ن لیگ نے حساب دیدیا ،باجی علیمہ خان کا حساب عمران خان کب دینگے ؟
02 جون 2020 (18:55) 2020-06-02

انٹرویو: محمد عارف حنیف

تصاویر:اعجاز سندھو

وزراء کا متکبرانہ رویہ انہیں لے ڈوبے گا، عوام کے مسائل کا حل حکومتی ایجنڈے میں شامل نہیں، شیخ رشید کا متکبرانہ رویہ ناقابل برداشت ہے ، ن لیگ کی قیادت نے ماضی میں بھی جھوٹے مقدمات کا سامنا کیا اور اب بھی کریں گے، کوئی ن لیگ کو خوف زدہ نہیں کر سکتا ، آٹا چینی بحران میں حکومتی شخصیات ملوث ہیں، پی ٹی آئی سیاسی جمہوری جماعت نہیں مفاد پرستوں کا ٹولہ ہے ، جھوٹے دعوئوں اور کھوکھلے وعدوں سے ملک نہیں چل سکتا ، محض اپنی کرسی کو مضبوط کرنے والا لیڈر نہیں ہوتا بلکہ مفاد پرست لیڈر کہلاتا ہے ، عمران خان کے کہاں گئے انتخابی نعرے اور وعدے وہ تو ابھی تک عوام کو الجھانے میں ہی لگے ہوئے ہیں ، پی ٹی آئی کی بچگانہ حکومت نے ریاستی امور کو بازیچہ اطفال بنا دیا ہے، کمر توڑ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔

گزشتہ دنوں مسلم لیگ ( ن ) کے رکن پنجاب اسمبلی و سابق صوبائی پارلیمانی سیکرٹری انسانی حقوق و اقلیتی امور طارق مسیح گل نے ’’ نئی بات ‘‘ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ کرونا وباء نے ثابت کیا ہے کہ حقیقی لیڈر وہ ہوتا ہے جسے راستے کا پتہ ہو، وہ راستہ دکھاتا بھی ہو اور خود اس پر گامزن بھی ہو اور یہ سب باتیں ن لیگ کے قائد نواز شریف اور شہباز شریف میں ہیں لیکن یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ عمران خان اور انکے حواری شہباز شریف کے مطالبات پر عملدرآمد کرنے کی بجائے واویلہ کر کے قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں جبکہ لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور وزیراعظم ، وزیراعلیٰ صرف یہ کر رہے ہیں وہ کر رہے ہیں کے اعلانات ہی کر رہے ہیں ، اسوقت قوم کو مشکل سے نکالنے کیلئے عملدرآمد کی ضرورت ہے ، حکمران اپوزیشن سے ملکر منصوبہ جات بنائیں اور غریبوں کو گھر گھر راشن دیں تا کہ محنت کش گھروں کے اندر ہی رہیں ۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت بارے سوال کے جواب میں طارق گل نے کہا نواز شریف ملک کے تین مرتبہ وزیر اعظم رہے ان کی صحت کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے لیکن حکومت اس پر سیاست کر رہی ہے، نواز شریف کو ملک کی خدمت کرنے کی سزا دی جا رہی ہے ، وزیر اعظم عمران خان اور درباریوں کا پھر سے نوازشریف کی صحت پر سیاست کرنا قابل مذمت ہے، ڈھونگ رچانے والے بتائیں، دو ماہ ان کو ہسپتالوں میں گھمانے کا ڈرامہ کیوں کیا گیا ؟ ، پی آئی سی میں طبی تشخیص کے بعد ایسے ہسپتالوں میں کیوں رکھا گیا جہاں متعلقہ علاج میسر تھا ہی نہیں؟ ، ایک بیمار شخص کے ساتھ دو مہینے تماشہ کرکے اسے ذہنی اذیت کیوں دی گئی اور علاج میں تاخیر کا جرم کیا گیا ؟ ، حکومت مخلص ہوتی تو سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور ڈرامہ بازی میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داری پوری کرتی، اب بظاہر ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ میاں نواز شریف بیمار ہی نہیں ، مسلم لیگ ( ن ) کے قائد میاں نواز شریف کے ساتھ منفی رویہ پنجاب حکومت کے چھوٹے ذہن اور کم ظرفی کی علامت ہے ۔

وزیراعظم کے لاک ڈائون کے دوران سی پیک پر کام دوبارہ شروع کرنے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا عمران حکومت سی پیک منصوبے سے جان چھڑانا چاہتی ہے اسی لئے ماضی میں وہ سی پیک کے خلاف بیان دیتے رہے ہیں ، بعد میں عمران خان نے اس کی تردید کر دی وہ خود کہتے ہیں یوٹرن لینا سیاست ہے، یہ کیسی عجیب بات ہے کہ عمران خان یوٹرن لینے کو بھی اعزاز سمجھتے ہیں اگر ان کیلئے یہ ایک اچھی بات ہے تو وہ عوام کو مہنگائی بیروز گاری دینے پر بھی یوٹرن لیں ۔

پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر انہوں نے کہا حکمرانوں کی نااہلی ملک کے لئے کرپشن سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے ، ڈیڑھ سال کی مایوس کن کارکردگی نے عمران خان کی نااہلی ثابت کر دی ہے حکمران خوشحال اور عوام بدحال ہو چکی ہے، نااہل حکومت نے وطن عزیز کو مسائلستان بنا دیا ہے ، سیاسی تبدیلی کا آغاز پنجاب سے ہو گا، ان ہائوس تبدیلی جمہوریت کا حصہ ہے۔

آٹا چینی بحران کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا آٹے ، چینی کے بحران میں حکومتی شخصیات ملوث ہیں، پی ٹی آئی سیاسی جمہوری جماعت نہیں مفاد پرستوں کا ٹولہ ہے ، جھوٹے دعوئوں اور کھوکھلے وعدوں سے ملک نہیں چل سکتا، پی ٹی آئی کی بچگانہ حکومت نے ریاستی امور کو بازیچہ اطفال بنا دیا ہے، حکمرانوں کی کرپشن کا خمیازہ غریب عوام کو مہنگی بجلی، پٹرولیم مصنوعات اور گیس پر ٹیکسز کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے، حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے آئے روز اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرکے مہنگائی کی قبر میں دفن کر رہی ہے ، تحریک انصاف کی حکومت نے مہنگائی کے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں، آٹا، گھی، چینی، دودھ سمیت دیگر ضروریات کی بنیادی اشیاء کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں ۔

پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کے سوال پر طارق مسیح گل نے کہا عالمی منڈی میں پٹرول قیمتوں میں کمی کے مطابق جتنا ریلیف عوام کا حق بنتا تھا اتنا ریلیف موجودہ حکومت نے نہیں دیا ، موجودہ حکومت میں آئی ایم ایف کے ایجنٹ بیٹھے ہیں، جو آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر کام کرتے ہیں ، حکومت مہنگائی کنٹرول نہیں کر سکی، مہنگائی کی وجہ سے عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے ، مافیا حکومت کا حصہ ہے، اس وقت لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ کہ گیس کا بل دیں یا بجلی کا ، ٹیکس ادا کریں یا ادویات خریدیں ، حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے لئے پٹرول، بجلی ، گیس کی قیمتیں کم کرے وگرنہ عوام کے صبر کا پیمانہ کسی بھی قت لبریز ہو جائے گا، وزیروں کی ناقص کارکردگی نے ہر محکمے کو برباد کر دیا ہے، نااہل حکمرانوں کی وجہ سے ملک بحرانستان بن چکا ہے ، معیشت جمود کا شکار ہے اور تاجر خوفزدہ ہیں ، حکومت کا کہیں وجود نظر نہیں آتا، موجودہ حکومت ہر معاملے کو بگاڑنے کی ماہر بن چکی ہے ، مہنگائی کا سلگتا ایشو انتہائی سنگین شکل اختیار کر چکا ہے، وزیراعظم کا اسمبلی میں نہ آنا غیر جمہوری رویہ ہے، حکومت مختلف مافیاز کے سامنے بے بس نظر آتی ہے، اب عوام کو کھوکھلی تقریروں اور جھوٹے وعدوں سے بہلایا نہیں جا سکتا، ہر مسئلے کا ذمہ داد سابقہ حکومتوں کو قرار دینے کا رویہ درست نہیں نہ ہی ایسا کرکے حکمران اپنی جان چھڑا سکتے ہیں ۔

پی ٹی آئی حکومت کے پاکستان میں زراعت اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ترقی کے دعویٰ پر انہوں نے کہا حکومت کی عدم توجہ کے باعث زرعی اجناس اور ٹیکسٹائل انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہے اس وقت کاروباری حالات سازگار نہیں ہیں جبکہ مہنگائی کی وجہ سے عوام کی قوت خرید میں کافی کمی آ چکی ہے، پاکستان زرعی اعتبار سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے اور جی ڈی پی میں زراعت کا ایک بڑا شیئر ہوتا ہے جبکہ ملکی آبادی کا سب سے بڑا حصہ اسی پیشے سے وابستہ ہے جو اپنا پیٹ پالنے کیساتھ ملکی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، مگر حکومتوں کی دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے زراعت کا شعبہ مسائل سے دو چار ہے اور پیداوار میں کمی اور لاگت میں اضافہ کی وجہ سے ایک طرف تو ملک کا کسان پریشان ہے جبکہ دوسری طرف ایکسپورٹ بھی کم ہو گئی ہیں جس کے باعث زرمبادلہ بھی کم ہوا ہے۔

ملکی موجودہ سیاسی صورتحال پر انہوں نے کہا محض اپنی کرسی کو مضبوط کرنے والا لیڈر نہیں ہوتا بلکہ مفاد پرست لیڈر کہلاتا ہے ، عمران خان کے کہاں گئے انتخابی نعرے اور وعدے وہ تو ابھی تک عوام کو الجھانے میں ہی لگے ہوئے ہیں ، عمران خان کی حکومت جلد ختم ہوجائے گی کیونکہ عوام انہیں بد دعائیں دے رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ حکومت خود ہی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے ، شاہد خاقان اور احسن اقبال کی ضمانت کو حق سچ کی فتح قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا مسلم لیگ ن کے قائدین کی ضمانتوں سے ن لیگ کا موقف سچ ثابت ہو ا، وفاقی اور صوبائی وزراء اپنے محکموں کی کارکردگی بہتر کرنے کی بجائے صرف اور صرف اپوزیشن لیڈر شپ پر بے بنیاد الزامات اور کیچڑ اچھالنے پر ہی لگے ہوئے ہیں ، اگر وہ یہی انرجی حکومتی امور بہتر کرنے کی طرف دیں تو شائد ملکی حالات بہتر ہو جائیں ، اگر وزراء نے ہمارے قائدین کے خلاف من گھڑت بیان بازی کا سلسلہ بند نہ کیا تو پھر ہم ان کے حلقوں میں جا کر ایسا احتجاج کریں گے کہ ان کو لگ پتہ جائے گا ۔

آخر میں طارق مسیح گل نے کہا وزیر اعظم عمران خان دوسروں کو ڈاکو کہنے سے پہلے اپنے گھر کی صفائی پیش کریں، ہماری قیادت نے اپنا حساب دیدیا اب وزیر اعظم کے خاندان کی باری ہے، قوم کو بتائیں کہ علیمہ خان کے پاس دولت کہاں سے آئی، لوگوں کی زکوۃ اور صدقے کا پیسہ ہضم کیا گیا ، عوام اس کا حساب مانگتے ہیں ، حکمران ( ن ) لیگ کے دور میں شروع کئے جانے والے منصوبوں پر اپنا نام لکھوانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن عوام کو معلوم ہے کہ سارے منصوبے مسلم لیگ ( ن ) دور کے ہیں ، بہت جلد نواز شریف ہمارے درمیان ہوں گے۔

٭٭٭


ای پیپر