدد بار آچکی ہے۔


کچھ عر صہ قبل لاء لاہور ہائی کورٹ نے مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات کی روشنی میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا حکم دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ اس مقصد کے لئے ضروری اقدامات کیے جائیں۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی طرف سے جاری کردہ مختصر حکم میں کہا گیا تھا کہ’’دستور پاکستان پانی اور بجلی سمیت متعدد امور کے متعلق مشترکہ مفادات کی کونسل (سی سی آئی)کو وفاق کی پالیسیاں تشکیل دینے کا خصوصی اختیار دیتا ہے۔سی سی آئی کا فیصلہ تسلیم کرنا اس وقت لازم ہے جب تک دستور کے آرٹیکل(7)154کے تحت پارلیمنٹ اس میں ترمیم نہیں کرتی‘‘۔ مجھے یہاں سابق چیئر مین واپڈااور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ شمس الملک کا بیان بھی یاد آتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ’’ صوابی اور نوشہرہ کا لاباغ ڈیم کے مقام سے ایک سو پچاس کلومیٹر دور ہیں۔ڈیم کی تعمیر سے دونوں شہروں کو نقصان پہنچنے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔چھوٹے ڈیموں کے حامیوں کو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہئے کہ750چھوٹے ڈیم بنانے سے بہتر ہے کہ ایک کالا باغ ڈیم بنالیا جائے‘‘۔


بلاشبہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ قابل ستائش ہے۔ اگرملک و قوم کے مفاد کو ملحوض خاطر رکھا جائے تو اس سے ملک کی معیشت،زراعت،صنعت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور مہنگائی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ٹھٹھہ،بدین اور سندھ کے دیگر اضلاع میں20 لاکھ ایکڑ مزید زیرکاشت آئیں گے۔ خیبر پختونخوا میں ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں و دیگر اضلاع میں8لاکھ ایکڑ کی آب پاشی ممکن ہو جائے گی۔ بلوچستان میں 7لاکھ ایکڑرقبہ مزید سیراب ہوگا اور اس کی تعمیر سے پنجاب کو بھی خاطر خواہ فائدہ حاصل ہو گا۔ کالاباغ ڈیم سے 3600میگاواٹ سستی بجلی پیدا ہوگی اور بجلی صارفین کو132ارب روپے کا بلوں میں ریلیف ملے گا۔ لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں یہ ڈیم نہایت مددگار ثابت ہو گا۔ ملک کو سالا نہ350سے300ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔زرعی و دیگر پیداواریں 15فیصد بڑھ جائیں گی۔صنعت کی پیداواری لاگت15فیصد کم ہوجائے گی جس سے ملک کی بر آمدات میں 7سے 10ارب ڈالر کا اضافہ ممکن ہوسکے گا۔یعنی کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے درآمدات اور برآمدات کا25ارب ڈالر کا فرق کم ہوکر15ارب ڈالر تک رہ جائے گا۔اعداد و شمار میں کمی بیشی اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم پاکستان کے مستقبل کا منصوبہ ہے اوراس کو ہر صورت میں مکمل ہو نا چاہیے ۔بجلی و پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پر قابو پانے اور ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچائو کے لئے پاکستان کے حکمرانوں کو دور اندیشی کا مظاہر ہ کرنا ہوگا ۔


جمہوری ریاستوں میں فیصلے کثرت رائے سے اور مجموعی قومی مفادات کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔کسی بھی فرد یا گروہ کے سیاسی مفادات قومی مفادات پر غالب نہیں آتے۔چین میں شنگھائی کے قریب ایک ڈیم کی تعمیر پر حکومت بضد رہی اور آج چین اس ڈیم سے مستفید ہورہا ہے۔ گزشتہ دورحکومت میں پیپلز پارٹی نے اتفاق رائے قائم کر کے اتحادی حکومت تو قائم کر لی تھی مگر کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے قائم نہیںکیا گیا۔موجودہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بر سر اقتدار آتے ہی کالاباغ ڈیم کو فائلوں میں بند کر دیا ۔


ای پیپر