Riaz ch, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
02 جون 2021 (11:08) 2021-06-02

حالیہ صورتحال اس لئے درپیش آئی کہ فلسطین کے بعض علاقوں میں یہودیوں نے زور زبردستی مسلمانوں کے گھروں پر قبضہ جمانا شروع کر کے ان کا سامان باہر پھینک دیا ہے۔جس سے صورتحال میں کشیدگی پیدا ہوئی اور پھر اسرائیلی فوجوں نے یہودیوں کاساتھ دیتے ہوئے مسلمانوں کیخلاف کریک ڈائون کیا، جس کا ردعمل آنا فطری بات تھی۔ اقوام عالم کی پراسرار خاموشی نے جلتی پر تیل کا کام کیا اورجنگ بندی کے باوجود وہاں صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ 

پاکستان میں مذہبی و سیاسی جماعتوں نے ملک گیر احتجاج کر کے دنیا کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم امہ یک زبان ہو کر اسرائیلی جارحیت کیخلاف فلسطین کے مظلوم عوام کا عملی طور پر ساتھ دیں۔اگر انہیں فوجی تعاون فراہم نہیں کیا جاسکتا تو کم ازکم امتحان کی اس گھڑی میں ان کی مالی اوراخلاقی مدد کر کے دست تعاون تو درازکیا جاسکتا ہے۔

غزہ کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا جائے۔ غرور اور تکبر سے بھرے اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے کئے۔ مقبوضہ علاقوں کو خالی کرایا جائے۔ غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل یقینی بنائی جائے۔حملوں کے دوران  غزہ میں پانی اور غذا کی قلت پیدا ہو گئی تھی۔ غزہ میں بے گھر افراد کی تعداد 50 ہزارسے تجاوز کرگئی۔پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک نے غزہ میں ہنگامی بنیادوں پر امدادی اشیاء بھجوانے کا انتظام کیا ۔

یہ جنگ غیر قانونی قابض اسرائیل اور نہتے فلسطینیوں کے درمیان تھی۔ ایک طرف جدید ترین قابض فوج ہے، دوسری طرف نہتے فلسطینی ہیں۔  آج ہم انسانی ہمدردی کے ناتے کچھ کرتے ہیں یا نہیں کرتے یہ تاریخ کا حصہ ہوگا۔ وقت آگیا ہے اب اسرائیلی مظالم روکنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔ پاکستان مسئلہ فلسطین کے پر امن حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ بس بہت ہوگیا۔ اسرائیلی مظالم روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں اور غزہ کی مخدوش صورتحال پر عالمی فوج  غزہ کے اندر تعینات کی  جائے۔ 

جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اور ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ اسرائیل فلسطینیوں ، مسجد اقصیٰ اور غزہ میں ظلم ، جبر ، قتل و غارت گری اور جنگی جرائم کی انتہا کو پہنچ گیاہے۔ اسرائیل ناجائز ، شریر اور انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ ریاست ہے۔اسرائیل کے ناسور کا خاتمہ ہی عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔پورے ملک میں اسلامیان پاکستان فلسطینیوں کے پشتی بان اور صیہونیت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں جبکہ مسلم حکمران بیانات ، ٹیلی فون اور بے روح اجلاس کرنے پر ہی محدود ہیں۔کشمیر ، فلسطین ، افغانستان ، شام اور یمن کے مسلمانوں کا حق ہے کہ ملت اسلامیہ متحد ہو جائے۔بے حسی ، نمائشی سرگرمیاں اور بزدلی ترک کریں اور پوری امت کو اسرائیل ، بھارت اور امریکی صہیونی سامراج کے خلاف متحد کر کے عالمی امن کے قیام اور مظلوم مسلمانوں کو ظلم سے نجات دلانے کے لیے ایکشن پلان بنائیں۔ امریکہ اندرونی اور بیرونی طور پر اسرائیل کا سرپرست اور بھارت کی پشتی بانی پر مامور ہے ۔عالم اسلام کا اتحاد ہی تمام سامراجی اور مسلم و اسلام دشمن طاقتوں کو زیر کرسکتاہے۔ مسلم ممالک میں اقتصادی ، جغرافیائی ، انسانی صلاحیتوں اور قدرتی وسائل کا وسیع میدان موجود ہے ۔مسلم دنیا کو کسی بیساکھی اور چاپلوسی کی ضرورت نہیں۔

 فلسطین میں اسرائیلی ظلم و جبر کے خلاف اگرپوری دنیا خاموش ہو جائے، تب  بھی ہم اس کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔اسرائیلی جارحیت پر خاموش رہنے والوں کا انجام عبرت ناک ہوگا۔ فلسطینی شہروں اور القدس میں برپا مظالم کیخلاف آواز اٹھاناناموسِ انسانیت کا فرض ہے۔اسرائیل کی جانب سے بہائے جانے والے خون پر خاموش رہنے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک دن ان پر بھی یہ وقت آ سکتا ہے۔القدس، مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مسیحیوں اور یہودیوں کے لیے بھی مقدس مقام ہے جہاں’اسرائیل‘ نامی دہشتگرد ریاست نے انسانیت سوزی کی تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔  اقوام  عالم سے مطالبہ ہے کہ وہ بلا امتیاز اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ہو جائیں۔

 اسرائیل کی بڑھتی ہوئی بربریت پر عالم اسلام کے سکوت کو مجرمانہ خاموشی کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔ یہود نصاریٰ باطل پر بھی مجتمع ہیں تو امت مسلمہ حق پر ہوتے ہوئے باہم کیوں نہیں ہو سکتی۔ فلسطینی مسلمانوں کے خلاف اسرائیل کے وحشیانہ اقدامات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ شہری آبادی پر حملہ کر بے گناہ افراد اور معصوم بچوں کو نشانہ بنانا جنگی قوانین کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے جس پر اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے۔ غاصب اسرائیل مسلمانوں کے قبلہ اول پر اپنا حق جتانے کے لیے جو غیر انسانی کھیل رہا ہے اس کا خمیازہ اس کی رہتی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ایمان کی دولت سے مالا مال فلسطینی مسلمان غیر ت و حمیت کا وہ پہاڑ ہیں جن سے ٹکرانے والا پاش پاش ہو کر رہے گا۔ امت مسلمہ نے اپنے مسلمان بھائیوں کی مشکلات اور غم کا ادراک نہ کیا تو پھر دنیا میں ان جیسا بے حس کوئی نہیں ہو گا۔ اگر اس شیطانی طاقت کو شرپسندی سے نہ روکا گیا تو اس کی سلگائی ہوئی آگ سب کے دامن سے لپٹی ہوئی نظر آئے گی۔

اسرائیل نے نہتے فلسطینیوں پر جس طرح غرور ، گھمنڈ اور ڈھٹائی کے ساتھ مظالم جاری رکھتے ہوئے ہلاکو اور چنگیز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ ایسی صورتحال میں امن عالم کے ٹھیکیداروں کا خاموش تماشائی بنے رہنا ظالم اور ظلم کی بالواسطہ حمایت کے مترادف ہی ہے۔ مسلمان ملکوں کو بھی متحد ہو کر سوچنا چاہیے کہ ان کی مشکلات میں غیر اسلامی دنیا ان کے کسی کام نہیں آئے گی خواہ وہ امریکہ ، برطانیہ سمیت کسی بھی قسم کے اتحادی کیوں نہ ہوں اس لیے اپنی مشکل کو خود ہی آساں کرنے اور اپنے درد کا خود ہی درماں کرنے کے لیے اپنے اختلافات ختم کر کے متحد ہونا ہو گا۔


ای پیپر