رونق خم خانۂ یونان
02 جون 2020 (23:12) 2020-06-02

سقراط سے جب اس کا وطن پوچھاگیاتواس نے ایتھنز یا یونان کی جگہ دنیاکانام لیا۔ یقیناً ساری دنیا اپنا گھر ہے۔ ملکوں اورخطوں کی تقسیم محض آسانی کے لیے ہے۔ انسانیت کا وطن ایک ہی ہے اور وہ دنیاہے …ہرملک ماست کہ ملک خدای ماست…یوں تو ہم سفرکرتے کرتے لاہورسے نکل کر استنبول اورقونیہ سے ہوتے ہوئے اب یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں تھے اور یہ ہمارے سفرکا تیسراپڑائوتھا لیکن بہ حیثیت انسان تو ہم اب بھی اپنے وطن ہی میں تھے اور ہمارایہ سفر، سفردروطن ہی تھا ،بہ قول خواجہ میردرد ؎

ازگردش زمانہ نیاسودہ ام کہ ہست

مثل فلک مدام سفر در وطن مرا

وہ یونان میں ہماری پہلی صبح تھی، خوش گوار موسم کی روپہلی ہوائوں نے رخسارتھپ تھپائے اورپچھم میں پورب کا دروازہ کھلا تو ہم نے آنکھیں کھول کر ایتھنز میں طلوع ہوتے سورج کو دیکھا …یہ خیال بہجت انگیز تھا کہ ہم ایتھنزمیں ہیں؛ سقراط کا دیس، افلاطون کی اکیڈیمی، ارسطو کا وطن……ایتھنزکو ہمارے ہاں اتینہ لکھاجاتارہاہے۔ بائبل میں اسے’ ایتھنے‘ کہاگیاہے۔ مسلمان یہاں اوّل اوّل تیسری صدی ہجری میں پہنچے تھے۔یہ مدینۃ الحکما تھا ۔یوں توحکمت کا لفظ عام ہے لیکن بعض اوقات یہ محض طب کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے ۔جن لوگوںنے حالی کی مسدس پڑھی ہے انھیں یادہوگاکہ اس کے آغازہی میں بقراط سے مہلک امراض کی نسبت کیے گئے سوال کا تذکرہ ہے…’’کسی نے یہ بقراط سے جاکے پوچھا+مرض تیرے نزدیک مہلک ہیں کیاکیا‘‘… جس کے جواب میں بقراط نے بڑی پتے کی بات کہی کہ دنیامیں ہرمرض کی دواہے لیکن وہ مرض جسے مریض اہم نہ سمجھتاہواور جب اس جانب اس کی توجہ مبذول کروائی جائے تو وہ اسے ہنسی میں اڑادیتاہو۔ایساہرمرض ہلاکت کا باعث ہوتاہے خواہ وہ کتناہی معمولی کیوں نہ ہو۔ بقراط کا تعلق بھی یونان سے تھا ۔وہ یہاں کے ایک دوردرازجزیرے قوس میں پیداہواتھا۔آج کل یہ یونان کے ڈوڈی کنیز مجموعہ جزائرمیں شامل ہے ۔قدیم یونان ،ایک ملک نہیں تھا بلکہ یہ پندرہ سو مختلف شہری ریاستوں کا ایک مجموعہ تھا،جن میں سے ہر ایک کے اپنے قواعد،اپنی حکومت اور اپنادستورتھا اور ان میں سے اکثرایک دوسرے کے ساتھ برسرپیکاررہتی تھیں۔قوس بھی ان میں سے ایک جزیرہ تھا۔

ہماراسفر،پاکستان، ترکی اور اب یونان کی جو قوس بنارہاتھا، میںاس میں سفرکرتاہوا آج اتینہ یا ایتھنے کی سیاحت کے لیے پرعزم تھا ۔ ارداہ تھاکہ آج پالیااغورا،اکادیمیا اورایکروپولس جایاجائے گا۔ناشتے کی میزپر بیگم وجناب خالدعثمان قیصر کی خوش خلقی اور مہمان نوازی سے مستفیدہوتے ہوئے ۔میںنے ایتھنزمیں دیکھے، پہلے طلوع آفتاب کا ذکرکیا ۔ جناب قیصرنے بتایاکہ یونان کا موسم معتدل ہے، سردیاں بھیگی بھیگی اور گرمیاں تیز گرم ہوتی ہیں، سال کے تین سوپینسٹھ میں سے دوسوپچاس دن ایسی ہی اجلی دھوپ کے ساتھ طلوع ہوتے ہیںجیسی دھوپ کا مشاہدہ آج آپ نے کیا۔دوسرے یورپی ممالک کے برعکس یونانی، سالانہ تین ہزارگھنٹوں کی دھوپ سے لطف اندوزہوتے ہیں۔میںنے کہاپیشتر اس سے کہ یہ دھوپ تیز ہوجائے ہمیں چلناچاہیے،جناب قیصرمسکرائے اورطے پایاکہ ہم پہلے سفارت خانے جائیں گے جہاں وہ اپنے دفتر کے امورنپٹائیں گے اور ہم ان کے ڈرائیورکے ساتھ ایتھنزکی تسخیرکے سفرپر روانہ ہوجائیں گے۔اگر اقبال

کے مصرعے میں ’مے خانے‘ کو بدلنے کی اجازت ہو تو میں کہہ سکتاہوں کہ ’بہت دیکھے ہیں میںنے مشرق و مغرب کے ’’سفارت خانے‘‘ اس لیے مجھے سفارت خانے سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی لیکن جناب خالدعثمان قیصر کا دفتر دیکھنے سے ضرور دلچسپی تھی ۔اس کا ایک سبب خالدعثمان قیصر صاحب کارنگِ طبیعت تھا جو طبقہ سفرامیں نایاب ہے بلکہ اس بارے میں فردوسی کا قول تو بہت ہی چشم کشاہے کہ ؎

فرستا د با ید فرستا د ہ ای

درون پر زمکروبرون سادہ ای

سفیرکو ایساہوناچاہیے کہ باہر سے تو بہت سادہ دکھائی دے لیکن اندر سے بہت چالاک اور مکار ہو۔ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ ایساسفیرجو باہراور اندر دونو پہلووں سے سادہ ہے اس کا دفتر کیساہوگا۔ خالدعثمان قیصر صاحب نے سفارت خانے کے مختلف شعبے دکھلائے ،عملے سے ملاقات کروائی اپنی یونانی سیکریٹری نکی سے ملوایا جو ان کے بہ قول مردانہ وار کام کرتی تھی بلکہ انھوںنے ہمارے ایتھنزسے روم کے ٹکٹ بنوانے کی ذمہ داری بھی اسے سونپی جسے اس نے بڑی چابک دستی سے انجام دیا ۔اس کا تعارف ایک الگ موضوع ہے ۔سفیرصاحب کا دفتر دیکھ کر میںحیران ہوئے بغیرنہ رہ سکاکہ یونان میں متعین پاکستانی سفیر کا دفتر حیران کن حدتک سادہ تھا۔ ایک صاف ستھرے کمرے میں بہت سادہ سی میز اور چندکرسیاں اوربس …کسی آرائشی سازوسامان سے بے نیاز …اس دفتر کی آرائش اگرکوئی تھی تو جناب سفیرکی شخصیت تھی جو’کہیں چھپتاہے اکبر پھول پتوں میں نہاں ہوکر‘ کی تصویربنی، کرسی ِسفارت پر جلوہ افروزتھی ۔ہم کارِسفارت ان کے سپردکرکے ان کے ڈرائیورافضل صاحب کے ساتھ ایتھنز کی سیرکے لیے روانہ ہوئے…ہم سفارت خانے سے باہرنکلے تو ایتھنز،سات ہزارسال کی تاریخ اپنے دامن میں لیے بیٹھاہمارامنتظر تھا۔ یورپ کا قدیم ترین شہر ،مغربی فلسفے ،علوم اور جمہوریت کا مولد ،المیہ اور طربیہ داستانوں کی آماج گاہ ۔میری نگاہیں اس ایتھنزکو ڈھونڈ رہی تھیں جس کی گلیوں میں کبھی سقراط پھراکرتاتھا ۔وہ سوالات کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں پر دستک دیتاتھا۔کبھی دوستوں کی محفل میں، کبھی چوراہوںاورکبھی راہوں میں۔وہ عمربھراسی طرح باتیں کرتارہا،کہیں دوچاراور کہیںپانچ سات لوگ اس کے گرداکٹھے ہوجاتے اوروہ ان سے محوِتکلم ہوجاتا تھا۔اس کا اندازیہ نہیں تھاکہ خودکو عالم اور دوسرے کو جاہل سمجھ کر علم بگھارنا شروع کردے بلکہ وہ معمولی گفتگومیں بات سے بات پیدا کیا کرتا تھا۔ایک دن اس نے شہرکے ایک نک چڑھے کمھار مائوس کواپنی دکان میں بیٹھے ،مٹی کے برتن بناتے دیکھا،مائوس نے چاک پر مٹی کا ایک لوندا چڑھارکھاتھا اور ایک غلام لڑکا چاک کو چھڑی سے گھمارہاتھا۔ مائوس ،مٹی کے اس لوندے کو کبھی لمباکردیتاکبھی نیچا،یوں لگتاتھا کہ اس کا بس یہی شغل ہے لیکن ایک مرحلے پر کمھارنے اپنے ہاتھ اوپراٹھائے، مٹی کے اس گھومتے لوندے میں انگوٹھے گاڑے اور مٹی کو گویا پکڑکراوپراٹھایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مٹی کے اس لوندے کی جگہ ایک خوبصورت صراحی ظہورکرچکی تھی …چشم تخیل سے اس منظرکو دیکھتے دیکھتے میں اپنے اسکول کے زمانہ ء طالبِ علمی میں پہنچ گیا۔ ہمارے محلے میں بھی ایک کوزہ گر تھا ۔اس کے گھرانے کا کوئی بچہ ہمارے اسکول میں پڑھتاتھا اوراس کا ایک بھائی اسی گھر میں کریانے کی دکان کرتاتھا۔ میں جب بھی وہاں جاتا تو چاک پر گھومتے مٹی کے لوندے کو دیرتک دیکھاکرتااور کوزہ گرکی انگلیوں کے رقص سے جنم لیتے ’’دست چابک کے پُتلوں اورگِل و رنگ وروغن کی مخلوق ِبے جاں‘‘ کو دیکھ دیکھ کر دل ہی دل میں اسے داددیتا…اس کے پاس تغاروں میں پڑی مٹی کی خوشبو مجھے وارفتہ کرتی اور میراتخیل اس کے گِل ولاسے اپنے خوابوں کے سیال کوزے بنانے لگتا …میں اپنے بچپن کی دنیاسے نکل کر ایتھنزکی گلیوں میںپہنچاتو دیکھاکہ سقراط ،کوزہ گرکی بنائی ہوئی صراحی کو دیکھ کر سوال کررہاتھاکہ’’ مائوس !تم حسین چیزیں بناتے ہو تمھیں تو معلوم ہوگاکہ حسن کیاہے …؟‘‘

بیچارہ مائوس اس سوال کا کیا جواب دیتا۔ اس نے کہا ؛میں تو اتناجانتاہوں کہ اچھا برتن، حسین برتن ہوتاہے…اس کا مطلب ہے چیز، اچھی ہوتو حسین ہوتی ہے اور کارآمدہوتواچھی…سقراط نے کہا… مائوس نے اثبات میں گردن ہلائی …پھرسب اچھی صراحیاں کیوں نہیں بناتے…؟سقراط نے پوچھا۔انھیںیہی معلوم نہیں کہ اچھی صراحی ہوتی کیسی ہے …مائوس نے جواب دیا۔ سقراط بھی یہی چاہتاتھا۔ مائوس کے اس جواب نے سقراط کے حسن اور خیرکی یکجائی کے تصور کی تائیدکردی …اور مجھے ایتھنزکی گلیوں میںکیٹس کی یاد آئی…

"Beauty is truth, truth beauty,—that is all

Ye know on earth, and all ye need to know."

’جبین وقت پر اپنے لہوسے کسی خوشبونے اک مصرعہ لکھاتھا…

صداقت حسن ہے، حسن اک صداقت


ای پیپر