عظیم کسان رہنما کامریڈ چوہدری فتح محمد
02 جون 2020 (23:11) 2020-06-02

کا مریڈ چوہدری فتح محمد [ 97 ] کا شمار برصغیر کی ان شخصیات میں ہوتا ہے جو آخری عمر تک اپنے نظریات پر قائم رہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے نظریات کیا تھے ؟ اس کے لئے ہمیں برصغیر کی سامراج دشمن اور آزادی کی تاریخ پر نظر ڈالنی ہو گی۔

1857 کی جنگ آزادی کے دوران اور بعد میں انگریزوں نے آزادی کی جنگ میں حصہ لینے والوں کے خلاف طرح طرح کے ظلم ڈھائے تاکہ مقامی لوگوں کے دل میں خوف پیدا ہو سکے اور وہ دوبارہ انگریزوں سے آزادی کا سوچ بھی نہ سکیں – ایک کام تو انہوں نے ننگی بربریت اور سفاکی کے ساتھ کیا مگر دوسرا کام انہوں نے غیر محسوس طریقہ سے کیا جس کے دور رس اثرات ہوئے ۔ ایسے دانشور پیدا کئے جو دن رات مختلف ناموں سے اور مختلف حربوں سے سلطنت برطانیہ کے گن گاتے تھے اور ان کے اقتدار کی برکات گنواتے تھے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ مقامی لوگوں یعنی ہندوستانیون میں جذبہ آزادی، آزادی کی تڑپ اور لگن کو ختم کر سکے؟مختلف لوگوں نے انگریزوں کے خلاف مختلف طریقوں، فلسفوں اور نظریات سے مختلف اوقات میں علم بغاوت بلند کیا۔

کانگرس بنی ، کئی جگہوں پر مقامی لوگوں ، مزدوروں، کسانوں اور قبائل نے انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے لئے آواز اٹھائی اور عملی جدوجہد کی۔ انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے والا پہلا ملک امریکہ کہا جا سکتا ہے – یورپ میں صنعتی انقلاب نے مزدوروں کو آزادی کی تحریکوں کا ہراول دستہ بنا دیا۔اسی ماحول میں آزادی ، برابری اورا نصاف کے فلسفوں اور تحریکوں نے جنم لیا اور دنیا بھر کے غلاموں کو جھنجھوڑا اور آزادی کا نیا فلسفہ دیا۔جسے ہم کمونزم کا نام دیتے ہیں۔یہ ہر قسم کے قومی اور طبقاتی استحصال کے خلاف فلسفہ تھا جس نے عالمی تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ برصغیر انڈیا میں کمونسٹ پارٹی 1921 میں قائم ہوئی مگر کیوں کہ یہ غیر قانونی تھی اس لئے یہ 1943 تک زیر زمین رہی۔باقی دنیا کی طرح اس نے برصغیر کے نوجوانوں کو بہت متحرک کیا اور آزادی کے سپاہی،اور کارکن پیدا کئے۔ ہندوستان میں 1947 تک چار جماعتیں انگریز سے آزای مانگ رہی تھیں۔کانگرس، مسلم لیگ، آر آر ایس [ہندو انتہا پسند] اور کمونسٹ پارٹی آف انڈیا۔

مسلم لیگ مسلمانوں کی لئے الگ وطن کا مطالبہ کر رہی تھی، کانگرس متحدہ ہندوستان کی آزادی چاہتی تھی آر ایس ایس ہندوتا کے نام پر ہندو انڈیا چاہتی تھی۔کمونسٹ مذہب سے بالا تر، استحصال سے پاک ، سب کے لئے آزادی مانگ رہے تھے۔ میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا صرف اتنا عرض ہے کہ کمیونسٹون نے ہندوستان کے مزدوروں اور کسانوں میں آزدی کی لئے کاڈر تیار کیا۔

1947 کی تقسیم سے پہلے کینال کالونیز کے کسانوں میں کمونسٹون کا بہت اثر و رسوخ تھا۔

1947 میں ہند وستان کی کمونسٹ پارٹی نے مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے لئے مسلم لیگ کی حمائت کا اعلان کردیا بلکہ اپنے بعض مسلمان ممبران کو مسلم لیگ میں شمولیت اختیارکرنے کی اجازت بھی دے دی۔ تقسیم پر اس نے اپنے غیر مسلم ممبران کو انڈیا ہجرت کرنے کی آزادی دے دی۔ااس کی وجہ سے ایک بہت بڑا خلا پیدا

ہو گیا۔ کیونکہ پاکستان کے حکمرانون کا شروع ہی سے رجحان یورپ، امریکہ اور سرمایہ داری کی طرف تھا اس لئے اس نے ترقی پسند قوتوں کو کچلنے کا منصوبہ بنایا –کمونسٹ پارٹی کے کارکنوں کو ڈرایا دھمکایا ، انہیں جیل اور قلعہ میں ڈالا اور ہر طرح کی اذیتیں دیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کمونسٹ پارٹی کے پہلے سیکریڑی جنرل سجاد ظہیر کے پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے گئے تھے۔ بہرحال پاکستان میں کمونسٹ پارٹی 1948 میں کلکتہ کانگرس کے فیصلہ سے قائم ہو گئی۔کیونکہ یہ مزدرون، کسانوں، نچلے، پسماندہ کچلے ہوئے طبقات کی بات کرتی تھی اس لئے یہ جلد لوگوں میں مقبول ہو گئی۔

پاکستان میں کمونسٹ پارٹی ایک سیکولرسٹیٹ ،جس میں ریاست کا کوئی مذہب نہ ہو، ایک استحصال سے پاک معاشرہ، جاگیرداری کا خاتمہ، محنت کشوں اور مزدورں کے حقوق،صوبائی خود مختاری اورسامراج مخالف۔ غیر وابستہ خارجہ پالیسی، تمام ہمسایوں سے پرامن اور دوستانہ تعلقات چاہتی تھی۔ ریلوے میں کمونسٹ پارٹی کا تقسیم سے پہلے ہی بہت اثرو رسوخ تھا۔جب 1951 میں پنجاب اسمبلی کے الیکشن ہوئے تو اس میں لاہور سے مزدور رہنما مرزا ابراہیم کو اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے کسان رہنما چوہدری فتح محمد کو الیکشن لڑوایا۔دونوں کو مسلم لیگ نے دعوت دی کہ اگر وہ مسلم لیگ میں شامل ہو جائیں تو انہیں الیکشن جتوا دیں گے۔جب انہوں نے بات نہ مانی تو انہیں گرفتار کر لیا گیا اور انہوں نے جیل سے الیکشن لڑا۔

میرا چوہدری فتح محمد صاحب سے براہ راست کوئی ذاتی تعلق یا دوستی نہیں تھی، ہاں وہ میرے نظریاتی ساتھی اور رہنما تھے۔ہم نے اکٹھے پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی، الہ آباد کنونشن میں شمولت کی۔ چوہدری فتح محمد نے چند سال پہلے اپنی سوانح عمری 'جو ہم پر گذری' لکھی تو میں نے اس پر انگریزی اخبار دی نیوز میں تبصرہ کیا اور جب کمیشن کے دفتر میں اس پر جلسہ ہوا تو اس میں بھی شریک تھا۔ اس کتاب میں چوہدری صاحب نے اپنے زندگی اور ترقی پسند تحریک پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب تاریخ اور سیاست کے ہر طالب علم کو پڑھنی چاہئے ۔

چوہدری صاحب نے لکھا ہے کہ ان کے والد اور کنبے کے دوسرے افراد کو تقسیم کے فسادات میں قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ خوش قسمت تھا کہ بچ گیا۔وہ گریجوئٹ تھے مگر انہون نے کسی قسم کی نوکری کرنے کی بجائے کل وقتی سیاست کو ترجیح دی اور ساری زندگی مزدوروں اور کسانوں کو شعور دینے اور منظم کرنے کا کام کیا۔ ان کا خاندان ٹوبہ ٹیک سنگھ کے چک نمبر 305 جی بی، میں آباد ہوا اور انہوں نے اپنی رہائش وہِیں رکھی اور وہیں دفن ہوئے۔جہاں ان کو ان کو عوامی ورکرز پارٹی کے پرچم کے کفن میں دفن کیا گیا۔ چوہدری صاحب نے لکھا ہے کہ انہیں ڈاکڑ عبداللہ نے متاثر کیا اور تحریک میں لے کر آئے۔ان دنون کمونسٹ پارٹی کے شہری دانشوروں کو پارٹی کسانوں میں کام کرنے کی لئے گائوں میں بیجھ دیتی تھی لہذا وہ جن شہری دانشوروں کا نام لیتے ہیں ان میں ایرک سپرین، مظہر علی خان، صفدر میر، عارف عبدالمتین، مطلبی فرید آبادی، احمد ندیم قاسمی، سردار شوکت علی اور سی ار اسلم کا نام لیتے ہیں۔ انہوں نے ٹریڈ یونیں فیڈریشن میں فیض احمد فیض اور مرزا ابراہیم کے ساتھ بھی کام کیا۔ انہوں نے کسانوں اور مزدورون میں اپنے کام کی تفصیل بھی لکھی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج میں گورے افسروں کے خلاف بہت نفرت پائی جاتی تھی جسے راولپنڈی سازش کا نام دے دیا گیا۔اس میں صرف تین سویلین تھے۔سجاد ظہیر، فیض احمد فیض اور عطا۔اس پکڑ دھکڑ سے حکومت لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے میں کامیاب ہو گئی۔

[یہاں شائد اس بات کا ذکر بے محل نہ ہو کہ کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے اس سازش کی مخالفت کی تھی]

انہین جھنگ بازار لائلپور اور میکلوڈ روڈ لاہور پر کمونسٹ پارٹی کا دفتر یاد ہے۔ انہوں نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ان کے گائوں میں ایک جلسہ ہو رہا تھا جہاں عورتوں اور مردوں کے الگ الگ پنڈال تھے جب مزدور رہنما کنیز فاطمہ تقریر کرنے آئی تو اس نے درمیان سے قنات اٹھوا دیا۔ کمونسٹ پارٹی پر پابندی کے بعد کمونسٹون نے ملک میں سیاسی کام کرنا نہیں چھوڑا اور مختلف محاذوں اور پارٹیوں میں کام کرنا جاری رکھا۔ یہ بات شائد آج ایک خواب لگے کہ جب ڈھاکہ میں نیشنل عوامی پارٹی 1957 کوبنی تو وہ مشرقی پاکستان بذریعہ ٹرین، ہندوستان کے راستہ گئے ۔[میرا ایک تایازاد بھائی گلزار ایک خصوصی ٹرین کے ذریعہ ہندوستان کے راستہ ڈھاکہ سکاوٹ جمبوری میں شمولیت کے لئے گیا تھا]۔

1970 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تاریخی کسان کانفرنس کا ذ کر چوہدری فتح محمد کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ مجھے یاد ہے کہ ہم مولانا بھاشانی کے ساتھ خصوصی ٹرین میں لاہور سے ٹوبہ ٹیک سنگھ گئے تھے۔جہاں سارے پاکستان سے ترقی پسند مزدور، کسان ، طلبا اور دانشور شامل ہوئے تھے۔ فیض صاحب بھی تشریف لائے تھے۔ یہ پاکستان کے ترقی پسندوں کی سب سے بڑی کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس نے پاکستانی سیاست کا رخ بدل دیا – مشرقی پاکستان سے آئے ہوئے مشیح الرحمان نے جنرل یحیٰیِ کے خلاف دھواں دار تقریر کردی لاہور پہنچنے پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا بھاشانی نے پاکستان کو 'سلام علیکم' کہہ کر اتنی بڑی کانفرنس کا بیڑا غرق کر دیا اور مغربی پاکستان میں ِنیپ بھاشانی کا جنازہ نکال دیا۔ چوہدری فتح محمد نے ہمیشہ سی آر اسلم اور عابد حسن منٹو کا ساتھ دیا۔ جب عوامی ورکرز پارٹی بنی تو وہ اس کے پنجاب کے صدر بنے ۔ انہوں نے لکھا کہ ٹوبہ کانفرنس کے اخرجات پورے کرنے کی لئے لائلپور کے میاں محمود ایڈوکیٹ نے اپنی کار بیچ دی۔ وہ کئی دفعہ جیل اور قلعہ بھی گئے مگر اپنے نظریات پر مرتے دم تک قائم رہے۔ وہ 25 مئی 2020 کو فوت ہوئے۔ چوہدری فتح محمد کی وفات کے ساتھ پنجاب میں ان کے پائے کا کوئی کسان رہنما موجود نہیں رہ گیا۔

………………

آخر میں میں مرزا ابرہیم کے دیرینہ ساتھی ریلوے کے مزدور رہنما یوسف بلوچ کا ذ کر بھی کرنا ضروری سمجھتا ہوں، جنہوں نے مزدور تحریک کے لئے پورے خلوص اور بغیر کسی لالچ کے ساری عمر کام کیا۔

………………

لائلپور کا سیاسی دانشور اکرم ڈوگر بھی اپنی طرز کا آدمی تھا۔کراچی یونیورسٹی سے ایم اے جرنلزم کرنے کے بعد اس نے ساری عمر صحافت کی طرف کبھی نہیں دیکھا گو اس کے وسعت اللہ کے ساتھ تعلقات رہے لائلپور ایک اچھے دانشور اور سیا سی لیڈر سے محروم ہو گیا۔


ای پیپر