کال کوٹھڑی:ایوان اقتدار میں سازشوں کے تانے بانے ایک گھنائونی تاریخ کی روئیداد
02 جون 2020 (19:00) 2020-06-02

میرے خلاف ڈیفنس آف پاکستان رول 42 کے تحت سولہ اور دفعہ 124 اے کے تحت دو مقدمات تھے۔ دوسرے دونوں مقدمات ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کے الزامات کے تحت دائر کیے گئے تھے۔ ہائیکورٹ میں میری درخواست ضمانت دائر ہونے کے چند دن بعد وزیرقانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے آئین میں ترمیم کا ایک مسورہ تیار کیا جس میں کہا گیا تھا کہ جن لوگوں کے خلاف خصوصی عدالتوں میں مقدمات زیرسماعت ہیں۔ ہائیکورٹ اس کے بارے میں حکم امتناعی جاری نہیں کرسکتی۔ اب میرے پاس یہی راستہ تھا کہ خصوصی عدالت جب میرے مقدمات کا فیصلہ دے دے تب ہی میں ہائیکورٹ اپنے خلاف الزامات کو چیلنج کرسکتا تھا۔ اگر خصوصی عدالت تمام مقدمات میں مجھے سزاوار ٹھہراتی تو میری مجموعی سزائے قید 162سال بنتی تھی۔ اب میرے پاس یہی راستہ تھا کہ کسی نہ کسی طریقے سے خصوصی عدالت میں اپنے خلاف فیصلوں کو ملتوی کروائوں۔ میں نے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے 35 گواہوں کی ایک فہرست تیار کرلی۔ عدالت اور انتظامیہ کے لیے یہ بہت مشکل کام تھا کہ دور دراز علاقوں میں جاکر ان گواہوں کو تلاش کریں اور انہیں پشاور لا کر خصوصی عدالت کے سامنے پیش کریں۔ مقدمات کی سماعت جاری رہی۔ سرکاری اہلکاروں نے اپنے بیانات ریکارڈ کروا دیئے۔ بالاکوٹ جلسے کے مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ سے پوچھا گیا کہ جب میں نے تقریر شروع کی تھی تو وہ کہاں تھے۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ نے جواب دیا کہ وہ تیس گز کے فاصلے پر موجود تھے۔ میرے وکیل نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو یاد ہے کہ آپ نے میرے موکل کی ساری باتیں سُن لی تھیں۔ مجسٹریٹ نے بتایا کہ میں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تاکہ ان کی باتیں صاف طور پر سُن سکوں۔ وکیل نے پوچھا کہ آپ ان کی باتیں صاف طور پر کیوں سننا چاہتے تھے۔ مجسٹریٹ نے جواب دیا کہ وہ بہت مزیدار باتیں کررہا تھا۔ مجسٹریٹ کی یہ بات سن کر عدالت میں موجود تمام لوگوں نے قہقہہ لگایا۔ ایک اور جلسے میں تقریر کرتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ پاک فضائیہ کے ایف 86 قسم کے سیبرجیٹ طیارے بوسیدہ اور اُڑتے ہوئے کفن ہیں۔ استغاثہ یہ کوشش کررہی تھی کہ اس بات کو حکومت اور فضائیہ کے خلاف ثابت کرسکے۔ جلسے کی کارروائی کی ٹیپ عدالت میں پیش کی گئی مگر اس میں کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ اگلی پیشی پر ایمپلی فائر بھی پیش کیے گئے مگر کوئی آواز نہیں آئی۔ بعد میں مجھے بتایا گیا کہ ایک پولیس افسر اصلی ٹیپ لے گیا اور خالی ٹیپ اس کی جگہ رکھ لیا۔ (اس حوالے سے صوبہ سرحد کی پولیس دوسرے صوبوں کی پولیس سے بہت مختلف ہے۔ ہمارے پولیس والے اپنے علاقے کے سیاست دانوں کا احترام کرتے ہیں۔)

مقدمات کی سماعت کے دوران جب وقفہ ہوتا تو ماحول کافی خوشگوار ہوتا تھا۔ وکلاء، گواہان، دوست احباب اور پولیس والے عدالت کے باہر کھڑے ہو کر سبزچائے پیتے اور مکئی کے اُبلے ہوئے سٹے کھاتے تھے۔ ایک دن عدالت میں وقفے کے بعد میں کورٹ سے باہر کھڑا تھا کہ موٹربائیک پر میرا ایک رشتہ دار لڑکا وہاں آیا۔ وہ بہت باحوصلہ نوجوان تھا۔ سرکاری ملازم ہونے کے باوجود وہ اکثر مجھ سے ملنے کورٹ آتا تھا حالانکہ اس پر ان کے خلاف کارروائی بھی ہوسکتی تھی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آکر موٹربائیک میں بیٹھ جائو۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم افغانستان پہنچ جائیں گے اور کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ میں ہنس پڑا اور ان سے کہا کہ آپ فکر نہ کریں، یہ جو کچھ ہورہا ہے جلد ختم ہو جائے گا۔

میرے پشاور جیل جانے کے ایک ہفتے بعد جیل کے تمام سیلوں میں پنکھے لگا دیئے گئے۔ جیل میں پنکھے لگانے والا ٹھیکیدار کا تعلق پشاور سے تھا اور وہ مسلم لیگ کا ممبر تھا۔ میرے سیل میں پنکھا لگاتے ہوئے وہ ایک رقعہ میرے تکیے کے نیچے رکھ گیا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے رقعہ نکال کر پڑھا۔ اس میں لکھا ہوا تھا کہ ’’آپ کو پشاور جیل سے ڈیرہ اسماعیل خان جیل منتقل کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ منصوبے کے تحت راستے میں گاڑی روک کر آپ سے اُترنے کو کہا جائے گا۔ جب آپ باہر آئیں گے تو ایک جعلی حادثے کا ڈرامہ رچایا جائے گا ۔ آپ پر الزام لگایا جائے گا کہ آپ نے گارڈ سے رائفل چھیننے اور ان پر گولی چلانے کی کوشش کی تھی۔ آپ نے کسی بھی حال میں پشاور چھوڑنے سے انکار کرنا ہے‘‘۔ میں نے اس نصیحت پر عمل کیا اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو بتایا کہ میں اپنی چند مجبوریوں کی وجہ سے پشاور جیل سے کسی اور جگہ نہیں جاسکتا۔

دسمبر 1976ء میں مجھے یہ اطلاع ملی کہ جنوری کے اوائل میں انتخابات کا اعلان ہونے والا ہے تاہم نو سیاست دانوں کے نام تیار کیے گئے ہیں جنہیں کسی بھی قیمت پر انتخابات میں کامیابی سے روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ مجھے یہ اطلاع ملی کہ وسیع پیمانے پر دھاندلی کا پروگرام بھی بنایا گیا ہے۔ دھاندلی میں مہارت رکھنے والے افسروں کو نگرانی کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ایک منظم طریقے سے ہونی چاہیے۔ جب ایئرمارشل اصغر خان عدالت میں مجھ سے ملنے آئے تو میں نے انتخابات میں دھاندلی کے منصوبے کی بات انہیں بتادی۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہمیں انتخابات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ میں نے ان سے اختلاف کیا اور کہا کہ ہمیں ہر حال میں انتخابی عمل میں شرکت کر کے دھاندلی کے منصوبے کو بے نقاب کرنا چاہیے تاکہ لوگ خود دیکھ سکیں کہ انتخابات میں کس قدر بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ یہی ایک طریقہ ہے کہ بھٹو کے خلاف عوامی تحریک کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ میرا موقف سننے کے بعد اصغر خان بھی مجھ سے متفق ہو گئے اور ہم نے انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔

قومی اسمبلی جنوری 1977ء کے پہلے ہفتے میں تحلیل کردی گئی۔ بھٹو کی طرف سے انتخابات میں دھاندلی کے منظم منصوبے کے باوجود نو پارٹیوں پر مشتمل پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے) نے مختلف جماعتوں کے اُمیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا۔ میرے خاندان کے ووٹ تقسیم کرنے کے لیے پیپلزپارٹی نے میرے کزن اختر نواز خان کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے اپنا اُمیدوار نامزد کردیا جبکہ میرا بڑا بھائی اختر پی این اے کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑرہے تھے۔ میں ہری پور سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑرہا تھا۔ یہ نشست خان عبدالقیوم خان کے پاس تھی۔ خان قیوم نے 1970ء کے انتخابات میں ہری پور سے الیکشن لڑا تھا۔ 1972ء میں بھٹو کی کابینہ میں وہ وزیرداخلہ بنا دیئے گئے۔ اگرچہ علاقے کے لوگوں کے ساتھ خان عبدالقیوم خان کے روابط بہت وسیع تھے۔ کال کوٹھڑی سے وزیرداخلہ کے خلاف الیکشن لڑنا میرے لیے آسان نہیں تھا۔ خان عبدالقیوم خان نے محسوس کیا کہ ان کے لیے ہری پور سے دوبارہ جیتنا مشکل ہو گا اس لیے انہوں نے کسی محفوظ سیٹ سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ یوں انہوں نے ایبٹ آباد سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔

میں نے کال کوٹھڑی سے ہی اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے۔ میری اہلیہ نے میری انتخابی مہم اپنے ہاتھ میں لے لی اور انہوں نے میرے لیے بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ ساتھ ہی وہ میرے خلا ف عدالتوں میں مقدمات بھی لڑتی رہیں۔ اپنی اہلیہ کے عزم اور حوصلے کے بغیر میرے لیے جیل سے انتخاب لڑنا بہت مشکل ہوتا۔ پیپلزپارٹی کے کارکنوں اور ایجنسیوں کے اہلکاروں نے انہیں ہراساں کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ وہ مسلح ہو کر سڑکوں پر گشت کرتے رہے۔ میری اہلیہ نے بھی اپنے ساتھ گاڑی میں اسلحہ رکھ لیا تھا تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال پیش آنے کی صورت میں اپنا دفاع کرسکے۔ وہ ہر ہفتے کے اختتام پر پشاور آتی اور انتخابی مہم کے حوالے سے میرے ساتھ تبادلہ خیال کر کے واپس ہری پور اور ایبٹ آباد چلی جاتی۔

انتخابی مہم کے دوران بھٹونے سیاستدانوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا۔ خان عبدالولی خان پر حیدرآباد میں مقدمہ چل رہا تھا۔ چوہدری ظہورالٰہی کو جیل کی سزا ہوئی تھی۔ بڑی تعداد میں سیاست دانوں نے بھٹو کے کیمپ میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور اس سیاسی فلسفے پر عمل کیا تھا کہ ’’اگر تم کسی کو زیر نہیں کرسکتے تو اس کے ساتھ شامل ہوجائو‘‘۔ بھٹو کو یہ گمان تھا کہ وہ سیاست کے عروج پر ہے۔

انتخابات کے روز لوگوں کو پتہ چلا کہ ان کے ووٹ پہلے ہی کاسٹ ہوچکے تھے جبکہ کچھ بیلٹ پیپر نالوں اور کھائیوں سے ملے۔ جس حلقے سے انتخابی نتائج موصول ہوتے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اس کا اعلان کیا جاتا تھا۔ انتخابی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی تمام حلقوں سے جیت رہی تھی۔ جن نو سیاست دانوں کو ہر قیمت پر ہرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا ان میں سے میں نے اور اصغرخان نے اپنی نشستیں جیت لی تھیں۔ پولنگ سے ایک روز قبل ملٹری سیکرٹری میجر جنرل محمد امتیاز علی اور صوبہ سرحد کے چیف سیکرٹری منیر حسین ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایبٹ آباد گئے تھے اور کمشنر کو کہا تھا کہ مجھے اور اصغر خان کو ہر صورت میں ہرانا ہے۔ اس کے باوجود انتخابات میں ہم نے کامیابی حاصل کی۔ جب نتائج آنا شروع ہو گئے تو بھٹو نے حکم دیا کہ ناڑہ امازئی اور بیٹ گلی یونین کونسل ہری پور کے نتائج کا اعلان نہ کیا جائے (دونوں یونین کونسلوں سے میں نے کامیابی حاصل کی تھی) میرے حامیوں نے اسسٹنٹ کمشنر آفس ہری پور کا گھیرائو کرلیا۔ میری اہلیہ نے چیف الیکشن کمشنر کو فون کر کے پوچھا کہ نتائج کا اعلان کیوں نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ’’آپ جیت چکی ہیں اس لیے خاموش رہیں‘‘۔ میری اہلیہ نے پھرپوچھا کہ نتائج کا اعلان کیوں نہیں کیا جاتا، آگے سے چیف الیکشن کمشنر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جب میرے سپورٹروں نے اسسٹنٹ کمشنر اور الیکشن کمشنر ہری پور کے دفتر کو نذرآتش کرنے کی دھمکی دی تب نتائج کا اعلان کردیا گیا۔ بھٹو نے ہدایت کی تھی کہ انتخابات میں میری شکست کا اعلان کیا جائے۔ اس کے بعد پانچ سال عدالتوں میں مقدمہ بازی میں گزر جائیں گے۔ پاکستان بھر میں پیپلزپارٹی کی یکطرفہ کامیابی سے عام تاثر یہ پیدا ہوگیا کہ انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کی گئی ہے۔ پاکستان نیشنل الائنس نے دھاندلی کے خلاف بطور احتجاج صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کردیا۔ صوبائی انتخابات کے دن پولنگ سٹیشن ویران پڑے ہوئے تھے اور پیپلزپارٹی کو اپنی مرضی سے بیلٹ بکس بھرنے کا موقع مل گیا۔ دھاندلی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو بلامقابلہ منتخب قرار دیاگیا۔

بھٹو کے تختہ دار تک پہنچانے کاسامان اسی دن پیدا ہو اتھا جب وہ اقتدار میں آئے تھے۔ انہوں نے ملک بھر میں اپنے سیاسی مخالفین سے جیلیں بھر دی تھیں۔ انتخابات سے چند ماہ بعد اپریل 1977ء میں بھٹو نے پھانسیاں شروع کرنے کی ہدایت جاری کردی۔ مئی سے جولائی 1977ء کے درمیان صرف پشاور جیل میں 14افراد کو پھانسی دیدی گئی۔ مجھے تمام پھانسیوں کا علم اس وجہ سے تھا کہ میری کال کوٹھڑی پھانسی گھاٹ سے متصل تھی۔ جب اگلی صبح کسی کو تختہ دار پر لٹکاناہوتا تو شام کو جیل میں مکمل سناٹا ہوتا۔ جس شخص کو پھانسی پر چڑھنا ہوتا وہ پہلے ہی زندہ لاش بن چکا ہوتا تھا، خاص طور پر جب ورثاء سے اس کی آخری ملاقات کرائی جاتی تو اس کی حالت غیر ہو جاتی۔ (جاری ہے)


ای پیپر