اب کیا بچا ہے جو دیکھنا باقی ہے!
02 جون 2020 (18:52) 2020-06-02

شاہ تاج

پاکستانی سیاست میں جس طرح ’’مائنس ون‘‘ غدار ہے غدار ہے کا نعرہ اور ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرنے کا کلچر ہماری اقدار میں بُری طرح سے سرائیت کرتا جارہا ہے اور جس طرح گندی اور غلیظ زبان کا استعمال ہورہا ہے کیا یہ پاکستانی عوام کو آج سے 70سال قبل لاکھوں جانوںکی قربانیوں کے بدلے میں ملنے والی آزادی کا صلہ ہے؟ یا پھر بیرونی قوتوں نے پاکستان کو ختم کرنے کا عزم کرڈالا ہے۔

قومی سلامتی کے اجلاس کی اندرونی کہانی کا لیک ہونا، عمران خان کا اسلام آباد بند کرنے کا اعلان، کبھی الطاف حسین تو کبھی آصف زرداری کو مائنس کرنا، فوج کو دعوت مارشل لا دینا، ملک میں انارکی پیدا کرنا اور جو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائے وہ پاکستانی ہے کوئی دوسرانہیں ہے، کوئی ڈاکو ہے تو پھر اس طرح کے کلچر ڈویلپ کرنے والے اس بات کی بھی وضاحت کریں کہ بہتر کون ہے اور آج قوم کا فرد کہاں کھڑا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو ایک کامن بات ہم پر عیاں ہوتی ہے کہ اس ملک کے حالات کبھی نہ سدھریں گے نہ سدہارنے والے سامنے آسکیں گے۔ اس کے باوجود آنے والے حالات کا ذکر کروں تو پھر لگتا ہے کہ ہم ایک خونی انقلاب کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ایسے مواقع کے لیے شاید اقبال نے سچ کہا تھا کہ

آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے

ہے کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے

آج پاکستانی قوم اپنوں ہی کے جسموں پر زخم پہ زخم کھانے کے بعد ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج ہم سب انقلاب کے دوراہے پر کھڑے ہیں، اگر انقلاب آیا تو کیا پھر اس پاکستان میں پھیلے گند سے پاک کیا جاسکے گا؟ کیا ہم پھر ایک مضبوط اور متحد قوم بن سکیں گے جس پر کبھی کسی بھی جماعت یا لیڈر نے کام نہیں کیا، اقتدار کی ہوس نے سیاستدانوں کو وحشی بنا رکھا ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم آج تک ایسی لیڈرشپ پیدا نہ کرسکے جو پاکستان کو ایک کامیاب معاشرے، کامیاب قوم اور کامیاب ویژن میں ڈھال سکتی۔ قائداعظمؒ کی رحلت کے بعد کوئی ایک لیڈر کوئی ایک سیاسی جماعت جو پاکستانی آواز بن سکی ہو جس نے پاکستانی کلچر کو اُبھارا ہو جس نے پاکستان کی آواز لگائی ہو جس نے مکمل پاکستانیت کا ثبوت دیا ہو؟ یا صرف پاکستان کی بات کی ہو، ہماری سیاست کے خاندانی رویوں نے عوام کا ہمیشہ بُری طرح استعمال کیا، اپنی مراعات کی خاطر صوبائی خودمختاری کی راہ میں ملکی سرحدوںکوبُری طرح خطرات میں ڈالا گیا اور حالات کو اس ڈگر پر پہنچا دیا کہ اب جمہوریت اور جمہوریت کے ٹھیکیداروں پر کوئی اعتبار نہیں کرتا۔

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ

دُنیا ہے تیری منتظر اے روز مکافات

افسوس صدافسوس کہ ہم علامہ اقبال کے انقلابی ذہن کو اُجاگر ہی نہ کرسکے نہ قائد کی دی آزادی کو سنبھال سکے اور نہ ہی ہم ایک اچھی اور باوقار قوم بن سکے۔ یوں لگتا ہے کہ اب حالات کسی کے بس میں نہیں ہے اور ہماری دسترس سے بہت دور کر دیئے گئے، ہر طرف مایوسی کا سایہ بڑھتا جا رہا ہے، اربوں سے کھربوں کی کرپشن کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں، ایک طرف شاہی طبقہ محلوں میں بسیرا ڈالے ہوئے ہے تو دوسری طرف غریب کو سرچھپانے کے لیے جگہ میسر نہیں، ایسے ناگفتہ حالات میں آج ہر پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ وہ یہ ملک ہی چھوڑ دے…!

آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے

ہے کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے

ٹی وی پر رات کو لگنے والی عدالتیں ایسی قوتوں کے سکرپٹ پڑھ رہی ہیں جو پاکستان کو آج بھی توڑنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ آزادی صحافت کی آڑ میں ہم نے غنڈے پال رکھے ہیں۔ اب ہماری قسمت کے فیصلے وہ اینکرحضرات کریں گے جو مالی مفادات میں ملکی مفادات کو دائو پر لگا رہے ہیں، آج نہ پاکستانیت کی بات ہوتی ہے نہ دین کی بات ہوتی ہے نہ آئین کی بات ہوتی ہے پالیسی یہ بنا لی گئی ہے کہ نہ کھیلنا ہے نہ کھیلنے دینا ہے۔ سیاست ہو، میڈیا ہو، سب اسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ ہمارامیڈیا ابھی تک اس طرف نہیں آیا کہ اسلام میں جاگیرداری اور سرمایہ داری نظام کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے اور ہم ہیں کہ اسی پر زور دیئے جارہے ہیں نہ ہم دینی نہ ہم معاشی نہ ہم سیاسی بساط قائم کرسکے اور نہ تہذیب اور اقدار میں اُترسکے۔

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ

دُنیا ہے تیری منتظر اے روز مکافات

کیا انقلاب آئے گا؟

کیا حالات کو سدھارنے والے لوگ ہمارے درمیان ہیں؟ اور کب سامنے آئیں گے؟

کیا بے لگام میڈیا کو کوئی لگام ڈال سکے گا؟

کیا کرپٹ سیاست، کرپٹ نظام اور کرپٹ میڈیا کو ختم کیا جاسکے گا؟

ہم ہر بار فوج کی طرف دیکھتے ہیں کیا اس ملک کی بقا اس ملک کی سا لمیت اس ملک کا وقار اس ملک کی جمہوریت اس ملک کے میڈیا یا اس ملک کو صرف فوج ہی سدھار سکتی ہے کیوں ایسی سوچ کی فکر میں بدل دیا گیا ہے کہ ہم کچھ نہیں ہیں صرف جرنیل وہ بھی چند ایک اس دھرتی کو سنوار سکتے ہیں، کرپشن ختم کرسکتے ہیں؟

کیا یہ پاکستان کے خلاف پاکستان کے وجود کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہے کہ ملک توڑنے کی باتیں کرنے والے محب وطن اور وطن کا دفاع یا وطن کی بات کرنے والے غدار ہیں، یہ اسناد کس یونیورسٹی نے جاری کی ہیں؟

ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق، مشرف جیسے فوجی آمروں نے فوجی انقلاب کی آڑ میں جس بُرے طریقہ سے پاکستانی بنیادوں کو کھوکھلا کیا اور بے ضمیرے سیاستدانوں نے جس طرح ملک کو توڑا اور سندھودیش، بلوچی دیش کے نعرے بلند کروائے اور عوامی حقوق پر ڈاکہ زنی کرتے ہوئے خود تو گھربوں میں نہا گئے اور ملک کو بے چارگی کی راہ پر ڈال دیا۔ ہماری نظریاتی سرحدوں کو توڑ دیا گیا۔ ہمارے افلاس، ہماری اقدار اور ہماری عزتوں کو بُری طرح پامال کیا گیا۔ ہمارے وجود کو توڑا گیا۔ ہمارے جسموں کو داغ دار کیا گیا۔ ہماری سوچ اور فکر کو بدلاگیا۔ آزادی کی آڑ میں ہماری زبانوں پر تالے لگوا دیئے گئے۔ ہمارے ضمیروں کو بے ضمیر بنایا گیا، اتحاد کی آڑ میں بار بار توڑا گیا۔ ہمارے اوپر ایسے لوگوںکو مسلط کردیا گیا جو دوسروں کے ایجنڈوں پر کام کرتے تھے، سکرین ہماری تھی، ریموٹ کنٹرول کہیں اور تھے۔

دھرنوں کی آڑ میں پارلیمنٹ سے لے کر سرکاری عمارتوں کو یرغمال بنایا گیا۔ کرپشن کے خلاف نعرے لگانے والے خود بڑے کرپٹ ثابت ہوئے، عدالتی فیصلوںکا مذاق اُڑا دیا گیا، یہاں ہمیشہ اصلاح احوال کا دعویٰ کرنے کے برعکس تباہی کے حالات جنم لیتے رہے۔ پاکستان کی کوئی بھی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اس کے ہرباب میں سازش، اقرباء پروری، اناپرستی اور زبردستی نے ڈیرے جمائے ہوئے ہیں۔ آئین سے لے کر پارلیمنٹ تک سب کچھ تو ادھیڑ چکا ہے، اب کس بات کی تکرار ہے، اب کس بات کا انتظار ہے، اب کس انقلاب کی ضرورت ہے۔ اب کس مسیحا کا انتظار ہے، سیاست دان ہم نے دیکھ لیے، فوجی حکمران ہم نے دیکھ لیے، بیوروکریٹ اور ٹیکنوکریٹ ہم نے دیکھ لیے، میڈیا ہم نے دیکھ لیا … اب کیا باقی رہ گیا ہے جو دیکھنا باقی ہے اب تو اقبال کی بہت یاد آرہی ہے۔

جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی

اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

٭٭٭


ای پیپر