قدیم روم کی سینیٹ اور جدید پاکستان کی سینیٹ
02 جون 2020 (23:09) 2020-06-02

سینیٹ پاکستان میں مستقل سیاسی ادارہ ہے۔ اس کے موجد پرانے رومنز تھے۔ سینیٹ لاطینی زبان کا لفظ ہے جس سے مراد ہے ’’بوڑھا آدمی‘‘۔ یہ 753 قبل مسیح کا زمانہ تھا جب روم شہر آباد ہوا۔ اُس وقت روم میں قبائلی سوسائٹی تھی۔ سب قبائل سے امیر اور سمجھدار بوڑھوں کو لے کر ایک کونسل بنائی گئی جو سینیٹ کہلائی۔ دنیا کی اُس پہلی سینیٹ کے سو اراکین تھے۔ انہوں نے اپنا بادشاہ منتخب کیا۔ وہ پرانے روم کا پہلا بادشاہ کہلایا۔ روم کی یہ سینیٹ بادشاہ کی رہنما کونسل کا کردار ادا کرتی تھی۔ روم کے پانچویں بادشاہ نے سو امیر اراکین سینیٹ کے ساتھ ساتھ سومڈل کلاس اراکین سینیٹ بھی شامل کرلیے تاکہ امیر اور مڈل کلاس طبقوں کی یکساں نمائندگی ہو سکے۔ روم کے ساتویں بادشاہ نے امیر سینیٹرز میں سے بہت سوں کو قتل کر دیا اور اُن کی جگہ نئے سینیٹرز منتخب نہیں ہوئے۔ اس طرح سینیٹ میں مڈل کلاس سینیٹرز کی تعداد امیر سینیٹرز سے بڑھ گئی۔ قدیم روم کی سینیٹ کی تین بنیادی قانونی ذمہ داریاں تھیں۔ یہ حتمی انتظامی طاقت کا اختیار رکھتی، بادشاہ کی کونسل کے طور پر کام کرتی اور روم کے لوگوں کے ساتھ مشاورت کرکے قانون ساز ادارے کا کام بھی کرتی۔ قدیم روم کی سینیٹ اپنی مذہبی حدود کے اندر رہتی۔ مثلاً ہر اجلاس سے پہلے دیوتا کو خوش کرنے کے لیے قربانی دی جاتی، مذہبی طریقوں سے اپنے فیصلوں کے لیے دیوتائوں کی رائے معلوم کی جاتی اور سینیٹ کا اجلاس عموماً صبح صادق کے وقت شروع ہوتا۔ قدیم روم کی سینیٹ کی کاروائی جمہوری طریقے سے چلائی جاتی۔ مثلاً کوئی بھی بل پاس ہونے سے پہلے وکیلِ جمہور کی طرف سے ویٹو ہوسکتا تھا۔ وکیلِ جمہور سینیٹ کی کارکردگی پر نظر رکھنے والے بااختیار فرد کو کہا جاتا جسے روم کے شہری وکیلِ جمہور کے عہدے پر منتخب کرتے تھے۔ اُس کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس بات کو لازم کرے کہ سینیٹ میں کوئی بھی قانون سازی روم کے شہریوں کے خلاف نہ ہو۔ اگر زیربحث

بل وکیلِ جمہور کی طرف سے ویٹو نہ ہوتا اور بل کا موضوع معمولی نوعیت کا ہوتا تو اس کی ووٹنگ کے لیے بلند آواز میں ’’ہاں‘‘ کہا جاتا یا ’’شو آف ہینڈز‘‘ کا طریقہ استعمال کیا جاتا۔ اگر بل کا موضوع اہم نوعیت کا ہوتا تو سینیٹرز اٹھ کر سینیٹ ہال کے دو مختلف حصوں میں اکٹھے ہو جاتے جہاں ان کی علیحدہ علیحدہ گنتی کرلی جاتی۔ قدیم روم کی سینیٹ کی ممبرشپ کے لیے سمجھدار بوڑھا آدمی ہونے کے علاوہ بھی کچھ لازمی شرائط تھیں۔ مثلاً سینیٹ کے امیدوار کے پاس معقول مالیت کی جائیداد ہونا ضروری تھا۔ سینیٹرز کے لیے ضروری تھا کہ وہ بینکوں سے لین دین نہ رکھتے ہوں اور انہوں نے کسی قسم کا سرکاری ٹھیکہ بھی نہ لیا ہو۔ قدیم روم کے سینیٹرز پر یہ پابندی تھی کہ اُن کے پاس اس قسم کی کوئی بڑی کشتی یا بحری جہاز نہ ہو جو غیرملکی تجارت میں کام آسکے۔ سینیٹ کا کوئی بھی ممبر وجہ بتائے بغیر اور سینیٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر اٹلی سے باہر نہیں جاسکتا تھا۔ قدیم روم کے سینیٹرز کو کوئی سرکاری تنخواہ نہیں ملتی تھی۔ اِن سب سے بڑھ کر اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا کہ سینیٹر اخلاقی اقدار کا نمونہ ہو۔ قدیم روم میں لوگ اپنے اندر سے ایگزیکٹو مجسٹریٹ منتخب کرتے جن کے اختیارات سینیٹ سے زیادہ تھے۔ ان ایگزیکٹو مجسٹریٹوں کا کام سینیٹ کے معاملات پر چیک رکھنا تھا۔ گویا قدیم روم کی سینیٹ پر شہری وکیل جمہور اور ایگزیکٹو مجسٹریٹوں کے ذریعے دوہری نگرانی رکھتے تھے۔ قبل مسیح میں قدیم روم کی سینیٹ کی خاص خاص باتیں پڑھنے کے بعد اُن کا جدید پاکستان میں آج کی سینیٹ سے موازنہ کرتے ہیں۔ قدیم روم کے سینیٹر کا سمجھدار بوڑھا ہونا لازمی تھا۔ پاکستان میں سینیٹر کے لیے کم سے کم عمر کی شرط ہے مگر سمجھداری یعنی فہم و فراست کے بارے میں کوئی شرط نہیں ہے۔ قدیم روم میں سینیٹرز کے لیے معقول مالیت کی جائیداد رکھنا اس لیے ضروری تھا کہ مستحکم مالی حیثیت کے باعث اُن کے ذہنوں میں مال و دولت کا لالچ نہ ہو۔ پاکستان کی سینیٹ میں منتخب ہونے کے لیے کروڑوں روپے کی بولیاں لگنے کا الزام ہے۔ کروڑوں روپے خرچ کرنے والے کتنے کروڑ کمانے کا ارادہ رکھتے ہوں گے، اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ قدیم روم کے سینیٹرز کو سرکاری ٹھیکوں، بینکوں سے لین دین اور غیرملکی تجارت میں کام آنے والے بحری جہاز رکھنے کی ممانعت تھی۔ وجہ صاف ظاہر تھی کہ سینیٹر بننے کے بعد ان کا دھیان مالی لین دین میں نہ ہو اور غیرملکی تجارت سے ان کے تعلقات غیرملکیوں سے براہِ راست نہ ہو جائیں۔ غیرملکیوں سے براہِ راست ذاتی تعلق کی صورت میں وطن سے غداری کا امکان ہوتا ہے۔ پاکستان میں ناجائز ٹھیکے یا مالی لین دین تو ایک طرف، یہاں کے پارلیمانی ممبران کو سرکاری طور پر ترقیاتی فنڈز کے نام پر شوگر کوٹڈ رشوت دی جاتی ہے تاکہ لوگ حکومت کے احسان مند ہوں۔ غیرملکیوں سے براہِ راست ذاتی تعلق اکثر پاکستانی پارلیمنٹیرینز کا فخریہ کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کے بہت سے ممبران ایسے ہیں جن کے کاروبار غیرملکوں میں ہیں۔ قدیم روم میں کوئی سینیٹر پیشگی اجازت اور معقول وجہ کے بغیر اٹلی سے باہر نہیں جاسکتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سینیٹرز زیادہ سے زیادہ اپنے ملک میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ پاکستان میں غیرملکی دوروں کے لیے چھوٹے سے چھوٹے بہانے کو بھی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ قدیم روم کے سینیٹرز سرکار سے کوئی تنخواہ نہیں لیتے تھے۔ پاکستان میں سینیٹرز تنخواہ اور ٹی اے ڈی اے کے ساتھ لمبے چوڑے میڈیکل بلوں کا بوجھ بھی غریب عوام کے ٹیکسوں سے حاصل کی گئی آمدنی پر ڈالتے ہیں۔ قدیم روم میں سینیٹر اخلاق کا نمونہ ہوتا تھا۔ پاکستان کے آئین میں ارکان پارلیمنٹ کے لیے 62، 63 کی شرط موجود ہے۔ کیا پاکستان کے سب سینیٹرز اخلاقیات کا نمونہ ہیں؟ قدیم روم کی سینیٹ بادشاہ کے لیے مشاورتی ادارہ تھا۔ پاکستان کی سینیٹ حکومتی بل پاس کروانے کا ادارہ ہے۔ ہمارے سینیٹرز پاکستان کی سینیٹ کے ممبر ہیں۔ اگر قدیم روم کی سینیٹ کے ممبر ہوتے تو کئی سینیٹروں کو روم کے ساتویں بادشاہ کا سامنا کرنا پڑتا۔


ای پیپر