فیض اور فیض رسانی!
02 جون 2020 (23:11) 2020-06-02

مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ یاد رکھو‘ فیض کسی ایسی شئے کانام نہیں ہو سکتا جو مسلم اور غیر مسلم دونوں کے پاس بیک وقت موجود ہو۔ آپؒ اِسی رو میں جلال کے عالم میں فرماتے کہ تم حرام کی کمائی سے مکان بناتے ہو اور اس کی پیشانی پر لکھوا دیتے ہو "ھٰذا من فضلِ ربی"۔لہٰذایک غریب مسلمان جب تمہارا مکان اور اس پر فضل خداوندی کالیبل دیکھتا ہے تو یہ سوچ کر مایوس ہو جاتا ہے کہ شاید میرا رب مجھ سے ناراض ہے۔ مرشد کے قول سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ فیض کسی مادّی یا مالی حالت کا نام نہیں۔ فیض کسی tangible اثاثے کا نام نہیں، کسی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا نام نہیں، دولت ، شہرت اور حکومت کا نام نہیں، یہاں تک کسی مادّی علم وہنر بشمول دانش اور دانشوری کا بھی نام نہیں۔ یہ جملہ اثاثہ جات غیرمسلم لوگوں کے پاس بھی وافرپائے جاتے ہیں۔ بل گیٹ، مارک زکربرگ اور سٹیو جاب کے علم و ہنر کو ہم فیض کا نام نہیں دے سکتے، اور نہ ان کی مارکیٹنگ ٹیکنیک کو فیض رسانی کا ذریعہ کہہ سکتے ہیں۔ بقول حضرت واصف علی واصفؒ کلمہ اور کلمے والےؐ کی محبت، ایمان اور ایمان والوں کی محبت‘ یہ ایسی چیزیں ہے جو غیر مسلم کے پاس نہیں ہو سکتیں، اس لیے انہیں فیض کہو۔

فیض کیلئے ایک فیض یافتہ شخصیت کا ہونا ضروری ہے، فیض ہوا میں ٹیلی مواصلاتی رابطوں سے طے نہیں پاتا، اور نہ کسی فیض یافتہ شخصیت کی تحریر و تقریر یاد کر لینے سے حاصل ہوتا ہے۔ فیض کیلئے شرط اگر محبت ہے ‘ تو یہ فاصلاتی محبت نہیں کہ تاریخ کے جھروکے میں بیٹھی ایک شخصیت اپنا درشن دینے کیلئے زمانہ ٔ حال میں چھلانگ لگا دے ، کسی شخص کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کریوں کھڑی ہو جائے اور زمین پر شورمچ جائے کہ فلاں شخصیت نے فلاں ابنِ فلاں کو فیض یاب کر دیا ہے۔ اقبالؒ اور رومیؒ کی مثال عام طور کوٹ کی جاتی ہے، اور یہ کسی کو خبر نہیں کہ حضرت ِ اقبالؒ کا مولاناجلال الدین رومیؒ سے روحانی مکالمہ‘ دراصل اقبالؒ کا ایک معراجی سفر ہے، اِس روحانی اور معراجی سفر میں اقبال ؒ کا مکالمہ ‘رومی ؒ کے علاوہ اور بھی بہت سی ہستیوں کے ساتھ بھی جاری رہا۔ دورانِ سفر اقبالؒ نے از راہِ عجز و انکسار خود کو’ مرید ہندی ‘لکھا اور مولانا رومؒ کو’ پیررومیؒ‘ کہا۔ اِس روحانی سفر پر جانے سے بہت پہلے اقبالؒ فیض یافتہ ہو چکے تھے اور قادری سلسلے کے ایک بزرگ کے ہاتھوں بیعت ہونے کے بعد باالمشافہ اس قدر فیض پا چکے تھے کہ اُن کی روح اس دنیا میں رہتے ہوئے عالمِ بالا کی بلند تر اَرواح سے رابطہ قائم کر چکی تھی۔ اگر فیض رساں ہستی سے زمینی رابطہ غیر ضروری ہوتا تو رومیؒ اپنے پیر شمس تبریزیؒ کی تلاش میں علم و ہنر کی مسند چھوڑ کر دشت ِ فراق میں آبلہ پائی نہ کرتے۔ یہ بات بھی درست نہیں کہ کسی صاحب ِ علم سے اکتسابِ علم اُس کی کتاب یا قبر کیلئے ذریعے کر لیا جائے اوربعد میں محبت کا ایک "تڑکا" اسے فیض میں بدل دے گا۔ اِس حوالے سے نبیؐ اور اُمتی کی مثال دی جاتی ہے کہ شخصیت موجود نہیں لیکن کلمہ موجود ہے، اس لیے شخصیت کے بغیر کلمہ پڑھ کر ہمارا ایمان گویا صحابہ کے ایمان کے برابر ہو جاتا ہے…ذاتِ پیغمبرؐ کو ہر حال میں استثنا حاصل ہے ‘ وہ اوّلین اور آخرین ہیں،پچھلی اُمتوںکیلئے حجت …اور تاقیامت تمام انسانوں اور جہانوں کیلئے حجت ِ تام۔اُس ذات ِ والاصفات ؐ کی مثال امتیوں پر منطبق کرنا حدِ ادب ہے۔ ہمارا درجۂ ایمان کبھی بھی صحابہ اکرام کے درجے کے برابر نہیں پہنچ سکتا ہے، وہاں بھی سابقون الاوّلون کا درجہ دیگر صحابہ سے بہت بلند ہے کہ ہجرت سے پہلے جو ٓاصحاب ایمان لائے اور فتح مکہ کے بعد جولوگ اسلام لے کر آئے ‘ اُن کے درجات میں بہت فرق ہے، اس پر قرآن کی سورۃ حجرات قیامت تک کیلئے گواہ ہے۔ کلمہ سب پڑھتے ہیں، لیکن سب لوگ کلمہ پڑھ کر صحابی نہیں بن سکتے، ہر کلمہ پڑھنے والا ولی اللہ نہیں ہوتا۔ ولی کو ولی بنانے والی ایک ذات ہوتی ہے‘ کتاب نہیں۔ "ہمارے لیے کتاب کافی ہے" کے فلسفے پر چلنے والے اُن اصطلاحات پر شب خون نہ ماریں جو فقرا اور اولیا کے ہاں استعمال ہوتی ہیں۔ نفس اپنی شرارتوں سے کب باز آتا ہے… خود کو فیض یافتہ منوانے کیلئے فیض کے معانی ہی نہ بدل ڈالو۔ اقبالؒ کا شکوہ بجا ہے "خود بدلتے نہیں‘ قرآں کوبدل دیتے ہیں" فیض یافتہ اور فیض رساں ہستیوں نے اپنی عمر اِس کارگۂ شیشہ میں تمام کی ہے ‘ اور اُن کی احتیاط کا یہ عالم ہے کہ

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق کی اس کارگاہِ شیشہ گری کا

"کاتا اور لے اڑی" والے لوگ اور ہیں، یہ اپنی فکر کی ڈور بھی اُلجھا دیں گے… دوسروں کی فکر کا سلجھاؤ او ر سبھاؤتو الگ داستان ہے۔

"گمنام ادیب" قارئین کے خطوط پر مشتمل ایک نایاب کتاب ہے ، یہاں ایک خط کا تذکرہ بے محل نہ ہوگا، ایک شخص حضرت واصف علی واصفؒ کے نام اپنے خط میں لکھتا ہے کہ حضور! میں نے اپنے والد گرامی کو بہت اعلیٰ پائے کا بزرگ پایا ہے اور میں نے سوچا ہے کہ بس وہی میرے مرشد ہیں۔ اس کے جواب میں آپؒ نے جو عبارت تحریر کی ‘اس کا اختصار یہ ہے کہ والدِ محترم کی خدمت اور محبت اپنی جگہ ایک دینی فریضہ ہے لیکن یہ بیعت کا قائم مقام نہیں ہو سکتا ‘کیونکہ بیعت اور پیری مریدی ایک باقاعدہ نظام ہے۔ ہاتھ میں ہاتھ دینے کا ایک باقاعدہ سلسلہ ہے جو چودہ صدیوں سے رائج ہے، کوئی کتاب ،کوئی شاعری ، کوئی ماڈرن ٹیکنیک اسے موقوف نہیں کر سکتی۔ اگر کتاب کافی ہوتی تو سلاسل کا کوئی سلسلہ وجود میں نہ آتا، بلکہ اس کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔

فیض اور فیض رسانی فقیری کا شعبہ ہے۔ فقرا نے اپنے رب کے راستے کی طرف جانے والی سنگتیں تیار کیں، انہوں نے اپنے رب کی طرف لے جانے والوں راستوں پر اپنے خونِ جگر سے دیپ جلائے، وہ اُس کی راہ کا غبار اِس طرح ہوئے کہ صراطِ مستقیم کے سفر میں سنگِ میل قرار پائے۔ان درویشوں نے اپنے آس پاس بیٹھنے والے لوگوں کے نفس کا تزکیہ کیا، اُن کے قلوب کا تصفیہ کیا، اُن کی روح کا تجلیہ کیا… اور یہ سارے کام بالامشافہ اور بنفس نفیس کیے جاتے ہیں، اس کیلئے کتاب کی نہیں ‘ذات کی ضرورت ہوتی ہے۔ فیض رساں ہستی کے گرد سب حیثیتوں کے لوگ بیٹھتے ہیں، یہ فقیر کا ظرف ہے کہ وہ کسی کو اپنی محفل سے اُٹھ جانے کو نہیں کہتی… کئی ہم ایسے ناقص و ناکس بھی ان کی محفل میں ایک بوجھ بن کر بیٹھے ہوتے ہیں، بعد میں آنے والا کوئی پڑھا لکھا شخص ممکن ہے ہمیں دیکھ اس نظام کی افادیت کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جائے… لیکن حقیقت اپنی جگہ قائم ہے۔ بجا ہے کہ ہم ایسے مسلمانوں کو دیکھ کر غیر مسلم اسلام کے بارے میں شکوک کا اظہار کرتے ہیں۔

فقیر جسے فیض دے گا اسے فقیری عطا کرے گا۔ لیکن اپنے در پر آنے والے ہر سائل کا کاسہ بھرنا ایک الگ بابِ سخاوت ہے۔ سوال دولت کا ہو یا شہرت کا‘ یا پھر حصولِ جاہ منزلت کا‘ سوال کرنے والا سائل ہے… سائل اور طالب میں فرق رہے گا۔ طالب فقط ذات طلب کرتا ہے…وہ صفات اور صفاتی علوم سے حذر کرتا ہے۔ طالب کی طلب ذات ہے… وہ منزلِبے نام کا راہی ہے، وہ مقامات اور تذکرۂ حسنِ مقامات میں گم نہیں ہوتا۔ وہ خطیب ہوتا ہے ‘ نہ پیشہ ور مقرر… وہ کامیابی کے گر نہیں سکھاتا‘ بلکہ کامیابی سے بچ نکلنے کی شانِ استغنا عطا کرتا ہے۔مرشدی حضرت واصف علی واصف ؒ کا مضمون’’کامیابی‘‘ کے اصل مفہوم پر میں ایک مکمل تھیسیس ہے۔

فقیر سے فیض مانگنا خطرے سے خالی نہیں۔ فیض کے سوال پر اگر اُس نے فقیری عطا کردی تو …!! راہِ فقر اور وادیٔ دولت و شہرت میں وہی فرق ہے جو دن اور رات میں ہوتا ہے۔ فقیر جب فیض دیتا ہے تو دولت و شہرت بے وقعت ہو کر رہ جاتی ہے ‘ اور کوئی لذتِ جسمانی سامان ِ تسکین نہیں کرپاتی۔ فیض کیلئے فیض رساں ہستی سے رابطہ ضروری ہے… اور یہ رابطہ زمینی حقائق کی طرح ایک ٹھوس حقیقت ہے۔


ای پیپر